حدیث نمبر: 3468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ دُعَاءِ سُفْيَانَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ووَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ " ، وَقَالَ " وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے، پھر راوی نے مکمل دعا ذکر کی اور یہ بھی کہا: آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ میرے معبود ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7699، م: 769
حدیث نمبر: 3469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ الْبَشَرِ ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ يَدْخُلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فَيُدَارِسَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، وہ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، اور تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6، م: 3308
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَشَفَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى عَلَيْهِ ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَقَبَّلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زبیا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " ، قَالَ طَاوُسٌ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ؟ قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور تیل خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 885، م: 848
حدیث نمبر: 3472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ ، وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى ، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ أَوْ قَالَ : وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ ، شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، فَقَالَ : " نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ " . فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي : أَخَصَّ الشِّعْبَ ؟ قَالَ : هَكَذَا قَالَ ، فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا لَذَلِكَ ، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ ، وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مقبرہ پر ہوا جو اس پہلے راستے پر واقع تھا (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہاتھ سے ریت کے تودے کے پیچھے کی طرف اشارے سے فرمایا) اور فرمایا کہ ”یہ بہترین قبرستان ہے“، میں نے اس شخص سے پوچھا جنہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کسی گوشے کی تخصیص فرمائی تھی؟ لیکن وہ مجھے یہ نہ بتا سکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ کو خاص کیا تھا، سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے، لیکن ہم یہ بات سنتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حصے کو خاص کیا جو بیت اللہ کے سامنے تھا۔ فائدہ: بظاہر اس قبرستان سے مراد جنت المعلی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف إبراهيم بن أبي خداش
حدیث نمبر: 3473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ وَغَيْرُهُ ، عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ فِي الْحَائِضِ نِصَابَ دِينَارٍ ، فَإِنْ أَصَابَهَا ، وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ ، فَنِصْفُ دِينَارٍ . كُلُّ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام والی عورت سے ہمبستری میں ایک دینار کا نصاب مقرر کیا ہے، اور اگر مرد نے اس سے اپنی خواہش اس وقت پوری کی جبکہ خون تو منقطع ہو چکا تھا لیکن ابھی اس نے غسل نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قربت پر نصف دینار واجب ہوگا، اور یہ سب تفصیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالكريم بن أبى المخارق
حدیث نمبر: 3474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْكِرُ أَنْ يُتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَيَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَمْ تَرَوْا الْهِلَالَ ، فَاسْتَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ لَيْلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، خواہ چاند نظر نہ آیا ہو، اور وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن جبير وهو خطأ، صوابه محمد بن حنين وهو مجهول
حدیث نمبر: 3475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، أَوْ رَمَضَانَ ، قَالَ رَوْحٌ : أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132
حدیث نمبر: 3476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا تَصُمْ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، فَلَا تَصُمْ ، فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ " . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا، اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زكرياء بن عمر لم يوثقه غير ابن حبان
حدیث نمبر: 3478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَأَنَّهُ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرض نمازوں سے فراغت کے بعد اونچی آواز سے اللہ کا ذکر کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں تھا، اور مجھے تو لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے کا علم ہی جب ہوتا کہ میں یہ آواز سن لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 841، م: 583
حدیث نمبر: 3479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ ، فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، مشکیزے سے وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر کھڑا ہوا، مشکیزے سے وضو کیا اور بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 863
حدیث نمبر: 3480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : كَانَ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ ، جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ ، وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعَصْرُ نَزَلَ ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَإِذَا حَانَتْ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ ، جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ ، حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعِشَاءُ ، نَزَلَ ، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ اور کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہارے سامنے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان نہ کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ میں اگر سورج اپنی جگہ سے ڈھلنا شروع ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو جمع فرما لیتے، اور اگر پڑاؤ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سفر جاری رکھتے، اور جب عصر کا وقت آتا تو پڑاؤ کرتے اور ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھتے، اسی طرح اگر مغرب کا وقت پڑاؤ میں ہی ہو جاتا تو اسی وقت مغرب اور عشا کو جمع فرما لیتے، ورنہ سفر جاری رکھتے اور عشا کا وقت ہو جانے پر پڑاؤ کرتے اور مغرب و عشا کی نماز اکٹھی پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله بن عبيد الله بن عباس
حدیث نمبر: 3481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " . قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 3482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا قَوْلُهُ : " حَاضِرٌ لِبَادٍ " قَالَ : لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تاجروں سے راستہ ہی میں مل کر اپنی مرضی کے بھاؤ سودا خرید لیا جائے، یا کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے خرید و فروخت کرے، راوی نے جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2158، م: 1521
حدیث نمبر: 3483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : ولَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ فَعَلَ ، لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4958
حدیث نمبر: 3484
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ يَعْنِي فِي النَّوْمِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ نَحْرِي ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ . قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ ؟ قَالَ : الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بعدَ الصَّلّواتِ ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ ، وَمَاتَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَقُلْ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً ، أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ ، قَالَ : وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”آج رات مجھے خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت ایسی بہترین شکل و صورت میں نصیب ہوئی جو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں، پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ”اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم، کیا تمہیں معلوم ہے کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اس پر پروردگار نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوئی اور میں نے اس کی برکت سے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کر لیں، پھر اللہ نے فرمایا: ”اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! وہ کفارات اور درجات کے بارے جھگڑ رہے ہیں، پوچھا: ”کفارات سے کیا مراد ہے؟“ بتایا کہ ”نمازوں کے بعد مسجد میں رکنا، اپنے قدموں پر چل کر جمعہ کو آنا، اور مشقت کے باوجود (جیسے سردی میں ہوتا ہے) اچھی طرح وضو کرنا، جو شخص ایسا کر لے اس کی زندگی بھی خیر والی ہوئی اور موت بھی خیر والی ہوئی، اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے گا گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! جب تم نماز پڑھا کرو تو یہ دعا کیا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ» ”اے اللہ! میں آپ سے نیکیوں کی درخواست کرتا ہوں، گناہوں سے بچنے کی دعا کرتا ہوں، اور مساکین کی محبت مانگتا ہوں، اور یہ کہ جب آپ اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں مبتلا کرنا چاہیں تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر ہی اپنی طرف اٹھا لیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ درجات سے مراد کھانا کھلانا، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا ہے جب لوگ سو رہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا ، قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ . قَالَ : فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا ، فَقَالَتْ : هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ ، قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ . قَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، أَدْنِي وَضُوءًا " فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : هُوَ هَذَا ، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ ، وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَحَصَبَهُمْ بِهَا ، وَقَالَ : " شَاهَتْ الْوُجُوهُ " . قَالَ : فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ ، إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: وہ یہ رہے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں“ اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونَ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مہاجرین کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا اور انصار کی طرف سے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
حدیث نمبر: 3487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَسُئِلَ : هَلْ شَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَلَوْلَا قَرَابَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَوَعَظَ النِّسَاءَ ، وَذَكَّرَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَأَهْوَيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَتَصَدَّقْنَ بِهِ ، قَالَ : فَدَفَعْنَهُ إِلَى بِلَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا: ہاں! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، اور عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اپنے کانوں اور گلوں سے اپنے زیورات اتارے اور انہیں صدقہ کرنے کے لئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 863
حدیث نمبر: 3488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ ، وَيَقُولُ : إِنَّمَا أَقَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کرنے کے قائل نہ تھے، اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے قیام کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 3489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، فَبِتُّ عِنْدَهَا ، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ ، فعاد فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، أَوْ قَالَ : ثُلُثَاهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجْبٍ فِيهَا مَاءٌ ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مّرةً ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ، قَالَ يَزِيدُ : حَسِبْتُهُ قَالَ : ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ ، فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ ، لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي ، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا ، قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ ، أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ ، حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ، فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً " . فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : مَا أَحْسَنَ هَذَا ! فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَهْ ، إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ ، إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر گھر میں داخل ہوئے اور چمڑے کے بنے ہوئے اس تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئے جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے بھی آ کر اس تکیے کے ایک کونے پر سر رکھ دیا، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، دیکھا تو ابھی رات کافی باقی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بستر پر واپس آ کر تسبیح و تکبیر کہی اور سو گئے۔ دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو رات کا ایک یا دو تہائی حصہ بیت چکا تھا، لہذا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، قضاء حاجت کی اور ستون خانے میں لٹکی ہوئی مشک کے پاس آئے جس میں پانی تھا، اس سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، پھر سر اور کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، اور اپنی جائے نماز پر جا کر کھڑے ہو گئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کچھ کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو کچھ نہیں کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں ان ہی کی نماز میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں تو اپنا داہنا ہاتھ بڑھا کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا احساس باقی رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں اور ساتویں میں وتر کی نیت کر لی، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ کوئی اچھا کام ہے؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ واللہ! میں نے بھی یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا: خبردار! یہ حکم تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے، یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سوتے میں بھی ان کی حفاظت کی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف
حدیث نمبر: 3491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ ، أَيَتَطَيَّبُ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا أَنَا ، فَقَدْ رَأَيْتُ الْمِسْكَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفَمِنْ الطِّيبِ هُوَ أَمْ لَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين الحسن بن عبدالله العرني وبين ابن عباس
حدیث نمبر: 3492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنِ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ . فَقَالَ : " صَدَقُوا وَكَذَبُوا " ، قُلْتُ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا . مَاذَا ؟ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ ، وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی، اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں پیدل چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1264
حدیث نمبر: 3493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " قَدْ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 3494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ ، إِذَا فَاتَنِي الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ ؟ فَقَالَ : " رَكْعَتَيْنِ ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 3495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ ، فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا " ، فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار مسجد میں داخل ہوئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو“، یہی وجہ ہے کہ اب ہم اسے بدلنا نہیں چاہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " ، قَالَ مِسْعَرٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ : " أَوْ عَلَفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے، اسے قبضہ سے قبل آگے مت فروخت کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2130، م: 1525
حدیث نمبر: 3497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا جو انہوں نے کھڑے کھڑے نوش فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 3498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ ، ومِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 478
حدیث نمبر: 3499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا ، أَوْ يُلْعِقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 3500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60 ، قَالَ : " شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ ، رَآهُ بِعَيْنِهِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت ذیل کی وضاحت میں: «﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء : 60]» ”ہم نے اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیداری میں آنکھوں سے دکھائی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3888
حدیث نمبر: 3501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سمعتُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يقول : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا ، لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی پوری وادی بھی ہو تو اس کی خواہش یہی ہوگی کہ اس جیسی ایک اور وادی بھی اس کے پاس ہو، اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کر لیتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں، اب یہ قرآن کا حصہ ہے یا نہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6436 ، م : 1049
حدیث نمبر: 3502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سمعت ُابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ ، أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيَّةً ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُ الصُّبْحُ ، قَامَ فَصَلَّى الْوَتْرَ تِسْعَ رَكَعَاتٍ ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ وَتْرِهِ ، أَمْسَكَ يَسِيرًا ، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ فِي نَفْسِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ جَخِيفَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَنَبَّهَهُ لِلصَّلَاةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی . . . . .، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا رک کر روشنی ہونے کے بعد نو رکعتیں پڑھیں اور ان میں وتر کی نیت کر لی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے رہے، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 3503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أن ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ " مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
حدیث نمبر: 3504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ ، أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا ، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2770
حدیث نمبر: 3505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَذْكُرُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ ، إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام والی عورت کو طواف وداع کرنے سے پہلے جانے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ طواف زیارت کرچکی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 329
حدیث نمبر: 3506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْضِهِ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ ان کی طرف سے اسے پورا کردیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2761، م: 1638
حدیث نمبر: 3507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ بْنِ رَقَبَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : " تَزَوَّجْ ، فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5069