حدیث نمبر: 3429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ عَفَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا ، يُوحَى إِلَيْهِ ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ کی عمر چالیس برس تھی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2351
حدیث نمبر: 3430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ ، حَنَّ الْجِذْعُ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ ، فَسَكَنَ ، وَقَالَ : " لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا رہی رہتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3431
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3432
حَدَّثَنَاه الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَظْمًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ سورة المائدة آية 42 ، قَالَ : " كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا ، أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً ، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنهُمْ الدِّيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: «﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ . . . . .﴾ [المائدة : 42]» ”اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواه ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواه ان کو ٹال دو، . . . . .“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ بنو نضیر کے لوگ اگر بنو قریضہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں نصف دیت دیتے اور اگر بنو قریضہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں پوری دیت ادا کرنے پر مجبور ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبیلوں کے درمیان برابر برابر دیت مقرر کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 3435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ حیض و نفاس والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے اور سارے مناسک حج ادا کرتی رہے، سوائے اس کے کہ پاک ہونے سے پہلے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا سند فيه ضعف، خصيف بن عبدالرحمن الجزري فيه ضعف من جهة حفظه
حدیث نمبر: 3436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورہ ص میں سجدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " . قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا، اس وقت میری عمر دس سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قول ابن عباس : وأنا يومئذ أبن عشر سنين
حدیث نمبر: 3438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ ، وَفِينَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ومِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ ، قَالَ سَعِيدٌ : كُلُّكُمْ بَلَغَهُ مَا قِيلَ فِي الطَّعَامِ ؟ قَالَ مِقْسَمٌ : حَدِّثْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُ . فَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ ، فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَهُ ، وَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ . أَوْ حَافَتَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 3439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا ، " فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ " ، فَقُلْتُ لِعَمْرٍو : أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ : لَقَدْ شَكَّكْتَنِي . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتَيَّ ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پیٹ کے بچے کو مار دینے کے مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو بیلن یا خیمہ کا ستون دے مارا، جس کے صدمے سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ ”اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا، اس کے بدلے میں ایک غلام مقتولہ کے ورثاء کو دے دیا جائے، اور اس عورت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت دوسری طرح سنائی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ تم نے مجھے شک میں ڈال دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا ، وَقَالَ : " لَا تُكْرِهُوهُنَّ " . قَالَ : فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَتْ ثَيِّبًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوودیعہ - جن کا نام خذام تھا - نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دیا، ان کی بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے زبردستی کیا جا رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیا اور فرمایا کہ ”عورت کو مجبور نہ کیا کرو۔“ پھر اس کے بعد اس لڑکی نے سیدنا ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، یاد رہے کہ وہ شوہر دیدہ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عطاء بن مسلم الخراساني صاحب أوهام كثيرة ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وأصل القصة صحيح، أنظر صحيح البخاري : 5138
حدیث نمبر: 3441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . . . نَحْوَهُ وَزَادَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا ، فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ ، فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى " . ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا ، فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھو لیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں)، اور فرمایا: ”اے اللہ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا“، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1621
حدیث نمبر: 3443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ ، أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قُدْهُ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1620
حدیث نمبر: 3444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ ، فَقَالَ : " رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3445
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : وَلَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، آخِذًا رَأْسَهُ إِمَّا قَالَ : بِشِمَالِهِ ، وَإِمَّا بِيَمِينِهِ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ ، فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، يَقُولُ يَا رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا . . . . .، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ میں نے تمہاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے اپنا سر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا ہوگا اور اس کے زخموں سے خون رس رہا ہوگا، وہ کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإرساله، فإن إبراهيم النخعي من أتباع التابعين
حدیث نمبر: 3447
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا ، وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو“، اور تین مرتبہ فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ أَوْ عَقَاره ، قَالَ : وَعَفَارُ النَّخْلِ أَوْ عَقَارها : أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ ثُمَّ تُعْفَرُ ، أَوْ تُغْفَرُ ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ ، قَالَ : فَوَجَدْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي ، وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا ، حَمْشًا ، سَبْطَ الشَّعْرِ ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ رَجُلٌ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ ، جَعْدٌ قَطَطٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، اللَّهُمَّ بَيِّنْ " ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ ”اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما“، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَجَعَل يَغْرِفُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنے کا طریقہ نہ بتاؤں؟ یہ کہہ کر پانی منگوایا اور دائیں ہاتھ سے چلو بھر کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ ، قَالَ : " كُنْتُ قُمْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى شِمَالِهِ ، فَأَدَارَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالُوا : وَكَيْفَ وَهِيَ مَيْتَةٌ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا " . قَالَ مَعْمَرٌ : وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ ، وَيَقُولُ : يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ مردہ ہے، فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ احْتَزَّ مِنْ كَتِفٍ فَأَكَلَ ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
حدیث نمبر: 3454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ : يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُصَلِّي ، أَنَا وَالْفَضْلُ مُرْتَدِفَانِ عَلَى أَتَانٍ ، فَقَطَعْنَا الصَّفَّ وَنَزَلْنَا عَنْهَا ، ثُمَّ دَخَلْنَا الصَّفَّ ، وَالْأَتَانُ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، لَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ " . وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ ، فَجِئْنَا وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن انہوں نے اپنی نماز نہیں توڑی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 504
حدیث نمبر: 3455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ لَمْ يَدْخُلْ ، وَأَمَرَ بِهَا ، فَمُحِيَتْ ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ ، فَقَالَ : " قَاتَلَهُمْ اللَّهُ ، وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3352
حدیث نمبر: 3456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى ، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى ، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ ”اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ ، وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ " ، قَالَ : وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ بَعْضَ خَرَاجِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطا فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے کچھ مقدار کو کم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2103، م: 1202
حدیث نمبر: 3458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6834
حدیث نمبر: 3459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ " يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں سے ہر رکعت میں میرے اندازے کے مطابق سورہ مزمل کے بقدر قیام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَصَامَ حتى بَلَغَ الكَدِيدَ ، أَفْطَر " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
حدیث نمبر: 3460M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَيوب ، عن عِكْرمة ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ ، وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، قَالَ : فَعَطِشَ النَّاسُ ، وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ ، وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ ، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَشَرِبَ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن مقام غدیر میں پہنچے تو لوگوں کو سخت پیاس لگی کیونکہ دوپہر کا وقت تھا، لوگ اپنی گردنیں اونچی کرنے لگے اور انہیں پانی کی خواہش شدت سے محسوس ہونے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3460M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4278، تعليقا
حدیث نمبر: 3461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَعْنِي عَطَاءً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَتْ شَاةٌ أَوْ دَاجِنَةٌ لِإِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ، أَوْ مَسْكِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1992، م: 364
حدیث نمبر: 3462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَضَى عُمَرُ لِسَعْدٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُلْتُ : يَا سَعْدُ ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ ، أَمْ بَعْدَهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ رَوْحٌ أَوْ بَعْدَهَا ؟ قَالَ : لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ ، فَسَكَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مسح علی الخفین کے متعلق سوال کیا تو میں اس وقت وہیں موجود تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں؟ آپ کو یہ بات کوئی بھی نہیں بتائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبدالرحمن الجزري
حدیث نمبر: 3463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا ، أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَوَضَعَهُ وَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی والا گوشت کھا رہے تھے کہ مؤذن آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ ، " أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ " . قَالَ : وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کس بناء پر وضو کر رہا ہوں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نفی میں جواب دیا، انہوں نے بتایا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھا لئے تھے، اب ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ آپ جس بناء پر وضو کر رہے ہیں میں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں فرمایا۔ راوی حدیث سلیمان بن یسار مذکورہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
حدیث نمبر: 3465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، فقَالَ : عِلْمِي ، وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ إِخْلَاءِ الْجُنُبَيْنِ جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے چھوڑے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے، راوی حدیث عبدالرزاق کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے استاذ سے دو جنبی مرد و عورت کے ایک ہی پانی سے غسل کرنے کا مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ ، حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ . قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سوئے اور جاگے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا کہ ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشا کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 571، م: 642
حدیث نمبر: 3467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا ، وَسَبْعًا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1174، م: 705