حدیث نمبر: 3390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ ، فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا ، فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ ، لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ ، لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3362
حدیث نمبر: 3391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ ؟ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی شخص نے روزے کی حالت میں بوسہ دینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے سر کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من بني سدوس
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَاه ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3392M
حدثناه عبدُ الوهاب ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3392M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ ، فَأَصْبِحْ صَائِمًا " . قَالَ يُونُسُ : فَأُنْبِئْتُ عَنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ : فَقُلْتُ : أَكَذَاكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي ، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ ؟ ، قَالَ : فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، سمعتهُ يقول : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا " ، قَالَ : فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً ، فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ ، وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ ”جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے، لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا“، یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
حدیث نمبر: 3395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ ، فَحَلَلْنَا ، فَلُبِسَتْ الثِّيَابُ ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : قَالَ طَاوُسٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، وَلَكِنَّهُ اسْتَقْبَلَ زَوَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے مختلف کونوں کی طرف رخ انور کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر اور حضر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث
حدیث نمبر: 3398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ " وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64 ، وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی، اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، «﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم : 64]» ”اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ اور «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب : 21]» ”تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 774
حدیث نمبر: 3400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى ، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى ، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ ”اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ ، وَإِنْ هُوَ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6491، م: 131
حدیث نمبر: 3403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ . ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا ، وَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ : قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً : عِدَّةَ الْحُرَّةِ ، قَالَ : وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ ، فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام مغیث تھا، میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا ؟ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : أَمَرَهُمْ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ يَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَأَنْ يَحُجُّوا الْبَيْتَ ، وَأَنْ يُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، فَقَالُوا : فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ ، الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہو سکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتادیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”اللہ ہی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا“، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استمعال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر ہم کن برتنوں میں پانی پیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا جا سکے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3407
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : عَفَّانُ : أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوَتْرِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " ، قَالَ : وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں“، پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 753
حدیث نمبر: 3409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَخَذَهُ طَعَامًا لِأَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے لیے تھے - رہن رکھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ . قَال ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي ، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ ، فَقَدْ رَآنِي " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ ، أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ ، حَسَنُ الْمَضْحَكِ ، أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ ، جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ ، قَدْ مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ ، إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ . قَالَ عَوْفٌ : لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
یزید فارسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حیات میں مجھے خواب میں حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، یاد رہے کہ یزید قرآن کے نسخے لکھا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سعادت کے حصول کا تذکرہ کیا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”شیطان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ میری شباہت اختیار کر سکے، اس لئے جسے خواب میں میری زیارت ہو، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے“، کیا تم نے خواب میں جس ہستی کو دیکھا ہے ان کا حلیہ بیان کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے دو آدمیوں کے درمیان ایک ہستی کو دیکھا جن کا جسم اور گوشت سفیدی مائل گندمی تھا، خوبصورت مسکراہٹ، سرمگیں آنکھیں اور چہرے کی خوبصورت گولائی لئے ہوئے تھے، ان کی ڈاڑھی یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی اور قریب تھا کہ پورے سینے کو بھر دیتی، (عوف کہتے ہیں کہ مجھے معلوم اور یاد نہیں کہ اس کے ساتھ مزید کیا حلیہ بیان گیا تھا)، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے بیداری میں ان کی زیارت سے اپنے آپ کو شاد کام کیا ہوتا تو شاید اس سے زیادہ ان کا حلیہ نہ بیان کر سکتے (کچھ فرق نہ ہوتا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد الفارسي فى عداد المجاهيل
حدیث نمبر: 3411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 3413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 3414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ ، يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِليهِ مِنْ رَقِيقِ الْمُشْرِكِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 3416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ سَلْمٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ ، وَمَنْ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ ، فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی دوسرے کی باندی سے قربت کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں ایسا کیا ہو، میں اس قربت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو اس کے عصبہ سے ملحق قرار دیتا ہوں اور جو شخص بغیر نکاح کے کسی بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کرتا ہے (اور یہ کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، حالانکہ اس بچے کی ماں سے اس کا نکاح نہیں ہوا) تو وہ بچہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی مورث (دونوں میں سے کسی کو دوسرے کی وراثت نہیں ملے گی)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة راويه عن سعد بن جبير
حدیث نمبر: 3417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ ، لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا: ”ہم محرم ہیں، اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے تم سے قبول کر لیتے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ ، مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت دی ہے جبکہ اس میں رنگ کا کوئی ذرہ یا نشان نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، ولضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 3419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ ، دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا ، يَقُولُ وَيَقُولُ ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ ، فأرسل إليه فانهه . قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ ، وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ ، فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ ، فَوَثَبَ ، فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ ، وَتَقُولُ وَتَقُولُ ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ . فَقَالَ : " يَا عَمِّ ، إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ، تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ " ، قَالُوا : وَمَا هِيَ ؟ نَعَمْ وَأَبِيكَ ، عَشْرًا . قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ سورة ص آية 5 - 8 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا“، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: ”«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»“، یہ سن کر وہ لوگ کپڑے جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورہ ص نازل ہوئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾» پر پہنچے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد بن جعفر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 3420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرِ ، فَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَكِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ ، كُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضا کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1903، م: 1148
حدیث نمبر: 3421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ ؟ قَالُوا : قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ ، " كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قراءت کون سی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا: نہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتِبِ يُقْتَلُ ، يُودَى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ بِالْمَدِينَةِ ، فَمَرَّ شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعْدٍ ، مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ ، فَقَالَ : لَأَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ حَقًّا ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ ، قَالَ : حَدِّثْ بِهِ الْقَوْمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ ، فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا ، إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک بزرگ گزرے جن کا نام ابوسعید شرحبیل تھا، زید نے ان سے پوچھا: اے ابوسعید! آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: امیر المومنین کے پاس سے، میں نے انہیں ایک حدیث سنائی، اگر یہ حدیث سچی ہو تو میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی یہ حدیث سنائیے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے، تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعيد
حدیث نمبر: 3425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، حَتَّى يَنْسَلِخَ ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی ملاقت ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1902، م:2308
حدیث نمبر: 3426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمَعْنَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ ، إِنَّهُ يُنْبِتُ الشَّعْرَ ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قويان
حدیث نمبر: 3427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ، وَلَوْ أُعْطِيَ النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ ، لَادَّعَى أُنَاسٌ أَمْوَالَ النَّاسِ وَدِمَاءَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بنا پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْعَطَّارُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوقا، وهذا إسناد ضعيف جدا، عطاء العطار ضعيف جدا