حدیث نمبر: 1957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ ، فَلَمْ يَئِدْهَا ، وَلَمْ يُهِنْهَا ، وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا يَعْنِي : الذَّكَرَ , أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہو، وہ اسے زندہ درگور کرے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھے اور نہ ہی لڑکے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن حدير مجهول.
حدیث نمبر: 1958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا ، فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَةَ ، صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، صَلَّيْنَا أَرْبَعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں 19 دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے، اس لئے ہم بھی جب سفر کرتے ہیں اور 19 دن تک ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعت کر کے یعنی قصر کر کے نماز پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ دن ٹھہرتے ہیں تو چار رکعتیں یعنی پوری نماز پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1080.
حدیث نمبر: 1959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ ، مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ ، مِنْ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعنه والحكم بن عتبة لم يسمعه من مقسم، وإنما هو كتاب.
حدیث نمبر: 1960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " ، وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْفَصِيلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع وشراء میں محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عکرمہ اس کھیتی کی بیع وشراء کو مکروہ جانتے تھے جو ابھی تیار نہ ہوئی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2187 .
حدیث نمبر: 1961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ ، يَنْهَاهُمْ أَنْ يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جرش کی طرف ایک خط لکھا جس میں انہیں اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تدفین کے بعد ایک صاحب کی قبر پر نماز جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1247، م: 954.
حدیث نمبر: 1963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ يُنْقَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ ، قَالَ : فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ ، وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهَرَاقُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کشمش پانی میں بھگوئی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے آج، کل اور پرسوں کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2004.
حدیث نمبر: 1964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، يَقُولُ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ ، فَقَالَ : " بَلْ ، مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟) یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أجلح مختلف فيه.
حدیث نمبر: 1965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحراء میں نماز پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور سترہ کے کچھ نہیں تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 1966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ ، وَقَالَ : أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ ؟ " , قَالَ : فَقَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو کسی سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ سوچ کر آگے روانہ کر دیا کہ میں پیچھے رہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لوں، پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟“ عرض کیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کر دیں تو آپ ان کی اس صبح کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج، والحكم لم يسمعه من مقسم، إنما هو كتاب.
حدیث نمبر: 1967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ ، لِمَنْ هُوَ ؟ وَعَنِ الصَّبِيِّ ، مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ ؟ وَعَنِ النِّسَاءِ ، هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ ؟ وَعَنِ الْعَبْدِ ، هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ ؟ قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَمَّا الصِّبْيَانُ ، فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ ، وَأَمَّا الْخُمُسُ ، فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا ، وَأَمَّا النِّسَاءُ ، فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ ، وَأَمَّا الصَّبِيُّ ، فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ ، وَأَمَّا الْعَبْدُ ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ایک خط میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بچوں کو قتل کرنے کے متعلق دریافت کیا اور یہ پوچھا کہ خمس کس کا حق ہے؟ بچے سے یتیمی کا لفظ کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتوں کو جنگ میں لے کر نکلا جا سکتا ہے؟ کیا غلام کا مال غنیمت میں کوئی حصہ ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں لکھا کہ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اگر تم خضر علیہ السلام ہو کر مومن اور کافر میں فرق کر سکتے ہو تو ضرور قتل کرو، جہاں تک خمس کا مسئلہ ہے تو ہم یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم کا خیال یہ ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں ہے، رہا عورتوں کا معاملہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوتی تھیں، اور بچے سے یتیمی کا داغ اس کے بالغ ہونے کے بعد دھل جاتا ہے، اور باقی رہا غلام تو مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ انہیں بھی تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحجاج وإن عنعنه توبع .
حدیث نمبر: 1968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ " ، يَعْنِي : أَيَّامَ الْعَشْرِ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا رَجُلًا خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: ”ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان و مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , قَالَ : وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ لَيْسَ فِيه عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، يَعْنِي : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكنه مرسل.
حدیث نمبر: 1970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَقْضِي عَنْهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 1953 - تعليقاً، م: 1148.
حدیث نمبر: 1971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 1972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَفِي عُمَرِهِ كُلِّهَا ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں میں طواف کے درمیان رمل کیا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم اور تمام خلفاء نے بھی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ ، عَنْ مِهْرَانَ أَبُى صَفْوَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، مهران أبو صفوان مجهول.
حدیث نمبر: 1974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ الجمال ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر ما قبله. وقوله: «عن صفوان الجمال» خطأ، والصواب: أبو صفوان واسمه مهران.
حدیث نمبر: 1975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حبيب بن أبى ثابت مدلس، وقد عنعنه والمتن شاذ، والمحفوظ: أربع ركعات وأربع سجدات.
حدیث نمبر: 1976
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ : يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، قَالَ هِشَامٌ : وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى يُحَدِّثُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ " يَقُولُ فِي الْحَرَامِ : يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ , لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ ادا کر دے (اس کی بیوی مطلقہ نہیں ہوگی)، اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے تھے: «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب : 21]» ”تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث عكرمة عن عمر فيه انقطاع ، لان عكرمة لم يدرك عمر ، وحديث يعلي بن حكيم صحيح، خ: 5266، م: 1473.
حدیث نمبر: 1977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ ، وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا ، " أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " ، قَالَ مُوسَى : فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً ، فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد مامور تھے، واللہ! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا، اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں، اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حسن سے ملا اور ان سے کہا کہ عبداللہ بن عبیداللہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنو ہاشم میں گھوڑوں کی تعداد تھوڑی ہے، وہ ان میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَقَالَتْ : أَلَا نُطْعِمُكُمْ مِنْ هَدِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَنَا أُمُّ حُفَيْدٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ : كَأَنَّكَ تَقْذَرُهُ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَتْ : أَلَا أُسْقِيكُمْ مِنْ لَبَنٍ أَهْدَتْهُ لَنَا ؟ فَقَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : فَجِيءَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ لِي : " الشَّرْبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا " ، فَقُلْتُ : مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِكَ عَلَيَّ أَحَدًا ، فَقَالَ : " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں موجود تھے، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا ہم آپ کو وہ کھانا نہ کھلائیں جو ہمیں ام عفیق نے ہدیہ کے طور پر بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ ہمارے سامنے دو بھنی ہوئی گوہ لائی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ دودھ پیش نہ کروں جو ہمارے پاس ہدیہ کے طور پر آیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“، چنانچہ دودھ کا ایک برتن لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم چاہو تو خالد بن ولید کو اپنے اوپر ترجیح دے لو؟“ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس سے بہترین کھلا“، اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما“، کیونکہ کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ضعيف وعمر بن أبى حرملة مجهول.
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ حُفَيْدٍ ، أَهْدَتْ إِلَى أُخْتِهَا مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ , فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، كسابقه.
حدیث نمبر: 1980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ , الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ، قَالَ : " لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا " ، قَالَ وَكِيعٌ : " تَيْبَسَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا، فرمایا کہ ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی لے کر اسے چیر کر دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک حصہ گاڑھ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ”شاید ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 216، م: 292.
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قَبوْرِهِمَا فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ : " حَتَّى يَيْبَسَا " أَوْ " مَا لَمْ يَيْبَسَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 216، م: 292.
حدیث نمبر: 1982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَقَالَ : أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " ، فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا ، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو۔“ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5886.
حدیث نمبر: 1983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَيَرَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ ، فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرًا ثَوْبَهُ ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي " ، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ التُّومَةَ وَالْقِلَادَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1449، م: 884 .
حدیث نمبر: 1984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْمُكَاتَبِ يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا " قَالَ حَاتِمٌ يَعْنِي : عِدَّةَ شَعْبَانَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو تیس کا عدد پورا کرو اور نیا مہینہ شروع نہ کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، سماك عن عكرمة مضطربة ، لكن سماكا توبع.
حدیث نمبر: 1986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ ، فَسَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ، ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، " فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھومتی رہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ " مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ ، وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”لوگوں میں اس شخص کی مثال نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے، اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اور برے لوگوں سے بچتا رہے، نیز دوسرا وہ شخص جو اللہ کی نعمتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو، مہمان نوازی کرتا ہو، اور اس کے حقوق ادا کرتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَ كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 207، م: 354.
حدیث نمبر: 1989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَنْتَ تُفْتِي الْحَائِضَ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَا تُفْتِي بِذَلِكَ ، قَالَ : إِمَّا لَا ، فَاسْأَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَرَجَعَ زَيْدٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ ، فَقَالَ : مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا کہ جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1328.
حدیث نمبر: 1991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2783، م: 1353.
حدیث نمبر: 1992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ سورة الأحقاف آية 4 , قَالَ : " الْخَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ «أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ» سے مراد تحریر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1993
(حديث مرفوع) حدَثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُخَوَّلٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ 65 الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ , وَإِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی پھر تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لايصح له سماع من ابن عباس.
حدیث نمبر: 1996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكْ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ ، كَمْ تُصَلِّي بِالْبَطْحَاءِ ؟ قَالَ : " رَكْعَتَيْنِ ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 688.