حدیث نمبر: 3350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يُلَاحِظُ امْرَأَةً عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ عَلَى عَيْنِ الْغُلَامِ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ حَفِظَ فِيهِ بَصَرَهُ وَلِسَانَهُ ، غُفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی شام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کو دیکھا کہ عورتوں کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 3351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرْوَةُ ، سَلْ أُمَّكَ : أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَحَلَّ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے فرمایا: اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے کہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَرْقًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز کے لئے چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا سند حسن
حدیث نمبر: 3353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ نُعِيَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سورہ نصر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ جب سورہ نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش عظیم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 3355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " ادْعُوا لِي عَلِيًّا " قَالَتْ عَائِشَةُ : نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالَ : " ادْعُوهُ " ، قَالَتْ حَفْصَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ ؟ قَالَ : " ادْعُوهُ " ، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ ؟ قَالَ : " ادْعُوهُ " ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا ، فَسَكَتَ ، فَقَالَ عُمَرُ : قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ ، وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . فَخَرَج أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ ، سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ : أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ ، قَالَ : وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَام . وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے، تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہو گئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس علی کو بلاؤ“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، جب یہ تمام لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ، اتنی دیر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رقیق القلب آدمی ہیں، جب لوگ آپ کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے اس لئے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، بہرکیف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہو گئے، اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی، اور اسی مرض میں وصال فرما گئے، وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3356
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ ، فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا ، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ ، فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ " .
مولانا ظفر اقبال
ارقم بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مدینہ منورہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت نصیب ہو گئی، میں نے ان سے دوران سفر پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں بھی کوئی نماز جماعت سے نہیں چھوڑی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ بوجھل ہو گئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے آ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اسی حال میں ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی نہ بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ مَخْتُونٌ ، وَقَدْ قَرَأْتُ مُحْكَمَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 5030
حدیث نمبر: 3358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحًى ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس جا کر وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 975
حدیث نمبر: 3359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ ؟ فَقَالَ : يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ . فَقُلْتُ : حَدَّثَنِي سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَأَخَذَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے کہا کہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہو، میں نے ان سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ ، قَالَ : وَعَفَارُ النَّخْلِ : أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤْبَرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا . وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا ، حَمْشًا ، سَبْطَ الشَّعْرِ ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ ، جَعْدٌ قَطَطٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی: ”اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما“، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبَاعُ التَّمْرُ حَتَّى يُطْعَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ ، جَفَا ، وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ ، غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ ، افْتَتَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دیہات میں رہا اس نے اپنے اوپر زیادتی کی، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہو گیا، اور جس کا بادشاہوں کے یہاں آنا جانا ہوا وہ فتنے میں مبتلا ہوا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى موسي
حدیث نمبر: 3363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : وَمَنْ مَعَهُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ . قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ثُمَّ جُعِلَتْ الْقِبْلَةُ نَحْوَ الْبَيْتِ ، وقَالَ مُعَاوِيَةُ : يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو : ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة مضطرب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 3364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ ، صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ ، وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثم ذَهَبَ هؤلاء إِلى مَصَافِّ هؤلاء ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں - جس کا نام ذی قرد تھا - نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ : " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ؟ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64 ، قَالَ : وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ . . . . .﴾ [مريم : 64]» ”ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3218
حدیث نمبر: 3366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ " . قال عبد الله : قال أَبي وحَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، أَسْنَدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ : " خَلَقَهُمْ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے - جس نے انہیں پیدا کیا ہے - کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے بادشاہ ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہو گیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1120، م: 769
حدیث نمبر: 3369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَوْسَجَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ ، وَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا يَرِثُهُ ، " فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى مَوْلًى لَهُ أَعْتَقَهُ الْمَيِّتُ ، هُوَ الَّذِي لَهُ وَلَاؤُهُ ، وَالَّذِي أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہو گیا، اس کا کوئی وارث بھی نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطا فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عوسجة مولي ابن عباس قال البخاري لم يصح حديثه
حدیث نمبر: 3370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ ، أَوْ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ، وَوَقْتٍ مَعْلُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں میں بیع سلم کرو تو اس کی ماپ معین کرو اور اس کا وزن معین اور اس کا وقت طے کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 2253، ه: 1604
حدیث نمبر: 3371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ يَعْنِي ابْنَ قُدَامَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
حدیث نمبر: 3372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ ، " فَنَامَ فِي طُولِهَا ، وَنَامَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ ، أَوْ قَبْلَهُ ، أَوْ بَعْدَهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا ، فَأَخَذَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکیہ رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لمبائی پر سر رکھ کر سو گئے، گھر والے بھی سو گئے، پھر نصف رات یا اس سے کچھ آگے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور نیند کے اثرات دور کرنے لگے، پھر سورہ آل عمران کی اختتامی دس آیات مکمل پڑھیں، پھر مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 183، م: 793
حدیث نمبر: 3373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ " فَدَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ ، فَقَالَ : " مَا أَمَرْتَهُ ؟ " فقَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا . قَالَ : " فَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا " . قَالَ : فَصُبَّتْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”شراب حرام ہو چکی ہے“، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے پوچھا کہ ”تم نے اسے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے“، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1579
حدیث نمبر: 3374
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : خَسَفَتْ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، قَالَ : نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ القيامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ . قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، وَلَمْ يَشُكَّ إِسْحَاقُ ، قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا ، وَرَأَيْتُ النَّارَ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " ، قَالُوا : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " ، قَالَ : أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کفر کی وجہ سے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: ”(یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 5197، م: 907
حدیث نمبر: 3375
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس دوران سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
حدیث نمبر: 3376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا ، وَقَالَ : " أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَقَالَ مَرَّةً : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحَدُ ابْنَيْ الْعَبَّاسِ ، إِمَّا الْفَضْلُ ، وَإِمَّا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي ، أَوْ أُمِّي قَالَ يَحْيَى : وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : أَبِي كَبِيرٌ ، وَلَمْ يَحُجَّ ، فَإِنْ أَنَا حَمَلْتُهُ عَلَى بَعِيرٍ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ شَدَدْتَهُ عَلَيْهِ لَمْ آمَنْ عَلَيْهِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَكُنْتَ قَاضِيًا دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھینچ کر یہ دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ» ”اے اللہ! اسے کتاب کا علم عطا فرما۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 75
حدیث نمبر: 3380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر پئینسٹھ (65) برس تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالُوا : أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟ فَقَالَ : " أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا ، وَعُذِّبَ وَلَنْ يَنْفُخَ فِيهَا ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ أَوْ قَالَ : بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَعُذِّبَ وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا ، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَكْرَهُونَهُ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ إِسْمَاعِيلُ : يَعْنِي الرَّصَاصَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا بِسَرِفَ ، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، اور مقام سرف میں غیر محرم ہو کر ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور مقام سرف ہی میں وہ فوت ہو گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7042
حدیث نمبر: 3385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْجَدِّ : أَمَّا الَّذِي ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُهُ " ، فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا ، يَعْنِي : أَبَا بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دادا کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ”اگر میں اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہیں بناتا“، یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4258
حدیث نمبر: 3386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنًَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی، اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6449، م: 2737
حدیث نمبر: 3387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ ، " وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ صٓ کا سجدہ ضروری تو نہیں ہے، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1069
حدیث نمبر: 3388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : سَأَلْت مُجَاهِدًا عَنْ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص ، فَقَالَ : نَعَمْ ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَتَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَفِي آخِرِهَا فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 ، قَالَ : " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ " .
مولانا ظفر اقبال
عوام بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص کے سجدے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے یہ مسئلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ کیا تم یہ آیت پڑھتے ہو: «﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ . . . . .﴾ [الأنعام : 84]» ”ان ہی کی اولاد میں سے داوؤد اور سلیمان بھی ہیں . . . . .“ اور اس کے آخر میں ہے کہ «﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [الأنعام :90]» ”آپ ان ہی کے طریقے کی پیروی کیجئے۔“ گویا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت داوؤد علیہ السلام کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے (اور انہوں نے سجدہ کیا تھا لہذا ان کی اقتداء میں سورہ ص کی آیت سجدہ پر سجدہ کیا جائے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3421
حدیث نمبر: 3389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ ، فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ لِي هَكَذَا ، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 699