حدیث نمبر: 3310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : قَالَ : مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو ، أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ ؟ " قَالَ : لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ ، هَيْئَتُهُ كَذَا ، هَيْئَتُهُ كَذَا . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ " ، وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ : " يَا عَبَّاسُ ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ " . أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ ، قَالَ : فَأَبَى ، وَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي . قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا ، فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ ، وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ ، فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا ، فَافْدِ نَفْسَكَ " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ . قَالَ : " لَا ، ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ " ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ . قَالَ : " فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ ، حَيْثُ خَرَجْتَ ، عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ ، وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا ، فَقُلْتَ : إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا ، فَلِلْفَضْلِ كَذَا ، وَلِقُثَمَ كَذَا ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا ؟ " ، قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی کا نام سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”ابوالیسر! تم نے انہیں کیسے قید کیا؟“ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم - جس کا تعلق بنو فہر سے تھا - کا فدیہ ادا کرو“، انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہو چکا ہوں، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لئے کم از کم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو فدیہ لیا تھا، وہ بیس اوقیہ سونا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لئے رکھ لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے“، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا: ”وہ مال - جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا، اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا - کہاں جائے گا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آ گیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا، اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن عكرمة
حدیث نمبر: 3311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : قَالَ : مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَقَصَّرَ آخَرُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " قَالُوا : فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمْ الترحُّمَ ؟ قَالَ : " لَمْ يَشُكُّوا " قَالَ : فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر کچھ لوگوں نے حلق کروایا اور کچھ نے قصر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے“، ایک صاحب نے عرض کیا: قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ ”اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حلق کرانے والوں میں ایسی کون سی بات ہے کہ آپ ان پر اتنی شفقت فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ شک میں نہیں پڑے ہیں“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 3312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ ، لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ .
مولانا ظفر اقبال
حجاج کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے اس کپڑے کو پہن لے جسے دھو دیا گیا ہو اور اس میں زعفران کا کوئی ذرہ یا نشان باقی نہ رہا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا ليس بحديث، بل هو أثر عن عطاء، وإنما ذكره ليروي بعده حديث ابن عباس مرفوعا مثله
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عن الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعا مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، وضعف الحسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 3315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ ، ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ ، ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا ، تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس جمع کرانے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، إلا أنه قد توبع
حدیث نمبر: 3316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ يَوْمٍ تَجْتَمِعُونَ فِيهِ ، سَبْعَ عَشْرَةَ ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ : " وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، إِلَّا قَالُوا : عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے“، اور فرمایا کہ ”شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی گزر ہوا، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد ابن منصور ضعيف
حدیث نمبر: 3317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ آمِنُونَ لَا نَخَافُ شَيْئًا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا، اس وقت ہم حالت امن میں تھے، کسی چیز کا قطعا کوئی خوف نہ تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ ، يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد ابن منصور الناجي
حدیث نمبر: 3319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا بَعْدَمَا رَجَعَ بِسَرِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مقام سرف میں نکاح فرمایا اور حج سے واپسی کے بعد مقام سرف ہی میں ان سے خلوت فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور الناجي
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 ، قَالَ : " هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران : 110]» ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے . . . . . “ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا َوكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ " . صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ ، وَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَحَلَّ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب دو مرتبہ میری امامت کی اور فرمایا: ”اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم، یہ آپ کا اور آپ سے پہلے نبیوں کا وقت رہا ہے“، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہو گیا اور ایک تسمہ کے برابر سایہ ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، اور اس کے لئے کھانا پینا حلال ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَدِينَةِ ، مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ " . قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 705
حدیث نمبر: 3324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ ، قَالَ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے وضو کر کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ب الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : وَفِي الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے، اور نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 879
حدیث نمبر: 3326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْفَجْرِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كِسَاءٍ ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وحسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 3328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَدَبَّرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَجَدَ ، وَكَانَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أربدة التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُقِيمت الصَّلاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَرَآنِي وَأَنَا أُصَلِّيهِمَا ، فَمَدَّني ، وَقَالَ : " أَتُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟ " فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو میں دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا کیونکہ میں انہیں پڑھ نہیں سکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر قریب آ کر فرمایا: ”کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناه حسن
حدیث نمبر: 3330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ ، أَخَذَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا مَنْعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي ؟ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا ، مُتَبَذِّلًا ، مُتَخَشِّعًا ، مُتَرَسِّلًا ، مُتَضَرِّعًا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ ، لَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے، البتہ تمہاری طرح خطبہ نہیں دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناه حسن
حدیث نمبر: 3332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَالْخَوْفِ رَكْعَةً ، عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 687
حدیث نمبر: 3333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور لوگوں کو دو رکعتیں پڑھا کر واپس چلے گئے، اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 964، م: 884
حدیث نمبر: 3334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ ، يَقْصُرُ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھیں (قصر فرمائی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لا يصح له سماع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2783، م: 1353
حدیث نمبر: 3336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : يَوْمُ الْخَمِيسِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ! ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى دُمُوعِهِ عَلَى خَدَّيْهِ تَحْدُرُ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُونِي بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَوْ الْكَتِفِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " فَقَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ ! .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا: جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ میں نے ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑی کی طرح بہتے ہوئے آنسو دیکھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔“ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہو گیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637
حدیث نمبر: 3337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2004
حدیث نمبر: 3338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 3339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حاملہ ہونے کے باوجود بھی لعان کروایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 3340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْعَبْسِيُّ ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْفَضْلِ ، أو أحدهما عَنِ الْآخَرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ ، وَتَضِلُّ الرَّاحِلَةُ ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسرائيل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 3341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 967
حدیث نمبر: 3342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ ، فَالْبَسُوهَا أَحْيَاءً ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، وَخَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَثَمَنِ الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " ثَمَنُ الْكَلْبِ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنُ الْخَمْرِ ، حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنَ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " . قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ ؟ قَالَ : أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَبْتَاعُونَ بِالذَّهَبِ ، وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آ گے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم دراہم کے بدلے ہوں اور غلہ مؤخر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 3347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، مَرَّ بِقُرَيْشٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّكُمْ هَزْلَى ، فَارْمُلُوا إِذَا قَدِمْتُمْ ثَلَاثًا " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمُوا ، رَمَلُوا ثَلَاثًا ، قَالَ : فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : أَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَتَحَدَّثُ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا ، مَا رَضِيَ هَؤُلَاءِ بِالْمَشْيِ حَتَّى سَعَوْا سَعْيًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قریش کے پاس سے گزر ہوا، وہ لوگ دار الندوہ میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”یہ لوگ آپس میں تمہاری جسمانی کمزوری کی باتیں کر رہے ہیں، اس لئے جب تم خانہ کعبہ پہنچو تو طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا“، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، مشرکین کہنے لگے: کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم باتیں کر رہے تھے کہ یہ لاغر اور کمزور ہو چکے ہیں، یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں بلکہ یہ تو دوڑ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله : عام الحديبية وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَتَبَ إِلَيْهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر ہوتے تو دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح