حدیث نمبر: 3271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَاسْتَنَّ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَاسْتَنَّ وَتَوَضَّأَ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . حَتَّى صَلَّى سِتًّا ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نیند سے بیدار ہوئے، مسواک کی، دو رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، دو رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں، پھر تین وتر پڑھے اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھیں۔
حدیث نمبر: 3272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَفْتِي النَّاسَ ، وَلَا يَذْكُرُ فِي فُتْيَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ عِرَاقِيٌّ ، وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ ؟ فَقَالَ : ادْنُهْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اس دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں، اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہو گیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“
حدیث نمبر: 3273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَقَالَ : " إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ ، فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ ”جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔“
حدیث نمبر: 3274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْكُوبَةَ " ، وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ (طبل) کو حرام قرار دیا ہے“، اسی طرح فرمایا کہ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 3275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ ، فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے جواب میں یہ کلمات فرمائے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حدیث نمبر: 3276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَخَرَجَ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191 ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران : 190-191]» ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے، . . . . . تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔
حدیث نمبر: 3276M
(حديث مرفوع) حدثنا أَبو أحمدَ ، حدثنا إِسرائيلُ ، عن سِماكٍ ، عن عِكرمَة ، عن ابنِ عباس ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " في الرِّكازِ الخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“
حدیث نمبر: 3277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ ، قَالَ يَحْيَى : قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : " عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ؟ " ، قَالَ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ ، قَالَ : فَذَهَبَ ، فَجَاءَ بِهِمْ ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا ، وَمَا فَعَلُوا ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ سورة المجادلة آية 18 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔“ تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا؟ اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: «﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ . . . . .﴾ [المجادلة : 18]» ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں . . . . .“ کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 3278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی لیکن ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 3279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا (اور بعد میں اس کی قضا کر لی)۔
حدیث نمبر: 3280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم شریف میں خطبہ دیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت ملتزم کی طرف تھی۔
حدیث نمبر: 3281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " قَالُوا : لِمَنْ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے“، لوگوں نے پوچھا: کس کے لئے؟ فرمایا: ”اللہ کے لئے، اس کے رسول کے لئے، اور ائمہ مؤمنین کے لئے۔“
حدیث نمبر: 3282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 3283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حدیث نمبر: 3284
(حديث مرفوع) حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 3285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ، فَسَبَّحَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ ، قَالَ : فَصَلَّى مَا بَقِيَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، قَالَ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا اور حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے پیچھے سے سبحان اللہ کہا تو وہ کہنے لگے کہ تمہیں کیا ہوا؟ (پھر خود ہی سمجھ گئے اور واپس آ کر) بقیہ نماز پڑھا دی اور آخر میں سہو کے دو سجدے کر لئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردانی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 3286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 3287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَأَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے: وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے منزل کی تھی۔
حدیث نمبر: 3290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ زَوْجِهَا بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ ، وَلَمْ يُحْدِثْ صَدَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) دو سال بعد پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو مہر مقرر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ ، أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى " .
مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اہل بصرہ! اپنے روزے کی زکوٰۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث سب پر ہے۔
حدیث نمبر: 3292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ ، لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالًا كَثِيرَةً وَدِمَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“
حدیث نمبر: 3293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ِعمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ وَمُعَاذٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ . فَسَكَتَ عَنْهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : الصَّلَاةَ . فَسَكَتَ عَنْهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : الصَّلَاةَ . فَقَالَ : أَنْتَ تُعْلِمُنَا بِالصَّلَاةِ ؟ ! قَدْ " كُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ " . قَالَ مُعَاذٌ : عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے) اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کردیا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے: کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو نمازوں کے درمیان جمع صوری کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِالْأَبْطَحِ ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں، میں نے ایک شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَتَمَلَّى ، ثُمَّ صَلَّى ، وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شانے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْتَثِرُوا ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوغطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 3297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ میں سے کچھ دے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ ، فَقَالَ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ ، سَبْعًا ، إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ ”میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے“، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ ، وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ : وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ ، كَتَبَ إِلَيْهِ : كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ ، وَتَقُولُ : إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ ! فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنَ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ ، قَتَلْتَ ، وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ ، فَاجْتَنِبْهُمْ ، " فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ النِّسَاءِ ، هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ، فَلَمْ يَفْعَلْ ، وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں؟ اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا، اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے، البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔
حدیث نمبر: 3300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر : 7]» ”پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔“
حدیث نمبر: 3301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا ، وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَقَالَ : " أَنَامَ الْغُلَامُ ؟ " وَأَنَا أَسْمَعُهُ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آ گئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے: ”کیا بچہ سو گیا؟“ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 3302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ، فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 3303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَّةً الْحَجُّ ، أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ مَرَّةً ، فَمَنْ زَادَ ، فَتَطَوُّعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ ، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کر دیا تھا اور ہم نے فجر کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تھی۔
حدیث نمبر: 3305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا ، قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ ، " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔
حدیث نمبر: 3306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَعْنَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ : الْخَيَّاطُ ، يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَنَحْنُ عَلَيْهِ ، حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ ، فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔
حدیث نمبر: 3307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ ، فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : إِسْتَبْرَقٌ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ " وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ ، وَالتَّكَبُّرِ ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ " . قَالَ : فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔
حدیث نمبر: 3308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ ، فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا ، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ ، فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : " يَا جُوَيْرِيَةُ ، مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ ؟ ! " قَالَتْ : مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ ، أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلُ ذَلِكَ»۔“
حدیث نمبر: 3309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ " فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔
…