حدیث نمبر: 3231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " ، وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ . قَالَ : " فَارْجِعْ ، فَحُجَّ مَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے“، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341
حدیث نمبر: 3232
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَوْحٌ : " فَاحْجُجْ مَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1836، 1837
حدیث نمبر: 3234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ ، حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے تولیے سے نہ پونچھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 3235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي ، غَيْرِ مَطَرٍ وَلَا سَفَرٍ . قَالُوا : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، مَا أَرَادَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : التَّوَسُّعَ عَلَى أُمَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی سفر تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے اور اس کے لئے کشادگی ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م:705
حدیث نمبر: 3236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفٍ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ، قَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، قَالَ : وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، قد تقدم الكلام فيه برقم: 1975
حدیث نمبر: 3237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ ؟ ، قَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 3238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبَاهَا شَيْخًا كَبِيرًا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّحْلِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
حدیث نمبر: 3239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ ، قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِكُمْ ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ ، فَشَرِبَ " . وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : أَهْلُ بَيْتٍ يُقْتَدَى بِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ ائمہ ہو، لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے اس دن دودھ کا برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ ، فَادْعُ اللَّهَ لِي . قَالَ : " إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ ، وَلَكِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ شِئْتِ ، دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ " ، قَالَتْ : لَا ، بَلْ أَصْبِرُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي . قَالَ : فَدَعَا لَهَا .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ حبشن ہے، ایک مرتبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہو جاتا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو صبر کر لو اور اس کے عوض جنت لے لو، اور چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں اس بیماری سے عافیت دے دے، اس نے کہا: نہیں، میں صبر کر لوں گی، بس آپ اتنی دعا کر دیجئے کہ میرا جسم برہنہ نہ ہوا کرے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576
حدیث نمبر: 3241
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ يَحْيَى كَانَ شُعْبَةُ يَرْفَعُهُ " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النَّحْلَةِ ، وَالنَّمْلَةِ ، وَالصُّرَدِ ، وَالْهُدْهُدِ " . قَالَ يَحْيَى : وَرَأَيْتُ فِي كِتَابِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: ”چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ ، فَتَوَضَّأَ ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِيَمِينِي ، فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور مشکیزہ کھول کر اس سے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا اور میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ، وَسَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ، ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَأَكَلَهُ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ ، خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا ، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
حدیث نمبر: 3247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَجْلَحَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُهُ الْكَلَامَ ، فَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ . فَقَالَ : " جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا ! مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح بن عبدالله مختلف فيه
حدیث نمبر: 3248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَإِسْمَاعِيلُ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : يَحْيَى لَا يَدْرِي عَوْفٌ : عَبْدُ اللَّهِ ، أَوْ الْفَضْلُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ لِي " فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ ، فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ : " بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ " مَرَّتَيْنِ ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح اپنی سواری پر سے مجھ سے فرمایا: ”ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ“، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ”ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا قَبْلَ ذَلِكَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة : 143]» ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 3250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتْ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ ، لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ ، وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ ، فَنَزَلُوا ، وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ ، فَنَزَلُوا مَعَهُمْ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْوَادِيَ ، رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ ، حَتَّى جَاوَزَتْ الْوَادِيَ ، ثُمَّ أَتَتْ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا ، وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا ، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورتوں میں کمر بند باندھنے کا رواج سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کی طرف سے منتقل ہوا ہے، وہ اپنے اثرات مٹانے کے لئے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کمر بند باندھتی تھیں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ ام اسماعیل علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، اگر وہ زمزم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام اسماعیل کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، وہ انسانوں سے محبت کرتی تھیں، چنانچہ قافلے والوں نے وہیں پڑاؤ ڈال لیا اور اپنے دیگر اہل خانہ کو بھی بلا لیا اور وہ ان کے ساتھ رہنے لگے . . . . . ۔“ پھر راوی نے یہ بھی کہا کہ ام اسماعیل علیہ السلام صفا سے اتریں اور نشیبی علاقے میں پہنچیں تو اپنی قمیص کا دامن اونچا کیا اور تکلیف میں پڑے ہوئے آدمی کی طرح تیزی سے دوڑنے لگیں، اور اس نشیبی حصے کو عبور کر کے مروہ پر پہنچیں اور وہاں کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کوئی انسان نظر آتا ہے یا نہیں؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہ آیا، انہوں نے سات مرتبہ اسی طرح چکر لگائے، اور یہی سعی کی ابتداء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3362، 3363، 3365
حدیث نمبر: 3251
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ سورة الأنفال آية 30 ، قَالَ : تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا أَصْبَحَ ، فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ . يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ اقْتُلُوهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ أَخْرِجُوهُ . فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ ، فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا ، يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا ، رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ ، فَقَالُوا : أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا ؟ قَالَ : " لَا أَدْرِي " . فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ ، فَقَالُوا : لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا ، لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: «﴿وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الأنفال : 30]» ”اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے،“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیڑیوں میں جکڑ دو، بعض نے کہا کہ قتل کردو، اور بعض نے انہیں نکال دینے کا مشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہو گیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گزرے (جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین تھے)، لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
حدیث نمبر: 3252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ ، أَصَابَ ذَنْبًا ، ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، ان سے ایک معمولی لغزش ہوئی تھی، پھر ان کے پروردگار نے انہیں چن لیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3413
حدیث نمبر: 3253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا ، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ " فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
حدیث نمبر: 3254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ ، وَيَقُولُ : " مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ ، أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ ، فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْجَانَّ مَسِيخُ الْجِنِّ ، كَمَا مُسِخَتْ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خوف کی وجہ سے یا ان کی کسی تاثیر کے اندیشے سے انہیں چھوڑ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور فرماتے تھے کہ سانپ جنات کی بدلی ہوئی شکل ہوتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3255
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سانپ جنات کی مسخ شدہ شکل ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 3256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لَا ، فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ ، هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ ، وَيَقُولُ : مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا: جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1328
حدیث نمبر: 3257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ : " سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : نَهَى اللهُ عز وجل عنه ورَسُولُه . فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ . فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے کے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَصَامَ ، حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ فَأَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْر ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا ، فَلَا تُزَعْزِعُوا بها ، وَلَا تُزَلْزِلُوا ، وَارْفُقُوا ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ " . قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، واللہ اعلم)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465
حدیث نمبر: 3260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ لِلْخَلَاءِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، تُوُفِّيَتْ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ ، قَالَ : " فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا ، وَلَا تُزَلْزِلُوا ، ارْفُقُوا ، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ ، وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ " . يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ . قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا ، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، میں ان کے ساتھ مقام سرف گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمانے لگے: یہ ام المومنین ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ ، وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ ، وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ ، فَقَالَتْ : دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَأْذَنِي لَهُ ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ . قَالَتْ : فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ . قَالَ : فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ ، وَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ : وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ : أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ . فَقَالَتْ : وَأَيْضًا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ ، فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ ، فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ ، وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ : فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 الْآيَةَ ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ ، فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ . فَقَالَتْ : دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے)، اس نے کہا: اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آ کر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل امین علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ ، قَالَ : " وَلَكِنْ يَمْنَحُ أَخَاهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُعْطِيَهُ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑے عالم (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 3264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ " وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1812
حدیث نمبر: 3265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا ، وَسَبْعًا جَمِيعًا . قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ فَعَلَ ذَاكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 705
حدیث نمبر: 3266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ ، فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا ، فَقَالَ : ادْنُ فَكُلْ ، لَعَلَّكَ صَائِمٌ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ . وَقَالَ مَرَّةً : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہو جاؤ اور تم بھی کھاؤ، شاید تم روزے سے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ ، أَعْتَقَ مِنْ رَقِيقِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے موقع پر جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 3268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا ، كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَقْصُرْ الصَّلَاةَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ، حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حميد بن على ضعيف، والضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ ، مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سماك فى روايته اضطراب، لكنه توبع