حدیث نمبر: 3191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ : فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ . وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 17 ، قَالَ : جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ، ثُمَّ تَقْرَأَه فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ سورة القيامة آية 18 فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ ، قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: « ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [القيامة : 16]» ”آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں۔“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے وقت کچھ سختی محسوس کرتے تھے اور وحی کو محفوظ کرنے کے خیال سے اپنے ہونٹوں کو ہلاتے رہتے تھے، یہ کہہ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے فرمایا کہ میں تمہیں اس طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے، پھر ان کی نقل ان کے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد کے سامنے کی، بہرحال! اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ o إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ o فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ o ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ [القيامة : 16-19]» ”آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں، اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبانی اسے پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ رہے ہوں تو آپ خاموش رہ کر اسے توجہ سے سنئے، پھر اس کی وضاحت بھی ہمارے ذمہ ہے۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے واپس چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھ کر سنا دیا کرتے تھے جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھایا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5، م: 448
حدیث نمبر: 3192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَلَى حُمُرَاتِنَا لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا ، وَيَقُولُ : " أَبْيَنيَّ ، لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: ”پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، حسن بن عبدالله العرني لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَدْيًا سَقَطَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز نہیں توڑی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 3194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَتَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَتَى الْقِرْبَةَ ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ ، فَتَوَضَّأْتُ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَنِي بِأُذُنِي ، فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا ، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا ، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا ، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا ، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " . قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ . قَالَ : فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ ، فَذَكَرَ عَصَبِي ، وَلَحْمِي ، وَدَمِي ، وَشَعْرِي ، وَبَشَرِي . قَالَ : وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6316، م: 763
حدیث نمبر: 3195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م:1336
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1336
حدیث نمبر: 3197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ : كَانَ شُعْبَةُ يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ يَوْمًا : مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْغُلَامُ الْجَمِيلُ ؟ يَعْنِي شَبَابَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول
حدیث نمبر: 3198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ ، فَقَدْ طَهُرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 3199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1282
حدیث نمبر: 3200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي . . . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : وَسَأَلْتَ : " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا " ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں: ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا . . . . . پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں یہ کہا: آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ " ، فَقِيلَ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ السُّورَةَ كُلَّهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورہ نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ ، وَقَالَ : " لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ " . قَالَ : فقال رجلٌ : والطيب ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا أَنَا " فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ ، أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لئے حلال ہو جائے گی“، ایک آدمی نے پوچھا: کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد مقنطع، الحسن بن عبدالله العرني لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لئے مقام عقیق کو میقات قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 3206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ ، أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، وَأَشْعَرَ هَدْيَهُ فِي شِقِّ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ ، وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ پہنچ کر حج کا احرام باندھا، دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الْفَرَاغُ وَالصِّحَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6412
حدیث نمبر: 3208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : تَرَاءَيْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چاند دیکھنے تک طویل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا أَفْطَرَ ، فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر نکلے، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ مکرمہ پہنچنے تک روزہ نہیں رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے حوالے سے شک پیدا ہوا تو سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا (اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شک دور ہوگیا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ قَالَ وَكِيعٌ : بِالقاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے قاحہ نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، سَمِعَهُ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ ، أَيُّ يَوْمٍ أَصُومُهُ ؟ فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ ، فَاعْدُدْ ، فَأَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعَةِ صَائِمًا . قَالَ : قُلْتُ : أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1133
حدیث نمبر: 3213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 1134
حدیث نمبر: 3214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَأْكُلُوا الطَّعَامَ مِنْ فَوْقِهِ ، وَكُلُوا مِنْ جَوَانِبِهِ ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَر سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1957
حدیث نمبر: 3216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَهَى أَنْ يُتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ ، هَذَا قُدَّامَهُ ، وَهَذَا خَلْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بھائی کو اٹھا لیا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور ایک کو اپنے آگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 3218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، جس میں سے خون ٹپک رہا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، سَمِعْتُ مِنْهُ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ الضَّبُّ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مِنْ جُلَسَائِهِ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُحِلَّهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ . فَقَالَ : بِئْسَ مَا تَقُولُونَ ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا ، وَمُحَرِّمًا ، جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، وَمَعَهَا طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا اغْتَبَقَ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فِيهِ لَحْمَ ضَبٍّ . فَكَفَّ يَدَهُ ، فَأَكَلَهُ مَنْ عِنْدَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ ، وَقَالَ : " لَيْسَ بِأَرْضِنَا ، وَنَحْنُ نَعَافُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم کہتے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے گوہ کا تذکرہ ہوا تو ان کی مجلس میں شریک ایک آدمی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال قرار دیا اور نہ ہی حرام، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کردیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا اپنی بہن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے آئی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ کھانا بھی تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا، شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے کھایا، اگر یہ حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ انہیں منع فرما دیتے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتا اس لئے ہم اس سے بچتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1948
حدیث نمبر: 3220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ " ضَمَّ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6895
حدیث نمبر: 3221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا " ، قَالَ : " وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی، اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَتْ : قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُصْبِحْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبَةً ، فَإِنْ أَصْبَحَتْ ذَهَبَةً اتَّبَعْنَاكَ ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ . كَمَا قُلْتَ : فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَتْ لَهُمْ هَذِهِ الصَّفَا ذَهَبَةً ، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ، عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، وَإِنْ شِئْتَ ، فَتَحْنَا لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ . قَالَ : " يَا رَبِّ ، لَا ، بَلْ افْتَحْ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی، اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، وَقَدْ مَاتَتْ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6699
حدیث نمبر: 3225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " فَبَدَءُوا بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے (بغیر اذان و قامت کے) نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 979، م: 884
حدیث نمبر: 3226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ ، مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ ، فَأَتَى دَارَ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ خَطَبَ وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ " . قَالَ : وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا ، وَلَا إِقَامَةً .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عابس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حدثني سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنَ الْأَيَّامِ أَيَّامٌ الْعَمَلُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ " ، قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: ”ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَلَمْ يَسْمَعْهُ ، قَالَ : " بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے مجھے کچھ سامان کے ساتھ سحری کے وقت ہی بھیج دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1678، م: 1294
حدیث نمبر: 3230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ دابَّتِه ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206