حدیث نمبر: 3151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، ٍحدثني شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حَجَّاجٌ ، فقال : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5885
حدیث نمبر: 3152
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : " ذَاكَ الْإِخْلَاصُ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " لَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّوَاكِ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ فِيهِ " . " وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آدمی کے انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا (یعنی نماز میں)، انہوں نے فرمایا: یہ توحید کی گواہی دینا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں ان پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے، اور میں نے دوران سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول
حدیث نمبر: 3153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ بَهْزٌ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ ، قَالَ : وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا ، وَلَا بَعْدَهُمَا ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا " . وَلَمْ يَشُكَّ بَهْزٌ ، قَالَ : يَوْمَ فِطْرٍ ، وَقَالَ : صِخَابَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی یا عید الفطر - غالب گمان کے مطابق عید الفطر - کے دن نکل کر دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ بعد میں، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 964، م:884
حدیث نمبر: 3154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فِي فِرْعَوْنَ الطِّينَ ، مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کردی کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» نہ کہہ لے (اور اپنے سیاہ کار ناموں کی سزا سے بچ جائے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا على ابن عباس
حدیث نمبر: 3155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1957
حدیث نمبر: 3156
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ مِثْلَهُ ، قَالَ : أَيْ شُعْبَةُ قُلْتَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1957
حدیث نمبر: 3157
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ، دباء اور حنتم کے متعلق سوال کیا تو فرمایا: جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمَّ الشَّهْرُ ، تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انتیس کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُشَاشٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، فَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صِبْيَانَ بَنِي هَاشِمٍ وَضَعَفَتَهُمْ أَنْ يَتَحَمَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی روانا ہونے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1678، م: 1293
حدیث نمبر: 3160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ ، وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے، اور نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 879
حدیث نمبر: 3161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِالشَّيْءِ ، لَأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ " . وَقَالَ الْآخَرُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہا اور فرمایا: ”اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ ، حِينَ فَتَحَ مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِعُسٍّ مِنْ شَرَابٍ أَوْ إِنَاءٍ ، فَشَرِبَ . فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : مَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، اور اسے نوش فرما لیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4279، م : 1113
حدیث نمبر: 3163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا ، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2572، م: 1947
حدیث نمبر: 3164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَإِذَا الْيَهُودُ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " أَنْتُمْ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ ، فَصُومُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ حق بنتا ہے، لہذا تم بھی روزہ رکھو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4680، م : 1130
حدیث نمبر: 3165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُ إِذْ خَلَقَهُمْ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے - جس نے انہیں پیدا کیا ہے - کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6597
حدیث نمبر: 3166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 3167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَقَالَ عَفَّانُ : يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنِيهِ الْحَكَمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قُلْتُ : مَنْ صُهَيْبٌ ؟ ، قَالَ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ ، هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، " فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ اور بنو ہاشم کا ایک غلام گدھے پر سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز نہیں توڑی، اسی طرح ایک مرتبہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہٹا دیا اور برابر نماز پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ بَهْزٌ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، عَجُزَ حِمَارٍ ، " فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ دَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں“، اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، فَصَلَّى أَرْبَعًا ، ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : " أَنَامَ الْغُلَامُ ؟ " أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى خَمْسًا ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ”بچہ سو رہا ہے؟“ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، فَقَالَ : " نَامَ الْغُلَيِّمُ ؟ " أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، قَالَ : فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ”بچہ سو رہا ہے؟“ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 117، م: 763
حدیث نمبر: 3171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 3172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ ، فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1241
حدیث نمبر: 3173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ، وَحَتَّى يُوزَنَ . قَالَ : فَقُلْتُ : مَا يُوزَنُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ : حَتَّى يُحْزَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں کی بیع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں سے خود چکھ لے یا کسی دوسرے کو چکھا دے، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کر لیا جائے، میں نے پوچھا: وزن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جس کے پاس کھجوریں ہیں، وہ وزن کرے تاکہ انہیں الگ کر کے جمع کر سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2250، م: 1537
حدیث نمبر: 3174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، عن شعبة ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ قَالَ حَجَّاجٌ : يَتَّقِيهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے نہیں گزرنے نہیں دیا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيي بن الجزار لم يسمعه من ابن عباس
حدیث نمبر: 3175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ الْغُلَامُ ؟ " ، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ شَيْئًا نَحْوَ هَذَا قَالَ : ثُمَّ نَامَ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ ؟ قَالَ : لَا أَحْفَظُ وُضُوءَهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ”بچہ سو رہا ہے؟“ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يَغْزُو مَكَّةَ ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَفْطَرَ أَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے حوالے سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا ایک گلاس منگوایا اور اسے نوش فرما لیا، اور لوگوں نے بھی روزہ ختم کرلیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2622، م: 1622
حدیث نمبر: 3178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3179
(حديث مرفوع) حدثنا حدثنا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ ، وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آدَمَ طُوَالًا ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ ، جَعْدًا ، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ ، وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3239، 3413، م: 165
حدیث نمبر: 3180
رقم الحديث: 3057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَقَالَ : " مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ " ، وَقَالَ : " عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ " وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3395، م: 2377 أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 3181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَعَّبَتْ بِالنَّاسِ " أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ ، فَقَالَ : سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 3182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ ، يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ بُجَيْلٍ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذِهِ الْفَتْوَى الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ النَّاسَ " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ ؟ فَقَالَ : سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ " . قَالَ شُعْبَةُ : أَنَا أَقُولُ : شَغَبَتْ ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ ؟
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَالَ : قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يصلي بمنى ، وأنا على حمار ، فتركته بين يدي الصف ، فدخلت في الصلاة ، وقد ناهزت الاحتلام ، فلم يعب ذلك " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں ایک گدھی پر سوا ہو کر آیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا، اور اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 76، م: 504
حدیث نمبر: 3185
وقرأت على عبد الرحمن هذا الحديث ، قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں - جو کہ قریب البلوغ تھا - اور فضل ایک گدھی پر سوا ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5617، م:2027
حدیث نمبر: 3187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ ، اعْتَزَلُوا ، فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ : هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالُوا : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْحُ يَا عَلِيُّ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ ، امْحُ يَا عَلِيُّ وَاكْتُبْ : هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ ، وَقَدْ مَحَا نَفْسَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ مَحْوُهُ ذَلِكَ يُمْحَاهُ مِنَ النُّبُوَّةِ ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حروریہ فرقے نے خروج کیا تو وہ سب سے کٹ گئے، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین سے صلح کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”علی! لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے۔“ مشرکین قریش کہنے لگے کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول سمجھتے تو کبھی آپ سے قتال نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”علی! اسے مٹا دو، اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، علی! اسے مٹا دو اور یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔“ میں نے خوارج سے کہا: واللہ! اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے، اور انہوں نے اپنا نام مٹا دیا تھا لیکن تحریر سے اسے مٹا دینے کی وجہ سے وہ نبوت سے ہی نہیں چلے گئے تھے، کیا میں اس سے نکل آیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ ، ادَّعَى نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بنا پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے، جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، فَقَالَ : " كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسْطِهَا ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسْطِهَا " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : مِنْ جَوَانِبِهَا أَوْ مِنْ حَافَتَيْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن