حدیث نمبر: 3113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 157
حدیث نمبر: 3113M
(حديث مرفوع) حدثنا رَوْحٌ ، قال : أخبرني عمرُ بنُ عطاء وغيرهُ ، عن عِكرمة مولى ابن عباس ، أَن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : " لا صَرُورَةَ في الحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”حج میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3113M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمر بن عطاء
حدیث نمبر: 3114
(حديث مرفوع) حدثنا محمدُ بن بكر ، أخبرنا ابنُ جريج ، قال : أَخبرني عمرُ بنُ عطاءٍ ، عن عِكْرمة ، عن ابنِ عباسٍ ، عنِ النبيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسلَّمَ ، أَنَّه كان يقولُ : " لا صَرُوَرةَ في الإسْلامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3114M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ أن رجلا نادى ابن عباس ، والناس حوله ، فقال : سنة تبتغون بهذا النبيذ ، أو هو أهون عليكم من العسل واللبن ؟ فقال ابن عباس جاء النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا ، فَقَالَ : " اسْقُونَا " فَقَالَ : إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ ، أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا وَعَسَلًا ؟ فَقَالَ : " اسْقُونِي مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ " ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، بِعِسَاسٍ فِيهَا النَّبِيذُ ، فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا عَلَيْنَا لَبَنًا وَعَسَلًا .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”پانی پلاؤ“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہو گئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو“، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا: ”تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3114M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ ، فَلْيَلْبَسْهَا ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، وَوَجَدَ خُفَّيْنِ ، فَلْيَلْبَسْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1843، م: 1178
حدیث نمبر: 3116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837 ، م: 1410
حدیث نمبر: 3117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يُخْبِرَانِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يا رسولَ الله ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ ؟ قَالَ : " أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . قَالَ : فَأَدْرَكَتْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا۔“ چنانچہ انہوں نے حج پا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1208
حدیث نمبر: 3118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ " . قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : أُرَهُ يَعْنِي الْيَهُودَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون قوله : والسرج وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح باذام ضعيف عند الجمهور
حدیث نمبر: 3119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : " كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ ؟ فَقَالَ : رَكْعَتَيْنِ ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو کتنی رکعتیں پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 3120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَجْنَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ ، فَاغْتَسَلَتْ مَيْمُونَةُ فِي جَفْنَةٍ ، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهُ . فَقَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَتْ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ " أَوْ قَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يَنْجُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا پر غسل واجب تھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ٹب کے پانی سے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا چاہا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس سے تو میں نے غسل کیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، واضطراب سماك فى عكرمة
حدیث نمبر: 3121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أُرَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . فَقَالَ : عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا يَقُولُ عُرَيَّةُ ؟ قَالَ : يَقُولُ : نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أُرَاهُمْ سَيَهْلِكُونَ ! أَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ حضرات شیخین تو اس سے منع کرتے رہے ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: عروہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں: حضرات شیخین نے تو اس سے منع فرمایا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لگتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہو کر رہیں گے، میں کہہ رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے منع کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ بِهِ عَلَيَّ قُرْآنٌ ، أَوْ وَحْيٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول، وشريك بن عبدالله سيئ الحفظ، ولكنه توبع
حدیث نمبر: 3123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَمَضْمَضَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 211، م: 385
حدیث نمبر: 3124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59 فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ ، " إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء : 59]» ”اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے بارے نازل ہوا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سرئیے میں روانہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4584، م : 1834
حدیث نمبر: 3125
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَمَا الْمُحْكَمُ ؟ قَالَ : الْمُفَصَّلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5036
حدیث نمبر: 3126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : قَامَ ، وَقَعَدَ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي
حدیث نمبر: 3127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ ، وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا ، وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ ؟ ! فَقَالَ : عُمَرُ إِنَّهُ ممَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ ، قَالَ : فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا : " أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ " . فَقَالَ لِي : مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَيْسَتْ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ ، فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 فَتْحُ مَكَّةَ ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا سورة النصر آية 2 فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 فَقَالَ : لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: یہ سمجھدار ہے۔ ایک دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی، اور ان سے سورہ نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موت کا وقت قریب آ جانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہو جائے، اور آپ لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کر سکتے ہو؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4294
حدیث نمبر: 3128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَلَمْ يُقَصِّرْ ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ ، وَأَنْ يَسْعَى ، وَأَنْ يُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ، ثُمَّ يَحِلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ ”وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد
حدیث نمبر: 3129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ ؟ قَالَ : " الْحُلْوُ الْبَارِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا مشروب سب سے عمدہ ہے؟ فرمایا: ”جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
حدیث نمبر: 3131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ ، فَدَعَانِي ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، میں نے واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2604
حدیث نمبر: 3132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ : بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَهْدَى الصَّعْبُ ، وَقَالَ : ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ جَثَّامَةَ " إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّةَ حِمَارٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ " . قَالَ بَهْزٌ : عَجُزَ حِمَارٍ ، أَوْ قَالَ : رِجْلَ حِمَارٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1194
حدیث نمبر: 3133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ ، قَالَ : فَتَفَرَّقُوا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میرا سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ گزر ہوا، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے: یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : " أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، فَأَمَّهُمْ ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ " . فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک الگ تھلگ قبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ بڑھائی اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو گئے۔ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس صحابی کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 857، م:954
حدیث نمبر: 3135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ ، خَيْرٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ”کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کر دینا زیادہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 3136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الْحَجَرِ ، وَعِنْدَهُ مِحْجَنٌ يَضْرِبُ بِهِ الْحَجَرَ ، وَيُقَبِّلُهُ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 ، لَوْ أَنَّ قَطْرَةً قُطِرَتْ مِنَ الزَّقُّومِ فِي الْأَرْضِ ، لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ ، فَكَيْفَ بِمَنْ هُوَ طَعَامُهُ ، وَلَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران : 102]» ”اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر۔“ فرمایا: ”اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہو گا اس کا کیا بنے گا۔“ فائدہ: ”زقوم“ جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ ، فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، " فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی بہن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے رکھ لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى يحيى، ثم هو موقوف
حدیث نمبر: 3138
حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حدیث نمبر (3136) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1953، م: 1148
حدیث نمبر: 3139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ، قَالَ : " مَا عَمَلٌ أَفْضَلَ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ " يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ ، قَالَ : فَقِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: ”ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 969
حدیث نمبر: 3140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَكَبَّرَ فِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " لَا أُمَّ لَكَ ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ ، وَالْجَلَّالَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ : نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَأَنْ يَشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 3145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ ، أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 3146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " . قَالَ يَزِيدُ : " رَبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 3148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، قَالَ : " هُنَّ لَهُمْ ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُمْ ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، ثُمَّ مِنْ حَيْثُ بَدَأَ ، حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ أَهْلُ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَأُتِيَ بِبَدَنَةٍ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ، ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ ، فَرَكِبَهَا ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ " يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6895