حدیث نمبر: 3034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2660
حدیث نمبر: 3035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ ، إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ ”اثمد“ ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ ؟ قَالَ : " لَا حَرَجَ ، وَانْحَرْ " . وَجَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : " فَارْمِ ، وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے)، یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ بَعْدَ مَا زَالَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 3039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، قَالَ : فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ ، وَتَرَكَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ ، فَلَوْ كُنَّ حَرَامًا ، مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا، اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھانے کی اجازت دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5389
حدیث نمبر: 3041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، قَالَ : فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ ، وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ ، قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا ، قَالَ : وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنَ أَخِي ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ ، وَبَصَرَهُ ، وَلِسَانَهُ ، غُفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فلاں (فضل) سوار تھا، وہ نوجوان، عورتوں کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کا چہرہ پیچھے کی طرف کئی مرتبہ پھیرا، لیکن وہ پھر بھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھتیجے! آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 3042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ " فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ . وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ سورة القمر آية 45 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن اپنے خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: ”الہی! اپنا وعدہ پورا فرما، الہی! اگر (آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہو گئے تو) زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔“ یہ دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [القمر : 45]» ”عنقریب اس جمعیت کو شکست ہو جائے گی اور یہ لوگ پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناه صحيح، خ: 4875
حدیث نمبر: 3043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور وہ میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 3044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ أَبُو جَهْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَنَهَاهُ ، فَتَهَدَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتُهَدِّدُنِي ؟ ! أَمَا وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَكْثَرُ أَهْلِ الْوَادِي نَادِيًا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى سورة العلق آية 9 - 13 " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ دَعَا نَادِيَهُ ، لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا - جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے - اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: «﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى o عَبْدًا إِذَا صَلَّى o أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى o أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى o أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ [العلق : 9-13]» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے، کیا تم نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہو، یا اس نے پرہیزگاری کا حکم دیا ہو، کیا تم نے دیکھا اگر اس (منع کرنے والے) نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے ”زبانیہ“ پکڑ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرَفَعَهُ ، قَالَ : " مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا حِدَّةً وَشِدَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، ورواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 3046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ " . .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، قد سلف الكلام عليه برقم : 2795
حدیث نمبر: 3047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری پر ہوا جو آپ کے اہل خانہ نے پھینک دی تھی، تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت اس بکری سے بھی کم ہے جو اس کے مالکوں کے نزدیک اس کی اہمیت ہو سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، محمد بن مصعب مختلف فيه
حدیث نمبر: 3048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْضِ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 2761، م: 1638
حدیث نمبر: 3049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، حُجِّي عَنْ أَبِيكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اپنے والد کی طرف سے تم حج کر سکتی ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 4399
حدیث نمبر: 3050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 211، م: 358
حدیث نمبر: 3051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ . قَالَ : " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ مردہ ہے، فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران سفر) حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837
حدیث نمبر: 3053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي إِحْرَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا کہ ”اپنے احرام میں شرط لگا لے۔“ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 3117 دیکھئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ . فَقَالَ : دُلُّونِي عَلَيْهِ . وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ ، قَالُوا : وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا أَبَا عَبَّاسٍ ؟ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَئِنْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ ، لَأَعَضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ ، لَأَدُقَّنَّهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَكُّ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ " هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا ، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے عرض کیا: ہمارے یہاں آج کل ایک آدمی آیا ہوا ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا پتہ تھا، اس وقت تک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، لوگوں نے پوچھا کہ اے ابوالعباس! آپ اس کا کیا کریں گے؟ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس پر قدرت مل گئی تو میں اس کی ناک کاٹ دوں گا، اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو اسے توڑ دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جب بنو فہر کی مشرک عورتیں خزرج کے لوگوں کے ساتھ طواف کریں گی اور ان کی سرین حرکت کرتے ہوں گے، یہ اس امت میں شرک کا آغاز ہوگا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان لوگوں تک ان کی رائے کی برائی پہنچ کر رہے گی یہاں تک کہ اللہ انہیں اس کیفیت سے نکال دے گا جس میں وہ خیر کا فیصلہ کرتا ہے، جیسے انہیں اس کیفیت سے نکالا تھا جس میں وہ شر کا فیصلہ کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبيد المكي، ثم هو لم يرو عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِيَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ . قُلْتُ : أَدْرَكَ مُحَمَّدٌ ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ ، فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کو کوئی زخم لگ گیا، اتفاق سے اسے خواب بھی آ گیا، لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دے دیا، جس کی وجہ سے وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے، کیا جہالت کا علاج ”پوچھنا“ نہ تھا؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وفي إسناده انقطاع بين الأوزاعي و بين عطاء
حدیث نمبر: 3057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا ، كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً ، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ ، فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ ، إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ ، كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، اور جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر، تین مرتبہ الحمدللہ، تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا، پھر چت لیٹ گئے اور ہنسنے لگے، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جو شخص بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر اسی طرح کرے جیسے میں نے کیا تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف اسی طرح مسکرا کر دیکھتا ہے جیسے میں نے تمہیں مسکرا کر دیکھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبوبكر بن عبدالله ضعيف، وعلي بن أبى طلحة لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 3058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : سُئِلَ الزُّهْرِيُّ هَلْ فِي الْجُمُعَةِ غُسْلٌ وَاجِبٌ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ ، فَلْيَغْتَسِلْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ طَاوُسٌ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا ، وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الْغُسْلُ ، فَنَعَمْ ، وَأَمَّا الطِّيبُ ، فَلَا أَدْرِي .
مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا: کیا جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث سنائی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تم میں سے جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر لے۔“ اور طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 884
حدیث نمبر: 3059
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ هَذَا الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 3060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ كُرَيْبًا أخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجَرَّنِي ، فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ ، خَنَسْتُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لِي : " مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ ؟ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : فَأَعْجَبْتُهُ ، فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا ، قَالَ : ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةَ . فَقَامَ فَصَلَّى ، مَا أَعَادَ وُضُوءًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے آخری حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور مجھے اپنے برابر کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پھر پیچھے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے بھئی! میں تمہیں اپنے برابر کرتا ہوں اور تم پیچھے ہٹ جاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کسی آدمی کے لئے آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مناسب ہے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت کچھ مقام و مرتبہ دے رکھا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور میرے لئے علم و فہم میں اضافے کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
حدیث نمبر: 3061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا ، وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ ، قَالَ : وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى ، قَالَ : فَابْتَدَءُوا فَتَحَدَّثُوا ، فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا ، قَالَ : فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ ، وَيَقُولُ : أُفْ وَتُفْ ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ، قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنْ اسْتَشْرَفَ ، قَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " قَالُوا : هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ . قَالَ : " وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ ؟ ! " ، قَالَ : فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ ، قَالَ : فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ ، فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ . قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ ، فَأَخَذَهَا مِنْهُ ، قَالَ : " لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ " . قَالَ : وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ : " أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ " ، قَالَ : وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ ، فَأَبَوْا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ : " أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ، قَالَ : فَتَرَكَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ " ، فَأَبَوْا ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . فَقَالَ : " أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ . قَالَ : وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ ، وَفَاطِمَةَ ، وَحَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 . قَالَ : وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ ، قَالَ : وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ ، قَالَ : وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ ، فَأَدْرِكْهُ . قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ ، قَالَ : وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ ، وَهُوَ يَتَضَوَّرُ ، قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ لَلَئِيمٌ ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ ، وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ ، وَقَدْ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ . قَالَ : وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَخْرُجُ مَعَكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ : " لَا " ، فَبَكَى عَلِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي " . قَالَ : وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ : " أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي " . وَقَالَ : سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا ، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ . قَالَ : وَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ " . قَالَ : وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ ؟ ! قَالَ : وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ : ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ . قَالَ : " أَوَكُنْتَ فَاعِلًا ؟ ! وَمَا يُدْرِيكَ ، لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو آدمیوں پر مشتمل لوگوں کا ایک وفد آیا تھا اور کہنے لگا کہ اے ابوالعباس! یا تو آپ ہمارے ساتھ چلیں یا یہ لوگ ہمارے لئے خلوت کر دیں، ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ہی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں، یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ ان لوگوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور بات چیت کرتے رہے لیکن ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کہا؟ تھوڑی دیر بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: اف، تف، یہ لوگ ایک ایسے آدمی میں عیب نکال رہے ہیں جسے دس خوبیاں اور خصوصیات حاصل تھیں، یہ لوگ ایک ایسے آدمی کی عزت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اب میں ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا“، جھانک کر دیکھنے والے اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے جھانکنے لگے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آٹا کیوں نہیں پیستا؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہیں آشوب چشم کا عارضہ لاحق تھا، گویا انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور تین مرتبہ جھنڈا ہلا کر ان کے حوالے کر دیا اور وہ ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لانے کا سبب بن گئے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سورہ توبہ کا اعلان کرنے کے لئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا، بعد میں ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی روانہ کر دیا، انہوں نے اس خدمت کی ذمہ داری سنبھال لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پیغام ایسا تھا جسے کوئی ایسا شخص ہی پہنچا سکتا تھا جس کا مجھ سے قریبی رشتہ داری کا تعلق ہو، اور میرا اس سے تعلق ہو۔“ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں تم میں سے کون میرے ساتھ موالات کرتا ہے؟“ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، باقی سب نے انکار کر دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں آپ کے ساتھ دنیا و آخرت کی موالات قائم کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان میں سے ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور یہی صورت دوبارہ پیش آئی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد تمام لوگوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا اعزاز بچوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا لے کر سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما پر ڈالا اور فرمایا: ”اے اہل بیت! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں خوب پاک کرنا چاہتا ہے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا آپ بیچ دیا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس شب ہجرت زیب تن کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ سو گئے، مشرکین اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منہ کھول کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر میمون کی طرف گئے ہیں، آپ انہیں وہاں جا کر ملیں، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اسی طرح تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی تھی اور وہ تکلیف میں تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا، صبح تک انہوں نے سر باہر نہیں نکالا، جب انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا تو قریش کے لوگ کہنے لگے: تم تو بڑے کمینے ہو، ہم تمہارے ساتھی پر تیر برسا رہے تھے اور ان کی جگہ تمہیں نقصان پہنچ رہا تھا، اور ہمیں یہ بات اوپری محسوس ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا؟ فرمایا: ”نہیں“، اس پر وہ رو پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو، اور میرے لئے جانا مناسب نہیں ہے الا یہ کہ تم میرے نائب بن جاؤ۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم میرے بعد ہر مومن کے بارے میں میرے دوست ہو۔“ نیز مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کردیئے گئے سوائے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے، چنانچہ وہ مسجد میں حالت جنابت میں بھی داخل ہو جاتے تھے کیونکہ ان کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہ تھا۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کا مولی ہے۔“ نیز اللہ نے ہمیں قرآن کریم میں بتایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہو چکا ہے یعنی اصحاب الشجرہ سے (بیعت رضوان کرنے والوں سے)، اور ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ سب جانتا ہے، کیا بعد میں کبھی اللہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے ناراض ہو گیا؟ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے متعلق عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجیئے، میں اس کی گردن اڑا دوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم واقعی ایسا کر سکتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”تم جو مرضی عمل کرتے رہو“ (میں نے تمہیں معاف کر دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اہل بدر میں سے تھے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو بلج، قال البخاري : فيه نظر، وأعدل الأقوال فيه: أنه يقبل حديثه فيما لا ينفرد به كما قال ابن حبان
حدیث نمبر: 3062
حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ ، قَالَ : فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجْلِسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا : " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ ؟ " فَقَالَتْ : امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ . قَالَ : " فَتَصَدَّقْنَ " ، قَالَ : فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلُمَّ لَكُنَّ ، فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي . فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : الْخَوَاتِيمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی، آیت بیعت کی تلاوت کی اور فراغت کے بعد ان سے پوچھا: ”کیا تم اس کا اقرار کرتی ہو؟“ تو ان میں سے ایک عورت - جس کا نام راوی کو یاد نہیں رہا اور جس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا تھا - کہنے لگی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ نکالنے کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھا لیا تھا اور کہتے جارہے تھے کہ صدقات نکالو، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 979، م: 884
حدیث نمبر: 3064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ ، فَأَتَاهُنَّ ، فَوَعَظَهُنَّ ، وَقَالَ : " تَصَدَّقْنَ " فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا ، فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1449، م :884
حدیث نمبر: 3065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ مَرَّةً ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لمعمرٍ : لَمْ يَكُنْ يُجَاوِزُ بِهِ طَاوُسًا ؟ فَقَالَ : بَلَى ، هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَمِعَهُ يَذْكُرُهُ بَعْدُ ، وَلَا يَذْكُرُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، وَهُنَّ لَهُنَّ ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ ، مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، وَمَنْ كَانَ بَيْتُهُ مِنْ دُونِ الْمِيقَاتِ ، فَإِنَّهُ يُهِلُّ مِنْ بَيْتِهِ ، حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ " . قال أبو عبد الرحمن قال أبي : قَدْ أَحْرَمْتُ مِنْ يَلَمْلَمَ حِينَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موصولا اور منقطعا دونوں طرح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1524، م: 1181
حدیث نمبر: 3066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ ، وَالنَّحْلَةِ ، وَالْهُدْهُدِ ، وَالصُّرَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: ”چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ ، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ لِيَأْكُلَ ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ ، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي ، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " . فَأَكَلَ خَالِدٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی دو عدد گوہ پیش کی گئیں، اس وقت وہاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کھانے کے لئے ہاتھ بڑھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کسی نے بتا دیا کہ یہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: ”نہیں، لیکن چونکہ یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے میں اس سے بچنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔“ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1945
حدیث نمبر: 3068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، لكن فى رواية سماك عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 3069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے، اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن ابن عباس، وقد تقدم بإسناد صحيح برقم: 2192
حدیث نمبر: 3070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى ، قَالَ : أَيَّةُ آيَةٍ ؟ قُلْتُ : إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ ، غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا ، وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا ، يَعْنِي ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا ، وَبِمَا نَعْمَلُ ، فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا . فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا " ، قالوا : سَمِعْنا وأَطَعْنا . قَالَ : فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 285 - 286 ، فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ ، وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ابوالعباس! میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، وہ یہ آیت پڑھ کر رونے لگے، انہوں نے پوچھا کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: « ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ﴾ [البقرة : 284]» ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شدید غم و پریشانی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ہماری باتوں اور ہمارے اعمال پر مواخذہ ہو تو ہم ہلاک ہو جاتے ہیں، ہمارے دل تو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہی کہو کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حکم نبوی کی تعمیل میں کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، بعد میں یہ حکم اگلی آیت: «﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا . . . . .﴾ [البقرة : 286]» ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، . . . . . “ نے منسوخ کر دیا اور دل میں آنے والے وسوسوں سے در گزر کر لی گئی اور صرف اعمال پر مواخذہ کا دار و مدار قرار دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3071
(حديث مرفوع) حدثنا عبدُ الرزاق ، أَخبرنا إِسرائيل والأسودُ ، قال : حدثنا إِسرائيلُ ، عن سِماك ، عن عِكْرمة ، عن ابن عباس ، قال : قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤيا الصَّالحةُ جُزْءٌ من سَبْعينَ جُزءاَ مِن النُّبَّوِة " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، لكن فى رواية سماء عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 3072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً ، فَقَالُوا لَهَا : أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ ؟ فَقَالَتْ : إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ، ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ . فَجَرُّوا ، ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا ، " فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ . فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے لوگ ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ بتائیے، ہم میں سے اس مقام ابراہیم والے کے مشابہہ سب سے زیادہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ تم اس زمین پر ایک چادر بچھاؤ اور اس پر چلو تو میں تمہیں بتاؤں؟ چنانچہ انہوں نے اس پر چادر بچھائی اور اس پر سے چل کر گئے، اس کاہنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی کہ یہ تم میں سے سب سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہہ ہے، اس واقعے کے بیس سال یا بیس سال کے قریب گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فإن رواية سماك عن عكرمة، فيها اضطراب
حدیث نمبر: 3073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 157