حدیث نمبر: 2994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ ، فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ ، وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے، لہذا مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔
حدیث نمبر: 2995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : " عَلَيْهِ نِصْفُ دِينَارٍ " . قَالَ : وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَجِّ كُلَّ عَامٍ ؟ فَقَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ ، لَكَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“
حدیث نمبر: 2997
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالُوا : كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا حَسَنٍ ؟ فَقَالَ : أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أَلَا تَرَى ؟ ! إِنِّي لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ ، فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُكَلِّمْهُ ، فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ فِينَا بَيَّنَهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ ، وَأَوْصَى بِنَا . فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنْ قَالَ : الْأَمْرُ فِي غَيْرِنَا ، فَلَمْ يُعْطِنَاهُ النَّاسُ أَبَدًا ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ واللہ! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جانبر نہ ہو سکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 2998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ : زَنَيْتُ : " لَعَلَّكَ غَمَزْتَ ، أَوْ قَبَّلْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ " ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا؟ یا اسے دیکھا ہوگا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَتْ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا ، عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، فَكَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ آخِرَ الْقِرَاءَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔
حدیث نمبر: 3000
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى ، حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ ، وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220 قَالَ : فَخَالَطُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: « ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الإسراء : 34]» ”یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اچھے طریقے سے“، تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مال سے جدا کر لیا، جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کھانا سڑنے لگا اور گوشت میں بدبو پیدا ہونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس صورت حال کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ﴾ [البقرة : 220]» ”اگر تم ان کو اپنے ساتھ شریک کر لو تو وہ تہمارے بھائی ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون فساد کرنے والا؟“ تب جا کر انہوں نے اپنے مال کے ساتھ ان کا مال شریک کر لیا۔
حدیث نمبر: 3001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ : عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ . قَالَ : فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ : إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ ، إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: ”کیوں؟“ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔
حدیث نمبر: 3002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ النَّحْرِ ، وَعَلَيْنَا سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا ، وَيَقُولُ : " أَبَنِيَّ ، أَفِيضُوا ، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں - جبکہ رات کچھ باقی تھی - نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: ”پیارے بچو! تم روانہ ہوجاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 3004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ ، وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ“ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 3006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ ، فَجَعَلَ يُوصِيهِمْ أَنْ لَا يَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 3007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : تَزَوَّجَ فُلَانٌ ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا ، فَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا ، فَبَيْنَ آكِلٍ وَتَارِكٍ ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ : لَا آكُلُهُ ، وَلَا أُحَرِّمُهُ ، وَلَا آمُرُ بِهِ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا تَقُولُونَ ، مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا ، قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَّ يَدَهُ ، لِيَأْكُلَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ . فَكَفَّ يَدَهُ ، وَقَالَ : " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ ، فَكُلُوا " فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : لَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں آدمی کی شادی ہوئی، اس نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں، نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ممانعت کرتا ہوں“، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو“، چنانچہ سیدنا فضل، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ موجود خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔
حدیث نمبر: 3008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ سورة المدثر آية 8 ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ ، فَيَنْفُخُ ؟ " ، فَقَالَ : أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ : كَيْفَ نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت قرآنی: «﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر : 8]» ”جب صور پھونکا جائے گا۔“ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعا پڑھنی چاہیے؟ فرمایا: ”یہ کہتے رہا کرو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا»۔“
حدیث نمبر: 3009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حدیث نمبر: 3010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ ، فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ ، وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ، لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ ، حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ ، عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطا فرما دیتے، اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔
حدیث نمبر: 3011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَتَلُوهُ ، فَسَأَلُوا أَنْ يَشْتَرُوا جِيفَتَهُ . " فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال مؤمَّلٌ : فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يَبِيعوا جِيفَتَه " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک بڑا آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی لاش بیچنے سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 3012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ : اجْلِسْ ، فَإِنَّ الْقِدْرَ قَدْ نَضِجَتْ ، فَنَاوَلَتْهُ كَتِفًا ، فَأَكَلَ ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز والا وضو کیا تو کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ تشریف رکھئے، ہنڈیا تیار ہو گئی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے شانے کا گوشت پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 3014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَامَ ، فَصَلَّى ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، كَبَّرَ ، وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ ، كَبَّرَ ، وَإِذَا مَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، كَبَّرَ ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے اسے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ ، خُرَاسَانِيٌّ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ وَضَعَ لَهُ ، وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے کہ ”جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے، یا اسے معاف کر دے تو اللہ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرما دے گا، یاد رکھو! جنت کے اعمال ٹیلے کی طرح سخت ہیں، اور جہنم کے اعمال نرم کمان کی طرح آسان ہیں، خوش نصیب ہے وہ آدمی جو فتنوں سے محفوظ ہو، اور انسان غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، مجھے اس سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لئے غصہ کا گھونٹ پی جاتا ہے، اللہ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دے گا۔“
حدیث نمبر: 3016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " لِمَنْ كَانَتْ هَذِهِ الشَّاةُ ؟ " فَقَالُوا : لِمَيْمُونَةَ . قَالَ : " أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کس کی بکری ہے؟“ لوگوں نے بتایا: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا۔“
حدیث نمبر: 3017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَنَزَلْنَا وَدَخَلْنَا مَعَهُ ، فَمَا قَالَ لَنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 3018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔
حدیث نمبر: 3019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلى أَبى طَيْبَة عِشاءً فحَجَمَهُ ، وأعطاهُ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کے پاس شام کے وقت بیغام بھیجا، اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی مزدوری دی۔
حدیث نمبر: 3020
(حديث مرفوع) حدثنا أَبو داود ، عن زَمْعَة ، عن سَلَمَة بنِ وَهْرامة ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ ، فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَفَاضَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیز روشن ہوگئی تو وہاں سے روانہ ہو گئے۔
حدیث نمبر: 3021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ ، وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، قَالَ هَاشِمٌ : فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ قَالَ هَاشِمٌ : لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ”ذات عرق“ میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ ”اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 3022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قال : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَ : " مَنْ وَضَعَ ذَا ؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ . قَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّههُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء آئے، میں نے پیچھے سے وضو کا پانی رکھ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو پوچھا کہ ”یہ پانی کس نے رکھا ہے؟“ بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے فقیہہ بنا۔“
حدیث نمبر: 3023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي ، إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ " .(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : " وَمْن كَذَب علَيَّ متعمَّداً ، فلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَى الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے، اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَتْ فُلَانَةُ يَعْنِي الشَّاةَ . فَقَالَ : " فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا " ، فَقَالَتْ : نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ ؟ ! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ سورة الأنعام آية 145 ، فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ " فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا ، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا ، فَدَبَغَتْهُ ، فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کیوں نہ رکھ لی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ایک مرداربکری کی کھال رکھتی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ «﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [الأنعام : 145]» ”اے نبی! آپ فرما دیجئے کہ میرے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے، میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو۔“ اب اگر تم اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تم اسے کھاؤ گے تو نہیں؟“ چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروا لی اور اسے دباغت دے کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پھٹ گیا۔
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَذَكَرَهُ .
حدیث نمبر: 3028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ، أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ ؟ " قَالَ : فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟“ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں میری خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 3030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَقَصَهُ بَعِيرُهُ ، فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ ، فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ ، فَتَجْرَبُ ! قَالَ : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟“
حدیث نمبر: 3032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“
حدیث نمبر: 3033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَشَى ، مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو مجتمع ہو کر چلتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال میں کسی قسم کی کسل مندی یا سستی نہیں ہوتی تھی۔
…