حدیث نمبر: 1917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
حدیث نمبر: 1918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا ، وَسَبْعًا جَمِيعًا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ ، أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : وَأَنَا أَظُنَّ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: اے ابوالشعثاء! میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں، اسی طرح مغرب کو اس کے آخر وقت میں اور عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیا ہوگا؟ (اسی کو انہوں نے جمع بین الصلاتین سے تعبیر کر دیا)، تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1147، م: 705.
حدیث نمبر: 1919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو , قَالَ أَبُو الشَّعْثَاء : " مَنْ هِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَقُولُونَ : مَيْمُونَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
حدیث نمبر: 1920
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس , " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1678، م: 1293.
حدیث نمبر: 1921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے رمل اس لئے کیا تھا کہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266.
حدیث نمبر: 1922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو أَوَّلًا : فَحَفِظْنَا عَنْ طَاوُسٍ ، وَقَالَ مَرَّة : أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202 .
حدیث نمبر: 1923
قَالَ أَبِي : وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ ، وَقَالَ عَمْرٌو : عَنْ عَطَاءٍ , وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 1924
(حديث مرفوع) قَالَ أَبِي , وقَالَ سُفْيَانُ : عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ ، حَتَّى يَلْعَقَهَا ، أَوْ يُلْعِقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031.
حدیث نمبر: 1925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وادی محصب کچھ بھی نہیں ہے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منزل کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1766، م: 1312.
حدیث نمبر: 1926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا ، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا کافی حصہ اللہ کی مشیت کے مطابق بیت گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے تو یوں ہی سو گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7239، م: 642.
حدیث نمبر: 1927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعَرَهُ وَثِيَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
حدیث نمبر: 1928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ طَاوُسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ " ، وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525.
حدیث نمبر: 1929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ ، مُقِيمًا ، غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں مقیم ہونے کی حالت میں - نہ کہ مسافر ہونے کی حالت میں - (مغرب اور عشاء کی) سات اور (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 1174، م: 705. وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عثمان الجمحي ضعيف.
حدیث نمبر: 1930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , " رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ ، فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، اس کا کوئی وارث بھی نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عوسجة مجهول.
حدیث نمبر: 1931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ " ، أَوْ قَالَ " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جب تک چاند کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو“، یا یہ فرمایا کہ ”چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عمرو بن دينار مجهول.
حدیث نمبر: 1932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى الْغَائِطَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ ، وَقَالَ مَرَّةً : فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَوَضَّأُ ؟ قَالَ : " لَمْ أُصَلِّ ، فَأَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374 .
حدیث نمبر: 1933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ " ، قَالَ عَمْرٌو : قُلْتُ لَهُ : حَدَّثْتَنِي ، قَالَ : لَا ، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کی آواز سے ہوتا تھا۔ فائدہ: اس سے مراد اختتام نماز کے بعد جب امام سر پر ہاتھ رکھ کر اللہ اکبر یا استغفر اللہ کہتا ہے، وہ تکبیر ہے، ورنہ نماز کا اختتام تکبیر پر نہیں، سلام پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 841، م: 583.
حدیث نمبر: 1934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ، وَلَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " ، وَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ إِلَى الْحَجِّ ، وَإِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے، اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1862، م: 1341.
حدیث نمبر: 1935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " يَوْمُ الْخَمِيسِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : دُمُوعُهُ الْحَصَى ، قُلْنَا : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ : اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ، فَقَالَ : " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " ، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ ، فَقَالُوا : مَا شَأْنُهُ ، أَهَجَرَ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي هَذَى اسْتَفْهِمُوهُ ، فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ " ، وَأَمَرَ بِثَلَاثٍ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : أَوْصَى بِثَلَاثٍ ، قَالَ : " أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ " ، وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنِ الثَّالِثَةِ ، فَلَا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا ، وَقَالَ مَرَّةً أَوْ نَسِيَهَا ؟ وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا أَوْ نَسِيَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا: جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ ان کے آنسوؤں سے وہاں پڑی کنکریاں تربتر ہوگئیں، ہم نے پوچھا: اے ابوالعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں اضافہ ہوگیا تھا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکوگے“، لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یہ مناسب نہ تھا، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟ جا کر دوبارہ پوچھ لو کہ آپ کی منشاء کیا ہے؟ چنانچہ لوگ واپس آئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی کہ ”مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، آنے والے مہمانوں کا اسی طرح اکرام کرو جس طرح میں کرتا تھا“، اور تیسری بات پر سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سکوت اختیار کیا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ جان بوجھ کر خاموش ہوئے تھے یا بھول گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637.
حدیث نمبر: 1936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کوئی شخص بھی اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1755، م: 1327.
حدیث نمبر: 1937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ ، السَّنَتَيْنِ ، وَالثَّلَاثَ ، فَقَالَ : " مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے اور اس کی مدت متعین کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2240، م: 1604.
حدیث نمبر: 1938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ ، غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : أُخْرَى إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي : عَاشُورَاءَ ، وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ , رَمَضَانَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132.
حدیث نمبر: 1939
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1856، م: 1293.
حدیث نمبر: 1940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
حدیث نمبر: 1941
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ , سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَتَلَ مُؤْمِنًا ، ثُمَّ تَابَ ، وَآمَنَ ، وَعَمِلَ صَالِحًا ، ثُمَّ اهْتَدَى ، قَالَ : وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي " ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا ، قَالَ : وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پھر توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ قاتل کے ساتھ لپٹا ہوا ہوگا، اور کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟ واللہ! اللہ نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی تھی، اور اسے نازل کرنے کے بعد کبھی منسوخ نہیں فرمایا، تم پر افسوس ہے، اسے ہدایت کہاں ملے گی؟ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جہمور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے کسی نہ کسی وقت ضرور نجات پا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ ، فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ ، الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک اس قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا، اور ایک نجرانی حلے میں، اور حلے میں دو کپڑے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف.
حدیث نمبر: 1943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد.
حدیث نمبر: 1944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِي الْمُكَاتَبِ : " يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هِشَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ ، وَسِتِّينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير عمار بن أبى عمار فمن رجال مسلم، لكن لا يتابع عليه فى هذا الحديث. والثقات يروونه عن ابن عباس بلفظ: ابن ثلاث وستين.
حدیث نمبر: 1946
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ ، وَفِي قَوْلِهِ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ سورة المعارج آية 8 ، قَالَ : كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ ، وَفِي قَوْلِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ سورة آل عمران آية 113 ، قَالَ : جَوْفُ اللَّيْلِ ، وَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ : هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آخری وہ سختی جس سے مسلمان کا سامنا ہوگا، وہ موت ہے، نیز وہ فرماتے ہیں کہ «يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ» میں لفظ «مُهْلِ» سے مراد زیتون کے تیل کا وہ تلچھٹ ہے جو اس کے نیچے رہ جاتا ہے، اور «آنَاءَ اللَّيْلِ» کا معنی رات کا درمیان ہے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کے چلے جانے سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد زمین سے علماء کا چلے جانا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف.
حدیث نمبر: 1947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس کے پیٹ میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا سورة الإسراء آية 80 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دے دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء : 80]» ”اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے عمدگی کے ساتھ داخل فرما اور عمدگی کے ساتھ نکلنا نصیب فرما اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ عطاء فرما جس میں تیری مدد شامل ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ ، وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام " ، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے، اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [الأنبياء : 104]» ”ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3349.
حدیث نمبر: 1951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358.
حدیث نمبر: 1952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةُ حَمْزَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ذکر کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447 .
حدیث نمبر: 1953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ ، وَلَا مَطَرٍ " ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 705.
حدیث نمبر: 1954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ ، فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُرِيكَ آيَةً ؟ " , قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ ، فَقَالَ : ادْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ ، قَالَ : فَدَعَاهُ ، فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ " ، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ : يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو عامر کا ایک آدمی آیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی وہ مہر نبوت دکھائیے جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، میں لوگوں میں بڑا مشہور طبیب ہوں (اس کا علاج کر دیتا ہوں)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک معجزہ نہ دکھاؤں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ایک درخت پر نگاہ ڈال کر فرمایا: ”اس ٹہنی کو آواز دو“، اس نے آواز دی تو وہ ٹہنی اچھلتی کودتی ہوئی آ کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اپنی جگہ واپس چلی جاؤ“، چنانچہ وہ اپنی جگہ واپس چلی گئی، یہ دیکھ کر بنو عامر کا وہ آدمی کہنے لگا: اے آل بنی عامر! میں نے آج کی طرح کا زبردست جادوگر کبھی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
حدیث نمبر: 1956
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ " رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ [النجم : 11]» ”آنکھ نے جو دیکھا، دل نے اس کی تکذیب نہیں کی“ سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے پروردگار کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 176 .