حدیث نمبر: 2954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ عَمْروٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال : " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ ، وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والوں کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلَانِ ، فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ ، فَنَزَل َجِبْرِيلُ ، فَقَالَ : مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ ، فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ ، وَهُوَ كَاذِبٌ ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ " مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھا لی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وعطاء بن السائب قد اختلط
حدیث نمبر: 2957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ لِمَ خَطَطْتُ هَذِهِ الْخُطُوطَ ؟ " قَالُوا : لَا . قَالَ : " أَفْضَلُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ : مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (3) مریم بنت عمران علیہما السلام (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ ، أَوْ يُقْتَلَ ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ ، وَلَا يُعْطِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا: ”وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو، اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔“ پھر فرمایا: ”اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا: ”وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا " ، قَالَ : وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
حدیث نمبر: 2960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا ، فَلَبِسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ ، إِلَيْهِ نَظْرَةٌ ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ " ثُمّ رَمَى بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوا کر پہن لی، پھر فرمانے لگے کہ ”میرا آج کا دن تو اسی میں مصروف رہا، ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور ایک نظر تمہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَن ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ ، فَبَاعُوهَا ، فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا ، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : " لا يُعْضَدُ عِضَاهُها ، ولا يُنَفَّرُ صَيْدُها ، ولا تَحِلُّ لُقَطَتُها إِلا لِمُنْشِدٍ ، ولا يُخْتَلَى خَلاها " فقال العباسُ : يا رسولَ الله ، إِلا الإِذْخِرَ ، قال : " إِلا الإِذْخِرً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے) یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
حدیث نمبر: 2963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : شَرِبَ رَجُلٌ ، فَسَكِرَ ، فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ نْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ ، فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : " قَدْ فَعَلَهَا ؟ ! " ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا جاری نہیں فرمائی، ہوا اس طرح کہ ایک آدمی شراب پی کر مدہوش ہو گیا، راستے میں وہ ادھر ادھر لڑھکتا چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص اسے مل گیا اور اسے پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانے لگا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب ہوا تو وہ شخص اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس کر پیچھے سے جا کر ان سے چمٹ گیا، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ ”اس نے ایسا کیا ہے؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متلعق کوئی حکم نہیں دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن على بن يزيد ابن ركانة مجهول
حدیث نمبر: 2964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ : " فأَما لِلَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة : 143]» ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ منبه عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ : ادْعُ رَبَّكَ . قَالَ : فَدَعَا رَبَّهُ ، قَالَ : فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَعِقَ ، فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ ، وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی فرمائش کی، انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو اسی لمحے مشرق کی طرف سے ایک گھٹا اٹھی جو آہستہ آہستہ بلند ہونے اور پھیلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےہوش ہو کر گر پڑے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہیں اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو صاف کیا جو دونوں جبڑوں کی طرف سے نکل رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إدريس بن منبه ضعيف
حدیث نمبر: 2966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِأُنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا ، فَأَحْرَقَهُمْ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو لایا گیا جو بتوں کے پچاری بن گئے تھے، انہوں نے ان لوگوں کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3017
حدیث نمبر: 2967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ " . قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ : سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ ؟ فَقَالَ : لَا ، إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ ، وَأَشْبَاهِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ راوی نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، صرف بیع و شراء میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1712
حدیث نمبر: 2968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ " . قَالَ عَمْرٌو : إِنَّمَا ذَاكَ فِي الْأَمْوَالِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ ، لَكَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا سند ضعيف، وهو مكرر: 2663
حدیث نمبر: 2970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ ، فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف وانظر 2093
حدیث نمبر: 2971
وحَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا ، فَأَسْنَدَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَسْلَمَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَزَوَّجَتْ ، فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ إِسْلَامِي . " فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخِرِ ، وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا) اور میری بیوی کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر دوسرے شوہر سے پہلے شوہر کی طرف واپس لوٹا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ ، فَلْيَتَعَجَّلْ ، فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ ، وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ ، وَتَكُونُ الْحَاجَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
حدیث نمبر: 2974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ كَذَبَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف عبدالأعلى
حدیث نمبر: 2975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ، أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ ؟ " وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، واللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح نہیں کیا تھا، اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کر لوں۔ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا
حدیث نمبر: 2976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرَيَّةُ ، سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَحَلَّ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے فرمایا: اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے کہ انہوں نے احرام باندھا تھا؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ ، فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ ، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي ، وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى ، ، قَالَ : فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ ، نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ ، فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا ، " فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ ، جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ ، قَالَ : فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ . قَالَ : فَبَثَّ جُنُودَهُ ، قَالَ : فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ ، قَالَ : فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، قَالَ : فَقَالَ : هُوَ الَّذِي حَدَثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، (وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں) اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَأَقْبَلَ بِهَا يَقْتَادُهَا عَلَى بَعِيرٍ ، حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا مَعَكَ ؟ " قَالَ : رَاوِيَةُ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ . قَالَ : " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَهَا " قَالَ : لَا ، قَالَ ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا ؟ " فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ ، وَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ : " مَاذَا قُلْتَ لَهُ ؟ " قَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا . قَالَ " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا " ، قَالَ : فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ ، فَخَرَجَتْ فِي التُّرَابِ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے بتایا کہ شراب کا مشکیزہ آپ کے لئے ہدیہ لایا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ نے شراب کو حرام کردیا ہے“، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تم نے اسے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے۔“ چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ ، وَكَانَ يَحْجُمُهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ ، وَكَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ وَنِصْفٌ ، فَشَفَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَجُعِلَ مُدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی ہے، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی، چنانچہ انہوں نے اسے ایک مد کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1910
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن عطاء
حدیث نمبر: 2982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 2983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ " أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ ، وَأَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
حدیث نمبر: 2985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
حدیث نمبر: 2986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94 " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا . . . . .﴾ [النساء : 94]» ”جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع
حدیث نمبر: 2987
رقم الحديث: 2868
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 ، قَالَ : " أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران : 110]» ”تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی . . . . . “ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2988
رقم الحديث: 2869
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ ، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ ، وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 " الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے - ایک یہودی کا گزر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھا لے گا اور اس نے شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الزمر : 67]» ”ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدردانی کرنے کا حق تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ . قَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " ، فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ عَلَى فَمِ الْإِنَاءِ ، وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ ، قَالَ : فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ ، وَأَمَرَ بِلَالًا ، فَقَالَ : " نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ میرے پاس لے آؤ“، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آ کر لے جائیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَفَاةُ ، قَالَ : " هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ " وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ ، وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ . قَالَ : فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ ، فَاخْتَصَمُوا ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : يَكْتُبُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ ، وَغُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قُومُوا عَنِّي " . فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ ، مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔“ اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کر دو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں، اور بعض کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 114، م: 1637
حدیث نمبر: 2991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اس وقت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، اور خانہ کعبہ تو آپ کے سامنے ہوتا ہی تھا، اور ہجرت کے بعد بھی سولہ مہینے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2992
رقم الحديث: 2873
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ ، فَقَالَ " السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ ، فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615