حدیث نمبر: 2914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ ، مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، مَلْعُونٌ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ ، مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ " . قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ثَلَاثًا فِي اللُّوطِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“ اور یہ آخری جملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ " . قَالَهَا ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے“، اور تین مرتبہ فرمایا: ”وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 2916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا ، وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى ، وَلَمْ تُكْتَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ ، وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ ، فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا ، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا ، فَيَسْأَلُوا عَنْهَا ؟ ! ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا ، فَلَمَّا قَامَ ، تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا ، فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ ، قُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ ، فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا ، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْهَا ، وَعَنِ اللَّاتِي قرأت قبلها . قَالَ : نَعَمْ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِقُرَيْشٍ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ " . وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَي تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا ، فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ . قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ سورة الزخرف آية 57 . قَالَ : قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ ؟ قَالَ : يَضِجُّونَ ، وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ سورة الزخرف آية 61 ، قَالَ : هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
مولانا ظفر اقبال
ابویحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتا ہوں جس کے متعلق آج تک مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے پہلے سے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا ان کا ذہن ہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا؟ یہ کہہ کر پھر وہ ہمارے ساتھ باتیں کرنے لگے، جب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم ہی نے ان سے کیوں نہ پوچھ لیا؟ میں نے کہا کہ جب وہ کل یہاں آئیں گے تو میں ان سے اس کے متعلق دریافت کروں گا۔ چنانچہ اگلے دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! کل آپ نے ذکر فرمایا تھا کہ آپ قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتے ہیں جس کے متعلق آج تک آپ سے کسی نے نہیں پوچھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ معلوم نہیں، لوگوں کو پہلے سے اس کے بارے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے؟ آپ مجھے اس آیت کے متعلق بتائیے اور ان آیات کے متعلق بھی جو آپ نے اس سے پہلے پڑھ رکھی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا: ”اے گروہ قریش! اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان میں سے کسی میں کوئی خیر نہیں ہے“، قریش کے لوگ جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے تھے، اگر آپ سچے ہیں (کہ معبودان باطلہ میں کوئی خیر نہیں ہے) تو پھر عیسائیوں کا خدا بھی ویسا ہی ہوا جیسے آپ کہتے ہیں (کہ ان میں بھی کوئی خیر نہیں ہے)، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ» [الزخرف : 57] ”جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال بیان کی جاتی ہے تو آپ کی قوم چلانے لگتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے «يَصِدُّونَ» کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا ترجمہ ”چلانا“ کیا اور «﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ [الزخرف : 61]» ”اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔“ کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول و خروج قیامت کی علامات میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ بَيْتِهِ بِمَكَّةَ جَالِسٌ ، إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَجْلِسُ ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَهُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُ إِذْ شَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ ، فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَتَّى وَضَعَهُ عَلَى يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَتَحَرَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَلِيسِهِ عُثْمَانَ إِلَى حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ ، وَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ ، وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ ، وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ ، شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا شَخَصَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَأَتْبَعَهُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ ، فَأَقْبَلَ إِلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيما كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ ، مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ ! قَالَ : " وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُكَ تَشْخَصُ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَلَى يَمِينِكَ ، فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي ، فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ . قَالَ : " وَفَطِنْتَ لِذَاكَ ؟ " قَالَ عُثْمَانُ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ آنِفًا ، وَأَنْتَ جَالِسٌ " قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَمَا قَالَ لَكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ سورة النحل آية 90 . قَالَ عُثْمَانُ فَذَلِكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي ، وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ وہاں سے عثمان بن مظعون کا گزر ہوا، وہ تیزی سے گزرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ بیٹھیں گے نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گئے، ابھی یہ دونوں آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں اوپر کو اٹھ گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ اپنی نگاہیں نیچے کرنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظریں زمین پر اپنی دائیں جانب گاڑ دیں اور اپنے مہمان عثمان سے منہ پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنا سر جھکا لیا، ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عثمان یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کام سے فارغ ہوئے اور جو کچھ ان سے کہا جا رہا تھا، انہوں نے سمجھ لیا تو پھر ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، جیسے پہلی مرتبہ ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں کسی چیز کا پیچھا کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ چیز آسمانوں میں چھپ گئی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کی طرح عثمان کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ کے پاس آ کر کیوں بیٹھوں؟ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے پہلے میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟“ عثمان کہنے لگے کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، پھر آپ نے دائیں ہاتھ اپنی نگاہیں جما دیں، آپ مجھے چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہو گئے، اور آپ نے اپنے سر کو جھکا لیا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ سے کچھ کہا جارہا ہے، اسے آپ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی تم نے ایسی چیز محسوس کی ہے؟“ عثمان کہنے لگے: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد آیا تھا جبکہ تم میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے“، عثمان نے کہا: اللہ کا قاصد؟ فرمایا: ”ہاں!“ عثمان نے پوچھا کہ پھر اس نے آپ سے کیا کہا؟ فرمایا: ”بیشک اللہ عدل و احسان کا اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی، ناپسندیدہ اور سرکشی کے کاموں سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔“ عثمان کہتے ہیں کہ اسی وقت سے میرے دل میں اسلام نے جگہ بنانی شروع کر دی اور مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شهر بن حوشب مختلف فيه، وعبد الحميد بن بهرام مختلف فيه أيضا
حدیث نمبر: 2920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا ، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حرم تھا اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو آپ کے حرم کی طرح حرم قرار دیتا ہوں، یہاں کسی بدعتی کو ٹھکانہ نہ دیا جائے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کر سکے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون قوله : لكل نبي م، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِده ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ ، أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے)، یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ ، قَالَ : لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ سورة الأحزاب آية 52 ، فَأَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 50 وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ دِينِ الْإِسْلَامِ ، قَالَ : وَمَنْ يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة المائدة آية 5 ، وَقَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ سورة الأحزاب آية 50 وَحَرَّمَ سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہر صنف کی عورتیں ممنوع تھیں سوائے ان مؤمنہ عورتوں کے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئی ہوں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: « ﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ﴾ [الأحزاب : 52]» ”ان کے علاوہ کسی عوت سے نکاح کرنا، یا انہیں بدل کر کسی اور کو اپنے نکاح میں لے آنا خواہ ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے، آپ کے لئے حلال نہیں ہے سوائے باندیوں کے۔“ بعد میں اللہ نے تمہاری مؤمن عورتوں کو ان پر حلال کر دیا اور اس مؤمنہ عورت کو بھی جو اپنی ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دے، اور اسلام کے علاوہ دوسرے ہر دین کی عورت کو حرام قرار دے دیا اور فرمایا: « ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [المائدة : 5]» ”جو شخص ایمان کے بعد کفر اختیار کر لے اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔“ اور فرمایا: « ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ . . . . . خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأحزاب : 50]» ”اے نبی! ہم نے آپ کے لئے حلال کر دی ہیں آپ کی بیویاں جن کو آپ نے ان کے مہر دے دیئے ہیں اور آپ کی لونڈیاں . . . . . یہ حکم خاص آپ کے لئے ہے، عام مسلمانوں کے لئے نہیں۔“ اور اس کے علاوہ سب طرح کی عورتیں حرام کر دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا سَوْدَةُ ، وَكَانَتْ مُصْبِيَةً ، كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ ، مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي ؟ " قَالَتْ : وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ ، وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةَ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً . قَالَ : " فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ " قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ . قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُكِ اللَّهُ ، إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو - جن کا نام سودہ تھا - پیغام نکاح بھیجا، سودہ کے یہاں اس شوہر سے - جو فوت ہوگیا تھا - پانچ یا چھ بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”تمہیں مجھ سے کون سی چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! واللہ! مجھے آپ سے کوئی چیز نہیں روکتی، آپ تو ساری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں، اصل میں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ یہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے روتے اور چیختے رہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تم پر رحم کرے، وہ بہترین عورتیں جو اونٹوں پر پشت کی جانب بیٹھتی ہیں ان میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچپن میں اپنے بچوں کے لئے انتہائی شفیق اور اپنی ذات کے معاملے میں اپنے شوہر کی محافظ ہوتی ہیں۔“ فائدہ: یہ سودہ دوسری ہیں، ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون ذكر اسم المرأة التى خطبها النبى ، وشهر بن حوشب - على ضعف فيه حديثه حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 2924
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فقد أَسلمتُ ؟ ، قَالَ : " إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالْكِتَابِ ، وَالنَّبِيِّينَ ، وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ ، وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَالْحِسَابِ ، وَالْمِيزَانِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ : إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ " ، قَالَ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدِّثْنِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا ، وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ ، فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ ؟ قَالَ : " الْعَرَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے ہاتھ ان کے گھٹنے پر رکھ کر بیٹھ گئے، اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اسلام کی تعریف کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو، اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ انہوں نے پوچھا: کیا یہ کام کرنے کے بعد میں مسلمان شمار ہوں گا؟ فرمایا: ”ہاں! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مسلمان شمار ہوگے۔“ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، پیغمبروں، موت اور موت کے بعد کی زندگی، جنت و جہنم، حساب کتاب، میزان عمل اور تقدیر پر مکمل - خواہ وہ بھلائی کی ہو یا برائی کی - یقین رکھو۔“ انہوں نے پوچھا کہ کیا جب میں یہ کام کر لوں گا تو میں مومن شمار ہوں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مومن شمار ہو گے۔“ پھر انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کوئی بھی عمل اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو یہی تصور کر لو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے“، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ارشاد ربانی ہے: « ﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [لقمان : 34] » ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے؟ کسی نفس کو نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا باخبر ہے“، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی کچھ نشانیاں بتا دیتا ہوں جو اس سے پہلے رونما ہوں گی؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ضرور بتائیے، فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے، اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتوں پر ایک دوسرے سے فخر کرنے لگے ہیں، ننگے بھوکے اور محتاج لوگ سردار بن چکے ہیں تو یہ قیامت کی علامات اور نشانیوں میں سے ہے۔“ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ بکریاں چرانے والے، ننگے، بھوکے اور محتاج لوگ کون ہیں؟ فرمایا: ”اہل عرب۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 2925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ ، وَيُعْجِبُهُ كُلُّ اسْمٍ حَسَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2926
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 قَالَ : " الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران : 110]» والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَوْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعَنَانِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ " ثُمَّ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ ، وَلَا يُعْطِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے، یا شہید ہوجائے۔“ پھر فرمایا: ”اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بد ترین مقام کا حامل ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2928
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً . . . " فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم بن عباس لم يدرك ابن عباس وهو يروي عن أصحابه
حدیث نمبر: 2930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْعَبْدَ وَالْمَرْأَةَ مِنَ الْغَنَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ ، قَالَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَقَالَ : دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ .
مولانا ظفر اقبال
اس روایت کے مطابق مال غنیمت کے علاوہ دوسرے مال سے انہیں حصہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسايقه
حدیث نمبر: 2932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ إِسْتَبْرَقٌ ، فقال : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، مَا هَذَا الثَّوْبُ ؟ قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " قَالَ : هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ ! قَالَ : " وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ ، وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنه هَذَا ، حِينَ نَهَى عَنْهُ ، إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ " . قَالَ : فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ ؟ قَالَ : أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ ؟ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ ، قَالَ : انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي ، وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ . قَالُوا : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ ، كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ ؟ قَالَ : لَا . فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ! ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال! سیدنا مسور رضی اللہ عنہ جب چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابوالعباس! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شعبة بن دينار مولى ابن عباس سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ ، وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ ؟ قَالَ : التَّوَاضُعُ . قَالَ : هَكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ ، " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا آزاد کردہ غلام سجدہ کرتے ہوئے پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر رکھ دیتا ہے، انہوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تواضع کو سبب بتایا، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2934
وحَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 2935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ، لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف شعبة مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 2936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ، فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَطِئَ أَمَتَهُ ، فَوَلَدَتْ لَهُ ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف ، شريك بن عبدالله النخعي، وحسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس كلاهما ضعيفان
حدیث نمبر: 2938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْتِيهِ الْجَارِيَةُ بِالْكَتِفِ مِنَ الْقِدْرِ ، فَيَأْكُلُ مِنْهَا ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَيُصَلِّي ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باندی ہنڈیا میں سے شانے کا گوشت لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کرنا تو دور کی بات، پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ " أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا ، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ ، وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ ، وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ ، وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی آزمائش کے دنوں میں نجدہ حروری نے جس وقت خروج کیا تو اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ آپ کے خیال میں ذوی القربی کا حصہ کن کا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کا - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں - حق ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم فرمایا تھا، بعد میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کے بدلے میں کچھ اور چیزیں پیش کی تھیں لیکن وہ ہمارے حق سے کم تھیں اس لئے ہم نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ ان میں سے جو نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کی مالی معاونت کریں گے، ان کے مقروضوں کے قرضے ادا کریں گے اور ان کے فقراء کو مال و دولت دیں گے، لیکن اس سے زائد دینے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ ، فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3558، م: 2336
حدیث نمبر: 2943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ : " مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 2944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، يزيد أحدهما على صاحبه : أن رجلا نادى ابن عباس ، والناس حوله ، فقال : أسنة تبتغون بهذا النبيذ ؟ أم هو أهون عليكم من اللبن والعسل ؟ ! فقال ابن عباس : جاء النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا ، فَقَالَ : " اسْقُونَا " ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ ، أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا ؟ قَالَ : " اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ " فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ ، فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”پانی پلاؤ“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہو گئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو“، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا: ”تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حسين بن عبدالله بن عبيد الله ضعيف
حدیث نمبر: 2945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسْمَعُونَ ، وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سنتے ہو، تمہاری سنی جاتی ہے اور جو تم سے سنتے ہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا تَصُمْ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَكَانَ إِذَا صَامَ ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي خُفٍّ وَاحِدٍ ، أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ " . وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ كَثِيرٌ غَيْرُ هَذَا ، فَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ ، ضَرَبَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ لَا يُسَاوِي شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتی یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ والد صاحب رحمہ اللہ نے یہ حدیث ہم سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صرف مسودہ میں درج کی تھی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو عمرو بن خالد کی وجہ سے ترک کر دیا تھا جو زید بن علی سے اسے روایت کرتے ہیں، اور عمرو بن خالد کی تو کوئی حیثیت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان ضعيف، ويغني عنه حديث أبى هريرة الذى سيأتي فى المسند : 245/2
حدیث نمبر: 2949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ التَّلْبِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ، قَالَ : " إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ ، فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سَدَاهُ حَرِيرٌ لَيْسَ بِحَرِيرٍ مُصْمَتٍ ، فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُشْرَبَ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے بھی منع فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَقُلْتُ : مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَعْتَافُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے“، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6472
حدیث نمبر: 2953
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْءَمَةِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ ، يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا ، وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رحم“ ایک شاخ ہے جس نے رحمن کی آڑ تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا، اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑ دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح