حدیث نمبر: 2874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزٍ ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " رُدُّوهُ " ، فَاعْتَرَفَ مَرَّتَيْنِ ، حَتَّى اعْتَرَفَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور انہوں نے دو مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“، پھر واپس بلوایا اور انہوں نے مزید دو مرتبہ اعتراف کیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ : وَاحِدَةً ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ . فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جاتا تھا، لیکن بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کر دیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کر دی)، اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کر دیں تو بہتر ہے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي هَرِمٍ ، عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نفلی روزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ”نفلی روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ میرے بھائی حضرت داوؤد علیہ السلام کا تھا، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 2877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 2878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ مَيْتَةٌ . قَالَ : " دِبَاغُهُ يُذْهِبُ خَبَثَهُ ، أَوْ رِجْسَهُ ، أَوْ نَجَسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مشکیزے سے وضو کرنا چاہا تو کسی نے بتایا کہ یہ مردار جانور کی کھال کا بنا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، أَوْ قَالَ : عَلَى مَنْكِبَيَّ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“
حدیث نمبر: 2880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، نَحَرَ بِيَدِهِ مِنْهَا سِتِّينَ ، وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا ، فَنُحِرَتْ ، وَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا ، وَنَحَرَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ ، فِيهَا جَمَلُ أَبِي جَهْلٍ ، فَلَمَّا صُدَّتْ عَنِ الْبَيْتِ ، حَنَّتْ كَمَا تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی کی، جن میں سے ساٹھ کو اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور باقی اونٹ دوسروں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا، ان سب کو ایک ہانڈی میں جمع کر کے پکایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول بھی فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا، اور صلح حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹ قربان کئے، جن میں ابوجہل کا اونٹ بھی شامل تھا، جب انہیں بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا گیا تو وہ اونٹ ایسے رونے لگے جیسے اپنے بچوں کی خاطر روتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي ابْنَ رُزَيْقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان کی دس تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور مر الظہران پہنچ کر روزہ ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 2883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَقْصُرُ ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال سترہ دن تک مکہ مکرمہ میں اقامت گزیں رہے اور قصر نماز پڑھتے رہے۔
حدیث نمبر: 2884
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ ، مِنَ الثِّقَاتِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَيْهِ أَنَّهُ ، قَالَ : " لِتَرْكَبْ ، وَلْتُكَفِّرْ يَمِينَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لئے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“
حدیث نمبر: 2886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ ، فَمَضْمَضَ ، ثُمَّ اسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْنَتَيْنِ اثْنَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوغطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 2888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔
حدیث نمبر: 2889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُلْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُونَ صَلَاةً ، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَجَعَلَهَا خَمْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، قال : سمعتُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ صَلَاةً ، فَسَأَلَ رَبَّهُ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 2893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔“
حدیث نمبر: 2894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔“
حدیث نمبر: 2895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَارْفَعْنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَاهْدِنِي " ثُمَّ سَجَدَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعا پڑھتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» ”پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے درجات بلند فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔“ پھر دوسرا سجدہ کرتے۔
حدیث نمبر: 2896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ ، لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ " ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ وَلِقَيْنِهِمْ . فَقَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ ، وَلَا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہ شہر حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، اب یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، لہذا جب تم سے جہاد پر روانہ ہونے کے لئے کہا جائے تو تم نکلو۔“
حدیث نمبر: 2897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّبَادِيُّ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ لَعَنَ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَشَارِبَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَمُسْتَقِيَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ایک مرتبہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ نے شراب کو، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے، پینے والے، اٹھانے والے، اٹھوانے والے، بیچنے اور خریدنے والے، پینے اور پلانے والے سب کو ملعون قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ ، مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ ؟ فَقَالَ : " بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً ، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ : فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ ، عَرَبًاء كُلَّهَا ، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سبا کسی آدمی کا نام ہے یا کسی عورت کا یا کسی علاقے کا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں سکونت پذیر ہو گئے، یمن میں سکونت اختیار کرنے والے مذحج، کندہ، ازد، اشعریین، انمار اور سارا عرب حمیر شامل ہے، اور شام میں رہائش اختیار کرنے والوں میں لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔“
حدیث نمبر: 2899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَنَحَّاهُمَا ، وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دو بچیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی طرف سے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ایک طرف کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے دائیں جانب یا بائیں جانب کا اشارہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَّةَ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا ، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ“ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 2901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عِلْبَاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ، قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (3) مریم بنت عمران علیہما السلام (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔“
حدیث نمبر: 2902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ يُصَلِّي مَضْفُورَ الرَّأْسِ ، مَعْقُودًا مِنْ وَرَائِهِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْرَحْ يَحُلُّ عُقَدَ رَأْسِهِ ، فَأَقَرَّ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَلِّهِ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الْحَارِثِ مِنَ الصَّلَاةِ ، أَتَاهُ ، فَقَالَ : عَلَامَ صَنَعْتَ بِرَأْسِي مَا صَنَعْتَ بِرَأْسِي آنِفًا ؟ ! قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُودٌ مِنْ وَرَائِهِ ، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي مَكْتُوفًا " .
مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔“
حدیث نمبر: 2903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ ، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”سر کے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔“
حدیث نمبر: 2904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان سے تین مرتبہ فاسد خون نکلوایا، اور حجام کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 2905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ 65 و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا قَدْ خَوَّى ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حدیث نمبر: 2908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَدَبَّرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ سَاجِدًا مُخَوِّيًا ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت سجدہ میں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حدیث نمبر: 2909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً ، أَوْ حِدَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " ، أَوْ قَالَ : " مِنْ بَعْدِهِ " وَرُبَّمَا قَالَهُمَا جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا ، فَقَالَ : اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کا پانی رکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کپڑا دیا اور فرمایا کہ ”یہ چادر تان کر پردہ کرواؤ اور میری طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہو جاؤ۔“
حدیث نمبر: 2912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ ، فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔“
حدیث نمبر: 2913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے۔“ اور تین مرتبہ فرمایا: ”وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“
…