حدیث نمبر: 2834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ ، لِتَرْكَبْ ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔“
حدیث نمبر: 2835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سبعاً ، وطاف سَعْياً ، وَإِنَّمَا طَافَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ " ، وَقَالَ عَفَّانُ : وَلِذَا أَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔
حدیث نمبر: 2836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوَتْرِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " . وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ؟ فَقَال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں۔“ پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حدیث نمبر: 2837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمَا ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ ، إِنَّمَا يَسِيلُ كُلُّ وَادٍ بِقَدَرِهِ . قَالَ : قُلْنَا كَثُرَ خَيْرُكَ ، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ ، فَقَالَ : " مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ ، فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ ، وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ ، يَقْرِي ضَيْفَهُ ، وَيُؤَدِّي حَقَّهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : أَقَالَهَا ؟ قَالَ : قَالَهَا . قَالَ : قُلْتُ : أَقَالَهَا ؟ قَالَ : قَالَهَا . قَالَ : قُلْتُ : أَقَالَهَا ؟ قَالَ : قَالَهَا . فَكَبَّرْتُ اللَّهَ ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ ، وَشَكَرْتُ .
مولانا ظفر اقبال
شہاب عنبری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر کے دروازے پر ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے پوچھا: تم دونوں کون ہو؟ ہم نے انہیں اپنے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ کھجوریں اور پانی کھا پی رہے ہیں، تم بھی وہاں چلے جاؤ، ہر وادی کا بہاؤ اس کی وسعت کے بقدر ہوتا ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی خیر میں اور اضافہ ہو، جب آپ اندر جائیں تو ہمارے لئے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت لیجئے گا، چنانچہ انہوں نے ہمارے لئے بھی اجازت حاصل کی۔ اس موقع پر ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں اس شخص کی مثال ہی نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو، اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، اسی طرح وہ آدمی جو دیہات میں اپنی بکریوں میں مگن رہتا ہو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہو اور ان کا حق ادا کرتا ہو۔“ میں نے تین مرتبہ ان سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے؟ اور انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، اس پر میں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
حدیث نمبر: 2838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ ، كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : " قُولُوا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً ، وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا ، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا ؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ ، فَيَذْبَحَهُنَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔“
حدیث نمبر: 2840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ ، مَا زَادَ زَادَ ، وَمَا زَادَ زَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اسی قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَلَى حُمُرَاتِنَا ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : " أَيْ بَنِيَّ ، لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا أَخَالُ أَحَدًا يَرْمِي الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کرا کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: ”پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حدیث نمبر: 2842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا ، قَالَ رَوْحٌ : عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ : أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قُلْتُ : وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا ؟ قَالَ : " قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ ، كَانَ النَّاسُ لَا يُصْرفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يُدْفَعُونَ ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا ، وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کر لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں۔
حدیث نمبر: 2843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ حَسَنٌ : عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَأَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ . ح حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِخَدِيجَةَ . . . فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِخَدِيجَةَ : " إِنِّي أَرَى ضَوْءًا ، وَأَسْمَعُ صَوْتًا ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ " . قَالَتْ : لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنْ يَكُ صَادِقًا ، فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى ، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ ، فَسَأُعَزِّزُهُ ، وَأَنْصُرُهُ ، وَأُومِنُ بِهِ . .
مولانا ظفر اقبال
مختلف اسانید سے - جن میں سے بعض میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے اور بعض میں نہیں - مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہو جائے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لے آؤں گا۔
حدیث نمبر: 2846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَالنُّورَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ ، وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حدیث نمبر: 2847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ ، قَالَ عَفَّانُ : وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنِ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي ؟ فَقُلْتُ : إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ ، قَالَ عَفَّانُ : فَقَالَ : أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ ؟ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ . قَالَ : " هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ " حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔“
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ خَدِيجَةَ ، وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا ، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي ، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ . فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَعَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ ، نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ ، فَقَالَ : مَا شَأْنِي ، مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ : أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ ! لَا ، لَعَمْرِي . فَقَالَتْ خَدِيجَةُ : أَمَا تَسْتَحِي ! تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ ، تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ فرمایا: ”دراصل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد ان کی شادی کرنا چاہتے تھے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس وقت کے رواج کے مطابق شراب کا بھی انتظام کیا، انہوں نے اس دعوت میں اپنے والد اور قریش کے چند لوگوں کو بلا رکھا تھا، ان لوگوں نے کھایا پیا اور شراب کے نشے میں دھت ہوگئے۔ یہ دیکھ کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا کہ محمد بن عبداللہ میرے پاس نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں، اس لئے آپ ان سے میرا نکاح کرا دیجئے، انہوں نے نکاح کرا دیا، اس کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو خلوق نامی خوشبو لگائی اور انہیں ایک حلہ پہنا دیا جو اس وقت کے رواج کے مطابق تھا۔ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نشہ اترا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی ہے اور ان کے جسم پر ایک حلہ ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ یہ سب کیا ہے؟ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ نے خود ہی تو محمد بن عبداللہ سے میرا نکاح کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابوطالب کے یتیم بھتیجے سے تمہارا نکاح کروں گا؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قریش کی نظروں میں اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہوئے اور لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ آپ نشے میں تھے، آپ کو شرم نہ آئے گی؟ اور وہ یہ بات مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔“
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً ، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا ، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا ؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ ، فَيَذْبَحَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔“
حدیث نمبر: 2852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، قَالَ : " هُوَ أَعْوَرُ هِجَانٌ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ ، أَشْبَهُ رِجَالِكُمْ بِهِ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ ، فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا: ”وہ کانا ہوگا، سفید رنگ کا ہوگا، کھلتا ہوا ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبدالعزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي " الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ ؟ ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ . قَالَ : فَقُلْنَا : إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجْلِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا اس طرح بیٹھناجائز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی کا گنوار پن ہے، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَتَحَرَّى يَوْمًا كَانَ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، أَوْ شَهْرَ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حدیث نمبر: 2855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ ، فَقُلْتُ : هَذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ ، قَالَ : هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ عرض کیا کہ لوگ تو اسے گنوار پن سمجھتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ حَرِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو۔
حدیث نمبر: 2857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابن عباس ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو۔
حدیث نمبر: 2858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ ، فَرَاجَعْتُهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ ، وَيَزِيدُنِي ، فَانْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ ، وَلَيْسَ يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: ”مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔“ زہری نے کہا کہ وہ سات حرف کا مال اور مطلب ایک ہی ہوتا ہے کہ کسی حلال و حرام میں ان سے اختلاف نہیں پڑتا۔
حدیث نمبر: 2859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَمَا تَرَكَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔“
حدیث نمبر: 2861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، وَبُرْدٍ أَحْمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 2862
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ " ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَهُوَ الْحَقْلُ ، وهو بلسان الأنصار المحاقلة .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“
حدیث نمبر: 2863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى مات ، وَأَبُو بَكْرٍ حتى مات ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ كَذَلِكَ ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا بھی وصال ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ضَرَرَ وَلَا إِضِرَارَ ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ ، وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں نقصان اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں، انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے بھائی کی دیوار پر لکڑی رکھے، اور غیر آباد راستہ سات گز رکھا جائے۔“
حدیث نمبر: 2866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ ، فَلْيَفْعَلْ " . قَالَ : فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ ، مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ ، أَوْ أَشْرَبَ اللَّبَنَ ، أَوْ الْمَاءَ . قُلْتُ : فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضَّحَاءُ ، فَيَقُولُونَ : نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عید الفطر کے دن اگر ممکن ہو کہ کچھ کھا پی کر نماز کے لئے نکلو تو ایسا ہی کیا کرو، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے میں نے صبح نکلنے سے پہلے کچھ کھانے پینے کا عمل ترک نہیں کیا، خواہ چپاتی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاؤں، یا دودھ پی لوں، یا پانی پی لوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو عطا نے جواب دیا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہوگا، اور فرمایا کہ لوگ نماز عید کے لئے اس وقت نکلتے تھے جب روشنی خوب پھیل جاتی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ ہمیں پہلے ہی کچھ کھا پی لینا چاہئے تاکہ نماز میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔
حدیث نمبر: 2867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ يَعْنِي الْفَرِيضَةَ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ بعد میں اسے کیا ضروریات اور عوارض لاحق ہو جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 2868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ ، بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ : " إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ ، فَلْيَرَوْكُمْ جُلْدًا " . فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ رَمَلُوا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي ، مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے لگے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”تمہاری قوم کے لوگ کل تمہیں ضرور دیکھیں گے، تم انہیں مضبوط دکھائی دینا“، پھر وہ سب آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہو گئے، سب نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے رمل کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں کیا اور باقی چار چکر عام رفتار سے پورے کئے۔
حدیث نمبر: 2869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ : وَقَضَى ، وَقَالَ : أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“
حدیث نمبر: 2871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔“
حدیث نمبر: 2872
قال عبد الله : قال أبي : وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَسْوَدُ ، وحَدَّثَنَاه عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ : عَلَيْكَ الْعِيرَ ، لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ . قَالَ : فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ : لَا يَصْلُحُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ ؟ " ، قَالَ : لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: ”کیوں ؟“ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔
…