حدیث نمبر: 2794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَسَاخَ ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ ، قَالَ لِأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ ، فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي . فَشَدَّهُ ، فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ ، نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا سورة الصافات آية 53 - 105 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں شیطان ان کے سامنے آ گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں دے ماریں اور وہ دور ہو گیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا، جمرہ اخیرہ کے قریب بھی یہی ہوا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحاق (صحیح قول کے مطابق اسماعیل) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اباجان! مجھے باندھ دیجئے تاکہ میں حرکت نہ کر سکوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پر میرے خون کے چھینٹے پڑیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور جب چھری پکڑ کر انہیں ذبح کرنے لگے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی: اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط
حدیث نمبر: 2795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاختلاط عطاء، وقوله: الحجر الأسود من الجنة صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 2796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " لَيُبْعَثَنَّ الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ ، وَيَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ ، قَالَ : " يُبْعَثُ الرُّكْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ ، حَتَّى رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ ، عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ ، أَوْ وَحْيٌ " النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے“، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 2799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، فَغَسَلَهَا سَبْعًا ، قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ ، فَسَأَلَنِي : كَمْ أَفْرَغْتُ ؟ فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ! فَقَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، وَلِمَ لَا تَدْرِي ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ ، قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ ، يَعْنِي يَغْتَسِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ - جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں - کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما غسل جنابت کرتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے برتن میں ڈالنے سے پہلے سات مرتبہ دھوتے، ایک مرتبہ وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نہیں پتہ، فرمایا: تیری ماں نہ رہے، تجھے کیوں نہیں پتہ؟ پھر انہوں نے نماز والا وضو کر لیا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہا لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح غسل فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون قوله: فغسلها سبعا، وهذا إسناد ضعيف، شعبة بن دينار سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا ، فَصَعِدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ نَادَى " يَا صَبَاحَاهْ " فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ إِلَيْهِ ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي فِهْرٍ ، يَا بَنِي يا بَني ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ ، تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ ، صَدَّقْتُمُونِي ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ، أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: «﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [الشعراء : 214]» ”اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ تو ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يَا صَبَاحَاهُ» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔“ ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: (4971)، من 208
حدیث نمبر: 2802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ ، وَقَالَ : " اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ " . فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا کہ ”انہیں اپنے عمرے کی طرف سے ذبح کر لو، یہ تمہارے لئے کافی ہو جائیں گی۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں اس موقع پر ایک جنگلی بکرا آیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَأَنَا قَدْ رَأْيَتُهُ فِي طَرِيقٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَأَنَا صَبِيٌّ رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ وَحَدَّثَنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ . وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ , وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ أَنَّهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا غُلَامُ أَوْ يَا غُلَيِّمُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى . فَقَالَ : " احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ ، يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ ، وَإِذَا سَأَلْتَ ، فَاسْأَلْ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ ، فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا ، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے لڑکے! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے، اور یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَأَرْخَيْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِينَا يَرْعَى ، فَلَمْ يَقْطَعْ . قَالَ : وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ ، فَفَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، فَلَمْ يَقْطَعْ ، وَسَقَطَ جَدْيٌ ، فَلَمْ يَقْطَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک غلام ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ہم سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تو ہم اس سے اتر پڑے اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا، نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے نماز نہیں توڑی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 2805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِمُّ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهو مكرر : 2100
حدیث نمبر: 2807
قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، ثُمَّ جَعَلَهُ بَعْدُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قال الشيخ أحمد شاكر : هذا بيان للإسناد السابق
حدیث نمبر: 2808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا سند ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ ، وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ ، فَأَفْتِنِي فِيهَا ؟ قَالَ : ادْنُ مِنِّي ، فَدَنَا مِنْهُ ، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سمعتُ رَسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ ، يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ " فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا ، فَاجْعَلْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، مجھے اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق فتوی دیجئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ قریب ہو گیا، پھر انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ ”ہر مصور جہنم میں جائے گا اور اس نے جتنی تصاویر بنائی ہوں گی اتنے ہی ذی روح پیدا کیے جائیں گے جو جہنم میں اسے مبتلاء عذاب رکھیں گے“، اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2110
حدیث نمبر: 2811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ ، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمِي لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ . كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ ؟ وَأَخْبِرْنِي عَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى ، وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ، وَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ ، وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ تَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ؟ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ ، فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ ، وَأَمَّا الْخُمُسُ فَإِنَّا كُنَّا نُرَى أَنَّهُ لَنَا ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر پانچ سوالات پوچھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خوارج سے خط و کتابت کرتا ہے، واللہ اگر مجھے کتمان علم کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی اس کا جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ یہ بتائیے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے؟ ان کے لئے حصہ مقرر کرتے تھے؟ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا حق ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جوابا لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے اور وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر نہیں کیا تھا البتہ انہیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی، ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 2812
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہو گیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 769
حدیث نمبر: 2813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت مؤخر فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو الزبير موصوف بالتدليس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
حدیث نمبر: 2816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَهُ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی اندھے کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے۔“ اور تین مرتبہ فرمایا: ”وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد، رجاله رجال الصحيح
حدیث نمبر: 2817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ . أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں کر سکتا، یا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے مبغوض نہ رکھتے ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3783، م: 75
حدیث نمبر: 2819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي ، وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ ، فَظِعْتُ بِأَمْرِي ، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ " . فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا ، قَالَ : فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ : هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " قَالَ : مَا هُوَ ؟ قَالَ " إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " ، قَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ ، قَالَ : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ " ، قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ ! ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَلَمْ يُرِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ ، مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " . فَقَالَ : هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ ، حتي قَالَ : فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا ، قَالَ : حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " ، قَالُوا : إِلَى أَيْنَ ؟ قال : " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " ، قَالُوا : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ ! ! قَالُوا : وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ ؟ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ ، وَرَأَى الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ " ، قَالَ : " فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " ، قَالَ " وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ " ، قَالَ : " فَقَالَ الْقَوْمُ : أَمَّا النَّعْتُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ شب معراج کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج ہوئی اور صبح کے وقت میں واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گیا تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ لوگ میری بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اس لئے میں سب سے الگ تھلگ غمگین ہو کر بیٹھ گیا، اتفاقا وہاں سے اللہ کے دشمن ابوجہل کا گزر ہوا“، وہ آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے؟ فرمایا: ”ہاں!“ اس نے پوچھا کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے“، ابوجہل نے پوچھا: کس جگہ کی؟ فرمایا: ”بیت المقدس کی“، اس نے کہا کہ پھر آپ صبح ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فوری طور پر تکذیب کرنا مناسب نہ سمجھا تاکہ اگر وہ قریش کو بلا کر لائے تو وہ اپنی بات سے پھر ہی نہ جائیں اور کہنے لگا کہ اگر میں آپ کی قوم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں تو کیا آپ ان کے سامنے بھی یہ بات بیان کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ یہ سن کر اس نے آواز لگائی: اے گروہ بنو کعب بن لوئی! ابوجہل کی آواز پر لگی ہوئی مجلسیں ختم ہو گئیں اور سب لوگ ان دونوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، ابوجہل انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ نے مجھ سے جو بات بیان فرمائی ہے، وہ اپنی قوم کے سامنے بھی بیان کر دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے آج رات سیر کرائی گئی ہے“، لوگوں نے پوچھا: کہاں کی؟ فرمایا: ”بیت المقدس کی“، لوگوں نے کہا کہ پھر آپ صبح کے وقت ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ یہ سن کر کوئی تالیاں بجانے لگا اور کوئی اپنے سر پر ہاتھ رکھنے لگا، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ایک جھوٹی بات پر انہیں تعجب ہو رہا تھا، پھر وہ کہنے لگا کہ کیا آپ ہمارے سامنے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کر سکتے ہیں؟ دراصل اس وقت لوگوں میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو وہاں کا سفر کر کے مسجد اقصی کو دیکھے ہوئے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”میں نے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کرنا شروع کی اور مسلسل بیان کرتا ہی چلا گیا، یہاں تک کہ ایک موقع پر مجھے کچھ التباس ہونے لگا تو مسجد اقصی کو میری نگاہوں کے سامنے کر دیا گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ مسجد اقصی کو دار عقال یا دار عقیل کے پاس لا کر رکھ دیا گیا ہے، چنانچہ میں اسے دیکھتا جاتا اور بیان کرتا جاتا، اس میں کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں جو میں پہلے یاد نہیں رکھ سکا تھا۔“ لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ کیفیت تو واللہ! انہوں نے صحیح بیان کی ہے (لیکن اسلام قبول کرنے کے لئے کوئی بھی مائل نہ ہوا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3886، م: 170
حدیث نمبر: 2820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ : آمَنْتُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ سورة يونس آية 90 ، قَالَ : قَالَ لِي جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ ، فَدَسَّيْتُهُ فِي فِيهِ ، مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ " . .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا تاکہ رحمت الہیہ اس کی دستگیری نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، ويوسف بن مهران لم يرو عنه غير على بن زيد، وهو لين الحديث، والأصح وقفه
حدیث نمبر: 2821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا ، أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا ، قَالَ : قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا ؟ قَالَ : بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ ، إِذْ سَقَطَتْ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ . فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ . قَالَتْ : أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ ! قَالَتْ : نَعَمْ . فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا ، فَقَالَ : يَا فُلَانَةُ ، وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي ، قَالَتْ : نَعَمْ ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا ، قَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَتَدْفِنَنَا ، قَالَ : ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا ، إِلَى أَنْ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ ، وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ : يَا أُمَّهْ ، اقْتَحِمِي ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ . فَاقْتَحَمَتْ " . قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ ، وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے معراج ہوئی، مجھے دوران سفر ایک جگہ سے بڑی بہترین خوشبو آئی، میں نے پوچھا: ”جبریل! یہ کیسی خوشبو ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے پوچھا کہ ”اس کا قصہ تو بتائیے؟“ انہوں نے کہا کہ ایک دن یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی، اچانک اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، اس نے ”بسم اللہ“ کہہ کر اسے اٹھا لیا، فرعون کی بیٹی کہنے لگی کہ اس سے مراد میرے والد صاحب ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میرا اور تیرے باپ کا رب اللہ ہے، فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اپنے والد کو یہ بات بتادوں گی؟ اس نے کہا کہ ضرور بتاؤ، فرعون کی بیٹی نے باپ تک یہ خبر پہنچائی، اس نے خادمہ کو طلب کر لیا۔ جب وہ خادمہ آئی تو فرعون کہنے لگا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں! میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، یہ سن کر فرعون نے تانبے کی ایک گائے بنانے کا حکم دیا اور اسے خوب دہکایا، اس کے بعد حکم دیا کہ اسے اور اس کی اولاد کو اس میں پھینک دیا جائے، خادمہ نے کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے، فرعون نے پوچھا: کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میری خواہش ہے کہ جب ہم جل کر کوئلہ ہو جائیں تو میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کر کے دفن کر دینا، فرعون نے کہا کہ یہ تمہارا ہم پر حق ہے، (ہم ایساہی کریں گے)۔ اس کے بعد فرعون نے پہلے اس کے بچوں کو اس میں جھونکنے کا حکم دیا، چنانچہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس دہکتے ہوئے تنور میں ڈالا جانے لگا، یہاں تک کہ جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو وہ اس کی وجہ سے ذرا ہچکچائی، یہ دیکھ کر اللہ کی قدرت اور معجزے سے وہ شیر خوار بچہ بولا: اماں جان! بےخطر اس میں کود جائیے کیونکہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، چنانچہ اس نے اس میں چھلانگ لگا دی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ چار بچوں نے بچپن (شیرخوارگی) میں کلام کیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے، جریج کے واقعے والے بچے نے، حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے، اور فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ کے بیٹے نے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 2823
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ ، مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَنْ رَبُّكِ ؟ قَالَتْ : رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ . وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ أَمْرًا فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَخْرُجُ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا ، فَمَاتَ ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7053، م: 1849
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ . . " فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1849
حدیث نمبر: 2827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَها اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً ، وَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ ”اللہ نے نیکیاں اور گناہ لکھ دیئے ہیں، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس سے سات سو یا حسب مشیت الٰہی دوگنی چوگنی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا ، لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً ، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی منت مانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہاری بہن کی اس سختی کا کیا کرے گا؟ اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لئے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَسَعَى سَعياً ، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
حدیث نمبر: 2830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ يَكْرَهُ الْبُسْرَ وَحْدَهُ ، وَيَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ الْمُزَّاءِ ، فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الْبُسْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوالقیس کے وفد کو ”مزاء“ سے منع کیا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 2831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ ؟ " قَالُوا : هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ " فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
حدیث نمبر: 2832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ، أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ . فَقَالَ " لَا حَرَجَ " قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا ، وَيَقُولُ : " لَا حَرَجَ ، لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
حدیث نمبر: 2833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ، وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ ، فَقَامَ إِلَى كُلِّ سَارِيَةٍ ، فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعا کی لیکن نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1331