حدیث نمبر: 2754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لبيك لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ» ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ والضحاك لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ : " أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ ؟ " , فَقَالُوا : بِفَارِسَ ، وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةً , فَقَالَ : " اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا " , ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى ، فَزَادَ فِيهِ : فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے تیار ہو کر آیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فارس سے، اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا گیا ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھری سے ہلا لو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ وجابر ضعيف
حدیث نمبر: 2756
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ، ثُمَّ ابْنُوا ، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ ، فَلْيَدَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سترہ دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَنْ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَتُهُ ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " , أَوْ قَالَ : " بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آزاد ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع وحسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ بَرْدَ الْأَرْضِ وَحَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی، اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحسين ضعيف
حدیث نمبر: 2761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى ، وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا ، لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ , فَأَقْبَلَتْ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ ، لَوْ قَدْ رَأَوْكَ ، لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ , فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، أَرِينِي وَضُوءًا " , فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : هَا هُوَ ذَا ، وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا ، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ ، فَقَالَ : " شَاهَتْ الْوُجُوهُ " , ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا ، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نائلہ اور اساف نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: وہ یہ رہے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں“ اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ حَنَشًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " يَا غُلَامُ ، إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا ، احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ، إِذَا سَأَلْتَ ، فَاسْأَلْ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، فَقَدْ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ ، وَجَفَّتْ الْكُتُبُ ، فَلَوْ جَاءَتْ الْأُمَّةُ يَنْفَعُونَكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ ، لَمَا اسْتَطَاعَتْ ، وَلَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَضُرَّكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ لَكَ ، مَا اسْتَطَاعَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ لكن رواه عنه ابن المقرئ، وهو ممن روى عنه قبل احتراق كتبه ، ثم هو متابع
حدیث نمبر: 2764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، قَالَ يَحْيَى , عَنِ الْأَعْرَجِ ، وَلَمْ يَقُلْ مُوسَى , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ , فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ ، فَأَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ , قَالَ : " مَا أَدْرِي ، لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ " . قَالَ يَحْيَى مَرَّةً أُخْرَى : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ ، فَأُهْرَاقَ الْمَاءَ ، فَتَيَمَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ الْمَاءَ مِنَّا قَرِيبٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن المبارك، وراويته عنه صالحة
حدیث نمبر: 2765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أخبرني عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ ، فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا ، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 492. رشدين ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حدثنا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حنتم، دباء اور مزفت میں پانی پینے سے اجتناب کرو اور مشکیزوں میں پیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُمْ سَيَهْزِمُونَ " , فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ ، فَقَالُوا : اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا ، فَإِنْ ظَهَرُوا ، كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا ، وَإِنْ ظَهَرْنَا ، كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا , فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ ، فَلَمْ يَظْهَرُوا ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا جَعَلْتَهُ ، أُرَاهُ ، قَالَ : دُونَ الْعَشْرِ " , قَالَ : وَقَالَ سَعِيدٌ : الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ، قَالَ : فَظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ سورة الروم آية 1 - 4 , قَالَ : فَغُلِبَتْ الرُّومُ ، بَعْدُ ثُمَّ غَلَبَتْ بَعْدُ ، قَالَ : لِلَّهِ الأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 4 - 5 , قَالَ : يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آ جائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رومی ہی غالب آئیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آ گئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے، اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آ گئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کر لی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دیئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔“ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ در اصل قرآن میں «بضع» کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آ گئے اور سورہ روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ ، كَانَا فِي الدُّنْيَا ، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ , وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ ، فَيَقُولُ : أَيْ أَخِي ، مَاذَا حَبَسَكَ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ , فَيَقُولُ : أَيْ أَخِي ، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبِسًا فَظِيعًا كَرِيهًا ، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ ، مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ ، كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ ، لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو مسلمانوں کی جنت کے دروازے پر ملاقات ہوئی، دنیا میں ان میں سے ایک مالدار تھا اور دوسرا غریب، فقیر تو جنت میں داخل ہو گیا اور مالدار کو روک لیا گیا، اور جب تک اللہ کو منظور ہوا، اسے روکے رکھا گیا، پھر وہ بھی جنت میں داخل ہو گیا، وہاں اس کی ملاقات اس غریب سے ہوئی، اس غریب آدمی نے اس سے پوچھا کہ بھائی! آپ کو کس وجہ سے اتنی دیر ہوگئی؟ واللہ! آپ نے تو اتنی دیر کر دی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا، اس نے جواب دیا کہ بھائی! آپ کے بعد مجھے اس طرح روکا گیا جو انتہائی سخت اور ناگوار مرحلہ تھا، اور آپ تک پہنچنے سے پہلے میرے جسم سے اتنا پسینہ بہا ہے کہ اگر ایک ہزار بھوکے پیاسے اونٹ بھی ہوتے اور وہ اس پسینے کو پانی کی جگہ پیتے تو سیراب ہو جاتے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، دويد مجهول
حدیث نمبر: 2771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ ، غُدْوةً ، وَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : لَا ، انْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے، نیز اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، راوی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی صبح کے وقت شیشی جیسے سبز مٹکے میں نبیذ رکھے اور رات کو پی لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم اس چیز سے باز نہیں آؤگے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن عطاء وقد توبع
حدیث نمبر: 2772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَدْ اشْتَكَى فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَمَعَهُ مِحْجَنٌ , كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ ، أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی تکلیف کی بنا پر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف سے فارغ ہو کر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور دوگانہ طواف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ؟ فَنَزَلَتْ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة : 93]» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة : 143]» ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ : الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ ، وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ ، وَلَا الشَّعَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے“، پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی طرف اشارہ کیا، ”نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ ، مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ أَرْبَعٍ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ» ”میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4257، م: 1266
حدیث نمبر: 2779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَوُادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ظلم سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، والد إبراهيم لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ رَجُلٍ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى ، فَلَمَّا قَرَأَهُ ، خَرَقَهُ , قَالَ : فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 64
حدیث نمبر: 2781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی حالت میں اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق
حدیث نمبر: 2782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا , تَقُولُ : مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ , فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَوْ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا ، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ ، وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ ، أَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ ؟ قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا ، وَلَكِنْ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ " , فَجَمَعُوا لَهُ ، وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا ، وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ ، فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً " , فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِي ، مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ ، أَنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ ، فَكَانَتْ سُنَّةً , قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مر الظہران نامی جگہ کے قریب پہنچے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پتہ چلا کہ قریش ان کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ کمزوری کے باعث یہ لوگ کیا کر سکیں گے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم اپنے جانور ذبح کرتے ہیں، اس کا گوشت کھائیں گے اور شوربہ پئیں گے، جب ہم مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس داخل ہوں گے تو ہم میں توانائی آ چکی ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ”تمہارے پاس جو کچھ بھی زاد سفر ہے، وہ میرے پاس لے کر آؤ“، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنا اپنا توشہ لے آئے اور دستر خوان بچھا دیئے، سب نے مل کر کھانا کھایا (پھر بھی اس میں سے بچ گیا)، اور جب وہ وہاں سے واپس آگئے تو ان میں سے ہر ایک اپنے چمڑے کے برتنوں میں اسے بھر بھر کر بھی لے گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہو گئے، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر سے اضطباع کیا (یعنی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے گذار کر اسے بائیں کندھے پر ڈال لیا اور دائیں کندھے کو خالی کر لیا) اور فرمایا کہ ”یہ لوگ تم میں کمزوری محسوس نہ کرنے پائیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور طواف شروع کر دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں ہو رہے، یہ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں کیا، اس اعتبار سے یہ سنت ہے۔ ابوالطفیل کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اس طرح کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا ، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑ جائے، اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [الحجر : 24]» ”ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف و متنه منكر، عمرو بن مالك الذكري لا يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
حدیث نمبر: 2784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ ؟ " قَالَتْ : أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ ! . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، احْتَجَمَ . قَالَ : " فَسَافَرَ مَرَّةً ، فَلَمَّا أَحْرَمَ ، وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَاحْتَجَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا گوشت زہر ملا کر پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک آدھ لقمہ کھایا اور اسی وقت کھانا چھوڑ دیا اور) اس عورت کو بلا بھیجا، اور اس سے پوچھا کہ ”تو نے یہ کام کیوں کیا؟“ اس نے کہا کہ میرا یہ ارادہ اس لئے بنا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس پر مطلع کر دے گا اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو میرے ذریعے لوگوں کو آپ سے نجات مل جائے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس زہر کے اثرات محسوس ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگوا لیتے، یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے اور احرام باندھ لیا، تو اس کے کچھ اثرات محسوس ہوئے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ : جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ ، وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ ، أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ : جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین بطور جاگیر کے عطا فرمائی اور یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دیا ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یہ تحریر لکھوا دی جس کے شروع میں ”بسم اللہ“ کے بعد یہ مضمون ہے کہ ”یہ تحریر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کے لئے لکھی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بلال کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین جاگیر کے طور پر دے دی ہے اور انہیں کسی مسلمان کا حق (مار کر) نہیں دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس فيه كلام من جهة حفظه
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو أويس ضعيف من جهة حفظه
حدیث نمبر: 2787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ " اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ ، فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا، اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر عام رفتار سے مکمل کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ديناراً ، فَنِصْفُ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ " أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا ، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : مَتَى رَأَيْتُمُوهُ ؟ فَقُلْتُ : رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ : أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا ، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ : لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكَمِّلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ . فَقُلْتُ : أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ فَقَالَ : لَا ، هَكَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر اپنا کام کیا، ابھی میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے شب جمعہ کو چاند دیکھا تھا، مہینہ کے آخر میں جب میں مدینہ منورہ واپس آیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کام کے متعلق پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ چھڑ گیا، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: شب جمعہ کو، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود بھی دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا، لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے مطابق روزہ رکھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا ہے (اگلے دن ہفتہ تھا) اس لے ہم اس وقت تک مسلسل روزے رکھتے رہیں گے جب تک تیس روزے پورے نہ ہو جائیں یا چاند نظر نہ آ جائے، میں نے عرض کیا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور روزے پر آپ اکتفاء نہیں کر سکتے؟ فرمایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے۔ (یہیں سے فقہاء نے اختلاف مطالع کا مسئلہ اخذ کیا ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1087
حدیث نمبر: 2790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کر لیتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ ، فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ " . حَدَّثَنَا يُونُسُ : جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ ، قَالَ يُونُسُ : وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ الْيُسْرَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ ، قَالَ لِأَصْحَابِه : " ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ " فَلَمَّا رَمَلُوا ، قَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا وَهَنَتْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، تاکہ مشرکین ان کی طاقت دیکھ سکیں، چنانچہ انہیں رمل کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح