حدیث نمبر: 2714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ ، وَيُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا كَبِرَ ، صَارَ إِلَى تِسْعٍ : وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی تو ان کی تعداد نو، چھ اور تین تک رہ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وقد أضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروي عنه عن ابن عباس، ومرة عن أم سلمة، ومرة عن عائشة
حدیث نمبر: 2715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ " , قِيلَ : مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ ، أَوْ فِي طَرِيقٍ ، أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تین لعنتی کاموں سے بچو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ تین کام کون سے ہیں؟ فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی سایہ دار جگہ پر - جس کا سایہ لوگ حاصل کرتے ہوں - یا راستے میں، یا پانی بہنے کی جگہ پر پاخانہ (یا پیشاب) کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لابهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 2717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ ، فَرَاجَعْتُهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ ، وَيَزِيدُنِي ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: ”مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُغْلَبَ قَوْمٌ عَنْ قِلَّةٍ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو سکتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حبان بن علي
حدیث نمبر: 2719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا ، يَقُولُ : ارْجِعَا ارْجِعَا ، حَتَّى رَدَّهُمَا ، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا ، فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَاهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا ، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ ، لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ , قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ ، أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَلْوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 2721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، مِنْ آلِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَينٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نُدِيمَ النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لمحمد بن عمرو بن عثمان وفي هذا الحديث اضطراب
حدیث نمبر: 2722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هو بن عيسى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ ، إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ : لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ ، فَمَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : " أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " , فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کر سو گئے، نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب بیدار ہوئے تو کسی زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ سوتے ہوئے ہنس رہے تھے، خیر تو تھی؟ فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر خوشی محسوس ہو رہی تھی جو سمندری سفر پر دشمن کو ڈرانے کے لئے نکلے ہیں، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بڑی خیر کا ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، والقصة صحيح من حديث أنس وغيره، خ: 2788، م: 1912
حدیث نمبر: 2723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ ، اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اَللّٰهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» ”اے اللہ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پیچھے محافظ ہیں، اے اللہ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! زمین کو ہمارے لئے لپیٹ کر ہمارے لئے اس سفر کو آسان فرما دیجئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ , أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ ، إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ إِنْ كَانَ " , فَمَاتَ ، وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً ، وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے، میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم، اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ ، فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ ، وَالْبَهِيمَةَ وَالْوَاقِعَ عَلَى الْبَهِيمَةِ ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ ، فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو، اور جو شخص کسی ذی محرم سے بدکاری کرے اسے بھی قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف ابن أبى حبيبة وداود بن الحصين غير ثقة عن عكرمة. والجملة الثالثة لها شاهد من حديث البراء ابن عازب بإسناد حسن
حدیث نمبر: 2728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ ، قَالَ : " اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، لَا تَغْدِرُوا ، وَلَا تَغُلُّوا ، وَلَا تُمَثِّلُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ ، وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی لشکر کو روانہ کرتے تو فرماتے کہ ”اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے جہاد کرو، وعدہ خلافی مت کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، لاشوں کا مثلہ نہ کرو، بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل مت کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ابن أبى حبيبة، وداود بن الحصين ضعيف عن عكرمة
حدیث نمبر: 2729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنَ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ : " بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ ، مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بخار اور ہر قسم کی تکلیف اور درد سے حفاظت کے لئے یہ دعا سکھاتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللّٰهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ» ”اس اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت عظیم ہے، جوش مارتی ہوئی آگ اور جہنم کی گرمی کے شر سے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، فَقَالَ : " كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ، أَوْ نَحَرَ ، أَوْ ذَبَحَ ، وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَرَجَ , لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس ذی الحجہ کے دن اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے، یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی سے قوم لوط والا عمل کرے تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، وهذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
حدیث نمبر: 2733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ : " اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد بن منصور ضعيف ، لسوء حفظه، وتدليسه، وتغيره
حدیث نمبر: 2734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ ، فَجَاءَ قَوْمَهُ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ , فَلَبِسُوا السِّلَاحَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ ؟ " , قَالُوا : أَنْتَ , قَالَ : " فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ ، فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا ، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا " , فَجَاءَ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد - جو زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئے تھے - کے متعلق نازیبا کلمات کہے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے طمانچہ دے مارا، اس کی قوم کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہم بھی انہیں اسی طرح طمانچہ ماریں گے جیسے انہوں نے مارا ہے، اور اسلحہ پہننے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ بتاؤ کہ اللہ کی بارگاہ میں اہل زمین میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ ہیں، فرمایا کہ ”پھر عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اس لئے تم ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ۔“ یہ سن کر اس انصاری کی قوم والے آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالأعلى ضعيف، والنهي عن سب الأموات ثابت من حديث عائشة وغيرها
حدیث نمبر: 2735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 , وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ ، لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ ، فَكَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران : 102]» ”اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر“ فرمایا: ”اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہو گا، اس کا کیا بنے گا۔“ فائدہ: ”زقوم“ جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو، یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ ، غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَكَانَ إِذَا صَامَ ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ ، حتى يَقُولُ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، البتہ وہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ کہنے والے کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1971. م: 1157
حدیث نمبر: 2738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُصُّ شَارِبَهُ ، وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب الحديث
حدیث نمبر: 2739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ ، خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر نہ کیا کرو جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی ناک کے نتھنوں میں جو گرد و غبار لڑھک کر چلا جاتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے بہتر ہے جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ بِثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وقد اضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروى عنه عن ابن عباس، وأخرى عن أم سلمة ، وثالثة عن عائشة
حدیث نمبر: 2741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ ؟ فَقَالَ : " بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، كُلَّ عَامٍ ، لَكَانَ كُلَّ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، الْأَحْمَرِ ، وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي ، فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنا دیا گیا ہے، اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد
حدیث نمبر: 2743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ ، إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ " , قَالَ : فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً ، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ بثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے اور میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , وَعَفَّانُ , قَالُوا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَوْ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ؟ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا ، إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چٹائی پر تشریف فرما ہیں، پہلوئے مبارک پر اس کے نشانات پڑ چکے ہیں، عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کچھ نرم بستر بنوا لیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے موسم میں سارا دن چلتا رہے اور کچھ دیر کے لئے ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا ، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا ، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا " وَنَحْوَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے قتال کیا اور اس کی وجہ سے نماز عصر اپنے وقت سے مؤخر ہو گئی، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَاءِ ، وَالصُّبْحِ ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَتَلُوهُمْ " , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : وَقَالَ عِكْرِمَةُ : هَذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ تسلسل کے ساتھ ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے اختتام پر دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد بنو سلیم کے ایک قبیلے، رعل، ذکوان، عصیہ اور انہیں پناہ دینے والوں پر بددعا فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کی طرف اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 2748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْ تُضِلَّنِي ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» ”اے اللہ! میں آپ کا تابع فرمان ہو گیا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، میں آپ کے غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ آپ مجھے گمراہ کر دیں، آپ سب کو زندہ رکھنے والے ہیں، آپ پر موت نہیں آ سکتی اور تمام جن و انس مرجائیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 7383 ، م: 2717
حدیث نمبر: 2749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي أُعَالِجُ مِنَ الْجُنُونِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا , مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ ، فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " , قَالَ : فَقَالَ : رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ , قَالَ : ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ ، وَالْعِيَافَةَ ، وَالْكَهَانَةَ ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ ، لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , فَأَسْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ : " عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ ؟ " , قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي , قَالَ : فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا ، فَقَالُوا : هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ ، رُدُّوهَا , قَالَ : فَرَدُّوهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضماد ازدی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور ان چند نوجوانوں کو بھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے، اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میں جنون کا علاج کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ کلمات فرمائے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ ضماد نے کہا کہ یہ کلمات دوبارہ سنائیے، پھر کہا کہ میں نے شعر، نجوم اور کہانت سب چیزیں سنی ہیں لیکن ایسے کلمات کبھی نہیں سنے، یہ تو سمندر کی گہرائی تک پہنچے ہوئے کلمات ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کلمہ کی ضمانت آپ اور آپ کی قوم دونوں پر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! مجھ پر بھی ہے اور میری قوم پر بھی، چنانچہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک سریہ ضماد کی قوم پر سے گزرا اور بعض لوگوں نے ان کا کوئی برتن وغیرہ لے لیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یہ ضماد کی قوم کا برتن ہے، اسے واپس کر دو، چنانچہ انہوں نے وہ برتن تک واپس کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 868
حدیث نمبر: 2750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَالَتْ ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ، ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِينِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ " , فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ام حبیبہ بنت عباس کو لے کر آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا، اس نے پیشاب کر دیا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا شرمندہ ہو گئیں اور بچی کو اس کے کندھوں کے درمیانی جگہ پر تھپڑ لگا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی کا ایک برتن دے دو“، چنانچہ جہاں جہاں اس نے پیشاب کیا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بہا لیا اور فرمایا: ”پیشاب کی جگہ پر پانی بہا لیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھڑی تھیں، جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " بَيْعِ الْغَرَرِ " , قَالَ أَيُّوبُ : وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ ، إِلَّا بِكَيْلٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے۔ راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت، کانوں کی مٹی کی فروخت، اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے، ہاں! اگر دودھ ناپ کر بیچا جائے تو جائز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف
حدیث نمبر: 2753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَاجِدًا مُخَوِّيًا ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ، وأربد لم يرو عنه غير أبى إسحاق