حدیث نمبر: 2674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخُسُوفِ ، فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے، لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 2675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ الْوَضَّاحُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
حدیث نمبر: 2676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ فِيهِ كِتَابًا ، لَا يَخْتَلِفُ مِنْكُمْ رَجُلَانِ بَعْدِي " , قَالَ : فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ فِي لَغَطِهِمْ ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ : وَيْحَكُمْ ، عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس شانے کی ہڈی لے کر آؤ، میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد تم میں سے دو آدمی بھی اختلاف نہ کریں۔“ لوگ اپنی باتوں اور شور میں مشغول رہے، ایک خاتون نے کہا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وصیت فرما رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 2677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا , شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹنی کے پیشاب اور دودھ میں ان لوگوں کے لئے شفا ہے جو پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوں، اور ان کا نظام ہضم خراب ہو۔“
حدیث نمبر: 2678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْمُجَاشِعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ أَكْلَ شَيْءٍ ، حَرَّمَ ثَمَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ لِي أَبِي : أَيْ بُنَيَّ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي ؟ فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ , قَالَ : فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبِي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : كَذَا وَكَذَا ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ ، فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : " فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ جبرئیل تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔“
حدیث نمبر: 2680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ ، وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حدیث نمبر: 2681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ ، الْعَيْنُ حَقٌّ ، العَينُ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر کا لگ جانا برحق ہے، اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو سکتی۔“
حدیث نمبر: 2683
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا ؟ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ؟ قَالَ : ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ ، وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ ؟ ! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَقْتُولَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ ، أَوْ قَالَ بِشِمَالِهِ ، آخِذًا صَاحِبَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا ، فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ ، فَيَقُولُ : رَبِّ , سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابن عباس! اس آدمی کے متعلق بتائیے جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کیا ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی، اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں توبہ کی توفیق ملے گی؟ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو، اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا، اور وہ عرش کے سامنے آ کر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟“ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہیں کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ : دَعَانَا رَجُلٌ ، فَأَتَى بِخِوَانٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا ، قَالَ : وَذَاكَ عِشَاءً ، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَأَكْثَرَ فِي ذَلِكَ جُلَسَاؤُهُ ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا أُحَرِّمُهُ " , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْس ما قُلْتُمْ ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ ، وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَامْرَأَةٌ ، فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ ، وَلَحْمُ ضَبٍّ ، قَالَ : فَلَمَّا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ : إِنَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَحْمُ ضَبٍّ , فَكَفَّ يَدَهُ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ ، وَلَكِنْ كُلُوا " , قَالَ : فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْمَرْأَةُ ، قَالَ : وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، جب صبح ہوئی تو ہم لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے، میں نے ان سے گوہ کے متعلق دریافت کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں۔“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور ایک خاتون بھی موجود تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو۔“ چنانچہ سیدنا فضل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور اس خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے، میں بھی نہیں کھاتی۔
حدیث نمبر: 2685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ ؟ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ ؟ وَعَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ ؟ وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَيْءٍ يَقَعُ فِيهِ ، مَا أَجَبْتُهُ , وَكَتَبَ إِلَيْهِ ، إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهَا لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا ، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ ؟ قَالَ : إِذَا احْتَلَمَ أَوْ أُونِسَ مِنْهُ خَيْرٌ ، وَعَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ ؟ فَلَا شَيْءَ لَهُمَا ، وَلَكِنَّهُمَا يُحْذَيَانِ وَيُعْطَيَانِ ، وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں: ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر پوچھا کہ قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کا حصہ ہے؟ یتیم سے یتیمی کا لفظ کب دور ہوتا ہے؟ اگر عورت اور غلام تقسیم غنیمت کے موقع پر موجود ہوں تو کیا حکم ہے؟ اور مشرکین کے بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا ہے تو میں کبھی بھی جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ بالغ ہو جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے، البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 2686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ ، وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّهُ لَقَدْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ، وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا , فَجَلَسَ الْمُشْرِكُونَ مِنَ النَّاحِيَةِ الَّتِي تَلِي الْحِجْرَ ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَى مَا قَالُوا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ ، قَالَوا : فَرَمَلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ، حَيْثُ لَا يَرَاهُمْ الْمُشْرِكُونَ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَمْ يَمْنَعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا ، إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُون : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ ؟ ! هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے؟ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِبَةً ، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا ، قَالَ : " رَضِيتَ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : فَزَادَهُ ، قَالَ : " رَضِيتَ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : فَزَادَهُ ، قَالَ : " رَضِيتَ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا اسے بھی کچھ عطا فرمایا اور اس سے پوچھا کہ ”خوش ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ اور بھی عطا فرمایا اور پوچھا: ”اب تو خوش ہو“، اس طرح تین مرتبہ ہوا اور وہ تیسری مرتبہ جا کر خوش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں، سوائے اس کے جو قریشی ہو، یا انصاری ہو، یا ثقفی ہو۔“
حدیث نمبر: 2688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ " اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ ، فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ جعرانہ سے عمرہ کیا، اور طواف کے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں اپنی عام رفتار کے مطابق چلتے رہے۔
حدیث نمبر: 2689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 2690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ : فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، قَالَ أُنَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَأُنْزِلَتْ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 , قَالَ : وَلَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ ، قَالَ أُنَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأُنْزِلَتْ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نزل ہوئی: « ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة : 93]» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔“ اور جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة : 143]» ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي ، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُ عَنْهُ الْأَرْضُ ، وَلَا فَخْرَ ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ ، وَلَا فَخْرَ ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي , قَالَ : وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ ، حَتَّى يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ ، فَيَشْفَعَ لَنَا إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ , أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ , فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ دَعْوَةً غَرَّقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام , قَالَ : فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا إِبْرَاهِيمُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَدْ كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ ، قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 , وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 , وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ : إِنَّهَا أُخْتِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ , فَيَأْتُونَ مُوسَى , فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى ، رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، أَنْتَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إني قَدْ اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي , ثُمَّ قَالَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ ؟ فَيَقُولُونَ : لَا , فَيَقُولُ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَاتَمَ النَّبِيِّينَ ، قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ ، وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَأْتُونِي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَأَقُولُ : نَعَمْ أَنَا لَهَا ، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ : أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ ، فَنَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا ، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ ، وَتَقُولُ الْأُمَمُ : كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا , قَالَ : ثُمَّ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ ، فَيُقَالُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ ، فَيُفْتَحُ لِي ، فَأَرَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، وَهُوَ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، فَيُقَالُ لي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , قَالَ : فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي , فَيُقَالُ لِي : أَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا , فَأُخْرِجُهُمْ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي , فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا , فَأُخْرِجُهُمْ " , قَالَ : وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ هَذَا أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی کم از کم ایک دعا ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں، وہ ابوالبشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء کی جڑ ہیں۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد واللہ! دین ہی تھا (ایک تو اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے، اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا)، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسیٰ! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں تو اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہو چکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”ہاں! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ ”اے محمد! سر تو اٹھایئے، آپ جو مانگیں گے آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی“، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت۔ ارشاد ہوگا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، غير أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوَّلِ : " مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنَ الْإِيمَانِ " , وَالثَّانِيَةِ : " بُرَّةٍ " , وَالثَّالِثَةِ : " ذَرَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ میں ایک جو کے برابر ایمان کا، دوسری مرتبہ ایک گندم کے دانے کے برابر ایمان کا اور تیسری مرتبہ ایک ذرہ کے برابر ایمان کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 2694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطا کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔“
حدیث نمبر: 2695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ ، فَوَقَعَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ ، قَالَ : فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ كَاذِبٌ ، إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَوْ شَهَادَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، لہذا اسے وہ حق ادا کرنے کا حکم دیجئے اور اس کی قسم کا کفارہ لا الہ الا اللہ کی معرفت اور شہادت ہے۔
حدیث نمبر: 2696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے جس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا، اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال رہے۔
حدیث نمبر: 2697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ ، فَأَمَّا عِيسَى ، فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدم جَسِيمٌ " , قَالُوا لَهُ : فَإِبْرَاهِيمُ ؟ قَالَ : " انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ " , يَعْنِي : نَفْسَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے حضرت عیسی، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کی زیارت کی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو سرخ وسفید رنگ کے، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینے والے آدمی ہیں، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مضبوط اور صحت مند جسم کے مالک ہیں“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کیسے ہیں؟ فرمایا: ”اپنے پیغمبر کو دیکھ لو۔“
حدیث نمبر: 2698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : لَا شَكَّ فِيهِ ، قَالَ : " إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ ، وَالِاقْتِصَادَ ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اچھا راستہ، نیک سیرت اور میانہ روی اجزاء نبوت میں سے پچیسواں جزء ہے۔“
حدیث نمبر: 2699
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، وجعفر يعني الأحمر , عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّمْتُ الصَّالِحُ " , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 2701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنًى ، وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر اور نو ذی الحجہ کی نماز فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ کے میدان میں ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 2702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَا أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
حدیث نمبر: 2703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقُمِّيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ , قَالَ : " وَمَا الَّذِي أَهْلَكَكَ ؟ " , قَالَ : حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ , قَالَ : فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِهِ هَذِهِ الْآيَةَ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 , " أَقْبِلْ ، وَأَدْبِرْ ، وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ہلاک ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟“ عرض کیا: آج رات میں نے سواری کا رخ موڑ دیا (بیوی کے پاس پشت کی طرف سے اگلے سوراخ میں قربت کر لی)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر میں اللہ نے اپنے پیغمبر پر یہ آیت وحی کر دی: «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة : 223]» ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اس لئے اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو، آسکتے ہو۔“ خواہ سامنے سے یا پیچھے سے، البتہ پچھلی شرمگاہ اور حیض کی جگہ سے بچو۔
حدیث نمبر: 2704
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ ، وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ ، تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر الحمدللہ کہا اور فرمایا: ”مومن کے کے لئے خیر ہی ہوتی ہے اور مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَهْطٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَقَدْ نَصَبُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا ، فَقَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“
حدیث نمبر: 2706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، وَقُثَمُ أَمَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور قثم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بیٹھے تھے۔
حدیث نمبر: 2707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ, فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا , قُلْتُ : وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا ؟ قَالَ : صَدَقُوا ، رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ، وَكَذَبُوا ، لَيْسَ بِسُنَّةٍ ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ : دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَقْدَمُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا " ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ , قُلْتُ : وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّهُ طَاف بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ , فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا , فَقُلْتُ : وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا ؟ فَقَالَ : صَدَقُوا ، قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَكَذَبُوا ، لَيْسَت بِسُنَّةٍ ، كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ , قُلْتُ : وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ ، عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ ، فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ ، قَالَ يُونُسُ : الشَّيْطَانُ , فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، قَالَ : قَدْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، قَالَ يُونُسُ : وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ ، وَقَالَ : يَا أَبَتِ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ , قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا سورة الصافات آية 53 - 105 , فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ , أَقْرَنَ أَعْيَنَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَبِيعُ هَذَا الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مِنًى ، قَالَ : هَذَا مِنًى ، قَالَ يُونُسُ : هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا ، فَقَالَ : هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ؟ قُلْتُ : لَا , قَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ ، قَالَ يُونُسُ : هَلْ عَرَفْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتْ التَّلْبِيَةُ ؟ قُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَتْ ؟ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ، خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا ، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دو، تاآنکہ یہ اسی طرح مر جائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مر جاتا ہے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آ کر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا، یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور یہ سعی کرنا سنت ہے؟ فرمایا: وہ سچ کہتے ہیں، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج کی ادائیگی کا حکم ہوا تو شیطان مسعی کے قریب ان کے سامنے آیا اور ان سے مسابقت کی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں پھر شیطان ان کے سامنے آ گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں دے ماریں، اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس وقت سفید رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، وہ کہنے لگے: اباجان! اس کے علاوہ تو میرے کوئی کپڑے نہیں ہیں جن میں آپ مجھے کفن دے سکیں، اس لئے آپ ان ہی کپڑوں کو میرے جسم پر سے اتار لیں تاکہ اس میں مجھ کو کفن دے سکیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے کپڑے اتارنے کے لئے آگے بڑھے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی: اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سفید رنگ کا، سینگوں والا اور بڑی بڑی آنکھوں والا دنبہ کھڑا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو اس ضرب کے نشانات تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر آخری جمرہ کی طرف چلے، راستے میں پھر شیطان سامنے آیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ دور ہوگیا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر منی کے میدان میں آئے اور فرمایا کہ یہ منی ہے، پھر مزدلفہ لے کر آئے اور بتایا کہ یہ مشعر حرام ہے، پھر انہیں لے کر عرفات پہنچے۔ کیا تم جانتے ہو کہ عرفہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ پہچان گئے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہیں سے اس جگہ کا نام عرفہ پڑ گیا، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تلبیہ کا آغاز کیسے ہوا؟ میں نے پوچھا کہ کیسے ہوا؟ فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کی منادی کرنے کا حکم ہوا تو پہاڑوں نے ان کے سامنے اپنے سر جھکا دیئے، اور بستیاں ان کے سامنے اٹھا کر پیش کر دی گئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔
حدیث نمبر: 2708
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، فَذَكَرَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ " , وَقَالَ : " وَثَمَّ تَلَّ إِبْرَاهِيمُ إِسْمَاعِيلَ لِلْجَبِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“
حدیث نمبر: 2711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَسَفَتْ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، قَالَ : نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، قَالَ أبي : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا ، وَرَأَيْتُ النَّارَ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " , قَالُوا : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " , قِيلَ : أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ؟ قَالَ : " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا، اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کفر کی وجہ سے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: ”(یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔“
حدیث نمبر: 2712
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ : اذْهَبْ يَا رَافِعُ ، لِبَوَّابِهِ ، إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْ : لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّباً ، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُون ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ ؟ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 187 , هَذِهِ الْآيَةَ ، وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ : لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ ، فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ ، وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: اے رافع! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ اگر ہم میں سے ہر شخص کو - جو خود کو ملنے والی نعمتوں پر خوش ہو اور یہ چاہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے - عذاب ہوگا تو پھر ہم سب ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق؟ اس آیت کا نزول تو اہل کتاب کے متعلق ہوا ہے، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: « ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران : 187]» ”اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: «﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ . . . . .﴾ [آل عمران : 188]» ”جو لوگ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اتراتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، ان کے متعلق آپ یہ گمان نہ کریں . . . . . ۔“ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی تھی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے چھپایا اور دوسروں کو بتا دیا، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے تو ان کا خیال یہ تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس پر وہ داد چاہتے تھے اور اس بات پر اترا رہے تھے کہ انہوں نے بڑی احتیاط سے اس بات کو چھپا لیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھی تھی۔
حدیث نمبر: 2713
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْد ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ ، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : ابْنُكَ دَاوُدُ , قَالَ : كَمْ عُمُرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ , قَالَ : أَيْ رَبِّ ، زِدْ فِي عُمُرِهِ , قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمُرِكَ , فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمُرِهِ ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا ، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ ، قَالَ : بَقِيَ مِنْ أَجَلِي أَرْبَعُونَ , فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ , قَالَ : فَجَحَدَ ، قَالَ : فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ ، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام مِائَةَ سَنَةٍ ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: ”یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں“، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ”ساٹھ سال“، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ ”یہ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں“، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا، اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی، اس طرح حضرت داؤود علیہ السلام کی عمر پورے سو سال ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پورے ہزار سال ہوئی۔“
…