حدیث نمبر: 2634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ كيَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 2635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 2636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 212
حدیث نمبر: 2637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ ، إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : رَكْعَتَانِ ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 2638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قربانی کی، پھر حلق کروایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 2639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ، قَالَ : فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى , قَالَ : فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ ، " فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا ، وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ ، فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ " ، قَالَ : فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ ؟ ! هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا , ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ " , وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عن بن عباس , وقد سمعت حماداً يذكره , عن ابن جبير , لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضا کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 2640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ ؟ قَالَ : مَا كُنْتُ أُرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ ، يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ ! قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ , قَالَ : أَتَحْسِبُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : أَمْسِكْ : " أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ ، وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمار - جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے - کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ وصال مبارک کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کیا تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ تم جیسے آدمی پر بھی یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے عرض کیا کہ میں نے مختلف حضرات سے اس کے متعلق دریافت کیا ہے لیکن ان سب کا جواب ایک دوسرے سے مختلف تھا، اس لئے میں آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر یاد رکھو! چالیس سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا، پندرہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے جہاں امن اور خوف کی ملی جلی کیفیت رہی اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:2353
حدیث نمبر: 2641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ , قَالَ : فَلُبِسَتْ الْقُمُصُ ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا لیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، چنانچہ عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه أيوب
حدیث نمبر: 2642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ " , قَالَ : فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، فَقَالَ : أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا ، وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا ، الْحَجُّ مَرَّةٌ ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے۔“ یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ ، يَشْهَدُ بِهِ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ ؟ " , قَالُوا : هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ , قَالَ : فَصَامَهُ مُوسَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ " , قَالَ : فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
حدیث نمبر: 2645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : حِفْظِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " , قَالَ قَتَادَةُ : وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 2647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ : الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ ، يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ، وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا ، حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ , قَالَ : فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " لَا حَرَجَ " , وَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ , قَالَ : فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " لَا حَرَجَ " , قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ ، إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
حدیث نمبر: 2649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا ، فَقَالَ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : الْحُمَّى , قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں کے بےقابو ہجوم کو دور رکھتا تھا، لیکن کچھ عرصہ نہ جا سکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہو گیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3261
حدیث نمبر: 2650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 2651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الصِّبْيَانِ ، قَالَ : فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا ، فَقُلْتُ : مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ ، قَالَ : فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ ، قَالَ : فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي ، قَالَ : فَأَخَذَ بِقَفَايَ ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، قَالَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ " , وَكَانَ كَاتِبَهُ ، قَالَ : فَسَعَيْتُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا۔ اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کر لے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1948، م: 1113
حدیث نمبر: 2653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، لم يسمعه منه : " أَنَّ جَدْيًا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے گزرنے نہیں دیا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيي بن الجزار لم يسمعه من ابن عباس. وقد رواه البيهقي موصولا. فذكر بينهما صهيبا البصري أبا الصهباء، فإن ثبت هذا فالإسناد حسن
حدیث نمبر: 2654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ ، إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ ، لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو، یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو، اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ويوسف بن مهران لين الحديث. لكن قوله: وما ينبغي لأحد أن يقول : أنا خير من يونس بن متى صحيح
حدیث نمبر: 2655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ ، يَعْنِي : نَبِيذَ السِّقَايَةِ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، وَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ , هَكَذَا فَاصْنَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً , قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں تجھے روئے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 788
حدیث نمبر: 2657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو۔“ (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے ”عصبہ“ کہتے ہیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615
حدیث نمبر: 2658
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ أَبِي , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ ، وَلَا يَكُفَّ الثِّيَابَ ، وَلَا الشَّعَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے“، پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤ کی طرف اشارہ کیا، نیز ”کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 812، م: 490
حدیث نمبر: 2659
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قال : كَذَا قَالَ أَبِي , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ، وَاسْتَعَطَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی، اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2278، م: 1202
حدیث نمبر: 2660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُكَاتَبُ يُودَى مَا أَعْتَقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ ، وَمَا رَقَّ مِنْهُ بِحِسَابِ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2661
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ يَحْفِرَانِ الْقُبُورَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ يَحْفِرُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَأَبُو طَلْحَةَ يَحْفِرُ لِلْأَنْصَارِ وَيَلْحَدُ لَهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ خِرْ لِنَبِيِّكَ , فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ ، وَلَمْ يَجِدُوا أَبَا عُبَيْدَةَ ، فَحَفَرَ لَهُ وَلَحَدَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو آدمی قبریں کھودتے تھے، سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے تھے جیسے اہل مکہ، اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ - جن کا اصل نام زید بن سہل تھا - اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے تھے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور دعا کی کہ اے اللہ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آگیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اسْتَدْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے سجدے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف أبو وكيع ضعيف لكنه توبع والتميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق
حدیث نمبر: 2663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ ، وَلَوْ قُلْتُ : كُلَّ عَامٍ ، لَكَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال : " تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ ، وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ ، وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ ، وَعُثْمَانُ حَتَّى مَاتَ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَعَجِبْتُ مِنْهُ ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے، مجھے ان کی بات پر تعجب ہے جبکہ خود انہوں نے مجھ سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے قینچی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ، فَكَانَ يَقُولُ : " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ ، قَالَ حُجَيْنٌ : سَلَامٌ عَلَيْكَ , أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم سکھاتے تھے، اور فرماتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ (قَالَ حُجَيْنٌ سَلَامٌ عَلَيْكَ) أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”تمام قولی، مبارک، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی کا نزول ہو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 403
حدیث نمبر: 2666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 2667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ مِنْ أَرْبَعٍ ، يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ» ”میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، البراء بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عِلْبَاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " , فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ، وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَان " , رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ أَجْمَعِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، (3) مریم بنت عمران علیہما السلام، (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا غُلَامُ إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ : احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ، وَإِذَا سَأَلْتَ فاَسْأَلْ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ ، لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ ، لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ ، رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ ، وَجَفَّتْ الصُّحُفُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی)، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ، وَاسْتَعَطَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی، اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2278، من 1202
حدیث نمبر: 2671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " , قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ ذَلِكَ : سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَا يَرْفَعْ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ، فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔“ ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے یہی حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنی ہے کہ ”پیالہ اس وقت تک نہ اٹھایا جائے جب تک خود یا کوئی دوسرا اسے چاٹ نہ لے کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 2673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے، لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، رواه ابن المبارك عن ابن لهيعة قبل احتراق كتبه