حدیث نمبر: 2594
(حديث مرفوع) َحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ : " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
حدیث نمبر: 2596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ، ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ ، إِلَّا لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 141. م: 1434
حدیث نمبر: 2598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا ، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَذَرْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا " , قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ ، خَيْرٌ لَهُ " , قَالَ شُعْبَةُ : وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا ، وَعَطَاءً ، وَمُجَاهِدًا ، وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ ، قَالَ شُعْبَةُ : كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے، یا پھر کسی کو ہبہ کر دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 2599
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ : " سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 , قَالَ : فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ ، فَقَالَ : إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کا مطلب پوچھا: «﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [الشورى : 23]» تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4818
حدیث نمبر: 2600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ ، فَأْقعَصَتْهُ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَقَالَ : " لَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ ، خَارِجَ رَأْسِهِ ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : خَارِجَ رَأْسِهِ ، أَوْ وَجْهِهِ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 2601
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ، وَأَنَا مَخْتُونٌ ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ مِنَ الْقُرْآنِ " , قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ : مَا الْمُحْكَمُ ؟ قَالَ : الْمُفَصَّلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا اور میرے ختنے بھی ہو چکے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، " فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 117، م: 763
حدیث نمبر: 2603
(حديث مرفوع) َحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
حدیث نمبر: 2604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوَْمَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ ، يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ " , وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ : " إِذَا رَكَعْتَ ، فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ ، وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ مَرَّةً : حَتَّى تَطْمَئِنَّا ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ ، حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کا کوئی مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو“، یعنی اسے اسباغ وضو کا حکم دیا، ان ہی میں سے ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ ”جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو، اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکا دو یہاں تک کہ زمین کا حجم محسوس کرنے لگو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْدِلُ شَعْرَهُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ شُعُورَهُمْ ، وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3944.، م : 2336
حدیث نمبر: 2606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ ، وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیار کی جانے والی نبیذ دن کو، اور دن کو تیار کی جانے والی نبیذ رات کو پی لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ " , فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ، ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جا سکے“ (منہ بند ہو جائے)، لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح
حدیث نمبر: 2608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا ہے اور انہوں نے کھڑے ہو کر زمزم پیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 2609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ ، كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ : وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ سورة آل عمران آية 152 , يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَالْحَسُّ : الْقَتْلُ , حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 152 , وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ، ثُمَّ قَالَ : " احْمُوا ظُهُورَنَا ، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ ، فَلَا تَنْصُرُونَا ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا " , فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا ، فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ ، وَقَدْ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهُمْ هكَذَا ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ ، وَالْتَبَسُوا ، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا ، دَخَلَتْ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، وَالْتَبَسُوا ، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ ، حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ ، أَوْ تِسْعَةٌ ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ ، وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ ، إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ : قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ ، حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى ، قَالَ : فَفَرِحْنَا كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا ، قَالَ : فَرَقِيَ نَحْوَنَا ، وَهُوَ يَقُولُ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ " , قَالَ : وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا " , حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا , فَمَكَثَ سَاعَةً ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ : اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي : آلِهَتَهُ ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُجِيبُهُ ؟ قَالَ : " بَلَى " , فَلَمَّا قَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ , قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا ، فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَهَأَنَا ذَا عُمَرُ , قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ , قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا سَوَاءً ، قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ , قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ ، لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًي ، وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا , قَالَ : ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ , وَلَمْ يَكْرَهُّه .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ جس طرح اللہ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، کسی اور موقع پر اس طرح مدد نہیں فرمائی، ہمیں اس پر تعجب ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میری بات پر تعجب کرنے والوں اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ تعالیٰ غزوہ احد کے حوالے سے فرماتے ہیں: «﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾ [آل عمران : 152]» ”اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے۔“ (لفظ «حس» کا معنی قتل ہے) اور اس سے مراد تیر انداز ہیں۔ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کو ایک جگہ پر کھڑا کیا تھا اور ان سے فرما دیا تھا کہ ”تم لوگ پشت کی طرف سے ہماری حفاظت کرو گے، اگر تم ہمیں قتل ہوتا ہوا بھی دیکھو تو ہماری مدد کو نہ آنا، اور اگر ہمیں مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھو تب بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیم پر فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا اور مسلمان مشرکین کے لشکر پر پل پڑے تو وہ تیر انداز بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مشرکین کے لشکر میں داخل ہو گئے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا، یوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفیں آپس میں یوں مل گئیں، راوی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں، اور یہ لوگ خلط ملط ہو گئے۔ ادھر جب تیر اندازوں کی جگہ خالی ہو گئی تو وہیں سے کفار کے گھوڑے اتر اتر کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے اور انہیں التباس ہونے لگا، اس طرح بہت سے مسلمان شہید ہو گئے، حالانکہ میدان صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ہاتھ رہا تھا اور مشرکین کے سات یا نو علمبردار بھی مارے گئے تھے۔ بہرحال! مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم کر پلٹے لیکن وہ اس غار تک نہ پہنچ سکے جو لوگ کہہ رہے تھے، وہ محض ایک ہاون دستہ نما چیز کے نیچے رہ گئے تھے، دوسری طرف شیطان نے یہ افواہ پھیلا دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے، کسی کو اس کے صحیح ہونے میں شک تک نہ ہوا، ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد نامی دو صحابہ رضی اللہ عنہما کے درمیان طلوع ہوئے، ہم نے انہیں ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف چڑھنے لگے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ ”اس قوم پر اللہ کا بڑا سخت غضب نازل ہوگا جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کر دیا“، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ ہم پر غالب نہ آنے پائیں“، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچ گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ابوسفیان کی آواز پہاڑ کے نیچے سے آئی جس میں وہ اپنے معبود ہبل کی جے کاری کے نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ابن ابی کبشہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہیں؟ ابن ابی قحافہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ ابن خطاب (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں اسے جواب نہ دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“، چنانچہ جب ابوسفیان نے ”ہبل کی جے ہو“ کا نعرہ لگایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگایا اور فرمایا: اللہ بلند و برتر ہو اور بزرگی والا ہو، ابوسفیان کہنے لگا: اے ابن خطاب! تم ہبل سے دشمنی کرو یا دوستی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، پھر کہنے لگا کہ ابن ابی کبشہ، ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں اور یہ میں ہوں عمر۔ ابوسفیان نے کہا کہ یہ جنگ بدر کا انتقام ہے، جن کی مثال ڈول کی طرح ہے اور جنگ بھی ڈول کی طرح ہوتی ہے (جو کبھی کسی کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی کسی کے)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں بھی برابری نہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں، ابوسفیان نے کہا کہ یہ تمہارا خیال ہے، اگر ایسا ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، پھر اس نے کہا کہ مقتولین میں تمہیں کچھ لاشیں ایسی بھی ملیں گی جن کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں، یہ ہمارے سرداروں کے مشورے سے نہیں ہوا، پھر اسے جاہلیت کی حمیت نے گھیر لیا اور وہ کہنے لگا کہ بہرحال! ایسا ہوا ہے، گویا اس نے اسے ناپسند نہیں سمجھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَخْرَجَتْ صَبِيًّا لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 1336، عبدالله العمري ضعيف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 2611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ , قَالَا : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی سے رات کو واپس ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
حدیث نمبر: 2612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت کو مؤخر فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ ؟ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ ، وَلَكِنْ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَكَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم نے قسم تو کھا لی، لیکن تمہارے «لَا إِلٰهَ ِإلَّا اللّٰهُ» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہو گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
حدیث نمبر: 2614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ ، فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ ، فَأَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ ، فَيَقُولُ : " وَمَا يُدْرِينِي ، لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ ، حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 2617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ، فَقَالَ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، أَوْ غَمَزْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا ہاتھ لگایا ہوگا، یا صرف دیکھا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2824
حدیث نمبر: 2618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَأْكُلْ الشَّرِيطَةَ ، فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسے جانور کو مت کھاؤ جس کی کھال تو کاٹ دی گئی ہو لیکن رگیں کاٹے بغیر اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہو کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمرو بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " , قَالَ : رَفَعَهُ الْحَكَمُ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُحَدِّثَ بِرَفْعِهِ , قَالَ : وَحَدَّثَنِي غَيْلَانُ ، وَالْحَجَّاجُ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، لَمْ يَرْفَعْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 2620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ ، فَقَالَ : " دَعُوهُ وَسَلَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ اس وقت ایک آدمی کے پاس کھڑے تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتول کا ساز و سامان ان ہی کے پاس چھوڑ دو۔“ (کیونکہ اس وقت یہ اصول تھا کہ میدان جنگ میں جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کا ساز و سامان اسی کو ملے گا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن كان سفيان الثوري سمعه من الحكم بن عتيبة، فقد رواه غير المصنف فأدخل بينهما محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَوَّى بَيْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِي الدِّيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ ، كَالَّذِي يَقِيءُ ، ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 2623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ " , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا ، لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گناہ کا کفارہ ندامت ہے“، اور فرمایا: ”اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرما سکے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عمرو ضعيف وأبوه يغرب ويخطئ
حدیث نمبر: 2624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6895
حدیث نمبر: 2625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْكُوبَةَ " ، وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے“، اسی طرح فرمایا کہ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَقَالَ : " إِذَا جَاءَ صَاحِبُهُ يَطْلُبُ ثَمَنَهُ ، فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، أَنَّ مَيْمُونَ الْمَكِّيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ " رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى بِهِمْ ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ , وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَحِينَ يَسْجُدُ ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ ، فَيَقُومُ ، فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا ، فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ ، فَقَالَ : إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے، اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ميمون المكي مجهول
حدیث نمبر: 2628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ ؟ قَالَ : مُدٌّ , قَالَ : كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ ؟ قَالَ : صَاعٌ , فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا يَكْفِينِي , قَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ ایک شخص نے پوچھا کہ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مد کے برابر، اس نے پوچھا کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ فرمایا: ایک صاع کے برابر، وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے تو اتنا پانی کفایت نہیں کرتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، اتنی مقدار اس ذات کو کافی ہو جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 2629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍه ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النَّاسَ َيَكْثُرُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر کپڑا لپیٹے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا: ”لوگو! انسان بڑھتے رہیں گے لیکن انصار کم ہوتے رہیں گے، اس لئے تم میں سے جس شخص کو حکومت ملے اور وہ کسی کو اس سے فائدہ پہنچا سکے تو انصار کی خوبیوں کو قبول کرے اور ان کی لغزشات سے چشم پوشی کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 2630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ ، أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ ، فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مقام قدید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں“، اس وقت اس کا خون ٹپک رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ شُعْبَةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قُلْتُ : إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ ، فَكَيْفَ أُصَلِّي ؟ قَالَ : رَكْعَتَيْنِ ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر میں مکہ مکرمہ جاؤں تو کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں اور یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 2633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : عَفَّانُ قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " ، قَالَ عَفَّانُ : " وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447