حدیث نمبر: 1877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍَ ، " أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الأَرْكَانَ كُلَّهَا ، فَقَالَ لَه : لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : صَدَقْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استلام نہیں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21]» ”تمہارے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 1878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ، وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی اور خالہ کو یا دو پھوپھیوں اور دو خالاؤں کو جمع کرے۔
حدیث نمبر: 1879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ ، فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيَّ ، قَالَ : قَالَ خُصَيْفٌ : حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " عَنِ الْمُصْمَتِ مِنْهُ ، فَأَمَّا الْعَلَمُ فَلَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کے نقش و نگار ریشم کے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد مسواک فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : مِنَ الأَنْصَارِ فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ ، فَاسْتَنَارَ ، قَالَ : " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ " ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ يُولَدُ عَظِيمٌ ، أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ ، قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا ، سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ ، فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ ، سَمَاءً ، حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ ، وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ ، فَيُرْمَوْنَ ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ ، فَهُوَ حَقٌّ ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ أبِى , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ جاہلیت میں اس طرح ہوتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے؟“ لوگوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کسی عظیم آدمی کی پیدائش یا کسی عظیم آدمی کی موت واقع ہونے والی ہے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا زمانہ جاہلیت میں بھی ستارے پھینکے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سختی ہوگئی)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ستاروں کا پھینکا جانا کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا، اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے - جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں - ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہو جاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ : فَيَقُولُونَ : الْحَقَّ ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ، فَيَقُولُونَ : كَذَا وَكَذَا ، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، قَالَ : وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ ، فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ ، فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ ، وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ ، وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ ، وَيَقْرِفُونَ ، وَيَنْقُصُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا . . . . پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے - جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں - ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمَا قَالَا : لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ ، فَلَمَّا اغْتَمَّ ، رَفَعْنَاهَا عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " ، تَقُولُ عَائِشَةُ : فيُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو فرمایا کہ 29 کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں 22 مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , الْمَعْنَى ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِي , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال : " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي صَلَوَاتٍ ، وَسَكَتَ ، فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِنَّ نَبِيُّ اللَّهِ ، وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ ، فَقِيلَ لَهُ : فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ مِنْهَا ، وَقَالَ : أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض نمازوں میں جہری قراءت فرماتے تھے اور بعض میں خاموش رہتے تھے، اس لئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت فرماتے تھے ان میں ہم بھی قراءت کرتے ہیں اور جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تھے، ہم بھی ان میں سکوت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سری قراءت فرماتے ہوں؟ اس پر وہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ کیا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تہمت لگائی جائے گی؟
حدیث نمبر: 1888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 1889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، " أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً ، وَيُسْنِدُ ذَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھو لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ ، فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“
حدیث نمبر: 1891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا ، وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 1892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ " ، , وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ ، مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ قَوْلُهُ : إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ ، مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ ، أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَذَا فِي الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کو بطور حجت لیا جاتا ہے، سفیان سے کسی نے پوچھا کہ یہ آخری جملہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا؟ تو انہوں نے فرمایا: حدیث میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے۔
حدیث نمبر: 1893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ : " اقْضِهِ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”آپ ان کی طرف سے اسے پورا کریں۔“
حدیث نمبر: 1894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تُقْسِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات پر قسم دلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دلاؤ۔“
حدیث نمبر: 1895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ ، وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وادی محسر میں نہ رکو، اور ٹھیکری کی کنکریاں اپنے اوپر لازم کر لو۔“
حدیث نمبر: 1897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی، اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 1898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ ، فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَنَ الْقَوْمُ ؟ " , قَالُوا : الْمُسْلِمُونَ ، قَالُوا فَمَنْ أَنْتُمْ ؟ : قَالَ : " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ ، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحاء نامی جگہ میں تھے کہ سواروں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”آپ لوگ کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: مسلمان، پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا پیغمبر ہوں“، یہ سنتے ہی ایک عورت جلدی سے گئی، اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ غَيْرَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السِّتَارَةِ ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ ، أَوْ تُرَى لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں ایک مرتبہ اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں سوائے ان اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں بچا جو ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے کسی کو دکھائے جاتے ہیں“، پھر فرمایا: ”مجھے رکوع یا سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، اس لئے تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب توجہ سے دعا مانگا کرو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کو اللہ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو۔“ (آگ میں جلا کر سزا نہ دو)۔
حدیث نمبر: 1902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ ، وَالْخَاتَمَ ، وَالشَّيْءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حدیث نمبر: 1903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا " ، قَالَ سَفْيَان : كَذَا أَحْسَبُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے کنوئیں سے ڈول نکال کر اس کا پانی کھڑے کھڑے پی لیا۔
حدیث نمبر: 1904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّرْبَةُ لَكَ ، وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا ، " , قَالَ : مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پی رہے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”پینے کا حق تو تمہارا ہے لیکن اگر تم چاہو تو میں خالد کو ترجیح دے کر یہ دے دوں؟“ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مشروب پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔
حدیث نمبر: 1905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، يَعْنِي , " اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا بَنُو أَخِيهَا ، قَالَتْ : أَخَافُ أَنْ يُزَكِّيَنِي ، فَلَمَّا أَذِنَتْ لَهُ ، قَالَ : مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ الأَحِبَّةَ ، إِلَّا أَنْ يُفَارِقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ ، كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا طَيِّبًا ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ ، فَنَزَلَتْ فِيكِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلَيْسَ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ ، إِلَّا يُتْلَى فِيهِ عُذْرُكِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَقَالَتْ : دَعْنِي مِنْ تَزْكِيَتِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، وہ کہنے لگیں: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آ کر میری تعریفیں کریں گے، بہرحال! انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ آپ کے اور دیگر دوستوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا تو آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہو گئی تھیں، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے . . . (کہ میں برابر سرابر چھوٹ جاؤں)۔
حدیث نمبر: 1906
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ لَهَا : " إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي ، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے، اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔
حدیث نمبر: 1907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ ، أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ مَا ضَرَّهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حدیث نمبر: 1909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ ، وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ : الْوَحْيُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہی چیز چھوڑی ہے جو دو لوحوں کے درمیان ہے (یعنی قرآن کریم)، ہم محمد بن علی کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، بہتر ہوتا کہ وہ ”وحی“ کا لفظ استعمال کرتے (تاکہ حدیث کو بھی شامل ہو جاتا)۔
حدیث نمبر: 1910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : وَقَالَ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 18 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی تھی کہ اسے ساتھ ساتھ یاد کرتے جائیں، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ o إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ o فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [القيامة: 16-18]» ”آپ اپنی زبان کو مت حرکت دیں کہ آپ جلدی کریں، اسے جمع کرنا اور پڑھنا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ چکیں تب آپ پڑھا کریں۔“
حدیث نمبر: 1911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ، فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تو لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگتے، راوی کہتے ہیں کہ ہم عمرو سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
حدیث نمبر: 1912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى ، فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ , فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کر کے کھڑے ہوگئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 1913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ ، حُفَاةً عُرَاةً ، مُشَاةً غُرْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران خطبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل اور غیر مختون ہوگے۔“
حدیث نمبر: 1914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَسِّلُوهُ بِمَاءٍ ، وَسِدْرٍ ، وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا " ، وَقَالَ مَرَّةً : " يُهِلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھے، ایک آدمی حالت احرام میں اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1916
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60 ، قَالَ : " هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت ذیل: «﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء: 60]» ”اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے“ کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آنکھوں کی وہ رؤیت ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج دکھائی گئی۔
…