حدیث نمبر: 2554M
وَوَكِيعٌ قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2554M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1247، م: 955
حدیث نمبر: 2555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ , قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ، فَيُولَدُ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ ، فيَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
حدیث نمبر: 2556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا ، وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو“، اور تین مرتبہ فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الاختلاط ليث بن أبى سليم، وقوله: علموا ، ويسروا، ولا تعسرواه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ ، فِي غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ " قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، وَلِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 705
حدیث نمبر: 2558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبَرَازِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ ، فَقَالُوا : أَنَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟ فَقَالَ : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَوَضَّأُ ؟ ! أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ أَوَصَلَّيْتُ فَأَتَوَضَّأُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نِمْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَتَى الْحَاجَةَ ، ثُمَّ جَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَتَى الْقِرْبَةَ ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ ، وَقَدْ أَبْلَغَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، وَتَمَطَّيْتُ كَرَاهَةَ أَنْ يَرَانِي كُنْتُ أَبْقِيهِ ، يَعْنِي : أَرْقُبُهُ ، ثُمَّ قُمْتُ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِمَا يَلِي أُذُنِي حَتَّى أَدَارَنِي ، فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي. خ: 1837، م: 1410. وقصة الاحتجام: خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 2561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ , فَقَالَ : " جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا ، بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه
حدیث نمبر: 2562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سب کونوں میں دعا فرمائی اور باہر نکل کر دو رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عثمان الجزري روى أحاديث مناكير
حدیث نمبر: 2563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ , أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " لَمْ يَنْزِلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543
حدیث نمبر: 2565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف میں محرم ہونے کے باوجود سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4258
حدیث نمبر: 2566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ , فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَرَقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، فَقَامَ فَبَالَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَعَمَدَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ، أَوْ الْقَصْعَةِ ، وَأَكَبَّ يَدَهُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَنِي ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، قَالَ : ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ ، أَوْ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا ، وَأَمَامِي نُورًا ، وَخَلْفِي نُورًا ، وَفَوْقِي نُورًا ، وَتَحْتِي نُورًا ، وَاجْعَلْنِي نُورًا " , قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " اجْعَلْ لِي نَوَرًا " , قَالَ : وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ نَامَ مُضْطَجِعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
حدیث نمبر: 2568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ ، رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا ، وَلَبَنًا ، وَأَضُبًّا ، فَأَمَّا الْأَضُبُّ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : قَذِرْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ أَوْ أَجَلْ " , وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ : " أَمَا إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ ، وَلَكِنْ أَتَأْذَنُ أَنْ أَسْقِيَ عَمَّكَ ؟ " , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ : لَا ، وَاللَّهِ مَا أَنَا بِمُؤْثِرٍ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا , قَالَ : فَأَخَذْتُهُ ، فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ عَنِ الطَّعَامِ غَيْرَ اللَّبَنِ ، فَمَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ ، وَزِدْنَا مِنْهُ ، وَمَنْ طَعِمَ طَعَامًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری خالہ ام حفیق نے ہدیہ کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، دودھ اور گوہ بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کو دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ فرمایا: ”ہاں!“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا برتن پکڑا اور اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے چچا کو پینے کے لئے دے دوں؟“ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ میں نے اس دودھ کا برتن پکڑا اور اسے پی لیا، اس کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہترین کھلا“، اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» ”اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما“، کیونکہ میرے علم کے مطابق کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة عمر بن حرملة
حدیث نمبر: 2570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَأُتِيَ بِعَرْقٍ ، فَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، فَأَكَلَ مِنْهُ " , وَزَادَ عَمْرٌو عَلَيَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَمْ تَتَوَضَّأْ ! قَالَ : " مَا أَرَدْتُ الصَّلَاةَ فَأَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2571
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ " , وَكَتَبَ أَبِي فِي أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف سعيد بن محمد بن الوراق ورشدين بن كريب، وعندهما مناكير
حدیث نمبر: 2572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَضَيَّفْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ خَالَتِي ، وَهِيَ لَيْلَةَ إِذْ لَا تُصَلِّي ، فَأَخَذَتْ كِسَاءً فَثَنَتْهُ ، وَأَلْقَتْ عَلَيْهِ نُمْرُقَةً ، ثُمَّ رَمَتْ عَلَيْهِ بِكِسَاءٍ آخَرَ ، ثُمَّ دَخَلَتْ فِيهِ ، وَبَسَطَتْ لِي بِسَاطًا إِلَى جَنْبِهَا ، وَتَوَسَّدْتُ مَعَهَا عَلَى وِسَادِهَا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، فَأَخَذَ خِرْقَةً فَتَوَزَرَ بِهَا ، وَأَلْقَى ثَوْبَهُ ، وَدَخَلَ مَعَهَا لِحَافَهَا ، وَبَاتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، قَامَ إِلَى سِقَاءٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّكَهُ ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ مُسْتَيْقِظًا ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَتَى الْفِرَاشَ ، فَأَخَذَ ثَوْبَيْهِ ، وَأَلْقَى الْخِرْقَةَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ فِيهِ يُصَلِّي ، وَقُمْتُ إِلَى السِّقَاءِ ، فَتَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَتَنَاوَلَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَعَدَ ، وَقَعَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ مِرْفَقَهُ إِلَى جَنْبيِ ، وَأَصْغَى بِخَدِّهِ إِلَى خَدِّي ، حَتَّى سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بِلَالٌ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسَارَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، وَأَخَذَ بِلَالٌ فِي الْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، انہوں نے ایک چادر لے کر اسے تہہ کیا، اس پر تکیہ رکھا اور دوسری چادر بچھا کر اسے اوڑھ کر لیٹ گئیں، میرے لئے انہوں نے اپنے ساتھ ایک بستر بچھا دیا تھا اور میں ان ہی کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، عشا کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور کپڑے اتار کر تہبند باندھ لیا اور ان کے ساتھ لحاف اوڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، پہلے میں نے سوچا کہ میں اٹھ کر جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراؤں لیکن پھر مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری بیداری کا علم ہو، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تہبند اتار کر کپڑے پہن لئے اور مسجد آ کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کے ساتھ میں نے بھی کل تیرہ رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی میرے پہلو پر رکھ دی اور اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کر دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، کچھ ہی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نماز، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف چل پڑے، میں بھی پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، وراية إسحاق بن عبدالله عن ابن عباس مرسلة
حدیث نمبر: 2573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ شَيْئًا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكْثِرُ السِّوَاكَ " ، قَالَ : حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی کثرت کے ساتھ مسواک فرماتے تھے کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة التميمي
حدیث نمبر: 2574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ ، وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ ، فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " , قَالَ أَبِي : قَدْ سَمِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمْ جَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ ، وَلَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف قابوس
حدیث نمبر: 2577
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، رَفَعَهُ أَيْضًا , قَالَ : " لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ ، وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ رِشْدِينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف رشدين
حدیث نمبر: 2579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 2580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى " , وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي ، أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، و منكر مرفوعا
حدیث نمبر: 2581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " صَلَّى سَبْعًا جَمِيعًا ، وَثَمَانِيًا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1174، م: 705
حدیث نمبر: 2583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178
حدیث نمبر: 2584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ يحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 809، م: 490
حدیث نمبر: 2585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ أَوْ يُسْتَوْفَى " , وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَحْسِبُ الْبُيُوعَ كُلَّهَا بِمَنْزِلَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 2586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1957
حدیث نمبر: 2587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، وَابْنِ عَطَاءٍ أنهما سمعا عطاء ، يُحَدِّثُ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 2590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا صُرِعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَمَاتَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَأَنْ يُكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ , وَأَنْ لَا يُخَمِّرُوا رَأْسَهُ , فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " , وَقَالَ أَيُّوبُ : مُلَبِّدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 2592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَيَقُولُ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ : سَرِفُ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ ، أَقْبَلَ ، حَتَّى كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ ، أَعْرَسَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں (اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر) صدقہ دینے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 98، م: 884