حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِنَحْوِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا بِعَرَفَةَ ، وَحَدَّثَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ ، بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الواسطة بين أيوب وبين سعيد بن جبير
حدیث نمبر: 2517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ , قَالَ : بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ ، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ ، فَعَيَّ بِشَأْنِهَا ، فَقُلْتُ : لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، قُلْتُ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ ، فكَانَ لِي حَاجَتَانِ , وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ ، فَقَالَ : أَلَا أُخْلِيكَ ؟ قُلْتُ : لَا , فَقُلْتُ : كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا ، فَقُلْتُ : لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ ، لَأَسْتَبْحِثَنّ عَنْ هَذَا , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ ، وَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ ، فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رُفْقَتِكَ " .(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي ، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي ، فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَرَتْ امْرَأَةُ سنَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُمِّهَا تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَحْجُجْ ، أَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ ، فَقَضَتْهُ عَنْهَا ، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَلْتَحْجُجْ عَنْ أُمِّهَا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَأَلَهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ ، فَقَالَ : " مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
موسی بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سنان بن سلمہ حج کے لئے روانہ ہوئے، سنان کے پاس ایک اونٹنی تھی، وہ راستے میں تھک گئی اور وہ اس کی وجہ سے عاجز آ گئے، میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو میں نے سنان سے کہا کہ آؤ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں، ہم وہاں چلے گئے، وہاں پہنچے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی، مجھے ان سے دو کام تھے اور میرے ساتھی کو ایک، وہ کہنے لگا کہ میں باہر چلا جاتا ہوں، آپ تنہائی میں اپنی بات کر لیں؟ میں نے کہا ایسی کوئی بات ہی نہیں (جو تخلیہ میں پوچھنا ضروری ہو)۔ پھر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو راستے میں تھک گئی، میں نے دل میں سوچا تھا کہ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ کچھ اونٹنیاں کہیں بھجوائیں اور جو حکم دینا تھا وہ دے دیا، جب وہ شخص جانے لگا تو پلٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ”اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں رنگ دینا اور اسے اس کی پیشانی پر لگا دینا، نہ خود اسے کھانا اور نہ تمہارا کوئی ساتھی اسے کھائے۔“ میں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ میں غزوات میں شرکت کرتا ہوں، مجھے اس میں مال غنیمت کا حصہ ملتا ہے، میں اپنی والدہ کی طرف سے کسی غلام یا باندی کو آزاد کر دیتا ہوں تو کیا میرا ان کی طرف سے کسی کو آزاد کرنا ان کے لئے کفایت کرے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سنان بن عبداللہ جہنی کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھیں، کیا ان کی طرف سے میرا حج کرنا ان کے لئے کفایت کر جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ”اگر ان کی والدہ پر کوئی قرض ہوتا اور وہ اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ ادا ہوجاتا یا نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اسے اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لینا چاہیے۔“ انہوں نے سمندر کے پانی کے بارے بھی سوال کیا، تو فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1325
حدیث نمبر: 2519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ ، مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَاً ، إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً ، أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ ، وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا رب بڑا رحیم ہے، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں سے سات سو تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف وہی شخص ہلاک ہو سکتا ہے جو ہلاک ہونے والا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى ، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى ، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ ”اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 2521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي ص " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ صٓ میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1069
حدیث نمبر: 2522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّا نَغْزُو أَهْلَ الْمَغْرِبِ ، وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ ، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ : وَعَامَّةُ أَسْقِيَتِهِمْ ، الْمَيْتَةُ , فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " دِبَاغُهَا طُهُورُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 2523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ ، وَثَمَانِي سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2353
حدیث نمبر: 2524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، لَمْ يَنْسُبْهُ عَفَّانُ أَكْثَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَإِيَّايَ رَأَى ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي " , وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : " لَا يَتَخَيَّلُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میرے تخیل کو کسی پر طاری نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُخْبِرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178
حدیث نمبر: 2527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " , وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 2529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 2530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزُ حِمَارٍ أَوْ قَالَ : رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " , قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لَهُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م :1957
حدیث نمبر: 2533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي فِطْرٍ ، فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " تَصَدَّقْنَ " , فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا ، وَسِخَابَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے اور اس سے پہلے نماز پڑھی نہ بعد میں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 964، م: 884
حدیث نمبر: 2534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں حضر کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشا کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائیں، اور پھر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَهْدَى صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں“، اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 2536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2345، م: 2730
حدیث نمبر: 2538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ : إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ ، وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ جُلُودُ الْمَيْتَةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " دِبَاغُهَا طُهُورُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 2539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ ، قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ ، قَالَ هَمَّامٌ : يَعْنِي كُلُّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ , فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ , قَالَ هَمَّامٌ : يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 2540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ أَخُو عِيسَى النَّحْوِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : " جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ ؟ فَقَالَ : عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ : عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ ، فَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ " , قُلْتُ : أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ طَاوُسًا قَالَ , حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 155
حدیث نمبر: 2542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا ، قَالَ : فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا ، قَالَ : وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ : إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " , وَخَيَّرَهَا ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ , قَالَ : وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ ، فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام مغیث تھا، میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ”ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔“ (کیونکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5280
حدیث نمبر: 2543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ , قَالَا : قَالَ عُمَرُ : مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَا : فقال بن عباس : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ فِي الْعَشْرِ ، فِي سَبْعٍ يَمْضِينَ ، أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: لیلۃ القدر کے بارے کون جانتا ہے کہ وہ کب ہوتی ہے؟ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”شب قدر رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہوتی ہے، سات راتیں گزرنے پر (ستائیسویں شب) یا سات راتیں باقی رہ جانے پر (تئیسویں شب)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2022
حدیث نمبر: 2544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصَّفَا , فَقَالَ : " يَا صَبَاحَاهْ ، يَا صَبَاحَاهْ " , قَالَ : فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ ، فَقَالُوا لَهُ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ ، أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي ؟ " , فَقَالُوا : بَلَى , قَالَ : فَقَالَ : " إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " , قَالَ : فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ؟ تَبًّا لَكَ , قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ سورة المسد آية 1 , إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يا صباحاه» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں“، ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ)، اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4801، م: 208
حدیث نمبر: 2545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وَهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 354، 359
حدیث نمبر: 2546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، فقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي ، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ، وَلَا فَخْرَ ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ ، وَلَا فَخْرَ ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي ، وَلَا فَخْرَ , وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ ، فَْيَشْفَعْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَلاَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ , أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ , فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ , فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَيَقُولُونَ : يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ ، وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ : قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 , وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ سورة الأنبياء آية 63 , وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ : أُخْتِي ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ , فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ , فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ : اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : لَا , قَالَ : فَيَقُولُ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَى ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ : أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ ، نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا ، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ : كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا ، فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ ، فَيُقَالُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، فَيُفْتَحُ لِي ، فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ ، شَكَّ حَمَّادٌ ، فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي , فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي , فَيَقُولُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا ، لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ ، ثُمَّ أُعِودُ , فَأَسْجُدُ ، فَأَقُولُ مَا قُلْتُ ، فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي , فَيَقُولُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا ، دُونَ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ أُعِودُ ، فَأَسْجُدُ ، فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَيُقَالُ لِيَ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي , فيَقولَ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا ، دُونَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی کم از کم ایک دعا ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں، وہ ابوالبشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء علیہم السلام کی جڑ ہیں۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد واللہ! دین ہی تھا (ایک تو اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے، اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسی! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہو چکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ہاں! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں ( صلی اللہ علیہ وسلم) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ ”اے محمد! سر تو اٹھایئے، آپ جو مانگیں گے آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی“، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت۔ ارشاد ہوگا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ ”جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے“، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون قول عيسى عليه السلام: إني اتخذت إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنبة، ثم إن هذا لا يعد ذنبا له، وإسناد هذا الحديث ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 2547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ , قَالَ : فَقُمْتُ ، وَأَنَا نَاعِسٌ ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي ، قال : فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں رات تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ماپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604
حدیث نمبر: 2549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2550
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ : إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ب قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ : وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ ؟ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حنظلہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرأت کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟ تم ان دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف حنظلة السدوسي
حدیث نمبر: 2551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ، ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقَتَلْتُهُمْ ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے، ان کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر آگ دہکائی گئی اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو ان کی کتابوں سمیت نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو“، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6922
حدیث نمبر: 2552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا أَخَذَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا " , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ " , فَبَلَغَ عَلِيًّا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو“، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہو سکی؟)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3017
حدیث نمبر: 2553
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ ، وَهُوَ قَائِمٌ ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : " هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ " , فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں“، راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کر لی، بعد میں پتہ چلا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خواب دیکھا تھا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے قبر میں مدفون ہونے کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1247، م: 954