حدیث نمبر: 2476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ ، وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالُوا : إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ ، فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ ؟ َقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ ، وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ " , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ , وَالْمَيْسِرَ , وَالْكُوبَةَ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " , قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ : مَا الْكُوبَةُ ؟ قَالَ : الطَّبْلُ .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے بنو عبدالقیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ تلچھٹ حاصل ہوتا ہے، ہمارے لئے کون سے برتن حلال ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت، نقیر اور حنتم میں کچھ بھی نہ پیو، البتہ مشکیزوں میں پی سکتے ہو۔“ پھر فرمایا کہ ”اللہ نے شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ سے ”کوبہ“ کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی ”طبل“ بتایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقصة وفد عبدالقيس عند خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 2477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ ، تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر کا لگ جانا برحق ہے، اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله : العين حق صحيح، وبقيته حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الراوي عن جابر بن زيد
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دُوَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين وإسماعيل مجهول
حدیث نمبر: 2479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ ، وَخَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ ، فَالْبَسُوهَا ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو سوتے وقت لگانے سے بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے، سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 1957
حدیث نمبر: 2481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1421، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2482
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا ، فَيَكُونُ مَا سَمِعُوا حَقًّا ، وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا ، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ , فَبَثَّ جُنُودَهُ ، فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ , فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں، اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں سے جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیداہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 773، م:449
حدیث نمبر: 2483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ ، وَكَانَتْ لَهُ هَيْئَةٌ ، رَأَيْنَاهُ عِنْدَ حَسَنٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ ، وَاتَّبَعْنَاكَ , فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ ، إِذْ قَالُوا : اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ , قَالَ : " هَاتُوا " , قَالُوا : أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ , قَالَ : " تَنَامُ عَيْنَاهُ ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " , قَالُوا : أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ ؟ قَالَ : " يَلْتَقِي الْمَاءَانِ ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ " , قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ أَبِي : قَالَ بَعْضُهُمْ : يَعْنِي الْإِبِلَ ، فَحَرَّمَ لُحُومَهَا " , قَالُوا : صَدَقْتَ , قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ ؟ قَالَ : " مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ ، بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ ، يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ " , قَالُوا : فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ ؟ قَالَ : " صَوْتُهُ " , قَالُوا : صَدَقْتَ ، إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ ، فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبكَ ؟ قَالَ : " جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " قَالُوا : جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ ، وَالْقِتَالِ ، وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا ، لَوْ قُلْتَ : مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ ، وَالنَّبَاتِ ، وَالْقَطْرِ ، لَكَانَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ سورة البقرة آية 97 , إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ کچھ یہودی آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے پانچ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے ہمیں ان کا جواب دے دیا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع کرنے لگیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر اسی طرح وعدہ لیا جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، جب وہ یہ کہہ چکے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اللہ اس پر وکیل ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اپنے سوالات پیش کرو“، انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ نبی کی علامت کیا ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔“ انہوں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ یہ بتائیے کہ بچہ مؤنث اور مذکر کس طرح بنتا ہے؟ فرمایا: ”دو پانی ملتے ہیں، اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ مذکر ہو جاتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے۔“ انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ یہ بتائیے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کس چیز کو حرام کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انہیں عرق النساء نامی مرض کی شکایت تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اونٹ کا دودھ سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے انہوں نے اس کے (دودھ اور) گوشت کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔“ وہ کہنے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھر انہوں نے چوتھا سوال یہ پوچھا کہ یہ رعد (بادلوں کی گرج چمک) کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میں لو ہے کا ایک گرز ہوتا ہے جس سے یہ بادلوں کو مارتا ہے اور اللہ نے جہاں لے جانے کا حکم دیا ہوتا ہے انہیں وہاں ہانک کر لے جاتا ہے۔“ وہ کہنے لگے کہ ہم جو آواز سنتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کی آواز ہوتی ہے۔“ انہوں نے اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ اب ایک سوال باقی رہ گیا ہے، اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے، ہر نبی کے ساتھ ایک فرشتہ ہوتا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے، آپ کے پاس کون سا فرشتہ آتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل!“ وہ کہنے لگے کہ وہی جبرئیل جو جنگ، لڑائی اور سزا لے کر آ تا ہے؟ وہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو رحمت، نباتات اور بارش لے کر آتا ہے تب بات بن جاتی، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل فرمائی: «﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . .﴾ [البقرة : 97]» ”(اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، قصة الرعد منكرة، فقد تفرد بها بكير بن شهاب
حدیث نمبر: 2484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَحَضَرَ النَّحْرُ ، فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا موقع آ گیا، چنانچہ ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے گائے، اور اونٹ کو دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: في سنده الحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع، والحسين بن واقد عنده بعض ما ينكر، وقد تفرد برواية حديث ابن عباس هذا
حدیث نمبر: 2485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، وَالطَّالَقَانِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2485M
قَالَ الطَّالَقَانِيُّ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2485M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا مرسل، رواية عكرمة عن النبى مرسلة
حدیث نمبر: 2487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
حدیث نمبر: 2488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ : أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ " فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة البقرة آية 190 حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191 , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گزاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیتیں تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران : 190-191]» تک، پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 117، م: 256
حدیث نمبر: 2489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، شَكَّ مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " , قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " , قَالَ : وَقَالَ مَنْصُورٌ : وَحَدَّثَنِي عَوْنٌ ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، حجاج هو: حجاج بن أرطاة بن دينار، وروايتهما عن سعد بن جبير منقطعة
حدیث نمبر: 2490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 2491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قال لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ , وَذَكَرَ مِنْ جَمَالِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " , ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا اور ان کے حسن و جمال کا تذکرہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے“، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولم يسمعه سعيد من على ابن زيد
حدیث نمبر: 2492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَيَقُولُ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ : سَرِفُ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ ، وَفَخِذُهُ خَارِجَةٌ ، فَقَالَ : " غَطِّ فَخِذَكَ ، فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جس کی ران دکھائی دے رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران کو ڈھکو، کیونکہ مرد کی ران شرمگاہ کا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو يحيى القتات لين الحديث، وروى عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدا
حدیث نمبر: 2494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ : أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا : قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ ؟ قَالَ : قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ , قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرأت کون سی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا: نہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرأت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر، لين الحديث
حدیث نمبر: 2495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : الم غُلِبَتِ الرُّومُ سورة الروم آية 1 - 2 , قَالَ : غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ ، قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ ، فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ " , قَالَ : فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ ، فَقَالُوا : اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا ، فَإِنْ ظَهَرْنَا ، كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا ، وَإِنْ ظَهَرْتُمْ ، كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا , فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ ، فَلَمْ يَظْهَرُوا ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ ، قَالَ : أُرَاهُ قَالَ : الْعَشْرِ ؟ " , قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ، ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ ، قَالَ : فَذَلِكَ قَوْلُهُ : الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 - 4 , قَالَ : يَفْرَحُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 5 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما « ﴿الم o غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ » کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آ جائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رومی ہی غالب آئیں گے.“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آ گئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے، اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آ گئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کر لی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دئیے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی؟“ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دراصل قرآن میں «﴿بِضْعِ﴾» کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آ گئے اور سورہ روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُثَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ذَكْوَانُ حَاجِبُ عَائِشَةَ , أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَجِئْتُ ، وَعِنْدَ رَأْسِهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بِنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ , فَأَكَبَّ عَلَيْهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ وَهِيَ تَمُوتُ ، فَقَالَتْ : دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ ، إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ ، لِيُسَلِّمْ عَلَيْكِ ، وَيُوَدِّعْكِ , فَقَالَتْ : ائْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ , قَالَ : فَأَدْخَلْتُهُ ، فَلَمَّا جَلَسَ ، قَالَ : أَبْشِرِي , فَقَالَتْ : أَيْضًا ! فَقَالَ : " مَا بَيْنَكِ ، وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَحِبَّةَ ، إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوحُ مِنَ الْجَسَدِ ، كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ ، وَأَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 , فَكَانَ ذَلِكَ فِي سَبَبِكِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ ، جَاءَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ، فَأَصْبَحَ لَيْسَ لِلَّهِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ يُذْكَر فِيهُِ اللَّهُ ، إِلَّا يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ , فَقَالَتْ : دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے)، اس نے کہا: اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آ کر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہو گئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے حضرت جبرئیل علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2497
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي ، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے، اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے طے ہو چکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ليث بن أبى سليم ضعيف، وشيخه مجهول
حدیث نمبر: 2498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:478
حدیث نمبر: 2499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " الدُّبَّاءِ , وَالْحَنْتَمِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالنَّقِيرِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ دباء، حنتم، نقیر، مزفت اور کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 2500
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو پیش آیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالُوا : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : ك ف ر , قَالَ : مَا تَقُولُونَ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : ك ف ر , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ ، وَلَكِنْ قَالَ : " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، وَأَمَّا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ ”اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166
حدیث نمبر: 2502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : ذَكَرُوهُ يَعْنِي الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : ك ف ر , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَاكَ ، وَلَكِنْ قَالَ : " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، قَالَ يَزِيدُ : يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، , وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ طُوَالٌ ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، وَقَدْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " , قَالَ أَبِي : قَالَ هُشَيْمٌ : الْخُلْبَةُ : اللِّيفُ .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہو گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہو گا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ ”اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے، اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2503
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : أَظُنُّهُ قَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : أَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ جب کہ بہت بارش ہو رہی تھی، منادی کو حکم دیا، چنانچہ اس نے یہ اعلان کر دیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 616، م: 699
حدیث نمبر: 2504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ مَاتَتْ شَاةٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 2505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدے میں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهب بن ميناس، مستور، وقد توبع
حدیث نمبر: 2506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وخَرَجَ مُهاجراً من مكة إِلى المدينة يومَ الاثنينِ ، وقَدِمَ المدينةَ يومَ الاثنينِ ، َتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پیر کے دن ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت پیر کے دن ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی پیر کے دن فرمائی، مدینہ منورہ تشریف آوری پیر کے دن ہوئی، وفات پیر کے دن ہوئی، اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بھی پیر کے دن ہی رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 2507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ وَاقِفًا ، وَقَدْ أَرْدَفَ الْفَضْلَ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَوَقَفَ قَرِيبًا وَأَمَةٌ خَلْفَهُ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَلَا الْإِبِلِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " , قَالَ : ثُمَّ أَفَاضَ ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَفَ بِجَمْعٍ أَرْدَفَ أُسَامَةَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " , قَالَ : ثُمَّ أَفَاضَ ، فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً ، حَتَّى أَتَتْ مِنًى ، فَأَتَانَا بسَوَادَ ضَعْفَى بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَهُمْ ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا ، وَيَقُولُ : " يَا بَنِيَّ ، أَفِيضُوا ، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو سوار کر رکھا تھا، ایک دیہاتی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہو گیا، اس کے پیچھے اس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اسے دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے اور ان کا چہرہ موڑنے لگے، پھر فرمایا: ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا تو اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے سکون سے چلو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ منیٰ آ پہنچے۔ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: ”پیارے بچو! تم روانہ ہو جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا هُمْ ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا ، فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ سن چکے تھے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو (پھر بھی انہوں نے یہ تصویریں بنا رکھی ہیں)، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے، ان کا کیا حال بنا رکھا ہے کہ یہ پانسے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3351
حدیث نمبر: 2509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أخبرني أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ ، أَوْ بِعُسْفَانَ ، فَقَالَ : يَا كُرَيْبُ ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ , قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : يَقُولُ : هُمْ أَرْبَعُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : أَخْرِجُوهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ ، فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہو گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: کریب! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے انہیں آ کر بتا دیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہو جائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد، م: 948
حدیث نمبر: 2510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ ، وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا ، يَقُولُ ارْجِعَا ، قَالَ : فَرَجَعَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا ، فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا ، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ ، لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ , قَالَ : فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2511
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، قَالَ : " مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا أَقْوَمَ بِقَوْلِ الشِّيعَةِ مِنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مسعودی کا کہنا ہے کہ میں نے عدی بن ثابت سے زیادہ اہل تشیع کے بارے کسی کی بات عمدہ نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهذا أثر عن المسعودي وهو : عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة، عدي بن ثابت ثقة، غالي فى التشيع
حدیث نمبر: 2512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ " , قَالَ : " فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ , فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتے کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے، اگر تمہارے پاس کوئی شخص کتے کی قیمت مانگنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قد تَفَشَّغَتْ بِالنَّاسِ ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ ؟ فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 2514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ : " سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ ، وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ ، وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى بَنِيهِ ، لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ ، لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ " , قَالُوا : فَذَلِكَ لَكَ , قَالَ : " فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ " , قَالُوا : أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ : أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ ، وَمَاءُ الرَّجُلِ ؟ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ ؟ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ؟ قَالَ : " فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي ؟ " , قَالَ : فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ , قَالَ : " فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السلاَّمَ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام ، مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا ، وَطَالَ سَقَمُهُ ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ ، وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا ؟ " , قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ ، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ ، إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ ؟ " , قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ ، فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ؟ " , قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " , قَالُوا : وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا ، مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ؟ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ , قَالَ : " فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَلَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ " , قَالُوا : فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ , قَالَ : " فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ ؟ " , قَالُوا : إِنَّهُ عَدُوُّنَا , قَالَ : " فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 97 - 101 فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ سورة البقرة آية 90 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو چاہو مجھ سے سوال پوچھو، لیکن مجھ سے اللہ کے نام پر اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس وعدے کے مطابق جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، وعدہ کرو کہ میں تمہیں جو جواب دوں گا اگر تم نے اسے صحیح سمجھا تو تم اسلام پر مجھ سے بیعت کرو گے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو۔“ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، ایک تو آپ ہمیں یہ بتائیے کہ وہ کون سا کھانا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا؟ دوسرا یہ بتائیے کہ عورت اور مرد کا پانی کیسا ہوتا ہے اور بچہ نر کیسے ہوتا ہے؟ تیسرا یہ بتائیے اس نبی امی کی نیند میں کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اور چوتھا یہ کہ ان کے پاس وحی لانے والا فرشتہ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم مجھ سے اللہ کو سامنے رکھ کر وعدہ کرتے ہو کہ اگر میں نے تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دیئے تو تم میری اتباع کرو گے؟“ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے مضبوط عہد و پیمان کر لیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا، کیا تم جانتے ہو کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنا سب سے مرغوب مشروب اور سب سے مرغوب کھانا اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور مشروبات میں اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرغوب تھا؟“ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے، اللہ کے حکم سے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے، چنانچہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے وہ لڑکا ہوتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے؟“ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ اس نبی امی کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔“ وہ یہودی کہنے لگے کہ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سا فرشتہ آپ کا دوست ہے؟ اس پر ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوجائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے دوست جبرئیل امین ہیں اور اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے وہی اس کے دوست رہے ہیں۔“ یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے کہ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر ان کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع ضرور کرتے اور آپ کی تصدیق کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جبرئیل امین کی موجودگی میں تمہیں اس تصدیق سے کیا چیز روکتی ہے؟“ وہ کہنے لگے کہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . . كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [البقرة : 97-101]» ”کہہ دیجئے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو . . . . . جیسے وہ نہیں جانتے۔“ اور اس وقت وہ اللہ کے غضب پر غضب کو لے کر لوٹے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب ضعيف