حدیث نمبر: 2436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 2438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضے سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 2439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُلُوا فِي الْقَصْعَةِ مِنْ جَوَانِبِهَا ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَحْسِبُهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ أبي مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ , فَزَوَّجَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے معاملے کا اختیار سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے ان کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ , عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرَمُونَ الدِّيَةَ بِجِيفَتِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَخَبِيثٌ ، خَبِيثُ الدِّيَةِ ، خَبِيثُ الْجِيفَةِ " , فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعنه
حدیث نمبر: 2443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ : " أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ ، وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ ”اپنی دیت ادا کیا کریں، اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کریں اور مسلمانوں میں اصلاح کی کوشش کیا کریں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس الحجاج، وهذا الحديث من مسند عبدالله بن عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنِي سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا ، فَأَوَّلْتُهُ ، فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، فَأَوَّلْتُهُ ، كَبْشَ الْكَتِيبَةِ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، فَأَوَّلْتُهَا : الْمَدِينَةَ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ " , فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار - جس کا نام ذوالفقار تھا - غزوہ بدر کے دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بطور انعام کے عطا فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ ”میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکستگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کئے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں نے مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، واللہ! گائے خیر ہے، واللہ! گائے خیر ہے۔“ چنانچہ ایساہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ ، وَهُوَ فِي الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر میں صرف اتنی آواز سے تلاوت فرماتے تھے کہ حجرہ میں اگر کوئی موجود ہو تو وہ سن لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا ، أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، دلس فيه هشيم
حدیث نمبر: 2448
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ , قَالَ : وَكَيْفَ فَعَلْتَ ؟ قُلْتُ : اسْتَرْقَيْتُ , قَالَ : وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ : قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطَ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلَ والرجلين ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمَّتِي ، فَقِيلَ : هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، ثُمَّ قِيلَ لي : انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ : هَذِهِ أُمَّتُكَ ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا ، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ " , ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالُوا : مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ " , فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ ، فَقَالَ : " هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " , فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " , ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے فرمایا: تم میں سے کسی نے رات کو ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے، میں اس وقت نماز میں نہیں تھا، البتہ مجھے ایک بچونے ڈس لیا تھا، انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے جھاڑ لیا، انہوں نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: اس حدیث کی وجہ سے جو ہمیں امام شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر بد یا ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کی جھاڑ پھونک صحیح نہیں ہے۔“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ جو شخص اپنی سنی ہوئی روایات کو اپنا منتہی بنا لے، یہ سب سے اچھی بات ہے، پھر فرمایا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ”مجھ پر مختلف امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کے ساتھ پورا گروہ دیکھا، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ دیکھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا جم غفیر پیش کیا گیا، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ افق کی طرف دیکھئے، وہاں ایک بڑی جمعیت نظر آئی، پھر مجھے دوسری طرف دیکھنے کا حکم دیا گیا، وہاں بھی ایک بہت بڑا جم غفیر دکھائی دیا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہو گئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ ”تم لوگ کس بحث میں پڑے ہوئے ہو؟“ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بحث کے بارے بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم ان میں شامل ہو“، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6541، م : 220
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا عبد الله , حدثنا شُجَاعٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھری مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6541، م: 220
حدیث نمبر: 2450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ ، غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ ، وَإِنْ كَانَ لَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : وَاللَّهِ لَا يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1971، م: 1157
حدیث نمبر: 2451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ، فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ ، فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وادیوں کو طے کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور بھی لے کر آئے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا، لیکن اے اہل مکہ! تم اپنے طواف کو اس وقت تک مؤخر کر دیا کرو جب تم واپس لوٹ کر آؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن مؤمل
حدیث نمبر: 2452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة : 93]» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ ، لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مستقل شراب نوشی کرنے والا جب مرے گا تو اللہ سے اس کی ملاقات اس شخص کی طرح ہوگی جو بتوں کا پجاری تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة الواسطة بين محمد بن المنكدر و بين ابن عباس
حدیث نمبر: 2454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑوں کی برکت اس نسل میں ہے جو سرخ اور زرد رنگ کے ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2455
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي : عَرَفَةَ , فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا ، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا ، قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ سورة الأعراف آية 172 - 173 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا، چنانچہ اللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں پھیلا دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کلام کیا اور فرمایا: ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ارشاد ہوا) ”ہم نے تمہاری گواہی اس لئے لے لی تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آبا و اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے، تو کیا آپ ہمیں باطل پر رہنے والوں کے عمل کی پاداش میں ہلاک کر دیں گے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه ضعيف، وأكثر الرواة رووه موقوفا على ابن عباس
حدیث نمبر: 2456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وأبو الأحوص رواه مرسلا
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : " يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وكذا خصيف بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 2459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " عَجَّلَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَجَّلَ أُمَّ سَلَمَةَ ، وَأَنَا مَعَهُمْ ، مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَأَمَرَنَا أَنْ لا نَرْمِيَهَا حتى تَطْلُعُ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو - اور ان کے ساتھ میں بھی تھا - مزدلفہ سے منی کی طرف جلدی بھیج دیا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ”طلوع آفتاب سے قبل جمرہ عقبہ کی رمی نہ کریں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، خ: 1677، م: 1293، وهذا إسناد ضعيف، شريك ضعيف، وكذا ليث
حدیث نمبر: 2460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ثَقَلَةِ وَضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى ، وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامان اور کمزور افراد خانہ کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی کو منی کی طرف روانہ کر دیا تھا، چنانچہ ہم نے فجر کی نماز منی میں ہی پڑھی اور جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح
حدیث نمبر: 2461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : " دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " , فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا : أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ ، فَقَالَ : بَصُرَ عَيْنَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مل گئے۔ چنانچہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ واقعی آپ نے یہ دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا - اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے - اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 354 ،359
حدیث نمبر: 2462
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا . . . . .﴾ [النساء : 94]» ”ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو اور جو تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2463
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ سورة آل عمران آية 110 , قَالَ : " هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ " , قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران : 110]» والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 562، م: 705
حدیث نمبر: 2466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى فِي بُدْنِهِ بَعِيرًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ ، فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو) اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس جرير بن حازم
حدیث نمبر: 2467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " انْتَهَسَ عَرْقًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 2468
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ ، قِيلَ لَهُ : وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً , قَالَ : اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً ، وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ ، وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ ، لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا , قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا تو لوگ ان سے کہنے لگے کہ اب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اسی کوڑے ضرور ماریں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا عادل ہے، وہ مجھے ان اسی کوڑوں سے بچا لے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا، واللہ! اللہ مجھے سزا نہیں ہونے دے گا، اس پر آیت لعان نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ جاريةً بِكْراً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح ایسی جگہ کر دیا ہے جو اسے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ ، قَالَ حُسَيْنٌ : كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ ، لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو کالا خضاب لگائیں گے، یہ لوگ جنت کی بو بھی نہ پا سکیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُا ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ , فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ ، أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ؟ قَالَ : " فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ ، فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا ؟ " فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کئے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کون سا کھانا حرام کر لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا، اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ سب سے مرغوب تھا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! ایسا ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 2472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
حدیث نمبر: 2473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شريك، وسماك روايته عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُتَّخَذَ الرُّوحُ غَرَضًاً " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة خاصة مضطربة
حدیث نمبر: 2475
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بْنَتاً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ , فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ ثَدْيًيْه ، فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقِيلَ : أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَسْتُ أَبْكِي ، إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا: کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن