حدیث نمبر: 2396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ ، يَقُولُ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِنْ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ ”فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، لہذا اگر تم سے کوچ کا مطالبہ کیا جائے تو کوچ کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، تكلم فى زياد بن عبدالله
حدیث نمبر: 2397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكِبِي شَكَّ سَعِيدٌ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 143، م: 2477 بدون لفظ : وعلمه التأويل
حدیث نمبر: 2398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ أبو يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ، يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے اور یہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ ، وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي. م: 2353
حدیث نمبر: 2400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ ، لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اورسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ : اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا ، وَمَثَلَ أُمَّتِهِ , فَقَالَ : إِنَّ مَثَلَهُ وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ ، انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ ، وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً ، وَحِيَاضًا رُوَاءً ، أَتَتَّبِعُونِي ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : فَانْطَلَقَ بِهِمْ ، فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً ، وَحِيَاضًا رُوَاءً ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا ، فَقَالَ لَهُمْ : أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً ، وَحِيَاضًا رُوَاءً ، أَنْ تَتَّبِعُونِي ؟ فَقَالُوا : بَلَى , قَالَ : فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا أَعْشَبَ مِنْ هَذِهِ ، وَحِيَاضًا هِيَ أَرْوَى مِنْ هَذِهِ ، فَاتَّبِعُونِي , قَالَ : فَقَالَتْ طَائِفَةٌ : صَدَقَ وَاللَّهِ ، لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ : قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا سر کی طرف، جو فرشتہ پاؤں کی طرف بیٹھا تھا اس نے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی طرح ہے جو ایک جنگل کے کنارے پہنچی ہوئی ہے، ان کے پاس اتنا زاد سفر نہ ہو کہ وہ اس جنگل کو طے کر سکیں، یا واپس جا سکیں، ابھی یہ لوگ اسی حال میں ہوں کہ ان کے پاس یمنی حلے میں ایک آدمی آئے اور ان سے کہے: دیکھو! اگر میں ایک سرسبز و شاداب باغ اور جاری حوض پر لے کر جاؤں تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں کہ ہاں! چنانچہ وہ شخص انہیں لے کر سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر پہنچ جائے اور یہ لوگ کھا پی کر خوب صحت مند ہوجائیں۔ پھر وہ آدمی ایک دن ان سے کہے: کیا تم سے میری ملاقات اس حالت میں نہیں ہوئی تھی کہ تم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تمہیں سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر لے کر پہنچ جاؤں تو تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں: کیوں نہیں، وہ آدمی کہے کہ پھر تمہارے آگے اس سے بھی زیادہ سرسبز و شاداب باغات ہیں اور اس سے زیادہ سیراب کرنے والے حوض ہیں اس لئے اب میری پیروی کرو، اس پر ایک گروہ ان کی تصدیق کرے اور کہے کہ ان شاء اللہ ہم ان کی پیروی کریں گے اور دوسرا گروہ کہے: ہم یہیں رہنے میں خوش ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمَاءُ يسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالوں میں پانی جمع کر لیا جاتا تھا، بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پیتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لانقطاعه، جعفر بن محمد لم يدرك ذلك ولم يسنده. وهذا الحديث من مسند جعفر بن محمد أو على ابن أبى طالب، لا من مسند ابن عباس
حدیث نمبر: 2404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِم ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " , قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَهِ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهَا تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب تلبیہ پڑھتے تو یوں کہتے: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» اور فرماتے تھے کہ یہاں رک جاؤ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسحاق مختلط، ورواية زهير عنه بعد الاختلاط والضحاك لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، الَّذِي يُحْدِثُ التَّفْسِيرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق وأبو إسحاق مختلط، ورواية زهير عنه بعد الاختلاط، وقد توبع
حدیث نمبر: 2406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُعِدْ الْوُضُوءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 207، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة خاصة مضطرب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ ، وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمْ الظِّلُّ ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ ، فَلَا تُكَلِّمُوهُ " , قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ ، قَالَ : عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ ، وَفُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ؟ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ ، قَالَ : فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ ، فَحَلَفُوا بِاللَّهِ ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ سورة المجادلة آية 18 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔“ تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: «﴿فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ﴾ [المجادلة : 18]» ”یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ ، قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ الظِّلُّ , فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مؤمل سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 2409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا ، فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا ، فَقَالَ لَهُ : " أَلَا تَسْتَاكُ ؟ " , فَقَالَ : إِنِّي لَأَفْعَلُ ، وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ , فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ ، وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان دونوں کی ضرورت ایک جیسی تھی، ان میں سے ایک نے جب اپنی بات شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے منہ سے بدبو محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مسواک نہیں کرتے؟“ اس نے کہا: کرتا ہوں، لیکن مجھے تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا (اس کی وجہ سے منہ سے بدبو آرہی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے اسے ٹھکانہ مہیا کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضرورت پوری کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
حدیث نمبر: 2410
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ ؟ قَالَ : " قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي ، قَالَ : فَخَطَرَ خَطْرَةً ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ : أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ ؟ قَالَ : قَلْباًًٌ مَعَكُمْ ، وَقَلَبٌ مَعَهُمْ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 " .
مولانا ظفر اقبال
ابوظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ «﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ [الأحزاب : 4]» ”اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے“، اس ارشاد باری تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خیال آیا، تو وہ منافق جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہنے لگے: کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ اور ایک دل ان کے ساتھ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ , قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ ، وَرَبُّ الْأَرْضِ , وَرَبُّ ، الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " ثُمَّ يَدْعُو .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“ اس کے بعد دعا فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2412
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ وَهِيَ فِي السَّوْقِ ، فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَن ، فَقِيلَ لَهَا : أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ؟ قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْكِ ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہو گئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا: کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عطاء بن السائب مختلط، لكن رواه الثوري عن ابن السائب فى موضع آخر، ورواية الثوري عنه قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 2413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قُمْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِهِ ، حَتَّى أَخَذَ بِعَضُدِي أَوْ بِيَدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 728، م: 763
حدیث نمبر: 2414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 223 , فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ ، إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت: «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ﴾ [البقرة : 223]» ”تمہاری بیویاں تمہارے لئے بمنزلہ کھیتی کے ہیں“، کچھ انصاری لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس کے متعلق سوال کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں فرمایا تھا: ”تم اپنی بیوی کے پاس ہر طرح آ سکتے ہو بشرطیکہ فرج میں ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 2415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا ، إِلَّا أَنْ تَوَدُّوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے پاس جو واضح آیات اور ہدایت لے کر آیا ہوں، اس پر میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرو، اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف قزعة ابن سويد الباهلي
حدیث نمبر: 2416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا ، وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا يَعْنِي أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الْأُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاء ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى ، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کیا، اس میں اپنا چہرہ دھویا، ایک چلو پانی لے کر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لیا اور دوسرے ہاتھ کو اس کے ساتھ ملا کر چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی لے کر دائیں پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 140
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَ هَذَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح كسابقه، وفي هذا الإسناد إشكال ليس فيمن روي عن ابن عباس من يسمي يعقوب بن إبراهيم، إن كان هو : يعقوب ابن إبراهيم بن سعد بن أبى وقاص لا يبعد أن يكون أدرك ابن عباس. وإن كان هو: يعقوب بن إبراهيم ابن عبدالله بن حنين مولى ابن عباس فروايته عن ابن عباس منقطعة
حدیث نمبر: 2418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا ، فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا " فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا " , فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي : سَعَل ، فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 2419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، أَوَاجِبٌ هُوَ ؟ قَالَ : لَا , وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ : كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ ، وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ ، وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ ، وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ ، فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا ، وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا ، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ ، فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ ، أَرْوَاحُ الصُّوفِ ، فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ ، حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ ، فَاغْتَسِلُوا ، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا غسل جمعہ واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، جو چاہے غسل کر لے (اور نہ چاہے تو نہ کرے)، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کا آغاز کس طریقے سے ہوا تھا؟ لوگ غریب ہوا کرتے تھے، اون کا لباس پہنا کرتے تھے، باغات کو سیراب کرنے کے لئے اپنی کمر پر پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اور مسجد نبوی تنگ تھی، اس کی چھت بھی نیچی تھی، لوگ جب اون کے کپڑے پہن کر کام کرتے تو انہیں پسینہ آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا تھا اور اس میں صرف تین سیڑھیاں تھیں، ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو اپنے اونی کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، جس کی بو پھیل رہی تھی اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے تنگ ہو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی - جبکہ وہ منبر پر تھے - اس کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: ”لوگو! جب تم جمعہ کے لئے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو اور جس کے پاس جو خوشبو سب سے بہترین ہو، وہ لگا کر آیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ ، فَاقْتُلُوهُ ، وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، لكن هذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
حدیث نمبر: 2421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي الرَّمْيِ , وَالذَّبْحِ , وَالْحَلْقِ : " لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا تربیت میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1734، م: 1307
حدیث نمبر: 2422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ الْوَلِيدُ ، يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ؟ فَقَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا ، فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن
حدیث نمبر: 2424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا ، وَمِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة خاصة مضطرب
حدیث نمبر: 2425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا صَفَرَ وَلَا هَام " , فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ : دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِئَةِ ، فَتُجْرِبُهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، (سماک کہتے ہیں کہ ”صفر“ انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے)، ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب، قد توبع
حدیث نمبر: 2426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
حدیث نمبر: 2427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ " , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً ، حَتَّى بَلَغَتْ جَمْعًا ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ " , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً ، حَتَّى بَلَغَتْ مِنًى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: ”سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمانے لگے: ”لوگو! سکون اور وقار سے چلو کیونکہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، اس کے بعد میں نے کسی سواری کو سرپٹ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ منی پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، مؤمل بن اسماعيل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، فِيهَا جَمَلٌ أَحْمَرُ لِأَبِي جَهْلٍ ، فِي أَنْفِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ وكذا ابن أبي ليلى
حدیث نمبر: 2429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف مؤمل وعبدالأعلى
حدیث نمبر: 2430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا ، فَقَالَ : ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ , فَدَخَلَتْ ، فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا ، فَقَالَتْ : وَيْحَكَ ، إِنِّي مُغِيبٌ , فَتَرَكَهَا ، وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ ، فَأَتَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ ! قَالَ : فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ : فائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَيْحَكَ ، لَعَلَّهَا مُغِيبٌ ! قَالَ : فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ : فَائتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّهَا مُغِيبٌ ! " , قَالَ : فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً ، أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا ، وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ ، بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً , قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " صَدَقَ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آ جاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ ”شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟“ اور اس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: « ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [هود : 114]» ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔“ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”عمر نے سچ کہا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2431
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ : وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 , قَالَ : " لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ ، وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ ، وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ ، تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ ، فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ ، قَالُوا : إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ، كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جنات کے اس قول: «﴿وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا﴾ [الجن : 19]» کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں آپ کی اقتداء کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع پر خود رکوع کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر خود سجدہ کر رہے ہیں، تو انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اطاعت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر تعجب ہوا، چنانچہ جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو قریب ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے لئے بھیڑ لگا کر جمع ہو جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، مؤمل بن إسماعيل، سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 2432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ , سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے نکلے، منبر پر رونق افروز ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ ”اپنی جان اور اپنے مال کے اعتبار سے ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر میں انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلقت سب سے افضل ہے، اس مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 467
حدیث نمبر: 2433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا أَتَاهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، أَوْ غَمَزْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِكْتَهَا ؟ " , لَا يُكَنِّي ، قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا چھیڑ خانی کی ہوگی، یا دیکھا ہوگا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6824
حدیث نمبر: 2434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ , وَالْحُسَيْنَ ، فَيَقُولُ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ " , ثُمَّ يَقُولُ : " هَكَذَا كَانَ أَبِي إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام يُعَوِّذُ إِسْمَاعِيلَ , وَإِسْحَاقَ عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسنین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے۔“ اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے والد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3371
حدیث نمبر: 2435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّا نَغْزُو ، فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ , قَالَ : مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ ، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ ، فَقَدْ طَهُرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 366