حدیث نمبر: 2356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2357
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا اجَمَعَ الْقَوْمُ لِغَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهْلُهُ : عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَصَالِحٌ مَوْلَاهُ ، فَلَمَّا اجَْمَعُوا لِغَسْلِهِ نَادَى مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيِّ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَلِيُّ ، نَشَدْتُكَ اللَّهَ ، وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : ادْخُلْ , فَدَخَلَ فَحَضَرَ غَسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَلِ مِنْ غَسْلِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ ، وَالْفَضْلُ ، وَقُثَمُ ، يُقَلِّبُونَهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَصَالِحٌ مَوْلَاهُمَا ، يَصُبَّانِ الْمَاءَ ، وَجَعَلَ عَلِيٌّ يَغْسِلُهُ ، وَلَمْ يُرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مِمَّا يُراهُ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَهُوَ يَقُولُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا ! , حَتَّى إِذَا فَرَغُوا مِنْ غَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يُغَسَّلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ ، جَفَّفُوهُ ، ثُمَّ صُنِعَ بِهِ مَا يُصْنَعُ بِالْمَيِّتِ ، ثُمَّ أُدْرِجَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ : ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، وَبُرْدِ حِبَرَةٍ , ثُمَّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْن ، فَقَالَ : لِيَذْهَبْ أَحَدُكُمَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاح ، وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَضْرَحُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَلْيَذْهَبْ الْآخَرُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَلْحَدُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَهُمَا حِينَ سَرَّحَهُمَا : اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ , قَالَ : فَذَهَبَا ، فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَة أَبَا طَلْحَةَ ، فَجَاءَ بِهِ ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے پر اتفاق رائے ہو گیا، تو اس وقت گھر میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی تھے، مثلا ان کے چچا سیدنا عباس، سیدنا علی، سیدنا فضل، سیدنا قثم، سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا صالح رضی اللہ عنہم اجمعین، اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے سیدنا اوس بن خولی انصاری خزرجی بدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر کہا کہ اے علی! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارا حصہ بھی رکھنا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اند آجاؤ، چنانچہ وہ بھی داخل ہو گئے اور اس موقع پر موجود رہے گو کہ انہوں نے غسل میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا، جبکہ قمیص جسم پر ہی تھی، سیدنا عباس، سیدنا فضل اور سیدنا قثم رضی اللہ عنہم پہلو مبارک بدل رہے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کا ساتھ دے رہے تھے، سیدنا اسامہ اور سیدنا صالح رضی اللہ عنہما پانی ڈال رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز ظاہر نہیں ہوئی جو میت کی ظاہر ہوا کرتی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دیتے ہوئے کہتے جارہے تھے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ حیا و میتا کتنے پاکیزہ رہے۔ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل پانی اور بیری سے دیا گیا تھا۔ غسل سے فراغت کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو خشک کیا، پھر وہی کیا جو میت کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی انہیں تین کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا جن میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار سرخ یمنی چادر تھی، پھر معلوم ہوا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ، اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ - جن کا اصل نام زید بن سہل تھا - اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور دعا کی کہ اے اللہ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آ گیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔
حدیث نمبر: 2358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ ! فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً ، فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا ، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، فَحَفِظُوا عَنْهُ ، ثُمَّ رَكِبَ ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا ، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف پر بڑا تعجب ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس وقت اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا، یہیں سے لوگوں میں اختلاف ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارادے سے نکلے، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھ چکے تو وہیں بیٹھے بیٹھے حج کا احرام باندھ لیا، لوگوں نے اسے سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے، جب اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ احرام کی نیت والے الفاظ کہے، کچھ لوگوں نے یہ الفاط سن لئے کیونکہ لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں آتے تھے، اکٹھے ہی سارے نہیں آ جاتے تھے، یہ لوگ بعد میں کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا تھا جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہوگئی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے، جب بیداء کی چوٹی پر چڑھے تو دوبارہ تلبیہ کہا، کچھ لوگوں نے اس وقت کو یاد رکھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء کی چوٹی پر احرام باندھا ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی نیت تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی کر لی تھی، البتہ تلبیہ کا اعادہ اس وقت بھی کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر چلنے لگی تھی، اور اس وقت بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کی چوٹی پر چڑھے تھے، اس لئے جو شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ احرام کی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی احرام کی نیت کر لے۔
حدیث نمبر: 2359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا ، وَقَالَ : " اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ ، وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا ، وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ ، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ ، حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا ، وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا " , فَفَعَلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، جن میں سے تیس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور باقی انہوں نے ذبح کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ”ان سب کا گوشت، جھولیں اور کھالیں لوگوں میں تقسیم کر دو، قصاب کو اس میں کوئی چیز بطور اجرت کے نہ دینا، اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک لمبا ٹکڑا ہمارے لئے رکھ لینا، پھر ان سب کو ایک ہنڈیا میں پکانا تاکہ ہم بھی اس کا گوشت کھا سکیں اور اس کا شوربہ پی سکیں“، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 2360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ : مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ، إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَة ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ ، إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا , فَقَالَ : وَيْحَكَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ , فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ ، وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابوالعباس! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جا رہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے، اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جا رہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے“، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو حج کا احرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُس ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ : إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ ، وَعَفَا الْأَثَرْ ، وَدَخَلَ صَفَرْ ، فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ» کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لئے عمرہ کروایا تھا کہ مشرکین کے اس خیال کی بیخ کنی فرما دیں جو کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ " أَهْدَى جَمَلَ أَبِي جَهْلٍ ، الَّذِي كَانَ اسْتَلَبَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدْيِهِ " , وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ : " لِيَغِيظَ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی) جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا تاکہ مشرکین کو غصہ دلائیں۔
حدیث نمبر: 2363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ رمضان ، وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ ، دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَشَرِبَ ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ ، يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ ، فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اور مسلمانوں نے بھی اپنا روزہ ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 2364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُم ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرِ فِيهِ ، فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔
حدیث نمبر: 2365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 2366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ ، وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو نکاح اور مہر مقرر نہیں کیا، حالانکہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے چھ سال قبل اسلام قبول کیا۔
حدیث نمبر: 2367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَلْعَجْلَانَ ، فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ : مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ , قَالَ : فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : بَلَى ، قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ , قَالَ : فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا ، وَأَعْطَاهَا الْمَهْر " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کے قبیلہ بنو عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس نے اس کے ساتھ رات گذاری، صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اسے کنوارا نہیں پایا، یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: کیوں نہیں، میں تو کنواری تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو مہر دلوایا۔
حدیث نمبر: 2368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ ، عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ ، فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ ، فَجنَا عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ ، حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا ، فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت کو مسجد کے دروازے کے پاس رجم کرنے کا حکم دیا، یہودی کو جب پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ اس عورت کو جھک جھک کر بچانے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ وہ دونوں ختم ہو گئے، درحقیقت ان دونوں کو جو سزا دی گئی تھی، وہ اللہ کی مقرر کردہ سزا تھی کیونکہ ان دونوں کے متعلق بدکاری کا ثبوت مہیا ہو گیا تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ سزا جاری فرمائی۔
حدیث نمبر: 2369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ : " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ مردہ ہے، فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 2370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَبَعَثَ كِتَابَهُ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ، وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى ، لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إلى قيصر ، وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ ، مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلْيَاءَ عَلَى الزَّرَابِيِّ تُبْسَطُ لَهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا جَاءَ قَيْصَرَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حِينَ قَرَأَهُ : الْتَمِسُوا لِي مِنْ قَوْمِهِ مَنْ أَسْأَلُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ أَنَّهُ كَانَ بِالشَّامِ فِي رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِمُوا تُجَّارًا ، وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَأَتَانِي رَسُولُ قَيْصَرَ ، فَانْطَلَقَ بِي وَبِأَصْحَابِي ، حَتَّى قَدِمْنَا إِيلْيَاءَ ، فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ ، عَلَيْهِ التَّاجُ ، وَإِذَا حَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ، فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : سَلْهُمْ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَنَا أَقْرَبُهُمْ إِلَيْهِ نَسَبًا , قَالَ : مَا قَرَابَتُكَ مِنْه ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ ابْنُ عَمِّي , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَلَيْسَ فِي الرَّكْبِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ غَيْرِي ، قَالَ : فَقَالَ قَيْصَرُ : أَدْنُوهُ مِنِّي , ثُمَّ أَمَرَ بِأَصْحَابِي ، فَجُعِلُوا خَلْفَ ظَهْرِي عِنْدَ كَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لِأَصْحَابِهِ : إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَإِنْ كَذَبَ ، فَكَذِّبُوهُ , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَوَاللَّهِ لَوْلَا الِاسْتِحْيَاءُ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَأْثُرَ أَصْحَابِي عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ حِينَ سَأَلَنِي ، وَلَكِنِّي اسْتَحَيْتُ أَنْ يأْثَرواَ عَنِّي الْكَذِبُ ، فَصَدَقْتُهُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُ : كَيْفَ نَسَبُ هَذَا الرَّجُلِ فِيكُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ ، قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ فِي الْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : لَا , قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , قَالَ : فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ , قَالَ : فَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ يَزِيدُونَ , قَالَ : فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , وَنَحْنُ الْآنَ مِنْهُ فِي مُدَّة ، وَنَحْنُ نَخَافُ ذَلِكَ , قَالَ : قال أَبُو سُفْيَانَ : وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا أَنْتَقِصُهُ بِهِ غَيْرُهَا ، لا أَخَافُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي ، قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ أَوْ قَاتَلَكُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَم , قَال : كَيْفَ كَانَتْ حَرْبُكُمْ وَحَرْبُهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : كَانَتْ دُوَلًا سِجَالًا نُدَالُ عَلَيْهِ الْمَرَّةَ ، وَيُدَالُ عَلَيْنَا الْأُخْرَى , قَالَ : فَبِمَ يَأْمُرُكُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : يَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ ، وَالصِّدْقِ ، وَالْعَفَافِ ، وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ , قَالَ : فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ : قُلْ لَهُ : إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فِيكُمْ ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَطُّ قَبْلَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ ، قُلْتُ : رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ، وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ، قُلْتُ : رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ , وَسَأَلْتُكَ : أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ لَا يَسْخَطُهُ أَحَدٌ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَغْدِرُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ , وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ ، وَأَنَّ حَرْبَكُمْ وَحَرْبَهُ يَكُونُ دُوَلًا ، يُدَالُ عَلَيْكُمْ الْمَرَّةَ ، وَتُدَالُونَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ، وَيَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ , وَسَأَلْتُكَ : بِمَاذَا يَأْمُرُكُمْ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَيَنْهَاكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصِّدْقِ ، وَالصَّلَاةِ ، وَالْعَفَافِ ، وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ ، وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ ، وَلَكِنْ لَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ , فَإِنْ يَكُنْ مَا قُلْتَ فِيهِ حَقًّا ، فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، وَاللَّهِ لَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْه ، لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ ، لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَقُرِئَ ، فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ ، سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ , أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ يَعْنِي : الْأَكَّارَةَ , وَ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64 " , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ ، عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِينَ حَوْلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ الرُّومِ ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ ، فَلَا أَدْرِي مَاذَا قَالُوا ، وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَلَمَّا خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِي وَخَلَصْتُ لَهُمْ ، قُلْتُ لَهُمْ : أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ ذَلِيلًا مُسْتَيْقِنًا أَنَّ أَمْرَهُ سَيَظْهَرُ ، حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ قَلْبِي الْإِسْلَامَ ، وَأَنَا كَارِهٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی، اور یہ خط دے کر سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، اور انہیں یہ حکم دیا کہ یہ خط بصرہ کے گورنر تک پہنچا دینا تاکہ وہ قیصر کے پاس اس خط کو بھجوا دے، چنانچہ بصرہ کے گورنر نے وہ خط قیصر روم تک پہنچا دیا، قیصر کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایرانی لشکروں پر فتح یابی عطا فرمائی تھی اس لئے وہ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر حمص سے بیت المقدس تک پیدل سفر طے کر کے آیا ہوا تھا، اس سفر میں اس کے لئے راستے بھر قالین بچھائے گئے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قیصر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اس نے وہ خط پڑھ کر کہا کہ ان کی قوم کا کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ تاکہ میں اس سے کچھ سوالات پوچھ سکوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا (اور وہ) قریش کے چند سواروں میں (اس وقت بیٹھے ہوئے تھے) اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن کر گئے) تھے (اور یہ واقعہ) اس زمانہ میں (ہوا ہے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا۔ چنانچہ قریش ہرقل کے پاس آئے اور یہ لوگ (اس وقت) ایلیا میں تھے، تو ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سرداران روم (بیٹھے ہوئے تھے) پھر ان (سب قریشیوں کو) اس نے (اپنے قریب) بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے، جو اپنے کو نبی کہتا ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان میں سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں، (یہ سن کر) ہرقل نے کہا کہ ابوسفیان کو میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابوسفیان کے پس پشت (کھڑا) کرو، پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابوسفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بیان کرے تو تم (فورا) اس کی تکذیب کر دینا (ابوسفیان کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! اگر (مجھے) اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے، تو یقینا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہرقل نے مجھ سے پوچھا وہ یہ تھا کہ ان کا نسب تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں (بڑے) نسب والے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت) کا دعوی کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، (پھر) ہرقل نے کہا کہ بااثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ میں نے کہا: (امیروں نے نہیں بلکہ) کمزور لوگوں نے۔ (پھر) ہرقل بولا کہ آیا ان کے پیرو (دن بہ دن) بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟ میں نے کہا: (کم نہیں ہوتے بلکہ) زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان (لوگوں) میں سے (کوئی) ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے بدظن ہو کر منحرف بھی ہو جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ (کبھی) وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں، اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ اس (مہلت کے زمانہ) میں کیا کریں گے (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی)، ابوسفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے اور مجھے قابو نہیں ملا کہ میں کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں داخل کر دیتا۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے (کبھی) اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، تو (ہرقل) بولا: تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے؟ میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول (کے مثل) رہتی ہے کہ (کبھی) وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور (کبھی) ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ)۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سب چھوڑ دو، اور ہمیں نماز (پڑھنے) اور سچ بولنے اور پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں (اعلی) نسب والے ہیں، چنانچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اسی طرح (اعلی نسب) مبعوث ہوا کرتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر) تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں نے (اپنے دل میں) یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہو تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو اس کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! پس میں نے (اپنے دل میں) کہا تھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہوگا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک (اقتدار حاصل کرنا) چاہتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انہوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعوی) کہی ہے، کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، پس (اب) میں یقینا جانتا ہوں کہ (کوئی شخص) ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے جھوٹ بولنا (غلط بیانی) چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (بااثر) لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے، اور (دراصل) تمام پیغمبروں کے پیرو یہی لوگ (ہوتے رہے) ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ اور (درحقیقت) ایمان کا یہی حال (ہوتا) ہے تاوقتیکہ کمال کو پہنچ جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص بعد اس کے کہ ان کے دین میں داخل ہو جائے، ان کے دین سے ناخوش ہو کر (دین سے) پھر بھی جاتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور ایمان (کا حال) ایسا ہی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ بس جائے (تو پھر نہیں نکلتی)، اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور (بات یہ ہے کہ) اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز (پڑھنے)، سچ بولنے اور پرہیزگاری (اختیار کرنے) کا حکم دیتے ہیں۔ پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہو جائیں گے اور بےشک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے) جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں، مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام و سعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقینا میں ان کے قدموں کو دھوتا۔ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (مقدس) خط منگوایا (اور اس کو پڑھوایا) تو اس میں (یہ مضمون) تھا: ”اللہ نہایت مہربان، رحم والے کے نام سے (یہ خط ہے)، اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بادشاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد اس کے (واضح ہو کہ) میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام لاؤ گے تو (قہر الہی سے) بچ جاؤ گے اور اللہ تمہیں تمہارا ثواب دو گنا دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے) منہ پھیروگے تو بلاشبہ تم پر (تمہاری) تمام رعیت کے (ایمان نہ لانے کا) گناہ ہوگا اور ”اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یعنی یہ کہ ہم اور تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو سوائے اللہ کے پروردگار بنائے، پھر اگر اہل کتاب اس سے اعراض کریں تو تم کہہ دینا کہ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔“ ابوسفیان کہتے ہیں کہ جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکا اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے ہاں بہت ہی شور مچنے لگا، آوازیں بلند ہوئیں اور ہم لوگ (وہاں سے) نکال دیئے گئے، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا، جب کہ ہم باہر کر دیئے گئے کہ (دیکھو تو) ابوکبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا معاملہ و رتبہ ایسا بڑھ گیا کہ اس سے بنو اصفر (روم) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے۔ پس ہمیشہ میں اس کا یقین رکھتا رہا کہ وہ عنقریب غالب ہو جائیں گے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے زبردستی مشرف بہ اسلام کر دیا۔
حدیث نمبر: 2371
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَبَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2372
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ , سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ , عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَكَرَ لِي أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ , أُرَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَفَظِعْتُهُمَا ، فَكَرِهْتُهُمَا ، وَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُ : كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ " , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خواب یاد ہو تو بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں، میں گھبرا گیا اور ان سے مجھے بڑی کراہت ہوئی، مجھے حکم ہوا تو میں نے ان دونوں پر پھونک مار دی اور وہ دونوں اڑ گئے، میں اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کرتا ہوں جن کا خروج ہوگا۔“ عبیداللہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اسود عنسی تھا جسے سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ نے یمن میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔
حدیث نمبر: 2374
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَبَا حَسَنٍ ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَى أَنْتَ ؟ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ هَذَا ، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ ؟ فَإِنْ كَانَ فِينَا ، عَلِمْنَا ذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا , كَلَّمْنَاهُ ، فَأَوْصَى بِنَا , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا ، لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا ، فَوَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ واللہ! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جانبر نہ ہو سکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا، اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 2375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا ، سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ مُحَمَّد , وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حدیث نمبر 278 ایک دوسری سند سے یہاں بھی مروی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: ”مجھے جبرئیل امین علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔“
حدیث نمبر: 2376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : " أَقْبَلْتُ ، وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ ، أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ بَمنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا ، فَرَتَعَتْ ، فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان منی میں نماز پڑھا رہے تھے، میں - اس وقت قریب البلوغ تھا - ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور پہلی صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَباس بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ ، بُسِطَ لَهُ فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ ، فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ ، قَال : فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ ، قَالَ : فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ ، وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَنَهَضَ خَارِجًا ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ ، لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ ، وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ ، قَالَ : فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ ، قَالَ : ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ " , وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں جمعہ کے اگلے دن حاضر ہوا، اس وقت وہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کیونکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اس کی وصیت فرمائی تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کے لئے وہاں گدا بچھا دیا جاتا تھا اور وہ لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لئے وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ چنانچہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، میں سن رہا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا - اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے - اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی حجرے میں نماز ظہر کے لئے وضو کیا، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے بلانے آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آنے کے لئے اٹھے، ابھی اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہی تھے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھیجا ہوا گوشت اور روٹی کا ہدیہ آ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر حجرہ میں واپس چلے گئے اور ان کے سامنے وہ کھانا پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تناول فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے کسی صحابی رضی اللہ عنہم نے پانی کو چھوا تک نہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی طرح نماز پڑھا دی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری معاملات یاد تھے اور وہ اس وقت سمجھدار ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 2378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكْيرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ ، أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ " . .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے قریب پہنچتے تو اشارہ کر کے اللہ اکبر کہتے۔
حدیث نمبر: 2379
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا خَتِينٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال مبارک ہوا ہے، اس وقت تک میرے ختنے ہو چکے تھے۔
حدیث نمبر: 2380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ ، وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ ، وَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ عَقَلَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ ، وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " , قَالَ : مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , فَقَالَ : ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ ، قَالَ : " لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي ، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " , قَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " , قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ وَحْدَهُ ، لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَتْ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَم " , قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " , قَالَ : ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً : الزَّكَاةَ ، وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا ، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا يُنَاشِدُهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ ، قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ ، وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ ، ثُمَّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ , قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى : " إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ ، يَدْخُلْ الْجَنَّةَ " , قَالَ : فَأَتَى إِلَى بَعِيرِهِ ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَال : بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى , قَالُوا : مَهْ يَا ضِمَامُ ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ ، اتَّقِ الْجُنُونَ , قَالَ وَيْلَكُمْ ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ لَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وإِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ ، وَنَهَاكُمْ عَنْهُ , قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا , قَال : يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بھیجا، وہ آئے، اپنا اونٹ مسجد نبوی کے دروازے پر بٹھایا، اسے باندھا اور مسجد میں داخل ہو گئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے، ضمام ایک مضبوط آدمی تھے، ان کے سر پر بال بہت زیادہ تھے جس کی انہوں نے دو مینڈھیاں بنا رکھی تھیں، وہ چلتے ہوئے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رک گئے اور کہنے لگے کہ آپ میں سے ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہوں“، انہوں نے پوچھا: کیا آپ ہی کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔ ضمام نے کہا کہ اے ابن عبدالمطلب! میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، ہو سکتا ہے اس میں کچھ تلخی یا سختی ہو جائے اس لئے آپ برا نہ منائیے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں برا نہیں مناتا، آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں، پوچھ لیں“، ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو آپ کا اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ ہی نے آپ کو ہماری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ کا، آپ سے پہلوں کا اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ نے آپ کو ہمیں یہ حکم دینے کے لئے فرمایا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان تمام معبودوں اور شرکاء کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آبا و اجداد پوجا کرتے تھے؟ فرمایا ”ہاں!“ پھر ضمام نے مذکورہ قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ نمازیں ادا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر ضمام نے ایک ایک کر کے فرائض اسلام مثلا زکوۃ، روزہ، حج اور دیگر تمام شرائع کے بارے سوال کیا اور ہر مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ الفاظ میں قسم دیتا رہا، یہاں تک کہ جب ضمام فارغ ہوگئے تو کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا، اور جن چیزوں سے آپ نے مجھے منع کیا ہے میں ان سے بچتا رہوں گا، اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا۔ پھر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر چلے گئے، ان کے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی بات سچ کر دکھائی تو یہ جنت میں داخل ہو گا، ضمام نے یہاں سے روانہ ہوتے ہی اپنے اونٹ کی رسی ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں پہنچ گئے، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہو گئے، ضمام نے سب سے پہلی بات جو کی، وہ یہ تھی: لات اور عزی بہت بری چیزیں ہیں، لوگ کہنے لگے: ضمام! رکو، برص اور جذام سے بچو، پاگل پن سے ڈرو، (ان بتوں کو برا بھلا کہنے سے کہیں تمہیں یہ چیزیں لاحق نہ ہو جائیں)، انہوں نے فرمایا: افسوس! واللہ! یہ دونوں چیزیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی نفع، اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا ہے، اس پر اپنی کتاب نازل کر کے تمہیں ان چیزوں سے بچا لیا ہے جن میں تم پہلے مبتلا تھے، میں تو اس بات کی گواہی دے آیا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں، اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے کچھ احکامات لے کر آیا ہوں اور کچھ ایسی چیزیں جن سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں، واللہ! شام ہونے سے پہلے ان کے قبیلے کا ہر مرد اور ہر عورت اسلام قبول کر چکے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی قوم کا نمائندہ افضل نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اختصار کے ساتھ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ , هؤلاء الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ ، إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا ، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمْعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ ، سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ جَلَسُوا ، فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلوۃ الخوف اسی طرح ہوتی تھی جیسے آج کل تمہارے چوکیدار تمہارے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، البتہ ہوتا یہ تھا کہ فوج گھاٹیوں میں ہوتی تھی، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو جاتا، ہوتے وہ سب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب سجدہ کر چکتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور جو گروہ کھڑا ہوتا وہ خود سجدہ کر لیتا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو سب ہی کھڑے ہو جاتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے، تمام لوگ بھی رکوع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ میں وہ لوگ شریک ہو جاتے جو پہلی مرتبہ کھڑے ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے والے کھڑے ہو جاتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا ہوتا، تو وہ لوگ سجدہ کر لیتے جو کھڑے تھے، پھر وہ بیٹھ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو اکٹھا لے کر سلام پھیرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا ، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ " , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الطِّيبُ ، فَلَا أَدْرِي ، وَأَمَّا الْغُسْلُ ، فَنَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور اپنا سر دھویا کرو، اور خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَاً به ، مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت ایک حضرمی چادر میں اچھی طرح لپٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔
حدیث نمبر: 2385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ " يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ عليه ، يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ بارش کے دن دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو زمین کے کیچڑ سے بچنے کے لئے اپنی چادر کو زمین پر بچھا لیتے، پھر اس پر ہاتھ رکھتے۔
حدیث نمبر: 2386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ ، وَبِالْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ : قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 , حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے، اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرماتے: « ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ . . . . .﴾ [آل عمران : 64]» یہاں تک کہ اس آیت کو مکمل فرما لیتے۔
حدیث نمبر: 2387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو بني مُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ، فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ طَلَّقْتَهَا ؟ " , قَالَ : طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا , قَالَ : فَقَالَ : " فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ " , قَالَ : فَرَجَعَهَا , فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید - جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا - نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اس پر انتہائی غم ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس طرح طلاق دی تھی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں؟“ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کر سکتے ہو۔“ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا، اسی وجہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ ، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا ، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ ، وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ ، قَالُوا : يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا ، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا سورة آل عمران آية 169 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب غزوہ احد کے موقع پر تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے، اس کے پھلوں کو کھاتے اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں رہتے تھے، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی یہ عمدگی، اور آرام کے لئے ایسا بہترین ٹھکانہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ کاش! ہمارے بھائیوں کو بھی کسی طریقے سے پتہ چل جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے، تاکہ وہ بھی جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی سے منہ نہ پھیریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”تمہارا یہ پیغام ان تک میں پہنچاؤں گا“، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر سورہ آل عمران کی یہ آیات نازل فرما دیں: «﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران : 169]»۔“
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا عبد الله ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ ، فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہداء کرام باب جنت پر موجود ایک نہر کے کنارے پر سبز رنگ کے خیمے میں رہتے ہیں، جہاں صبح و شام جنت سے ان کے پاس رزق پہنچتا رہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، ثُمَّ وَجَّهَهُمْ ، وَقَالَ : " انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ " , وقال : " اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ " , يَعْنِي : النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بقیع غرقد تک پیدل چل کر گئے، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ“، اور فرمایا: ”اے اللہ! ان کی مدد فرما۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد اس سے وہ لوگ تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف بھیجا تھا۔
حدیث نمبر: 2392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ , وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوئے، اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب سیدنا ابورہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ کو بنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس رمضان کو نکلے تھے، اس لئے خود بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روزے سے تھے، جب کدید نامی جگہ پر - جو عسفان اور امج کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے - پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا، پھر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ مر الظہران پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔
حدیث نمبر: 2393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نجيج , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَمُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ وَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حدیث نمبر: 2394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : " كَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُلَبِّي , أَوْ وَهُوَ يُهِلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کفن نہ دو، اور نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، بِإِسْنَادِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی، البتہ اس میں سر کے بجائے چہرہ ڈھانپنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
…