حدیث نمبر: 2316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً ، أَوْ سَبَاهَا ، فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ ، فَقَتَلَهَا ، فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا , فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کر لیا، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2317
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى مُؤْتَةَ ، فَاسْتَعْمَلَ زَيْدًا ، فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ ، فَجَعْفَرٌ ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ ، فَابْنُ رَوَاحَةَ ، فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ ، فَجَمَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ ، فَقَالَ : " مَا خَلَّفَكَ ؟ " , قَالَ : أُجَمِّعُ مَعَكَ , قَالَ : " لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک سریہ بھیجا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر کیا، ان کے شہید ہو جانے کی صورت میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو، اور ان کے شہید ہو جانے کی صورت میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ ”آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟“ عرض کیا کہ میں نے سوچا آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جا ملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کا نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 2318
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت سے ہم بستری کرے۔“
حدیث نمبر: 2319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ ، فَقَالَ : " لَا ، وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ " , قَالُوا : فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا , قَالَ : " وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔“
حدیث نمبر: 2320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حدیث نمبر: 2321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ , فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي , قَالَ : فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17 , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ , لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: «﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [العلق : 17]» ”اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے ”زبانیہ“ پکڑ لیتے۔
حدیث نمبر: 2322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ " يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ، ثُمَّ يَقْعُدُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
حدیث نمبر: 2323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ " , قَالُوا : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعَ مِنْ جَانِب?هَا وَجْسًا ، قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا ؟ " , قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ , فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ : " قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ ، رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا " , قَالَ : فَلَقِيَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَلاَمَ ، فَرَحَّبَ بِهِ ، وَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ , قَالَ : فَقَالَ : " وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ، سَبْطٌ شَعَرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ ، أَوْ فَوْقَهُمَا " , فَقَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " , قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , قَالَ : فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى ، فَرَحَّبَ بِهِ ، وَقَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " , قَالَ : هَذَا عِيسَى , قَالَ : فَمَضَى ، فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ ، فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، قَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " , قَالَ : هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ , قَالَ : فَنَظَرَ فِي النَّارِ ، فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ ، َقَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ " , قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ , وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ ، قَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " , قَالَ : هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ , قَالَ : فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي ، ثُمَّ الْتَفَتَ , فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ ، أَحَدُهُمَا عَنِ الْيَمِينِ ، وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ ، وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ ، فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی عظیم سعادت عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ ”بلال کامیاب ہو گئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔“ بہرحال! شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: «مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْاُمِّيِّ» ، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اسی سفر معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے، اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جبرئیل یہ کون ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔
حدیث نمبر: 2325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أنا مِنْهُ ، قَالَ : ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ ، وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، فَيُقَالُ : مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں)، ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔“
حدیث نمبر: 2328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔
حدیث نمبر: 2329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ ، وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ ، وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْفَأْرَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْحَيَّةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ چیزیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کر سکتا ہے، اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔
حدیث نمبر: 2331
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ " , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2332
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ غَيْرَ ثَلَاثٍ : لَا أَدْرِي أكَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا ؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ : وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا 0 ؟ " , قَالَ حُصَيْنٌ : وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : سَمِعْتُهَا كُلَّهَا أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے تین باتیں معلوم نہیں ہیں، پہلی یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے: «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) یا «عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ تیسری بات راوی بھول گئے۔
حدیث نمبر: 2333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا ، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ ، فَيَزَْرعُوا ، فَقِيلَ لَهُ : إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا ، فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ , قَالَ : " لَا ، بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ : وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً سورة الإسراء آية 59 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ) ”اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کر لیں، اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں انتظار کر لوں گا“، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء : 59]» ”ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔“
حدیث نمبر: 2334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ ، كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ : خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ ، قَالَ : وَخَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى ، فَجَاءَهَا ، فَقَالَتْ : مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَائِبَةً , قَالَ : فَقَالَ لَهَا : " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ ، لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، سُبْحَانَ اللَّه رِضَاءَ نَفْسِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو اچھا نہ سمجھا اور ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا، اس بات کی ناپسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم برہ کے پاس سے نکل کر آ رہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے، اور وہ کلمات یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ.»“
حدیث نمبر: 2335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " يَعْنِي : أَنَّهُ يكون نَاقِصٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو تیس کا عدد پورا کرو، البتہ بعض اوقات مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ فَقَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " , قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ : وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ ، حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا ، يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضا کر سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کے زیادہ مستحق ہے۔“
حدیث نمبر: 2337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ , وَاسْتَعَطَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حدیث نمبر: 2338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ الذَّبْحِ , وَالرَّمْيِ , وَالْحَلْقِ , وَالتَّقْدِيمِ , وَالتَّأْخِير ، فَقَالَ : " لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو اس کا حکم پوچھا گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 2339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا نُتَفًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنے ہوئے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ ، نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ ، مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ أَوْ ذِرَاعٍ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ ، كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ”یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2343
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2344
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبِّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ , يَعْنِي : مِثْلَ دُعَاءِ الْكَرْبِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ ، قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ ، وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ " , وَكَانَ يَقُولُ : " لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ ، وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ» ”اے اللہ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لئے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطا فرما“، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ ”جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمکتا ہوا ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام ، رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، مَرْبُوعَ الْخَلْقِ ، فِي الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ ، سَبْطًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبےقد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔“
حدیث نمبر: 2348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً ، فَإِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَأَمَرْتُكُمْ بِهَا ، ولَيَحِلُّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ " , وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " , وَخَلَّلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ”اس احرام کو عمرے کا احرام بنا لو، کیونکہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی ہے، اگر پہلے آ جاتی تو میں تمہیں پہلے ہی اس کا حکم دے دیتا، اس لئے اب جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے حلال ہو جانا چاہئے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ نیز فرمایا: ”قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ نیز فرمایا : قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔
حدیث نمبر: 2349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَرَقَدَ ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ ، قَالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا , يَعْنِي : الرُّخْصَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور سو گئے اور آنکھ اس وقت تک نہیں کھلی جب تک سورج نہ نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ رخصت کی جو سہولت ہمیں دی گئی ہے، مجھے اس کے بدلے میں اگر دنیا و مافیہا بھی دے دی جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔
حدیث نمبر: 2350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ ، قَالَ : فَدَعَا بِإِنَاءٍ ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ أَفْطَرَ " , قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ ومَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا ، قَالَ : حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا ، قَالَ : " جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ، وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آ رہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتا دوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔“
حدیث نمبر: 2353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ " , قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ , قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہ شہر حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَاقِدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْخَيَّاطُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسلم سَمْنٌ ، وَأَقِطٌ ، وَضَبٌّ ، فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّبِّ : " إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا أَكَلْتُهُ قَطُّ ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَأْكُلَهُ فَلْيَأْكُلْه " , قَالَ : فَأَكَلَ عَلَى خِوَانِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن نا پسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا اور فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے میں نے کبھی نہیں کھایا، البتہ جو کھانا چاہتا ہے وہ کھا لے“، چنانچہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھا لیا۔
حدیث نمبر: 2355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِه ، مِنْ صُدَاعٍ كَانَ بِهِ ، أَوْ شَيْءٍ كَانَ بِهِ ، بِمَاءٍ يُقَالُ له : لَحْيُ جَمَلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بنا پر تھا۔
…