حدیث نمبر: 2276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَجَذَبَنِي فَجَرَّنِي ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وضو کیا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں قیام یکساں تھا۔
حدیث نمبر: 2277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَة ، لِابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ ! قَالَ : مَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ ؟ قَالَ : " تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عُرْوَةُ : هما كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو بہکاتے رہیں گے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ عروہ نے کہا کہ آپ ہمیں اشہر حج میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، عروہ نے کہا کہ وہ دونوں اتباع رسول میں بھی آپ سے بڑھ کر تھے اور علم میں بھی آپ سے آگے تھے۔
حدیث نمبر: 2278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ ، لِتَحُجَّ رَاكِبَةً ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی، لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔“
حدیث نمبر: 2279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ " , فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا , قَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم نے یہ کام کیا ہے، لیکن تمہارے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے گناہ معاف ہو گئے۔“
حدیث نمبر: 2281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ شَيْخٌ مِنَ النَّخَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ , قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ ، حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا : كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 , أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِأُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَلَأَقُولَنّ : أَصْحَابِي ، فَلَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَلَأَقُولَنَّ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِلَى فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 , فَيُقَالُ : إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " , قَالَ شُعْبَةُ : أَمَلَّهُ عَلَى سُفْيَانَ ، فَأَمَلَّهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ مَكَانَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ”قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کئے جاؤ گے، ارشاد ربانی ہے: «﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء : 104]» ”ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے۔“ پھر مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں، یہ آپ کے وصال اور ان سے آپ کی جدائیگی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: «﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ . . . . . فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة : 117-118]» ”میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا . . . . . بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔“ تو کہا جائے گا کہ آپ کی ان سے جدائی کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے تھے۔“
حدیث نمبر: 2282
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2283
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَال : " إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ ، تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔
حدیث نمبر: 2284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : يَعْنِي حَجَّاجًا وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، وَفِي بُرْدٍ أَحْمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 2285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهَاجَرَ ، فَوَضَعَهُمَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، ثُمَّ جَاءَتْ مِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ ، وَقَدْ نَبَعَتْ الْعَيْنُ ، فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا ، حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقِّهِ ، ثُمَّ تَأْخُذُهُ بِقَدَحِهَا ، فَتَجْعَلُهُ فِي سِقَائِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُهَا اللَّهُ ، لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ساتھ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہما السلام کو لے کر آئے اور ان دونوں کو مکہ مکرمہ میں اس جگہ چھوڑ دیا جہاں آج کل چاہ زمزم موجود ہے، اس کے بعد راوی نے ساری حدیث ذکر کی اور کہا کہ پھر حضرت ہاجرہ علیہا السلام مروہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف آئیں تو ایک چشمہ ابلتا ہوا دکھائی دیا، وہ چشمہ کے گرد اپنے ہاتھ سے چار دیواری کرنے لگیں، یہاں تک کہ پانی ایک کونے میں جمع ہو گیا، پھر انہوں نے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ اس چشمے کو یوں چھوڑ دیتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔“
حدیث نمبر: 2286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ إِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِيًّا , وَإِمَّا كَتِفًا , ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ , وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنی ہوئی دستی کا گوشت یا شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حدیث نمبر: 2287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا ، فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا ، وَلَكِنْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " , ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " , قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ , قَالَ : " فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ ، وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي " , قَالَ : فكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے عمرہ کا احرام بنا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”بعد میں جو بات میرے سامنے آئی، اگر پہلے آجاتی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے لوگوں نے کیا ہے، لیکن قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ الغرض تمام لوگوں نے احرام کھول لیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی کا جانور تھا، ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟“ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے احرام کی نیت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”کیا تمہارے پاس ہدی کا جانور ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: ”جس حالت پر ہو، اسی پر ٹھہرے رہو، میں اپنی ہدی کے ایک ثلث جانور تمہیں دیتا ہوں“، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدی کے سو اونٹ تھے۔
حدیث نمبر: 2288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ ، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا ، فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا , " فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ ، وَدَعَا , فَثَعَّ ثَعَّةً , قَالَ عَفَّانُ : فَسَأَلْتُ أَعْرَابِيًّا , فَقَالَ : بَعْضُهُ عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ وَشُفِيَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔
حدیث نمبر: 2289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " انْتَشَلَ مِنْ قِدْرٍ عَظْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہنڈیا سے نکال کر ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّام ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِم ، ْثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔“
حدیث نمبر: 2291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : مَا الْمُتَرَجِّلَاتُ مِنَ النِّسَاءِ ؟ قَالَ : الْمُتَشَبِّهَاتُ مِنَ النِّسَاء بِالرِّجَالِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، میں نے اس کا مطلب پوچھا تو فرمایا: وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 2293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ : فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں، اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حدیث نمبر: 2294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا ، وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا اردہ نہ کیا ہو، اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“
حدیث نمبر: 2295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ ، وَتَرَكْنَاهُ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَشْتَدَّانِ ، حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑ کا اپنے گدھے پر سوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے، ہم نے اسے چھوڑ دیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گھاس وغیرہ کھانے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم نہیں کی، اسی طرح بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے۔
حدیث نمبر: 2296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ ، أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى برَاحِلَتَهُ ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا ، وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء مقام پر پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حدیث نمبر: 2297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور علیم ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو ساتوں آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حدیث نمبر: 2298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَهْزٌ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَال : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ ، قَالَ عَفَّانُ : عَبْدٍ لِي , أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔“
حدیث نمبر: 2299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ ، أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا ، وَأَضُبًّا ، وَأَقِطًا ، قَالَ : " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ ، وَمِنْ الْأَقِطِ ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا " ، فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ : مَنْ قَالَ : لَوْ كَانَ حَرَامًا ؟ قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 2300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنْبَأَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا ، وَلَا ثَوْبًا " ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى : " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا ، وَلَا ثَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطا کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔
حدیث نمبر: 2302
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أُتِيتُ ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، قَالَ : فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي ، قال : فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں (23) رات تھی۔
حدیث نمبر: 2303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا ، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً " , قَالَ : وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 2304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خطبنا يعني رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ " , قَالَ : فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، فَقَالَ : أفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا ، أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا الحج مرة ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا ، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)۔
حدیث نمبر: 2306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کے میدان میں ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 2307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ : " أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ ، وَصَلَّى بِهِمْ ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَحِينَ يَسْجُدُ ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ ، فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا ، فَوَصَفَ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ ، فَقَال : " إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کرو۔
حدیث نمبر: 2309
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ : " أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ ، فَقَالُوا : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَسَأَلُوهُ ، فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 , قَالُوا : أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا ، أُوتِينَا التَّوْرَاةَ ، وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ ، فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ سورة الكهف آية 109 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی چیز بتاؤ جو ہم اس شخص سے پوچھیں، انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، چنانچہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء : 85]» ”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔“ وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تو بہت علم دیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے، اور جسے تورات دی گئی اسے بڑی خیر نصیب ہوگئی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ . . . . .﴾ [الكهف : 109]» ”اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی صفات بیان کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے . . . . . ۔“
حدیث نمبر: 2310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَسْلَمِيِّ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، أَوْ لَمَسْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہو گا، یا ہاتھ لگایا ہو گاو یا صرف دیکھا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " , وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ ، قَالَ : " آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " , وَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ ، قَالَ : " تَوْبًا تَوْبًا ، لِرَبِّنَا أَوْبًا ، لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» ”اے اللہ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پیچھے محافظ ہیں، اے اللہ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! زمین کو ہمارے لئے لپیٹ کر ہمارے لئے اس سفر کو آسان فرما دیجئے“، اور جب واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس ہو رہے ہیں“، اور جب اہل خانہ کے پاس پہنچتے تو فرماتے: «تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ”ہماری توبہ ہے، اپنے رب کی طرف رجوع ہے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔“
حدیث نمبر: 2312
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری امت میں سے کچھ گروہ قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2313
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَسْتَقْبِلُوا ، وَلَا تُحَفِّلُوا ، وَلَا يَنْفِقْ ، بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”قبلہ رخ بیٹھ کر قضاء حاجت نہ کیا کرو، جانور کے تھن باندھ کر ان میں دودھ جمع نہ کیا کرو اور ایک دوسرے کے لئے سودے بازی مت کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 2314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَال عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِه ، فَقَالَ : رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " , وَقَالَ : وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعْ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کو سچا قرار دیا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ امیہ نے یہ شعر کہا کہ وہ ایسا بہادر آدمی ہے جس کے دائیں پاؤں کے نیچے بیل اور بائیں پاؤں کے نیچے گدھ ہے اور شیر کی تاک میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اسی طرح اس نے ایک مرتبہ یہ شعر کہے کہ سورج ہر سرخ رات کے آخر میں طلوع ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح ہو رہا ہوتا ہے، وہ انکار کرتا ہے اور دوبارہ طلوع نہیں ہوتا مگر سزا یافتہ ہو کر یا کوڑے کھا کر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی اس کی تصدیق کی۔
حدیث نمبر: 2315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءٌ ، حَتَّى يَضْطَجِعَ ، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ ، اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص سجدے کی حالت میں سو جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تاآنکہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، اس لئے کہ جب وہ پہلو کے بل لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے۔“
…