حدیث نمبر: 2236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ ، حَنَّ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ ، قَالَ : " لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ , لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔“
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَسَأَلُوهُ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : فَقَالُوا : فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ ! قَالَ : " خَمْشًا ، هَذِهِ شَرٌّ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا ، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ ، وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ ، وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور قریش کے کچھ نوجوان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم نے پوچھا کہ شاید آہسۃ آواز میں قرأت فرما لیتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا: خاموش! یہ تو اور بھی زیادہ برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد مامور تھے، واللہ! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا، اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں، اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔
حدیث نمبر: 2239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَحَّلَ نَاسًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِلَيْلٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسَبُهُ قَالَ : ضَعَفَتَهُمْ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " , شُعْبَةُ شَكَّ فِي ضَعَفَتَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کے کچھ افراد کو مزدلفہ کی رات جلدی روانہ کر دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 2240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، قَالَ : " هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِمْ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، ثم مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّة " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا، اور فرمایا کہ ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“
حدیث نمبر: 2241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ , وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 2242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ ، وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا ، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ چالیس برس کی عمر میں شروع ہوا، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ترسٹھ (63) برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 2244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا بِشَرَابٍ , قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، میں ایک ڈول میں زمزم لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حدیث نمبر: 2245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ أَتَى خَالَتَهُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَايَةٍ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى ، قَالَ : وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَأَدَارَنِي مِنْ خَلْفِهِ ، حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، وضو کر کے کھڑے ہو گئے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حدیث نمبر: 2246
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا ، غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، أَمْ لَا ؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ : وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا " 0 ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) «أَوْ عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟
حدیث نمبر: 2247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 2248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کے نام سے پناہ مانگے، اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے مانگے، اسے دے دو۔“
حدیث نمبر: 2249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ , وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔
حدیث نمبر: 2250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا ، وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔“
حدیث نمبر: 2251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى ، فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَهَا جَائِزَةٌ ، وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى ، فَهِيَ لِمَنْ أُرْقِبَهَا جَائِزَةٌ ، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً ، ثُمَّ عَادَ فِيهَا ، فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی چیز دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔“
حدیث نمبر: 2252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَة ، ثُمَّ ذَبَحَ ، ثُمَّ حَلَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر قربانی کی، پھر حلق کروایا۔
حدیث نمبر: 2254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا ، فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ ، ثُمَّ الزَّكَاةَ ، ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ ، ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ ، لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ , قَالَ : ثُمَّ وَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ ، يَدْخُلْ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ - جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا - جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا، پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا، پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں ان شاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ خَيْبَرَ : أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا ، مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور اس کے باغات کو نصف پر بٹائی کے لئے دے دیا۔
حدیث نمبر: 2256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہو جائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔“ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 2742 دیکھئے۔
حدیث نمبر: 2257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ تو جب رکوع سجدے میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے، میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے؟
حدیث نمبر: 2258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَرَّتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَجَاءَتَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَمَرَرْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، وَنَحْنُ عَلَى حِمَارٍ فَجِئْنَا ، فَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے، اسی طرح ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، ہم اپنے گدھے پر سوار تھے، ہم لوگ آئے اور نماز میں شامل ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ غِلْمَةِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَاحِدًا خَلْفَهُ ، وَوَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے ایک بچے کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کر لیا اور دوسرے کو اپنے آگے بٹھا لیا۔
حدیث نمبر: 2260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ يعني الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا " , قَالَ : وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً واحدة ، حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی تھیں۔
حدیث نمبر: 2263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں پر اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي : " أَيُّهَا النَّاسُ ، لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ " , قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ مِنْ رَافِعَةٍ يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى نَزَلَ جَمْعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ منادی کرنے کے لئے فرمایا کہ ”لوگو! گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 2265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " كانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَدَخَلَ الشِّعْبَ ، فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یوم عرفہ کے موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی میں داخل ہو کر وہاں اترے، پانی بہایا، وضو کیا اور سوار ہو گئے اور نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 2266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ , أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " , فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا ، وَكَانَتْ امْرَأَةً حَسْنَاءَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس دوران سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔
حدیث نمبر: 2267
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ ، قَالَ : كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِه ، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ ؟ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ , قَالَ : " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے - ایک یہودی کا گزر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھا لے گا اور اس نے شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر؟ اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الأنعام : 91]» ”ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر دانی کرنے کا حق تھا۔“
حدیث نمبر: 2268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ ، قَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " , قَالَ : فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ ، قَالَ : فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ ، وَأَمَرَ بِلَالًا , فَقَالَ : " نَادِ فِي النَّاسِ ، الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ میرے پاس لے آؤ“، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آ کر لے جائیں۔“
حدیث نمبر: 2269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ ، حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، وَبَدَتْ النُّجُومُ ، وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ الصلاة ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، فقَالَ : أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ ؟ " شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَوَجَدْتُ فِي نَفَسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَوَافَقَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی بھی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کر دیا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غصہ آ گیا اور وہ فرمانے لگے: کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے، راوی حدیث عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے متلعق کچھ خلجان سا پیدا ہوا، چنانچہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی اس کی موافقت کی۔
حدیث نمبر: 2270
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَوْ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَم إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ ، مَسَحَ ظَهْرَهُ ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ مِنْ ذارئ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ , قَالَ : أَيْ رَبِّ ، كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ عَامًا , قَالَ : رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ , قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ , وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ ، فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا ، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ ، وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ ، قَالَ : إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ عَامًا , فَقِيلَ : إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ , قَالَ : مَا فَعَلْتُ , وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیات تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: ”یہ آپ کے بیٹے داؤد ہیں“، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ”ساٹھ سال“، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ ”یہ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں“، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا، اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔“
حدیث نمبر: 2271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ ، وَلَا رَآهُمْ ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ ، قَالَ : فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ ، قَالَ : فَقَالُوا : ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا شيء حدث ، فاضربوا مشارق الأرض ومغاربها ، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ , قَالَ : فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ ، وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ ، قَالَ : فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ ، اسْتَمَعُوا لَهُ ، وَقَالُوا : هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ , قَالَ : فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا : يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ سورة الجن آية 1 - 2 ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالارادہ جنات کو قران کریم کی تلاوت نہیں سنائی تھی اور نہ ہی انہیں دیکھا تھا، اصل میں ہوا یوں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ عکاظ نامی مشہور بازار تشریف لے گئے تھے، اس وقت تک شیاطین اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ حائل ہو چکی تھی، اور ان پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے تھے، شیاطین پریشان ہو کر اپنی قوم میں واپس آئے تو قوم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹیں حائل ہو گئی ہیں اور ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے ہیں، قوم نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے، تم مشرق اور مغرب میں پھیل جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی بناء پر تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے؟ چنانچہ یہ لوگ اس کا سبب معلوم کرنے کے لئے مشرق اور مغرب میں پھیل گئے، ان میں سے جو شیاطین تہامہ کی طرف گئے تھے، واپسی میں ان کا گزر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوق عکاظ کے ارادے سے ایک باغ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان کے کانوں میں قران کریم کی آواز پڑی تو انہوں نے اسے توجہ سے سننا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ پھر جب یہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے ہماری قوم! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ . . .﴾ [الجن : 1]» گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف وحی جنات کے قول کی ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 2272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا اور فرمایا کہ ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - اور جو لوگ اس سے پیچھے رہتے ہوں، وہ وہیں سے احرام باندھ لیں گے جہاں سے وہ ابتدا کریں گے، حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہو گا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“
حدیث نمبر: 2273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حدیث نمبر: 2274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانُوا يَرَوْنَ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا ، وَيَقُولُونَ : إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ ، وَعَفَا الْأَثَرْ ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ ، حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَر ، فقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْحِلِّ ؟ قَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " , وَفِي كِتَابِهِ : لِصُبْحٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اشہر حرم میں عمرہ کرنا زمین پر ہونے والے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے، اور وہ محرم کے مہینے کو صفر کا مہینہ بھی بنا ڈالتے تھے، اور کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔ اتفاق سے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ حج کا احرام باندھ کر پہنچے تو وہ تاریخ چار ذی الحجہ کی صبح تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ”اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لیں“، لوگوں نے اسے بہت بڑی بات سمجھا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ کیسا حلال ہونا ہوا؟ فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہونا۔“
حدیث نمبر: 2275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : كَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ ، وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم کے بدلے دراہم ہوں اور غلہ مؤخر ہو۔
…