حدیث نمبر: 2197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ ، طُوَالًا ، جَعْدًا ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ ، إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ ، سَبْطَ الرَّأْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔“
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّث أَبُو الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ ، وَمَنْ رَمَاهَا ، أَوْ رَمَى وَلَدَهَا ، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ ، وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا عليه وَلَا سُكْنَى ، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ ”اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی“، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ ”اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی“، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 2200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حدیث نمبر: 2201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ " , يَعْنِي : الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْك ؟ " , قَالَ : وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي ؟ قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟“ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟“ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ ، فَأَدُسُّهُ فِي فِي فِرْعَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا۔
حدیث نمبر: 2204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔“
حدیث نمبر: 2206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ , قالا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ عَفَّانُ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ ، فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ , فَقَالَ : وَيْحَكَ ! لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَجَلْ , قَالَ : فائْتِ أَبَا بَكْرٍ ، فَاسْأَلْهُ , قَالَ : فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ : لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَر ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ " , وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلِي خَاصَّةً ، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ، فَقَال : لَا , وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ ، بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ ”شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟“ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ . . .﴾ [هود : 114]» ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں . . . ۔“ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”عمر نے سچ کہا۔“
حدیث نمبر: 2207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 2208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ : مَا أَحْفَظُهُ إِلَّا سَالِماً الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ : شَرْبَةِ عَسَلٍ ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، وَكَيَّةِ بنَارٍ ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزوں میں شفا ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کے ذریعے زخم کو داغنے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قال عبد الله بن أحمد : قال أبي , وَيَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ : أَشْعَارَهُمْ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ " ، قَالَ يَعْقُوبُ : فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ ، قَالَ إِسْحَاقُ : فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ ، فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔
حدیث نمبر: 2210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا ، أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا ، فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَ الْحَجَرَ ، فَقَالَ لَهُ عبد الله ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَلِمْ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ " , فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ , فَطَفِقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَزِيدُهُ ، كُلَّمَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الرُّكْنَيْنِ ، قَالَ لَهُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، ان کی بائیں جانب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور ان دونوں کے پیچھے میں تھا اور ان دونوں حضرات کی باتیں سن رہا تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کا استلام کرنے لگے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کونوں کا (جو اب آئیں گے) استلام نہیں کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابن عباس! مجھے چھوڑ دیجئے، کیونکہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب کسی رکن پر ہاتھ رکھتے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے برابر یہی کہتے رہے۔
حدیث نمبر: 2211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا : عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ قَابِلٍ ، وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔
حدیث نمبر: 2212
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 وَ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورة المائدة آية 45 وَ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 47 , قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى ارْتَضَوْا واصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ ، فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا ، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ ، فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ ، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَذَلَّتْ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ورَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ ، وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ ، وَهُوَ فِي الصُّلْحِ ، فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا ، فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ : أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ ، فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ : وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ ، وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ ، وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ ؟ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا ، وَفَرَقًا مِنْكُمْ ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ , فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ , مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ ، وَلَقَدْ صَدَقُوا ، مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا ، وَقَهْرًا لَهُمْ ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ : إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ ، فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ , فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الرَّسُولُ لا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 41 - 47 " , ثُمَّ قَالَ : فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ ، وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات جو نازل فرمائی ہیں: «﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة : 44-47]» ”جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں، . . . وہ ظالم ہیں، . . . وہ فاسق ہیں۔“ یہ یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے نازل ہوئی تھیں، زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر غالب آگیا تھا اور ان لوگوں میں اس فیصلے پر رضا مندی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی کہ غالب آنے والے قبیلے نے مغلوب قبیلے کے جس آدمی کو بھی قتل کیا ہوگا، اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے جس آدمی کو قتل کیا ہوگا، اس کی دیت سو وسق ہوگی، یہ لوگ اس معاہدے پر برقرار رہے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یہ دونوں گروہ ہی مغلوب ہو کر رہ گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی لشکر کشی نہ فرمائی اور نہ ان کی زمینوں کو روندا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ صلح کر لیا، اس دوران مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، اس غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے والوں کو کہلا بھیجا کہ ہمیں دیت کے سو وسق بھیجو، مغلوب قبیلے والوں نے کہا کہ کیا یہ بات کبھی ان قبیلوں میں ہو سکتی ہے جن کا دین بھی ایک ہو، نسب بھی ایک ہو اور شہر بھی ایک ہو؟ اور کسی کی دیت پوری اور کسی کی نصف ہو؟ پہلے ہم لوگ تمہیں یہ مقدار تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتے رہے، لیکن اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں، ہم تمہیں یہ دیت کسی صورت نہیں دے سکتے، قریب تھا کہ ان دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ جائے کہ یہ دونوں گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنانے پر راضی ہوگئے۔ پھر غالب قبیلے کو یاد آیا اور وہ کہنے لگا کہ واللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان کی نسبت دگنی دیت نہیں دلوائیں گے، اور یہ لوگ کہہ بھی ٹھیک رہے ہیں کہ یہ ہمارے ڈر، خوف اور تسلط کی وجہ سے ہمیں دگنی دیت دیتے رہے ہیں، اس لئے کسی ایسے آدمی کو خفیہ طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجو جو ان کی رائے سے تمہیں باخبر کر سکے، اگر وہ تمہیں وہی دیت دلواتے ہیں جو تم چاہتے ہو تو انہیں اپنا حکم بنالو اور اگر وہ نہیں دلواتے تو تم ان سے اپنا دامن بچاؤ اور انہیں اپنا ثالث مقرر نہ کرو۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خفیہ طور پر بھیجا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے معلوم کر کے اس کی مخبری کر سکیں، جب وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی ساری تفصیلات اور ان کے عزائم سے باخبر کر دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں: «﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا . . . . . وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة : 41-47]» ”اے پیغمبر! آپ کو وہ لوگ غم میں مبتلا نہ کر دیں جو کفر میں آگے بڑھتے ہیں ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے . . . . . اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے نازل ہوئی ہے اور اللہ نے اس آیت میں یہی دو گروہ مراد لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 2213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَسْتَمِعْ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ ، وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَةً ، وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا، اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔“
حدیث نمبر: 2214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدة لَهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ , قَالَ : " عَنْ أَيِّ بَالِهِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ : " إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ، ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا " , قال : قُلْتُ : كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 2215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا , وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ ، يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَق " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : قال دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ " فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ ، قَالَ : فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي , قَالَ : الْخَبِيثُ ، يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ ! وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔
حدیث نمبر: 2217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمْ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ ، وَقَالَ : " ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن شہداء کے متعلق یہ حکم دیا کہ ”ان سے لو ہے کے ہتھیار اور کھالیں اتار لی جائیں“، اور فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ انہی کپڑوں میں دفن کر دو۔“
حدیث نمبر: 2218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ سورة آل عمران آية 86 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ ، فَرَجَعَ تَائِبًا ، فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ ، وَخَلَّى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ . . . . .﴾ [آل عمران : 86]» ”اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کیا ہو . . . . . ۔“ اس کی قوم نے اسے یہ آیت پہنچا دی اور وہ توبہ کر کے واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توبہ قبول فرما لی اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 2219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ ، يَجْلُو الْبَصَرَ ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ ، إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى ، حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ يَرْمُلُ ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ " , قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكَانَتْ سُنَّةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں رمل کیا ہے، رکن یمانی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رفتار سے چلتے رہتے اور جب حجر اسود پر پہنچتے تو رمل شروع کر دیتے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے، اور یہ سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ ، مُسْتَقْبِلًا الْحُجَرَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَضَحِكَ , ثُمَّ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ ، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا رخ کر کے مسجد حرام میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیتا ہے تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ ، قَالَ : بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ ، وَخَلَّيْتُ عَنْهُ ، وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ ، حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ ، فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَفَلَا تَقُولُونَ : الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حسن عرفی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک مرتبہ یہ تذکرہ چھڑ گیا کہ کتا، گدھا اور عورت نمازی کے آگے سے گزر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر قرار دے کر اچھا نہیں کیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ میں خود ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا تو میں اس سے اتر پڑا اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی مجھے میرے فعل سے منع فرمایا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک بچی آ کر صفوں میں گھس گئی اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی اس بچی کو منع فرمایا۔ نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا، اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَنْ قَدِمَ حَاجًّا ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَدْ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ ، وَصَارَتْ عُمْرَةً ، كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص حج کے لئے آیا، بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو اس کا حج پورا ہو گیا اور عمرہ ہو گیا، اللہ کا طریقہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے۔
حدیث نمبر: 2224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا سَيْفٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ , قَالَ : فَقَالَ : " لَوْ فَعَلَ , لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا ، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ ، لَمَاتُوا ، وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کر لیتے تو مر جاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا، اور اگر وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔“
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ، وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ، ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ ، وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا ، فَقَالَ : " نَاوِلُونِي " , فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا ، وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ ، لَنَزَعْتُ مَعَكُم " , ثُمَّ خَرَجَ ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش کر کے فرمایا: ”اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔
حدیث نمبر: 2228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ " , قَالَ : فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار ہونے کی حالت میں محرم ہو کر سینگی لگوائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی وجہ سے غشی طاری ہو گئی، اسی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلََمَ " أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مَنْ الْعَبِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔
حدیث نمبر: 2229M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ : " مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ ، فَهُوَ حُرٌّ " , فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ ، فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن اعلان کر دیا کہ ”جو غلام ہمارے پاس آ جائے گا، وہ آزاد ہے“، چنانچہ کئی غلام - جن میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے - وہاں سے نکل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 2230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ ، فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ ، خَبِيثُ الدِّيَة " , فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔
حدیث نمبر: 2231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ، أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے وقت یا اس کے بعد جمرات کی رمی کی۔
حدیث نمبر: 2232
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ ، وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ (313) افراد تھے۔ جن میں چھہتر (76) مہاجرین بھی شامل تھے، غزوہ بدر میں مشرکین کو سترہ (17) رمضان بروز جمعہ ہزیمت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
حدیث نمبر: 2233
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ , وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَحْ , يُسْمَحْ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”در گزر سے کام لیا کرو، تم سے در گزر کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2234
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ ، وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا ، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا ، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کثرت سے استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے کشادگی اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ ، مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ , قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ هُمْ ؟ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُمْ ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا , وَسَأَلَهُ عَنِ الْيَتِيمِ : مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ ؟ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ ، دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ ، وَقَدْ انْقَضَى يُتْمُهُ , وَسَأَلَهُ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا , وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ : هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ ؟ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا ہے تو میں کبھی بھی اسے جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔
…