حدیث نمبر: 1838M
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ .
حدیث نمبر: 1838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔
حدیث نمبر: 1839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا ؟ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تنہا چاہے۔“
حدیث نمبر: 1840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 1841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ ، قَالَ : وَأَتَى السِّقَايَةَ ، فَقَالَ : " اسْقُونِي " ، فَقَالُوا : إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ ، وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ، " فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي ، أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حدیث نمبر: 1844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ ، رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ : " إِنَّهُ زَوْجُكِ " , فَقَالَتْ : تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ " ، قَالَ : فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خیار عتق مل گیا (اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کر لی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کے لئے کہا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ”وہ تمہارا شوہر ہے“، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں“، اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔
حدیث نمبر: 1845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟“
حدیث نمبر: 1846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔
حدیث نمبر: 1847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الطَّعَامُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 1848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ ، وَإِذَا لَمْ يَجِدْ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“
حدیث نمبر: 1849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 1850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ : " هَلُمَّ الْقُطْ لِي " , فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ ، هُنْ حَصَى الْخَذْفِ ، فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " نَعَمْ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا: ”ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ“، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ”ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔“
حدیث نمبر: 1852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَافَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔
حدیث نمبر: 1853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ ، وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 , قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ ، سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ ، فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت قرآنی: «﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110]» جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اتنی بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں، اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔
حدیث نمبر: 1854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ ، فَقَالَ : " أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ " ، قَالُوا : هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ ، فَقَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ هَابِطٌ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ " ، حَتَّى أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ، فَقَالَ : " أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ " , قَالُوا : ثَنِيَّةُ هَرْشَى ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ ، قَالَ هُشَيْمٌ : يَعْنِي لِيفً ، وَهُوَ يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر وادی ازرق پر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ یہ وادی ازرق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ٹیلے سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بآواز بلند تلبیہ کہہ رہے ہیں“، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”ثنیہ ہرشی“ نامی جگہ پر پہنچ گئے اور فرمایا کہ ”یہ کون سا ٹیلہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ثنیہ ہرشی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام کو ایک سرخ، گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، انہوں نے اون کا بنا ہوا جبہ زیب تن کر رکھا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَصْحَابُنَا مِنْهُمْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، وَقَلَّدَهَا بنَعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔
حدیث نمبر: 1856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ الْأَسْدِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ ، وَقَالَ : " إِنَّا مُحْرِمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ اسدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کی ٹانگ پیش کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ واپس لوٹا کر فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“
حدیث نمبر: 1857
(حديث مرفوع) حدثنا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ ، وَنَحْوِ ذَلِكَ فَجَعَلَ ، يَقُول : " لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 1858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو مناسک حج میں سے کسی کو مقدم کر دے اور کسی کو مؤخر؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 1859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ، فَقَالَ رَجُل : وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ : " وَلِلْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے“، ایک صاحب نے عرض کیا: قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ ”اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے۔“
حدیث نمبر: 1860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حدیث نمبر: 1861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتْ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ ، إِنْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا ، فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ ، فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " صُومِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے رکھ لو۔“
حدیث نمبر: 1862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ : " إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا ، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب اپنی سواریوں کی طرف لوٹتے ہیں یعنی سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، اس کی کیا حقیت ہے؟ فرمایا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 1863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُتَّخَذَ ذُو الرُّوحِ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ " فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی اور ایک لمبی سورت کی تلاوت فرمائی، پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر قراءت کی، پھر رکوع کر کے دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہو کر قراءت، رکوع اور دو سجدے کئے، اس طرح دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔
حدیث نمبر: 1865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : " أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ ، فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39 ، قَالَ : فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بےدخل کیا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افسوس کے ساتھ فرمانے لگے: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا، اور اناللہ پڑھنے لگے، اور فرمایا کہ یہ ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جن لوگوں سے قتال کیا گیا، انہیں اب اجازت دی جاتی ہے (کہ تلوار اٹھالیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے، اسی وقت وہ سمجھ گئے کہ اب قتال ہو کر رہے گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اذن قتال کے سلسلے میں یہ سب سے پہلی آیت ہے۔
حدیث نمبر: 1866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا ، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ ، قَال : بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ ، جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَإِنْ قُدِرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ الشَّيْطَانُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حدیث نمبر: 1868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَالنَّاسُ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ ، أَوْ قَالَ عَامَيْنِ ، وَالثَّلَاثَةَ ، فَقَالَ : " مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ ، فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔“
حدیث نمبر: 1869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِي عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ، فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : " انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " ، قَالَ عَبْدُ اللّهِ : قال أبى : وَلَمْ يَسْمَعْ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ مِنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اٹھارہ اونٹ دے کر کہیں بھیجا اور اسے جو حکم دینا تھا دے دیا، وہ آدمی چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بتائیے، اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں تربتر کر لینا، پھر اس کے سینے پر لگانا، لیکن تم یا تمہارے رفقاء میں سے کوئی اور اس کا گوشت نہ کھائے۔“
حدیث نمبر: 1870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَال : لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ , قَال : أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ ، وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا ، فَقَال : " أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ " لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا ، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر لعنت فرمائے، جو ایام حج میں سے ایک عظیم ترین دن کو پائے اور پھر اس کی زینت مٹا ڈالے، حج کی زینت تو تلبیہ ہے۔
حدیث نمبر: 1871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ , أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلَامِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ ، وَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ " ، وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ ، فَاقْتُلُوهُ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ، فَقَالَ : وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو“، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہو سکی؟)۔
حدیث نمبر: 1872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بری مثال ہمارے لئے نہیں ہے، جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 1873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورہ مبارکہ نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ مجھے اسی سال اٹھا لیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ ، الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، وَالظُّهْرِ وَالْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران مغرب اور عشاء، ظہر اور عصر کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ ، مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الأَرْضِ ، مَلْعُونٌ مَنْ كَمَهَ أَعْمَى عَنْ طَرِيقٍ ، مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“
حدیث نمبر: 1876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ ، عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ ، وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو نکاح نہیں کیا۔
…