حدیث نمبر: 1835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الزَّرَّادِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا ؟ اسْتَاكُوا ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمْ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الْوُضُوءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ لوگ حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا بات ہے، مجھے تمہارے دانت پیلے زرد دکھائی دے رہے ہیں؟ مسواک کیا کرو، اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا احساس نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کو اسی طرح فرض قرار دے دیتا جیسے وضو کو فرض قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِن بَنِي الْعَبَّاسِ ، ثُمَّ يَقُولُ " مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " ، قَالَ : فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر - جو کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان تھے - کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ ”جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا۔“ چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آ کر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے۔