حدیث نمبر: 1791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رِدْيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ ، " فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1792
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ , سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ کہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ غَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا : " عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ " وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ ، وَقَالَ رَوْحٌ , وَالبُرْسَانِيُّ : عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ ، وَقَالَا : حِينَ دَفَعُوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان اور سکون اختیار کرو۔“ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جا سکے،“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1282.
حدیث نمبر: 1795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الْكَعْبَةِ : فَسَبَّحَ ، وَكَبَّرَ ، وَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَ ، وَلَمْ ، يَرْكَعْ وَلَمْ يَسْجُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر کھڑے ہوئے اور تسبیح و تکبیر کہی، اللہ سے دعا کی اور استغفار کیا، لیکن رکوع سجدہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا : " عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ " ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحْسِّرًا ، وَهُوَ مِنْ مِنًى ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " ، وَقَالَ : لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما - جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے - سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان اور سکون اختیار کرو۔“ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جا سکے،“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1282.
حدیث نمبر: 1797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا ، وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے کسی دیہات میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات فرمائی، اس وقت ہمارے پاس ایک مؤنث کتا اور ایک مؤنث گدھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رہے لیکن نہ تو انہیں ہٹایا گیا اور نہ ہی انہیں ڈانٹ کر بھگانے کی کوشش کی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباس بن عبيد الله مجهول ولم يدرك عمه الفضل.
حدیث نمبر: 1798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى ، " فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي ، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَنْبَأَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى ، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَتَضَرَّعُ وَتَخَشَّعُ وَتَمَسْكَنُ ، ثُمَّ تُقَنِّعُ يَدَيْكَ يَقُولُ : تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ ، تَقُولُ : يَا رَبِّ ، يَا رَبِّ ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ " ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں، ہر دو رکعت پر تشہد پڑھو، خشوع و خضوع، عاجزی اور مسکینی ظاہر کرو، اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اپنے رب کے سامنے بلند کرو اور ان کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کے سامنے کر کے یا رب، یا رب کہہ کر دعا کرو۔“ جو شخص ایسا نہ کرے اس کے متعلق بڑی سخت بات فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن نافع مجهول.
حدیث نمبر: 1800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ : قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , " لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَكِبْنَا حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب ہم لوگ گھاٹی میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر وضو کیا، ہم پھر سوار ہو گئے یہاں تک کہ مزدلفہ آ پہنچے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَعَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ مَعَهُ حِينَ دَخَلَهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يُصَلِّ فِي الْكَعْبَةِ ، وَلَكِنَّهُ لَمَّا دَخَلَهَا وَقَعَ سَاجِدًا بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے میرے بھائی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، وہ ان کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز نہیں پڑھی، البتہ وہاں داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو ستونوں کے درمیان سجدہ ریز ہو گئے اور پھر بیٹھ کر دعا کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , " أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ ، قَالَ : فَأَفَاضَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، قَالَ : وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " , وَقَالَ مَرَّةً : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْإِفَاضَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَفَاضَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَهُوَ كَافٌّ بَعِيرَهُ ، قَالَ : وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِرَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرسکون انداز میں واپس ہوئے اور جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281. وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلى سيء الحفظ.
حدیث نمبر: 1803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ، قَالَ : " فَرَأَى النَّاسَ يُوضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ ، فَنَادَى لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما - جو کہ عرفہ سے واپسی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے - کہتے ہیں کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیزی سے دوڑا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر منادی نے یہ اعلان کر دیا کہ ”گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، اس لئے تم اطمینان و سکون اختیار کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى، وله طريق آخر يتقوى به.
حدیث نمبر: 1804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ , وُأُمُّ سَلَمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ مِنْ أَهْلِهِ جُنُبًا ، فَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ ، ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَئِذٍ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي ، أَخْبَرَنِي ذَلِكَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ سے قربت کے سبب اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے قبل غسل فرما لیتے اور اس دن کا روزہ رکھ لیتے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں، البتہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ روایت سنائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى ، فَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً ، وَكَانَ يُسَايِرُهُ ، قَالَ : فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا ، ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ , فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، وَأَنَا لَا أَنْتَهِي , " فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کر لے آیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتوں میں مشغول ہو گیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا، میں نے دوبارہ اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر میرے چہرے کا رخ بدل دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا لیکن میں باز نہ آتا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543 م: 1281.
حدیث نمبر: 1807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَبَّى فِي الْحَجِّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْر " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
حدیث نمبر: 1809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، وَجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح بواسطة عامر الأحول، خ: 1543، م: 1281. وفي هذا الإسناد جابر الجعفي ضعيف وكذا ابن عطاء، وهما متابعان من عامر الأحول.
حدیث نمبر: 1810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، وابن عطاء , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكَانَ يُلَبِّي يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: راجع ما قبله.
حدیث نمبر: 1811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُشَاشٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ بَنِي هَاشِمٍ : " أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَجَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”بنو ہاشم کی عورتیں اور بچے مزدلفہ سے رات ہی کو منیٰ جلدی چلے جائیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ ، أَكَانَ يُجْزِيهِ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ " ، .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سليمان بن يسار لم يدرك الفضل بن عباس، وهذا منقطع.
حدیث نمبر: 1813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقول سليمان بن يسار: «حدثنا الفضل» خطأ يقيناً من أحد الرواة ، والصواب إثبات الواسطة بينه وبين الفضل، وهو عبدالله بن عباس.
حدیث نمبر: 1814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَحْوَلِ ، وَجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، وابن عطاء , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح بواسطة عامر الأحول، خ: 1543، م: 1281. وفي هذا الإسناد جابر الجعفي وابن عطاء ضعيفان ولكنهما توبعا.
حدیث نمبر: 1815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساتھ کنکریاں ماری تھیں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابْنًا عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رِدْفُهُ ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا أَفَاضَ ، سَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ، ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ ، قَالَ الْفَضْلُ : " مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھومتی رہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا ، " فَقَامَ يُصَلِّي ، قَالَ : أُرَاهُ قَالَ : الْعَصْرَ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ لَنَا وَحِمَارٌ يَرْعَى ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا شَيْءٌ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے کسی دیہات میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات فرمائی، اس وقت ہمارے پاس ایک مؤنث کتا اور ایک مؤنث گدھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رہے اور ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف فهو معضل، محمد بن عمر بن على لم يدرك الفضل.
حدیث نمبر: 1818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى دَابَّتِهِ ، قَالَ : " فَحُجِّي عَنْ أَبِيكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف سے تم حج کر لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1335.
حدیث نمبر: 1819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يُخْبِرُ ، أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ حِينَ دَخَلَهُ ، وَلَكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے لیکن نماز نہیں پڑھی، البتہ باہر نکل کر باب کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى جَاءَ جَمْعًا ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى جَاءَ مِنًى ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے یہاں تک کہ منیٰ پہنچے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1681.
حدیث نمبر: 1821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وابن بكر ، ، قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ أخبره أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا : " عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ " ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اطمینان اور سکون اختیار کرو۔“ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جا سکے،“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682.
حدیث نمبر: 1822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ , لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ ، قَالَ : " فَحُجِّي عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف سے تم حج کر لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1853، م: 1335.
حدیث نمبر: 1823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، وَأَعْرَابِيٌّ يُسَايِرُهُ ، وَرِدْفُهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ ، قَالَ الْفَضْلُ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِي يَصْرِفُنِي عَنْهَا ، " فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کر لے آیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتوں میں مشغول ہو گیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ ، عَنْ مَسْلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَرِحَ ظَبْيٌ ، فَمَالَ فِي شِقِّهِ فَاحْتَضَنْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطَيَّرْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ أَوْ رَدَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، اچانک ہمارے قریب سے ایک ہرن گذر کر ایک سوراخ میں گھس گیا، میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے شگون لیا ہے؟ فرمایا: ”شگون تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جو گذر گئی ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن علاثة ضعيف ومسلمة الجهني مجهول ثم هو لم يدرك الفضل بن عباس.
حدیث نمبر: 1825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
حدیث نمبر: 1826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، قالَ : بَنَى يَعْلَى بْنُ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ ، فقال : أفطر , قَالَ : أَفَلَا أَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ ؟ وَأُجْزِيُهُ مِنْ يَوْمٍ آخَرَ ؟ قَالَ : أَفْطِرْ ، فَأَتَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ ، فَأَرْسَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ " قَدْ كَانَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا " ، فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ ، فَقَالَ : الْقَ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : جَارى جَارى ، فَقَالَ : أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَلْقَانِهِ بِهِ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ فَحَدَّثَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيتُ رَجَاءً ، فَقُلْتُ : حَدِيثُ يَعْلَى مَنْ حَدَّثَكَهُ ؟ قَالَ : إِيَّايَ حَدَّثَهُ .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن عقبہ نے ماہ رمضان میں شادی کی، رات اپنی بیوی کے پاس گذاری، صبح ہوئی تو وہ جنبی تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ روزہ نہ رکھو، یعلی نے کہا کہ میں آج کا روزہ رکھ کر کسی دوسرے دن کی نیت نہ کر لوں؟ فرمایا: روزہ نہ رکھو۔ پھر یعلی مروان کے پاس آئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا۔ مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو ام المومنین کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی صبح کے وقت جنبی ہوتے تھے اور ایسا ہونا احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ قاصد نے مروان کے پاس آ کر یہ بات بتا دی، مروان نے یعلی سے کہا کہ جا کر یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتانا، یعلی نے کہا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں، مروان نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ان سے مل کر انہیں یہ بات ضرور بتانا۔ چنانچہ یعلی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں یہ حدیث سنائی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہیں سنی تھی، بلکہ مجھے وہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتائی تھی، راوی کہتے ہیں کہ بعد میں میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یعلی کی یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: خود یعلی نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح.
حدیث نمبر: 1827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ " فَكَانَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " ، قَالَ رَوْحٌ : فِي الْحَجِّ ، قَالَ رَوْحٌ : يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ , كِلَاهُمَا ، قَالَ : ابْنُ مَاهَكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 1543، م: 1281، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد.
حدیث نمبر: 1828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَكَانَتْ جَارِيَةٌ خَلْفَ أَبِيهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهِي عَنْهَا ، فَلَمْ يَزَلْ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کر لے آیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتوں میں مشغول ہو گیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي عَزْرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَن الْفَضْلَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ ، " فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا " ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، أَنَّ أُسَامَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ ، " فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَهَا غَادِيَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ سے روانگی کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، آپ کی سواری صبح تک مسلسل چلتی رہی، تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے۔ امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، اور آپ کی سواری مسلسل چلتی رہی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يدرك الفضل بن عباس، وأيضاً لم يدرك أسامة، وإن أدرك أسامة لم يسمع منه.
حدیث نمبر: 1830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي الْكَعْبَةِ ، فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ ، وَدَعَا اللَّهَ ، وَاسْتَغْفَرَهُ ، وَلَمْ يَرْكَعْ وَلَمْ يَسْجُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر کھڑے ہوئے اور تسبیح و تکبیر کہی، اللہ سے دعا کی اور استغفار کیا، لیکن رکوع سجدہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.