حدیث نمبر: 1738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ ، فَقَالَ : مَهْ , لَا تَقُولُوا ذَلِكَ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ قُولُوا : " بَارَكَ اللَّهُ لَهَا فِيكَ وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے مبارک باد دیتے ہوئے کہا: اللہ آپ کے درمیان اتفاق پیدا کرے اور آپ کو بیٹے عطاء فرمائے، انہوں نے فرمایا: ٹھہرو، یہ نہ کہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے اور یہ کہنے کا حکم دیا ہے: «بَارَكَ اللّٰهُ لَهَا فِيكَ وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا» ”اللہ تم میں برکت پیدا فرمائے اور تمہیں اپنی بیوی کے لئے مبارک فرمائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند اهل البيت رضوان الله عليهم اجمعين / حدیث: 1738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن محمد بن عقيل لم يدرك جده.
حدیث نمبر: 1739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا : بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ ، فَقَالَ : لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ ، قَالُوا : فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ ؟ قَالَ : قُولُوا " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ کے درمیان اتفاق پیدا کرے اور آپ کو بیٹے عطاء فرمائے، انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! یہ نہ کہو، ہم نے ان سے پوچھا کہ اے ابویزید! پھر کیا کہیں؟ انہوں نے فرمایا: یوں کہو: اللہ تم میں برکت پیدا فرمائے اور تمہیں اپنی بیوی کے لئے مبارک فرمائے۔ ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند اهل البيت رضوان الله عليهم اجمعين / حدیث: 1739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل.