حدیث نمبر: 1730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سائل کا حق ہوتا ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر ہی سوار ہو۔“
حدیث نمبر: 1731
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : صَعِدْتُ مَعَهُ غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً ، فَلُكْتُهَا فِي فِيَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْقِهَا ، فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اس بالاخانے پر چڑھ گیا جہاں صدقہ کے اموال پڑے تھے، میں نے ایک کھجور پکڑ کر اسے اپنے منہ میں چبانا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نکال دو، کیونکہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَي ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةَ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بیکار کاموں میں کم از کم گفتگو کرے اور انہیں چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 1733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يَزْعُمُ ، عَنْ حُسَيْنٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , أو عَنْ أَحَدِهِمَا ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ جَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مُرَّ بِهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " آذَانِي رِيحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک جنازہ گذرا، لوگ کھڑے ہو گئے لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے، اور فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ تو اس لئے کھڑے ہوئے تھے کہ اس یہودی کی بدبو سے - جس کا جنازہ گذر رہا تھا - تنگ آگئے تھے۔
حدیث نمبر: 1734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ , قَالَا : أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، قَالَ عَبَّادٌ : ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ ابْنَةِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ ، فَيَذْكُرُهَا ، وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا ، قَالَ عَبَّادٌ : قَدُمَ عَهْدُهَا ، فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا ، إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا ، يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس مسلمان مرد یا عورت کو کوئی مصیبت پہنچے - خواہ اسے گذرے ہوئے کتنا ہی لمبا عرصہ ہوچکا ہو - اور جب بھی اسے وہ یاد آئے، اس پر وہ «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ» کہہ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس پر وہی ثواب عطاء فرمائیں گے جو اس مصیبت پہنچنے کے دن پر عطاء فرمایا تھا۔“
حدیث نمبر: 1735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : عَلَّمَنِي جَدِّي ، أَوْ " قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوَتْرِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات سکھائے ہیں جنہیں میں وتر میں پڑھتا ہوں، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 1736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : " فلم يصلي علي " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اصل بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“
حدیث نمبر: 1737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بیکار کاموں کو چھوڑ دے۔“