حدیث نمبر: 1519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان سے قتال کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ہے، اور کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع کلامی کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، والحديث صحيح .
حدیث نمبر: 1520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا : رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ ، حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جس نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا اور ناگوار گذرنے والے امور کو معلوم کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اس کے سوال کے نتیجے میں اس چیز کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
حدیث نمبر: 1521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، أَوْ غَيْرِهِ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ يُهِنْ قُرَيْشًا ، يُهِنْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا ، وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ مُسْلِمٌ " ، حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَوْ مُسْلِمٌ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا ، وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ ، فَلَا أُعْطِيهِ شَيْئًا ، مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال و دولت عطاء فرمایا، لیکن ان ہی میں سے ایک آدمی کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے فلاں فلاں کو تو دے دیا، لیکن فلاں شخص کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ پکا مومن بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان نہیں؟“ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں جو مجھے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، اور انہیں کچھ نہیں دیتا اس خوف اور اندیشے کی بناء پر کہ کہیں انہیں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 27، م: 150 .
حدیث نمبر: 1523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِقَتْلِ الْوَزَغِ ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ”فویسق“ رکھا ہے (جو کہ فاسق کی تصغیر ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2238.
حدیث نمبر: 1524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي ، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ : بِشَطْرِ مَالِي ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ : فَثُلُثُ مَالِي ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِم امْرَأَتِكَ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تَتَخَلَّفَ ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا ، وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ " رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مَاتَ بِمَكَّةَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. خ: 56، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ ، وَلَوْ أَحَلَّهُ لَاخْتَصَيْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت نہ دی، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس چیز کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی کم از کم اپنے آپ کو خصی کر لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5073، م: 1402 .
حدیث نمبر: 1526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي , إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے اپنی امت کے سامنے دجال کے اوصاف ضرور ذکر کئے ہیں، لیکن میں تمہارے سامنے اس کا ایک ایسا وصف بیان کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا (اور ربوبیت کا دعوی کرے گا) جبکہ اللہ کانا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن .
حدیث نمبر: 1527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنِي , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ , أَنَّ الطَّاعُونَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ رِجْزٌ أُصِيبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ، وَإِذَا كُنْتُمْ بِأَرْضٍ ، وَهُوَ بِهَا ، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں طاعون کا ذکر چھڑ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، اس لئے جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّ سَعْدًا , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ حِينَ يُصْبِحُ ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ " ، قَالَ فُلَيْحٌ : وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ " قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ يَا عَامِرُ ، انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عَامِرٌ : وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ ، وَمَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن معمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عامر بن سعد نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو - جبکہ وہ گورنر مدینہ تھے - اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صبح نہار منہ مدینہ منورہ کے دونوں اطراف میں کہیں سے بھی عجوہ کھجور کے سات دانے لے کر کھائے تو اس دن شام تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔“ راوی کا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر شام کو کھا لے تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: عامر! اچھی طرح سوچ لو کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا حدیث بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر گواہ ہوں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھ رہا، اور یہ کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5445، م: 2047 .
حدیث نمبر: 1529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ , فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا ؟ لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا نَبَا عَنْهُ ، وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عمر بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عامر مدینہ منورہ سے باہر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: بیٹا! کیا تم مجھے شورش کے کاموں کا سرغنہ بننے کے لئے کہتے ہو؟ واللہ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے ہاتھ میں تلوار پکڑا دی جائے اور میں اس سے کسی مومن کو قتل کر دوں تو وہ اس کی خبر اڑا دے، اور اگر کسی کافر کو قتل کر دوں تو وہ بھی اس پر پل پڑے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو، اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، والإسناد فيه قلب، فالذي روى القصة هو عامر بن سعد، والذي جاء إلى سعد يأمره أن يكون رأساً هو عمر بن سعد، وقد تقدم على الصواب من غير هذا الطريق برقم: 1441 .
حدیث نمبر: 1530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ لَمْ أَرَهُمَا قَبْلُ ، وَلَا بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا، جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5826، م: 2306.
حدیث نمبر: 1531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عَجِبْتُ لِلْمُسْلِمِ إِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ ، حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ ، وَإِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ ، احْتَسَبَ وَصَبَرَ ، الْمُسْلِمُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے (اور صبر و شکر دونوں اللہ کو پسند ہیں)، مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے حتی کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ أَبي وقّاص ، حدَّثَنا عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : فدَخَلْتُ عَلَى سَعْدٍ ، فَقُلْتُ حَدِيثًا حُدِّثْتُهُ عَنْكَ حِينَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ ، فَقَالَ : مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَهُ أَنَّ ابْنَهُ حَدَّثَنِيهِ فَيَغْضَبَ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ اسْتَخْلَفَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ وَجْهًا إِلَّا وَأَنَا مَعَكَ , فَقَالَ : " أَو َمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے ایک حدیث سنائی، میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے مدینہ منورہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا؟ وہ یہ سن کر غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے ان کے بیٹے کا نام لینا مناسب نہ سمجھا، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر کر کے وہاں چھوڑ دیا تو وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میری خواہش تو یہی ہے کہ آپ جہاں بھی جائیں، میں آپ کے ہمراہ رہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3706، م: 2404
حدیث نمبر: 1533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قال : حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِحَيٍّ يَمْشِي : " إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ " , إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی زندہ شخص کے حق میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”یہ زمین پر چلتا پھرتا جنتی ہے“، سوائے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: . إسناده صحيح، خ: 3812، م: 2483 .
حدیث نمبر: 1534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُونَ : كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا ، ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ تُوُفِّيَ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ ، , فَقَالَ : " أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي ؟ " , فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ , فَقَالَ : " مَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ؟ " , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَوَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ ، غَمْرٍ عَذْبٍ ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تُرَوْنَ يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ دَرَنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا، اس افضل شخص کا پہلے انتقال ہو گیا اور دوسرا بھائی اس کے بعد چالیس دن تک مزید زندہ رہا، پھر وہ بھی فوت ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ان کا تذکرہ ہوا تو لوگوں نے پہلے کے افضل ہونے کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ دوسرا بھائی نماز نہیں پڑھتا تھا؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا خبر کہ اس کی نمازوں نے اسے کہاں تک پہنچا دیا؟“ پھر فرمایا کہ ”نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے جس کا پانی میٹھا اور شیریں ہو، اور وہ تمہارے گھر کے دروازے پر بہہ رہی ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تمہارا کیا خیال ہے، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہے گا؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا وَدَمًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کا پیٹ قئی سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2258 .
حدیث نمبر: 1536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَبَلَغَنَا أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ يَرْوِي هَذَا الْحَدِيثَ ؟ فَقِيلَ : عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : وَكَانَ غَائِبًا ، فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " , قَالَ : قُلْتُ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا ہوا تھا، پیچھے سے خبر معلوم ہوئی کہ کوفہ میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس مضمون کی حدیث یہاں کون بیان کرتا ہے؟ لوگوں نے عامر بن سعد کا نام لیا، لیکن وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھے، پھر میری ملاقات ابراہیم بن سعد سے ہوئی، انہوں نے مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی قوم میں طاعون کی وباء پھیل جائے تو تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں پہلے سے موجود ہو اور وہاں طاعون کی وباء پھیل جائے تو وہاں سے نکلو مت۔“ میں نے ابراہیم سے پوچھا: کیا آپ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت خود سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قِتَالُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ ، وَسِبَابُهُ فِسْقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان سے قتال کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 1538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفُ , قَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي ، ضَعْهُ " , قَالَ : فَوَضَعْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، قُلْتُ : عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي ، قَالَ : إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي ، قَالَ : قُلْتُ : قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ ، وَلَيْسَ هُوَ لِي ، وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي ، فَهُوَ لَكَ " , قَالَ : وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ نے آج مجھے مشرکین سے بچا لیا ہے، اس لئے آپ یہ تلوار مجھے دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تلوار تمہاری ہے اور نہ میری، اس لئے اسے یہیں رکھ دو۔“ چنانچہ میں وہ تلوار رکھ کر واپس چلا گیا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار کسی ایسے شخص کو عطاء فرما دیں جسے میری طرح کی آزمائش نہ آئی ہو، اتنی دیر میں مجھے پیچھے سے ایک آدمی کی آواز آئی جو مجھے بلا رہا تھا، میں نے سوچا کہ شاید میرے بارے کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی، واقعی یہ تلوار میری نہ تھی لیکن اب مجھے بطور ہبہ کے مل گئی ہے، اس لئے میں تمہیں دیتا ہوں۔“ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: «﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ﴾ [الأنفال : 1]» اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! ”یہ لوگ آپ سے مال غنیمت کا سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَاءَتْهُ جُهَيْنَةُ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا ، حَتَّى نَأْتِيَكَ وَتُؤْمِنَّا ، فَأَوْثَقَ لَهُمْ ، فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ وَلَا نَكُونُ مِائَةً ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ إِلَى جَنْبِ جُهَيْنَةَ ، فَأَغَرْنَا عَلَيْهِمْ ، وَكَانُوا كَثِيرًا فَلَجَأْنَا إِلَى جُهَيْنَةَ ، فَمَنَعُونَا ، وَقَالُوا : لِمَ تُقَاتِلُونَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ؟ ، فَقُلْنَا إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ ، فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : مَا تَرَوْنَ ؟ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : نَأْتِي نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُهُ ، وَقَالَ قَوْمٌ : لَا ، بَلْ نُقِيمُ هَاهُنَا ، وَقُلْتُ أَنَا فِي أُنَاسٍ مَعِي : لَا ، بَلْ نَأْتِي عِيرَ قُرَيْشٍ فَنَقْتَطِعُهَا ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ ، وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ ، فَقَامَ غَضْبَانًا مُحْمَرَّ الْوَجْهِ , فَقَالَ : " أَذَهَبْتُمْ مِنْ عِنْدِي جَمِيعًا ، وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ ؟ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْفُرْقَةُ ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا لَيْسَ بِخَيْرِكُمْ أَصْبَرُكُمْ عَلَى الْجُوعِ وَالْعَطَشِ " ، فَبَعَثَ عَلَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّ فَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ أُمِّرَ فِي الْإِسْلَامِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ جہینہ کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ ہمارے درمیان آکر قیام پذیر ہو گئے ہیں اس لئے ہمیں کوئی وثیقہ لکھ دیجئے تاکہ جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ پر ہمیں اطمینان ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وثیقہ لکھوا دیا، بعد میں وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد ماہ رجب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روانہ فرمایا، ہماری تعداد سو بھی نہیں ہوگی، اور ہمیں حکم دیا کہ قبیلہ جہینہ کے پہلو میں بنو کنانہ کا ایک قبیلہ آباد ہے، اس پر حملہ کریں، ہم نے ان پر شب خون مارا لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، چنانچہ ہم نے قبیلہ جہینہ میں پناہ لی لیکن انہوں نے ہمیں پناہ دینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ تم لوگ اشہر حرم میں قتال کیوں کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ ہم ان لوگوں سے قتال کر رہے ہیں جنہوں نے ہمیں بلد حرام سے شہر حرام میں نکال کر ان کی حرمت کو ختم کیا تھا۔ پھر ہم آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کیا جائے؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل کر انہیں ساری صورت حال سے مطلع کرتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا کہ نہیں، ہم یہیں ٹھہریں گے، چند لوگوں کے ساتھ میری رائے یہ تھی کہ ہم لوگ قریش کے قافلے کی طرف چلتے ہیں اور ان پر حملہ کرتے ہیں، چنانچہ لوگ قافلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت مال غنیمت کا اصول یہ تھا کہ جس کے ہاتھ جو چیز لگ گئی، وہ اس کی ہو گئی، ہم میں سے کچھ لوگوں نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، اور فرمایا کہ ”تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے ہو کر گئے تھے، اور اب جدا جدا ہو کر آ رہے ہو، تم سے پہلے لوگوں کو اسی تفرقہ نے ہی ہلاک کیا تھا، میں تم پر ایک ایسے آدمی کو امیر مقرر کر کے بھیجوں گا جو اگرچہ تم سے زیادہ بہتر نہیں ہوگا لیکن بھوک اور پیاس کی برداشت میں تم سے زیادہ مضبوط ہوگا۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، جو اسلام میں سب سے پہلے امیر تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المجالد ضعيف وزياد بن علاقة لم يسمع من سعد .
حدیث نمبر: 1540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ لَكُمْ " , قَالَ : فَقَالَ جَابِرٌ : لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ ، حَتَّى يُفْتَتَحَ الرُّومُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جزیرہ عرب والوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں اس پر بھی فتح نصیب فرمائے گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح روم سے پہلے دجال کا خروج نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة، ليس من مسند سعد .
حدیث نمبر: 1541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لَكُمْ ، وَتَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ ، وَتَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ ، وَتَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جزیرہ عرب والوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں اس پر بھی فتح نصیب فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة .
حدیث نمبر: 1542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُكْرُونَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزُّرُوعِ ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ النَّبْتِ ، فَجَاءوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ ، وَقَالَ : " أَكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کھیتوں کے مالکان اپنے کھیت کرائے پر دے دیا کرتے تھے اور اس کا عوض یہ طے کر لیا کرتے تھے کہ نالیوں کے اوپر جو پیداوار ہو اور جسے پانی خود بخود پہنچ جائے وہ ہم لیں گے، یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا اور بعض لوگوں کا اس میں جھگڑا بھی ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرائے پر زمین لینے دینے سے منع فرما دیا، اور فرمایا: ”سونے چاندی کے بدلے زمین کو کرایہ پر لیا دیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة ضعيف ومحمد بن عكرمة مجهول .
حدیث نمبر: 1543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , وَيَعْقُوُبُ , حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ يَعْقُوبُ : ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ ، أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوک دے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے چھپا دے تاکہ وہ کسی مسلمان کے جسم یا کپڑوں کو لگ کر اس کی اذیت کا سبب نہ بن جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالَ : سُئِلَ سَعْدٌ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَكَرِهَهُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، فَقَالَ : " يَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا إِذَاً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: کیا تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ انہوں نے اس کو ناپسندیدہ سمجھا اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی شخص نے یہی سوال پوچھا تھا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟ “ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , يبَلَغَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جس نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام نہ تھی لیکن اس کے سوال کے نتیجے میں اس چیز کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
حدیث نمبر: 1546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا شَدِيدًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا ، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : أَتَصَدَّقُ بِمَالِي كله ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : قُلْتُ : الثُّلُثُ ، قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي ، قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ " يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6733، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى " ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : " غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " ، قَالَ : قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3706، م: 2404. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكنه توبع .
حدیث نمبر: 1548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي ، قَالَ : " آلْأَعَارِيبُ ؟ وَاللَّهِ مَا آلُو بِهِمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ " ، فَسَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں، میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 755، م: 453 .
حدیث نمبر: 1549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا ، مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو عمدہ آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى نهيك لا يعرف .
حدیث نمبر: 1550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ , نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ ، وَقَالَ مَرَّةً : الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ ، أَعَلِمْتُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّا لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے“؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3094، م: 1757 بدون ذكر طلحة .
حدیث نمبر: 1551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ يَحْتَدِرُهُ " ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہاڑ یا چٹان کے گڑھے کی برائی اور نقصان یہ ہے کہ قبیلہ بجیلہ کا آدمی بھی بلندی سے پستی میں جا پڑتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بكر بن قرواش مجهول، والانقطاع بين العلاء وبين أبي الطفيل .
حدیث نمبر: 1552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : سُئِلَ سَعْدٌ عَنْ بَيْعِ سُلْتٍ بِشَعِيرٍ ، أَوْ شَيْءٍ مِنْ هَذَا ، فَقَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ ، فَقَالَ : " تَنْقُصُ الرَّطْبَةُ إِذَا يَبِسَتْ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا إِذَنْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: کیا بغیر چھلکے کے جو کو عام جو کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی شخص نے تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے کا سوال پوچھا تھا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ , فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " ، قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : وَأَنَا سَمِعَهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے کہ ”جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میرے بھی کانوں نے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
حدیث نمبر: 1554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطِّيَرَةِ ، فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَ ، إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ ، فَلَا تَهْبِطُوا ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے بارے پوچھا تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور فرمایا: تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے ان صاحب کا نام لینا مناسب نہ سمجھا جنہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، بدشگونی اور مردے کی قبر سے اس کی کھوپڑی نکلنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی۔ اور جب تم کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیلنے کا سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں طاعون کی وباء پھوٹ پڑے تو وہاں سے راہ فرار مت اختیار کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد، خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ ، فَالْأَمْثَلُ ، حَتَّى يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ ذَاكَ ، فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ ، وَقَالَ مَرَّةً اشْتَدَّ بَلاَؤُه وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ ، وَقَالَ مَرَّةً : عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، قَالَ : فَمَا تَبْرَحُ الْبَلَايَا عَنِ الْعَبْدِ ، حَتَّى يَمْشِيَ فِي الْأَرْضِ يَعْنِي : وَمَا إِنْ عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ " ، قَالَ أَبِي ، وَقَالَ مَرَّةً ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے؟ فرمایا: ”انبیاء کرام علیہم السلام پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قُتِلَ أَخِي عُمَيْرٌ ، وَقَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ ، وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ ، فَأَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " اذْهَبْ ، فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَتْلِ أَخِي ، وَأَخْذِ سَلَبِي ، قَالَ : فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا يَسِيرًا ، حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میرے بھائی عمیر شہید ہو گئے اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کر دیا اور اس کی تلوار لے لی، جس کا نام «ذَا الْكَتِيفَةِ» تھا، میں وہ تلوار لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر یہ تلوار مال غنیمت میں ڈال دو۔“ مجھے اپنے بھائی کی شہادت کا جو غم تھا اور مال غنیمت کے حصول کا جو خیال تھا، اسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورہ انفال نازل ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر اپنی تلوار لے لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا الإسناد ضعيف لأن محمد بن عبيد الله لم يدرك سعداً .
حدیث نمبر: 1557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لَهُ ، فَقَالَ : " أَمَّا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ ، أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ " ، فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں، میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 755، م:453
حدیث نمبر: 1558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ کسی ناگہانی دھوکے یا برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1387 .