حدیث نمبر: 1479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ ، وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : فَبِالشَّطْرِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : فَبِالثُّلُثِ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ ، أَوْ كَثِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کی اللہ کے راستہ میں وصیت نہ کردوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ عرض کیا کہ نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ عرض کیا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں؟ فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی کی وصیت کر دو، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 56، م: 1628. وهذا إسناد ضعيف، عروة بن الزبير لم يسمع من سعد .
حدیث نمبر: 1480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهُ : " إِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ، فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے اہل خانہ پر جو کچھ بھی خرچ کرو گے، تمہیں اس پر ثواب ملے گا، حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے، تمہیں اس پر بھی ثواب ملے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 56، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ ، زِيدَ فِي بَلَائِهِ ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ، خُفِّفَ عَنْهُ ، وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے؟ فرمایا: ”انبیاء کرام علیہم السلام پر، پھر صالحین پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ سُفْيَانُ : عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ مِسْعَرٌ : عَنْ بَعْضِ آلِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ ، وَهُوَ مَرِيضٌ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ ، أَوْ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَارِثَكَ غَنِيًّا ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُ فَقِيرًا يَتَكَفَّفُ النَّاسَ ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ، فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " , قَالَ : وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ ، فَذَكَرَ سَعْدٌ الْهِجْرَةَ ، فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعُكَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ قَوْمٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا ”نہیں۔“ میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو، اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، یاد رکھو! تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائیں، تم اپنا مال جو اپنے اوپر خرچ کرتے ہو، یہ بھی صدقہ ہے، اپنے اہل و عیال پر جو خرچ کرتے ہو، یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی پر جو خرچ کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے۔“ نیز راوی کہتے ہیں کہ اس وقت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی ہی تھی، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ابن عفراء پر رحم فرمائے، ہو سکتا ہے کہ اللہ تمہیں اتنی بلندی عطاء کرے کہ ایک قوم کو تم سے فائدہ ہو اور دوسروں کو نقصان ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 56، م: 1228
حدیث نمبر: 1483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبَايَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ , أَنَّ سَعْدًا سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَدْعُو ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَإِسْتَبْرَقَهَا ، وَنَحْوًا مِنْ هَذَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا , فَقَالَ : لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ خَيْرًا كَثِيرًا ، وَتَعَوَّذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرٍّ كَثِيرٍ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ " , وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سورة الأعراف آية 55 ، وَإِنَّ بحَسْبَكَ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت، اس کی نعمتوں اور اس کے ریشمی کپڑوں اور فلاں فلاں چیز کی دعا کرتا ہوں، اور جہنم کی آگ، اس کی زنجیروں اور بیڑیوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے اللہ سے بڑی خیر مانگی اور بڑے شر سے اللہ کی پناہ چاہی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائے گی۔“ اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ”«﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [الأعراف : 55]» ”تم اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے سے پکارا کرو، بیشک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ تمہارے لئے اتنا ہی کہنا کافی ہے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ» ”اے اللہ! میں آپ سے جنت کا اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولي سعد .
حدیث نمبر: 1484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دائیں جانب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں رخسار اپنی چمک کے ساتھ نظر آتا، اور جب بائیں جانب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 582 .
حدیث نمبر: 1485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَقَال : إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " , قَالَ : فَأُوصِي بِنِصْفِهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " , قَالَ : فَأُوصِي بِثُلُثِهِ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو، اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 56، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ , وقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : كَثِيرٌ ، يَعْنِي : الثُّلُثُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام:
حدیث نمبر: 1487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ المعنى ، قَالَا : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ ، حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ ، حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہہ کر صبر کرتا ہے (اور صبر و شکر دونوں اللہ کو پسند ہیں)، مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے، حتی کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره .
حدیث نمبر: 1488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ ، يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ " , وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : فَالنِّصْفُ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، وہ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ جس علاقے سے وہ ہجرت کر چکے ہیں وہیں ان کا انتقال ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“ اور ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو، اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائیں، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں صدقہ کا ثواب ملے گا، حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تم اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تمہیں رفعتیں عطاء فرمائے اور تمہارے ذریعے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچائے اور بہت سے لوگوں (کافروں) کو نقصان۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 56، م: 1628
حدیث نمبر: 1489
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : الْحَدُوا لِي لَحْدًا ، وَانْصِبُوا عَلَيَّ كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا کہ میری قبر کو لحد کی صورت میں بنانا، اور اس پر کچی اینٹیں نصب کرنا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:966
حدیث نمبر: 1490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ ، وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ , فَقَالَ : لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي , إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي , قَالَ : فَقُلْتُ : قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , فَقَالَ سَعْدٌ : خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ؟ فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ " , قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے، انہوں نے فرمایا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، جب تمہیں پتہ ہے کہ مجھے ایک بات کا علم ہے تو تم مجھ سے بےتکلف ہو کر سوال کرو اور مت ڈرو، میں نے پوچھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے نائب کے طور پر مدینہ منورہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑا تھا تو ان سے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کر کے وہاں چھوڑ دیا تو وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑ جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! یہ کہہ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تیزی سے واپس چلے گئے، مجھے آج بھی ان کے قدموں سے اڑنے والا غبار اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3706، م: 2404 .
حدیث نمبر: 1491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " رِجْزٌ أُصِيبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ ، فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا كَانَ بِهَا وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں طاعون کا ذکر چھڑ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، اس لئے جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218. وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن سعد لم يذكر فيه جرح ولا تعديل .
حدیث نمبر: 1492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ ، إِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ ، حَتَّى يُؤْجَرَ فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی «اَلْحَمْدُ لِلّٰه» کہہ کر صبر کرتا ہے (اور صبر و شکر دونوں اللہ کو پسند ہیں)، مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے، حتی کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 1493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ ، أَيَكُونُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ غَيْرِهِ سَوَاءً ؟ قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ ، وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جو اپنی قوم میں کم حیثیت شمار ہوتا ہو، کیا اس کا اور دوسرے آدمی کا حصہ برابر ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، کیا کمزوروں کے علاوہ بھی کسی اور کے ذریعے تمہیں رزق ملتا اور تمہاری مدد ہوتی ہے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2896. وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يسمع من سعد .
حدیث نمبر: 1494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ فَقَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ رَقِيقَ الدِّينِ ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ ذَاكَ ، وَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ ذَاكَ ، قَالَ فَمَا تَزَالُ الْبَلَايَا بِالرَّجُلِ حَتَّى يَمْشِيَ فِي الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے؟ فرمایا: ”انبیاء کرام علیہم السلام پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ : جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3725، م: 2412
حدیث نمبر: 1496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عن سعد , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ فِي الْيَوْمِ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ " , قَالَوا : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " يُسَبِّحُ مِئَةَ تَسْبِيحَةٍ ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ ، وَتُمْحَى عَنْهُ أَلْفُ سَيِّئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ دن میں ایک ہزار نیکیاں کما لے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی طاقت کس میں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہہ لیا کرے، اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2698 .
حدیث نمبر: 1497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَبَا بَكْرَةَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي نَاسٍ , فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ ادَّعَى إِلَى أَبٍ غَيْرِ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ - جو اللہ کے راستہ میں سب سے پہلا تیر پھینکنے والے تھے - اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ - جو قلعہ طائف کی شہر پناہ پر چڑھنے والے تھے - دونوں سے یہ سنا ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
حدیث نمبر: 1498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : قَالَ سَعْدٌ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ ، " َمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ ، مَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الْإِسْلَامِ ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذَنْ وَضَلَّ سَعْيِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو سات میں کا ساتواں آدمی پایا ہے (جس نے اسلام قبول کیا ہو)، اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے انگور کی شاخوں اور پتوں کے کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی تھی، اور ہم میں سے ہر ایک اس طرح مینگنی کرتا تھا جیسے بکری مینگنی کرتی ہے، اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہیں ملتی تھی، اور آج بنو اسد کے لوگ مجھ ہی کو میرے اسلام پر ملامت کرتے ہیں، تب تو میں بڑے خسارے میں رہا اور میری ساری محنت برباد ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5412، م: 2966 .
حدیث نمبر: 1499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
حدیث نمبر: 1500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَعْدُ ، قُمْ فَأَذِّنْ بِمِنًى إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، وَلَا صَوْمَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایام منی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ ”ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں اس لئے ان میں روزہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن أبى حميد .
حدیث نمبر: 1501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قَال سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ : أَتَانِي يَعُودُنِي ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " أَوْصَيْتَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ , جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ , قَالَ : " لَا تَفْعَلْ " , قُلْتُ : إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ ، قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ فَالشَّطْرَ ؟ قَالَ : " لَا " , قُلْتُ الثُّلُثَ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وصیت میں ایک تہائی کی مقدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حوالے سے مقرر فرمائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس عیادت کے لئے تشریف لائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”کیا تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی! میں نے اپنا سارا مال فقراء، مساکین اور مسافروں کے نام وقف کرنے کی وصیت کر دی ہے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء غنی ہیں، بہرحال! میں دوتہائی کی وصیت کر دیتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے نصف کا ذکر کیا، فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے تہائی کا ذکر کیا، فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی صحیح ہے، اور یہ بھی زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 56، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، إِنْ يَكُ ، فَفِي الْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مرنے کے بعد مردے کی قبر سے اس کی کھوپڑی نکل آنے، بیماریوں کے متعدی ہونے، اور بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد .
حدیث نمبر: 1503
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ , وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ , فَقَالَ سَعْدٌ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي , فَقَالَ الضَّحَّاكُ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جس سال سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے، اس سال انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ضحاک بن قیس کو حج تمتع کا ذکر کرتے ہوئے سنا، ضحاک کہنے لگے کہ حج تمتع تو وہی آدمی کر سکتا ہے جو اللہ کے حکم سے نا واقف اور جاہل ہو، اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھتیجے! تم نے یہ بہت بری بات کہی، ضحاک کہنے لگے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو اس سے منع کیا ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس طرح حج کیا ہے کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کر لیا، اور ہم نے بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ سَعْدٌ وَقَالَ مَرَّةً : سَمِعْتُ سَعْدًا , يَقُولُ : سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ مَنْ ادَّعَى أَبًا غَيْرَ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " , قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے کہ ”جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میرے بھی کانوں نے سنا ہے، اور دل نے اسے محفوظ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
حدیث نمبر: 1505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ , عن سعد , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حاصل تھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3706، م: 2404 .
حدیث نمبر: 1506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " , قَالَ حَجَّاجٌ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کا پیٹ قئی سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2258 .
حدیث نمبر: 1507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , عن سعد , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کا پیٹ قئی سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 1508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الطَّاعُونِ : " إِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ، وَإِذَا كُنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ " , قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ L5699 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کے متعلق فرمایا: ”جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وباء پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218 . وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن سعد لم يذكر فيه جرح ولا تعديل .
حدیث نمبر: 1509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ : إِنَّكَ إِنْسَانٌ فِيكَ حِدَّةٌ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ , فقَالَ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ , قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ " , قَالَ : رَضِيتُ ، ثُمَّ قَالَ : بَلَى ، بَلَى .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے آپ سے پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے، کیونکہ آپ کے مزاج میں حدت ہے، انہوں نے فرمایا: کون سی حدیث؟ میں نے پوچھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے نائب کے طور پر مدینہ منورہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑا تھا تو ان سے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی؟“ انہوں نے کہا: میں خوش ہوں، پھر دو مرتبہ کہا: کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3706، م: 2404. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد .
حدیث نمبر: 1510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , ح . وَبَهْزٌ , وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ ، قَالَ بَهْزٌ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ , قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ مِنَ الْأُخْرَيَيْنِ ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عُمَرُ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ ، أَوْ ظَنِّي بِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگوں کو آپ سے ہر چیز حتی کہ نماز کے معاملے میں بھی شکایات ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 770، م: 453 .
حدیث نمبر: 1511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرُّقَيْمِ الْكِنَانِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ ، فَلَقِيَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ بِهَا ، فَقَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَتَرْكِ بَابِ عَلِيٍّ رضي الله عنه " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن رقیم کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے زمانے میں ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے، وہاں ہماری ملاقات سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دینے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة عبدالله بن الرقيم، وعبدالله بن شريك مختلف فيه .
حدیث نمبر: 1512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ ، ثُمَّ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو عمدہ آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، عبدالله بن أبى نهيك لا يعرف .
حدیث نمبر: 1513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء کی نماز کے بعد اچانک سفر سے واپس آ کر اپنے اہل خانہ کو پریشان کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، ابن شهاب لم يدرك سعداً
حدیث نمبر: 1514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَجَازَ ذَلِكَ لَهُ ، لَاخْتَصَيْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت نہ دی، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس چیز کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی کم از کم اپنے آپ کو خصی کر لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5073، م: 1402
حدیث نمبر: 1515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ؟ فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " , قَالُوا : بَلَى , فَكَرِهَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نا پسندیدہ قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، وَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِيلًا ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا : سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ہمارا گذر بنو معاویہ کی مسجد پر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل دعا فرمائی اور فراغت کے بعد فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی، ایک درخواست تو میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ درخواست قبول کر لی، دوسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ درخواست بھی قبول کر لی، اور تیسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت آپس میں نہ لڑے، لیکن اللہ نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2890
حدیث نمبر: 1517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى , قال : حَدَّثَنِي رَجُلٌ كُنْتُ أُسَمِّيهِ ، فَنَسِيتُ اسْمَهُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : كَانَتْ لِي حَاجَةٌ إِلَى أَبِي سَعْدٍ , قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ مُجَمِّعٍ , قَالَ : كَانَ لِعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أَبِيهِ حَاجَةٌ ، فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ حَاجَتِهِ كَلَامًا مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ يُوصِلُونَ ، لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، قَدْ فَرَغْتَ مِنْ كَلَامِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : مَا كُنْتَ مِنْ حَاجَتِكَ أَبْعَدَ ، وَلَا كُنْتُ فِيكَ أَزْهَدَ مِنِّي ، مُنْذُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ هَذَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ مِنَ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمر بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کوئی کام پڑ گیا، انہوں نے اپنا مقصد بیان کرنے سے پہلے ایک لمبی چوڑی تمہید باندھی جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے، جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹا! آپ اپنی بات پوری کر چکے؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: تم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ دور نہیں ہو (میں تمہاری ضرورت پوری کر دوں گا)، لیکن جب سے میں نے تم سے یہ بات سنی ہے، مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو اپنی زبان (چرب لسانی) کے بل بوتے پر کھائے گی جیسے گائے زمین سے اپنی زبان کے ذریعے کھانا کھاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وفي الإسناد الأول ضعف لجهالة الذى نسي اسمه أبو حيان يحيى بن سعيد. والسند الثاني ضعيف لانقطاعه ، مجمع لم يدرك أحداً من الصحابة .
حدیث نمبر: 1518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي , قَالَ : فَسَأَلَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ , قَالَ : ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں، میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 755، م: 453