حدیث نمبر: 1439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسِتِّ حَصَيَاتٍ ، فَقَالَ : لِيُطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ , قَالَ : فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا فَسَأَلْتُهُ ، وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ طَاوُسٍ ، فَقَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا بَلَغَهُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : رَمَيْنَا الْجِمَارَ ، أَوْ الْجَمْرَةَ فِي حَجَّتِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاكَرُ ، فَمِنَّا مَنْ قَالَ : رَمَيْتُ بِسِتٍّ ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ : رَمَيْتُ بِسَبْعٍ ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ : رَمَيْتُ بِثَمَانٍ ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ : رَمَيْتُ بِتِسْعٍ فَلَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے طاؤس سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی جمرات کی رمی کرتے ہوئے کسی جمرہ کو سات کی بجائے چھ کنکریاں مار دے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک مٹھی کے برابر گندم صدقہ کر دے، اس کے بعد میں مجاہد سے ملا تو ان سے بھی یہی سوال کیا اور طاؤس کا جواب بھی ذکر کر دیا، انہوں نے کہا کہ اللہ ان پر رحم کرے، کیا انہیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نہیں پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے جو حج کیا تھا، اس میں جمرات کی رمی کرنے کے بعد جب ہم لوگ بیٹھے اور آپس میں بات چیت ہونے لگی تو کسی نے کہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں، کسی نے سات کہا، کسی نے آٹھ اور کسی نے نو کہا، لیکن انہوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، وَهُوَ بِمَكَّةَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي , قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا " , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا ، وَلَيْسَ لِي وَارِثٌ إِلَّا ابْنَةً ، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : أَفَأُوصِي بِنِصْفِهِ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : أَفَأُوصِي بِالثُّلُثِ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّ نَفَقَتَكَ مِنْ مَالِكَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ نَفَقَتَكَ عَلَى عِيَالِكَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ نَفَقَتَكَ عَلَى أَهْلِكَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِعَيْشٍ أَوْ قَالَ : بِخَيْرٍ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں اس سر زمین میں ہی نہ مرجاؤں جہاں سے میں ہجرت کر کے جا چکا تھا، اور جیسے سعد بن خولہ کے ساتھ ہوا تھا، اس لئے آپ اللہ سے میری صحت کے لئے دعا کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! سعد کو شفاء عطاء فرما۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے بارے پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرما دیا، انہوں نے نصف کے متعلق پوچھا، تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو، اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، یاد رکھو! تم اپنا مال جو اپنے اوپر خرچ کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے، اپنے اہل و عیال پر جو خرچ کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی پر جو خرچ کرتے ہو وہ بھی صدقہ ہے، نیز یہ کہ تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 1441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ , حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ أَخَاهُ عُمَرَ انْطَلَقَ إِلَى سَعْدٍ فِي غَنَمٍ لَهُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ , قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ , فَلَمَّا أَتَاهُ , قَالَ : يَا أَبَةِ ، أَرَضِيتَ أَنْ تَكُونَ أَعْرَابِيًّا فِي غَنَمِكَ ، وَالنَّاسُ يَتَنَازَعُونَ فِي الْمُلْكِ بِالْمَدِينَةِ ؟ فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ ، وَقَالَ : اسْكُتْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَبْدَ : التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عمر مدینہ منورہ سے باہر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا (تو وہ پریشان ہوگئے کہ اللہ خیر کرے، کوئی اچھی خبر لے کر آیا ہو) اور کہنے لگے کہ اس سوار کے پاس اگر کوئی بری خبر ہے تو میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جب وہ ان کے قریب پہنچے تو کہنے لگے: اباجان! لوگ مدینہ منورہ میں حکومت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں، اور آپ دیہاتیوں کی طرح اپنی بکریوں میں مگن ہیں؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: خاموش رہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔“
حدیث نمبر: 1442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ , عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ , أَنَّ سَعْدًا , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ مِنْ بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ عَلَى الرِّيقِ ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ " , قَالَ فُلَيْحٌ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ ، حَتَّى يُصْبِحَ " , فَقَالَ عُمَرُ : انْظُرْ يَا عَامِرُ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ ، وَمَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن معمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عامر بن سعد نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو - جبکہ وہ گورنر مدینہ تھے - اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صبح نہار منہ مدینہ منورہ کے دونوں اطراف میں کہیں سے بھی عجوہ کھجور کے سات دانے لے کر کھائے تو اس دن شام تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔“ راوی کا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر شام کو کھا لے تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: عامر! اچھی طرح سوچ لو کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا حدیث بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر گواہ ہوں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھ رہا، اور یہ کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔
حدیث نمبر: 1443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ ، فَوَجَدَ غُلَامًا يَخْبِطُ شَجَرًا ، أَوْ يَقْطَعُهُ ، فَسَلَبَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْغُلَامِ ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ ، فَقَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار ہو کر وادی عقیق میں اپنے محل کی طرف جا رہے تھے، وہاں پہنچے تو ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اس سے وہ ساری لکڑیاں وغیرہ چھین لیں (جو اس نے کاٹی تھیں)، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو غلام کے مالکان ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ انہوں نے غلام سے جو کچھ لیا ہے وہ واپس کر دیں، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز مجھے عطاء فرمائی ہے، میں اسے واپس لوٹا دوں؟ اللہ کی پناہ! اور یہ کہہ کر انہوں نے وہ چیزیں واپس لوٹانے سے انکار کر دیا۔ فائدہ: اس کی وضاحت عنقریب حدیث نمبر 1460 میں آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 1444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ ، وَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَي اللَّهُ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن آدم کی سعادت ہے کہ وہ ہر معاملے میں اللہ سے استخارہ کرے، اور اس کے فیصلے پر راضی رہے، اور ابن آدم کی بد نصیبی ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ کرنا چھوڑ دے اور اللہ کے فیصلے پر ناگواری کا اظہار کرے۔“
حدیث نمبر: 1445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ , مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ : الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ ، وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ : الْمَرْأَةُ السُّوءُ ، وَالْمَسْكَنُ السُّوءُ ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں ابن آدم کی سعات مندی کی علامت ہیں اور تین چیزیں اس کی بدنصیبی کی علامت ہیں، ابن آدم کی خوش نصیبی تو یہ ہے کہ اسے نیک بیوی ملے، اچھی رہائش ملے اور عمدہ سواری ملے، جبکہ اس کی بدنصیبی یہ ہے کہ اسے بری بیوی ملے، بری رہائش ملے اور بری سواری ملے۔“
حدیث نمبر: 1446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَحَّمَنِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَيَكُونُ الْمَاشِي فِيهَا خَيْرًا مِنَ السَّاعِي " , قَالَ : وَأُرَاهُ قَالَ : " وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب فتنوں کا دور آئے گا، اس دور میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔“ اور شاید یہ بھی فرمایا کہ ”لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَخٍ لِسَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ : " أَنَا مِنْهُمْ ، وَهُمْ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے سامنے ایک مرتبہ بنو ناجیہ کا تذکرہ ہوا تو) فرمایا کہ ”میں ان سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّةٍ فِيهِ , فَقَالَ ابْنُ أَخِي سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ : قَدْ ذَكَرُوا بَنِي نَاجِيَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُمْ حَيٌّ مِنِّي " , وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ سَعْدٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے سامنے ایک مرتبہ بنو ناجیہ کا تذکرہ ہوا تو) فرمایا کہ ”میں ان سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا ، لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمََاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا سِوَارُهُ ، لَطَمَسَ ضَوؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ ، كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر جنت کی ناخن سے بھی کم کوئی چیز دنیا میں ظاہر ہو جائے تو زمین و آسمان کی چاروں سمتیں مزین ہو جائیں، اور اگر کوئی جنتی مرد دنیا میں جھانک کر دیکھ لے اور اس کا کنگن نمایاں ہو جائے تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مات کر دے جیسے سورج کی روشنی ستاروں کی روشنی کو مات کر دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1450
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : الْحَدُوا لِي لَحْدًا ، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا ، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا کہ میری قبر کو لحد کی صورت میں بنانا، اور اس پر کچی اینٹیں نصب کرنا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ , وَوَافَقَهُ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ كَمَا قَالَ الْخُزَاعِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں ذکر ہوئی۔
حدیث نمبر: 1452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ : " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کے حوالے سے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَيٍّ مِنَ النَّاسِ يَمْشِي : " إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ " , إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی زندہ انسان کے حق میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”یہ زمین پر چلتا پھرتا جنتی ہے“، سوائے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔
حدیث نمبر: 1454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , يَقُولُ : سَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " , فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : وَأَنَا سَمِعْتهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ جب زیاد کی نسبت کا مسئلہ بہت بڑھا تو ایک دن میری ملاقات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے کہ ”جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے، تو اس پر جنت حرام ہے۔“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 1455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک ڈھال کی قیمت کے برابر کوئی چیز چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَيَّامَ مِنًى إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، فَلَا صَوْمَ فِيهَا , يَعْنِي : أَيَّامَ التَّشْرِيقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایام منی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ ”ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں اس لئے ان میں روزہ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ حَرَامٌ ، قَدْ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ الْبَرَكَةَ فِيهَا بَرَكَتَيْنِ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! اہل مدینہ کو دوگنی برکتیں عطاء فرما اور ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔
حدیث نمبر: 1458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجِيءُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ " , قَالَ سَعْدٌ : وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَوَضَّأُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : هُوَ عُمَيْرٌ , قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں موجود کھانا تناول فرمایا، اس میں سے کچھ بچ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس راہداری سے ابھی ایک جنتی آدمی آئے گا جو یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہاں سے عمیر ہی آئے گا، لیکن وہاں سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا۔
حدیث نمبر: 1459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , حَدِيثًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْوُضُوءِ عَلَى الْخُفَّيْنِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کے حوالے سے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ ، وَقَالَ : " مَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَصِيدُ فِيهِ شَيْئًا ، فَلَهُ سَلَبُهُ " , فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ ثَمَنَهُ , وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ ثَمَنَهُ أَعْطَيْتُكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑ رکھا ہے جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، انہوں نے اس سے اس کے کپڑے چھین لئے، تھوڑی دیر بعد اس کے مالکان آگئے اور ان سے کپڑوں کا مطالبہ کرنے لگے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شہر مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ”جس شخص کو تم یہاں شکار کرتے ہوئے دیکھو، اس سے اس کا سامان چھین لو“، اس لئے اب میں تمہیں وہ لقمہ واپس نہیں کر سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھلایا ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 1461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ " الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھ کر اس پر کوئی اضافہ نہ کرتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق! آپ ایک رکعت وتر پڑھنے کے بعد کوئی اضافہ نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص وتر پڑھے بغیر نہ سوئے، وہ عقلمند ہے۔“
حدیث نمبر: 1462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِيه سَعْدٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ ؟ مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : لَا ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا ، إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ , قَالَ : فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : مَا فَعَلْتُ , قَالَ سَعْدٌ : قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ , فَقَالَ : بَلَى ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغَشَّى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ , قَالَ : قَالَ سَعْدٌ : فَأَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاتَّبَعْتُهُ ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ، ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ أَبُو إِسْحَاقَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " فَمَهْ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ , قَالَ : " نَعَمْ ، دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ , لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ سورة الأنبياء آية 87 , فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں میرا گذر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا، میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دو مرتبہ کہا کہ امیر المومنین! کیا اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا ہوگئی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! خیر تو ہے؟ میں نے کہا کہ میں ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گذرا تھا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیج کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، میں نے کہا: کیوں نہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی، میں نے بھی قسم کھا لی، تھوڑی دیر بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد آگیا تو انہوں نے فرمایا: ہاں! ایسا ہوا ہے، میں اللہ سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں، آپ ابھی ابھی میرے پاس سے گذرے تھے، دراصل میں اس وقت ایک بات سوچ رہا تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، اور واللہ! جب بھی مجھے وہ بات یاد آتی ہے میری آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور میرے دل پر پردہ آجاتا ہے (یعنی مجھے اپنے آپ کی خبر نہیں رہتی)۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اس کے بارے بتاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی گفتگو کی ابتداء میں ایک دعا کا ذکر چھیڑا، تھوڑی دیر کے بعد ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر لیا، یہاں تک کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلا گیا، جب مجھے اندیشہ ہوا کہ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پہنچ چکے ہوں گے، تو میں نے زور سے اپنا پاؤں زمین پر مارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: ”کون ہے؟ ابواسحاق ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکنے کے لئے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ آپ نے ہمارے سامنے ابتداء میں ایک دعا کا تذکرہ کیا تھا، بعد میں اس دیہاتی نے آ کر آپ کو اپنی طرف مشغول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! وہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، یعنی «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنْ الظَّالِمِينَ» کوئی بھی مسلمان جب بھی کسی معاملے میں ان الفاظ کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعا کرے وہ دعا ضرور قبول ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهَا , أَنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، وَعَلِيٌّ يَبْكِي ، يَقُولُ : تُخَلِّفُنِي مَعَ الْخَوَالِفِ ؟ فَقَالَ : " أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا النُّبُوَّةَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ثنیۃ الوداع تک پہنچے تو وہ رونے لگے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حاصل تھی، صرف نبوت کا فرق ہے۔“
حدیث نمبر: 1464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَا تَعْجِزُ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهَا نِصْفَ يَوْمٍ " , وَسَأَلْتُ رَاشِدًا : هَلْ بَلَغَكَ مَاذَا النِّصْفُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کر دے۔“ کسی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نصف دن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: پانچ سو سال۔
حدیث نمبر: 1465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ " فَقِيلَ لِسَعْدٍ : وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کر دے۔“ کسی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نصف دن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: پانچ سو سال۔
حدیث نمبر: 1466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا: «﴿هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ﴾ [الأنعام : 65]» ”اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج دے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی اس کی تاویل ظاہر ہونے کا وقت نہیں آیا۔“
حدیث نمبر: 1467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ خَوَافِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ ، فَبَدَتْ أَسَاوِرُهُ ، لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ , كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر جنت کی ناخن سے بھی کم کوئی چیز دنیا میں ظاہر ہو جائے تو زمین و آسمان کی چاروں سمتیں مزین ہو جائیں، اور اگر کوئی جنتی مرد دنیا میں جھانک کر دیکھ لے اور اس کا کنگن نمایاں ہو جائے تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مات کر دے جیسے سورج کی روشنی ستاروں کی روشنی کو مات کر دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔
حدیث نمبر: 1469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”دو نمازیں ایسی ہیں جن کے بعد کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے، نماز فجر، جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جائے، اور نماز عصر، جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 1470
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مُعَاذٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , وَسَعْدٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ سَعْدٌ عن إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔
حدیث نمبر: 1472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ ، عَالِيَةٌ أَصْوَاتُهُنَّ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَدَخَلَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي ، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ، ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ " ، قَالَ عُمَرُ : فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ، , ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ ، أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْنَ : نَعَمْ ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا ، إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ " , قال عبد الله : قال أَبي : وقَالَ يَعْقُوبُ L8513 : مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن) بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافہ کا مطالبہ کر رہی تھیں، اور ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو ان سب نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سنبھال لئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، جب وہ اندر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو اسی طرح ہنستا مسکراتا ہوا رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو تعجب ان عورتوں پر ہے جو پہلے میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، لیکن جیسے ہی انہوں نے تمہاری آواز سنی، جلدی سے پردہ کر لیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اپنی جان کی دشمن عورتو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کیونکہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت اور ترش ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! شیطان جب تمہیں کسی راستے سے گذرتا ہوا دیکھ لیتا ہے، تو اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , وَسَعْدٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ جَارِيَةَ , أَنَّ يُوسُفَ بْنَ الْحَكَمِ أَبَا الْحَجَّاجِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ ، أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 1474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ ، قَالَتْ : قَالَ سَعْدٌ : اشْتَكَيْتُ شَكْوًى لِي بِمَكَّةَ ، فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ مَالًا ، وَلَيْسَ لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ ، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : أَفَأُوصِي بِالنِّصْفِ ، وَأَتْرُكُ لَهَا النِّصْفَ ؟ قَالَ : " لَا " , قَالَ : أَفَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ " , ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَمَسَحَ وَجْهِي وَصَدْرِي وَبَطْنِي , وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ، وَأَتِمَّ لَهُ هِجْرَتَهُ " , فَمَا زِلْتُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ بِأَنِّي أَجِدُ بَرْدَ يَدِهِ عَلَى كَبِدِي حَتَّى السَّاعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے دو تہائی مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو، اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے (تین مرتبہ فرمایا)“، پھر اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر میرے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! سعد کو شفاء دے، اور اس کی ہجرت کو تام فرما۔“ مجھے آج تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی ٹھنڈک اپنے جگر میں محسوس ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ سَعْدًا سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ , فَقَالَ : إِنَّهُ لَذُو الْمَعَارِجِ ، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَقُولُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ» تو فرمایا کہ (جس کی پکار پر تم لبیک کہہ رہے ہو) وہ بلندیوں والا ہوگا، لیکن ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کبھی یہ لفظ نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 1476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " , قَال وَكِيعٌ : يَعْنِي : يَسْتَغْنِي بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو عمدہ آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔“ وکیع نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت خوش آوازی سے نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو، اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر سکے۔“
حدیث نمبر: 1478
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ أَخْبَرَهُ , قَالَ أَبِي : وقَالَ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ : ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ أَيْضًا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی۔
…