حدیث نمبر: 882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّي ، وَأَنَا حَدِثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ ، وَاهْدِ قَلْبَهُ ، يَا عَلِيُّ ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ " ، قَالَ : فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ ، أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کی ہے اور میں نو عمر ہوں، صحیح طرح فیصلہ نہیں کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا اور دعا کی: «اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ» ”اے اللہ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو ہدایت بخش۔“ اے علی! جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، اس طرح تمہارے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی کسی فیصلے میں اشکال پیش نہیں آیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، شريك وحنش قد توبعا
حدیث نمبر: 883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي ، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ ، لَمْ يُسَمِّهِ شَرِيكٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا ، مَنْ يَقُومُ بِهَذَا ؟ ! قَالَ : ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ ، قَالَ : فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا: «﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [الشعراء : 214]» تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا، تیس آدمی اکٹھے ہوئے اور سب نے کھایا پیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے قرضوں اور وعدوں کی تکمیل کی ضمانت کون دیتا ہے کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا، اور میرے اہل خانہ میں میرا نائب ہوگا؟“ کسی شخص نے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو سمندر تھے، آپ کی جگہ کون کھڑا ہو سکتا تھا؟ بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے بھی یہی کہا، بالآخر اپنے اہل بیت کے سامنے یہ دعوت پیش کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کام میں کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي وعباد بن عبدالله الأسدي
حدیث نمبر: 884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ ، وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے، اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك والحارث الأعور
حدیث نمبر: 885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِالنَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، شريك - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ عُفَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سواری فرماتے تھے اس کا نام عفیر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، سلمة بن الفضل مختلف فيه ، ومحمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ السَّهَ وِكَاءُ الْعَيْنِ ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آنکھ شرمگاہ کا بندھن ہے (یعنی انسان جب تک جاگ رہا ہوتا ہے اسے اپنا وضو ٹوٹنے کی خبر ہو جاتی ہے اور سوتے ہوئے کچھ پتہ نہیں چلتا)، اس لئے جو شخص سو جائے اسے چاہئے کہ بیدار ہونے کے بعد وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس بقية بن الوليد الحمصي، والوضين بن عطاء مختلف فيه. وعبدالرحمن بن عائذ حديثه عن على مرسل
حدیث نمبر: 888
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا قَتَلْتُ مَرْحَبًا جِئْتُ بِرَأْسِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر جب میں نے مرحب کو قتل کر لیا تو اس کا سر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِيهِ : لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ ، وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً لضعف يونس بن خباب، وأصل الحديث صحيح، وانظر 741
حدیث نمبر: 890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا، تو فرمایا: ”مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا، تو فرمایا: ”منی میں تو غسل واجب ہے، اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ جَدَّةٍ لَهُ وَكَانَتْ سُرِّيَّةً لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " كُنْتُ رَجُلًا نَئُومًا ، وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ ثَمَّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَاءِ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَرَخَّصَ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت نیند آتی تھی، حتی کہ جب میں مغرب کی نماز پڑھ لیتا اور کپڑے مجھ پر ہوتے تو میں وہیں سو جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دے دی (اس شرط کے ساتھ کہ نماز عشاء کے لئے آپ بیدار ہو جاتے تھے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - سيء الحفظ، وجدة ابن الأصبهاني لا تعرف
حدیث نمبر: 893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا، تو فرمایا: ”منی میں تو غسل واجب ہے، اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْبَاهِلِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ " يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی کا جانور بھیجا اور حکم دیا کہ ”ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دیں اور گوشت بھی تقسیم کر دیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن. خ: 1717، م: 1317
حدیث نمبر: 895
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : ذَكَرَ خَلَفُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَبَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا ، أَوْ أَصَابَتْنَا ، فِتْنَةٌ ، يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اور تیسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اللہ جسے چاہے گا اسے معاف فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبو إسحاق تغير بأخرة، وسماع خلف منه لايعرف قبل التغير أم بعده
حدیث نمبر: 896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا ، يُسْقَى بِهِمْ الْغَيْثُ ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمْ الْعَذَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن عبید کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جس وقت عراق میں تھے، ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہوا، لوگوں نے کہا: امیر المومنین! ان کے لئے لعنت کی بد دعا کیجئے، فرمایا: نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ابدال شام میں ہوتے ہیں، یہ کل چالیس آدمی ہوتے ہیں، جب بھی ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ بدل کر کسی دوسرے کو مقرر فرما دیتے ہیں (اور اسی وجہ سے انہیں ابدال کہا جاتا ہے)، ان کی دعا کی برکت سے بارش برستی ہے، ان ہی کی برکت سے دشمنوں پر فتح نصیب ہوتی ہے، اور اہل شام سے ان ہی کی برکت سے عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح ابن عبيد لم يدرك علياً، وحديث الباب باطل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُدْنِ ، قَالَ : " لَا تُعْطِ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے جانوروں کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1717، م: 1317، سويد بن سعيد قد توبع
حدیث نمبر: 898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جسد خاکی کو چار پائی پر لا کر رکھا گیا تو لوگوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا، ان کے لئے دعائیں کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے قبل ہی ان کی نماز جنازہ پڑھنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے آکر میرے کندھے پکڑ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے دعا رحمت کی اور انہیں مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ نے اپنے پیچھے کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے نامہ اعمال کے ساتھ مجھے اللہ سے ملنا زیادہ پسند ہو، واللہ! مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا، کیونکہ میں کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے؛ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ہیں؛ میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔“ اس لئے مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3685، م: 2389
حدیث نمبر: 899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكُنْتُ " إِذَا وَجَدْتُهُ يُصَلِّي سَبَّحَ فَدَخَلْتُ ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي أَذِنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو ”سبحان اللہ“ کہہ دیتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلِّيَانِ ؟ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ يَقُولُ وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ ”تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟“ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7347، م: 775
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ هُوَ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ أَبِي ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَلِيفَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نرم ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطاء فرما دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن فى الشواهد، عبدالله بن وهب وأبو خليفة كل منهما مقبول، وله شاهد من حديث عائشة عند مسلم برقم: 2593
حدیث نمبر: 903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَكْذَبُ الْكَاذِبِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جھوٹ سمجھتا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1066
حدیث نمبر: 905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ ، فَقَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ فَقَالَ : " لَا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا: «﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران : 97]» تو لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“ اور اسی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ .....﴾ [المائدة : 101]» ”اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں ناگوار گذریں ...... ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بالشواهد، وهذا إسناد ضعيف، عبد الأعلى الثعلبي ضعيف، وفيه انقطاع أيضاً، أبو البختري لم يسمع علياً
حدیث نمبر: 906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، قَالَ : فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا " أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے، جو مسافر کے لئے تین دن اور تین رات ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 276، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، رَفَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 276، الحجاج مدلس، وقد توبع، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 908
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کا نام بتاؤں؟ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 909
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ قَالَ : فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي ؟ قَالَ : فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ ، قَالَ : وَسَكَتَ ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، وَإِلَّا صُمَّتَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر ہمدانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر فرمایا: اگر میں چاہوں تو تمہیں تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔ تاہم وہ خاموش رہے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ میں نے راوی سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں، (اگر میں جھوٹ بولوں) تو یہ کان بہرے ہو جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ " غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَقَالَ : هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا) چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مسهر - وإن فى حديثه لين - متابع
حدیث نمبر: 911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ : بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، وقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً : يَعْنِي : بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 627
حدیث نمبر: 912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمریں تھوڑی ہوں گی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
حدیث نمبر: 913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے (اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی)، اور دو سو درہم سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، الأعمش قد توبع
حدیث نمبر: 914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا ؟ قَالَ : " وعِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : بِنْتُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا: ”وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1446
حدیث نمبر: 915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : أَفَضْتُ مَعَ أَبِي مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ " يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، تا آنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أبى يعلى والبيهقي
حدیث نمبر: 916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ قَائِمًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : تَشْرَبُ قَائِمًا ؟ ! فَقَالَ : " إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، ابن فضيل - وإن كان روي عن عطاء بعد الاختلاط - قد توبع
حدیث نمبر: 917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتیٰ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق، وأشار الدارقطني فى العلل إلى الاختلاف فى سند الحديث ومتنه. وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ " ، لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثم تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا اور) فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اس وضو میں انہوں نے ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ ، أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ ، فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَضْحَكُونَ ؟ ! لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی، وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ کا ایک پاؤں قیامت کے دن میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 921
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةِ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ امارت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی جس پر ہم عمل کرتے، بلکہ یہ تو ایک چیز تھی جو ہم نے خود سے منتخب کر لی تھی، پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر بھی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے یہاں تک کہ دین نے اپنی گردن زمین پر ڈال دی (یعنی جم گیا اور مضبوط ہو گیا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عن علي