حدیث نمبر: 842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ ، وَلَكِنْ سُنَّةٌ فَلَا تَدَعُوهُ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي : " وَقَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اس لئے تم اسے ترک نہ کیا کرو۔
حدیث نمبر: 843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ " ، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔
حدیث نمبر: 844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گودوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ غَدَاةٍ ، فَإِذَا تَنَحْنَحَ دَخَلْتُ ، وَإِذَا سَكَتَ لَمْ أَدْخُلْ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " حَدَثَ الْبَارِحَةَ أَمْرٌ ، سَمِعْتُ خَشْخَشَةً فِي الدَّارِ ، فَإِذَا أَنَا بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقُلْتُ : مَا مَنَعَكَ مِنْ دُخُولِ الْبَيْتِ ؟ فَقَالَ : فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ ، فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ تَحْتَ كُرْسِيٍّ لَنَا " ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا يَدْخُلُونَ الْبَيْتَ إِذَا كَانَ فِيهِ ثَلَاثٌ : كَلْبٌ ، أَوْ صُورَةٌ ، أَوْ جُنُبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے، اور جب وہ خاموش رہتے تو میں گھر میں داخل نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر فرمایا کہ ”آج رات عجیب واقعہ ہوا ہے، مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے حضرت جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کے اندر کیوں نہیں آ رہے؟ وہ کہنے لگے: آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آگیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آ سکتا، اور واقعی حسن کی کرسی کے نیچے کتے کا ایک پلہ موجود تھا، اور فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر ہو۔“
حدیث نمبر: 846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ ، لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حدیث نمبر: 847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا رِزَامُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " إِذَا خَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَإِذَا لَمْ تَكُنْ خاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا عارضہ لاحق رہتا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر خروج منی ہو جائے تو غسل کیا کرو جس طرح جنابت کی صورت میں کیا جاتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔“
حدیث نمبر: 848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ ، يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَقِّ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، سِيمَاهُمْ أَنَّ مِنْهُمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ ، فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ " ، إِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ ، فَبَكَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ : اطْلُبُوا ، فَطَلَبْنَا فَوَجَدْنَا الْمُخْدَجَ ، فَخَرَرْنَا سُجُودًا ، وَخَرَّ عَلِيٌّ مَعَنَا سَاجِدًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن زیادہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا اور فرمایا: دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے“، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کر دیا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کر دیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہو گئے، البتہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بات صحیح تھی۔
حدیث نمبر: 849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82 ، يَقُولُ : شُكْرَكُمْ ، أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82 ، تَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو: فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔“
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ : " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82 " قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّ إِسْرَائِيلَ رَفَعَهُ ، قَالَ : صِبْيَانٌ ، صِبْيَانٌ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ ، وَلَا مُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ ، وَلَا شَرْقَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : أَذَكَرَ عَضْبَاءَ ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ : مَا الْمُقَابَلَةُ ؟ قَالَ : يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ ، قُلْتُ : مَا الْمُدَابَرَةُ ؟ قَالَ : يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ ، قُلْتُ : مَا الشَّرْقَاءُ ؟ قَالَ : تُشَقُّ الْأُذُنُ ، قُلْتُ : مَا الْخَرْقَاءُ ؟ قَالَ : تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا، تو فرمایا: جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا، تو انہوں بتایا: وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔
حدیث نمبر: 852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ ، لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حدیث نمبر: 853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ ، وَقِرْبَةٍ ، وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : إِذْخِرٌ ، قَالَ أَبِي : وَالْخَمِيلَةُ : الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 854
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْنَا لِعَلِيٍّ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، يَعْنِي : الْمَنَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔“
حدیث نمبر: 856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَحِكَ ، وَقَالَ " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کر لیتا، پھر میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حل پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”اس میں صرف وضو ہے۔“
حدیث نمبر: 857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنا ، وَجَعْفَرٌ ، وَزَيْدٌ ، قَالَ : فَقَالَ لِزَيْدٍ : " أَنْتَ مَوْلَايَ " ، فَحَجَلَ ، قَالَ : وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : " أَنْتَ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي " ، قَالَ : فَحَجَلَ وَرَاءَ زَيْدٍ ، قَالَ : وَقَالَ لِي : " أَنْتَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْكَ " ، قَالَ : فَحَجَلْتُ وَرَاءَ جَعْفَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ”زید! آپ ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، اور علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔“ اس ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور میرا ذکر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد فرمایا۔
حدیث نمبر: 858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَكَتَمَهُ النَّاسَ ، وَلَكِن سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔“
حدیث نمبر: 859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ نُؤَمَّرُ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، تَجِدُوهُ أَمِينًا ، زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا ، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا ، لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ ، تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے اپنا امیر مقرر کریں؟ فرمایا: ”اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو انہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے - لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے - تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔“
حدیث نمبر: 860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ عَنَزَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْوَتْرِ ، ثَبَتَ وِتْرُهُ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَذِّنْ ، أَوْ ثَوِّبْ .
مولانا ظفر اقبال
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے، (لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے) انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔“ ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔
حدیث نمبر: 861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا نُوِتْرٍ ، فَثَبَتَ لَهُ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثُمَّ قَالَ : أَقِمْ يَا ابْنَ النَّوَّاحَةِ .
مولانا ظفر اقبال
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، اس وقت مؤذن نماز فجر کے لئے لوگوں کو مطلع کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔“ ابن نواحہ! اٹھ کر اقامت کہو۔
حدیث نمبر: 862
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ الْعَنَزَيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ : " كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ مُسَجًّى فِي ثَوْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گذری۔
حدیث نمبر: 863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُتَخَتَّمَ فِي ذِهِ أَوْ ذِهْ : الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ " ، وقَالَ جَابِرٌ ، يَعْنِي الْجُعَفِيَّ : هِيَ الْوُسْطَى لَا شَكَّ فِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ ، وَكَانَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ ، فَذُكِرَ ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لِمَ تُخَافِتُ ؟ " ، قَالَ : إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي ، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ ؟ " ، قَالَ : أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ ، وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ : " لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ ؟ " ، قَالَ أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَكُلُّهُ طَيِّبٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو آواز کو پست رکھتے، جبکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے تھے، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کبھی کسی سورت سے تلاوت فرماتے اور کبھی کسی سورت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ اپنی آواز کو پست کیوں رکھتے ہیں؟“ عرض کیا کہ میں جس سے مناجات کرتا ہوں اسی کو سناتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بلند آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ کبھی کسی سورت سے اور کبھی دوسری سورت سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟“ عرض کیا کہ کیا آپ نے مجھے کسی سورت میں دوسری سورت کو خلط ملط کرتے ہوئے سنا ہے؟ فرمایا: ”نہیں، سب ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔“
حدیث نمبر: 866
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ الصُّفُوفِ ، فَقَالَ : هُوَ هَذَا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ منبر اور روضہ مبارکہ کے درمیان لا کر رکھ دیا گیا، اس اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے: یہ وہی ہیں (یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا)، پھر فرمایا: اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد اس کپڑا اوڑھے ہوئے شخص کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 867
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ مُسَجًّى ثَوْبِهِ ، قَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمّ قَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يا أَبَا حَفْصٍ ، فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ ، .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے کے قریب ہی تھا، ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اسی اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: اے ابوحفص! اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد آپ کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں سردی میں بھی اس کی وجہ سے اتنا غسل کرتا تھا کہ میری کمر چھل گئی تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو، اور اگر منی خارج ہو تو غسل کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”مذی میں صرف وضو واجب ہے، اور خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے ایک آدمی سے کہا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“
حدیث نمبر: 871
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (دوران خطبہ یہ) فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ ، عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا ، وَلَا آيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالغریف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، ہاتھوں اور کہنیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو دھو کر فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر قرآن کریم کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ اس شخص کے لئے ہے جو جنبی نہ ہو، جنبی کے لئے یہ حکم نہیں ہے، اور نہ ہی وہ کسی ایک آیت کی تلاوت کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُتْبَةَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : " مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران وضو سر کا مسح کیا اور اتنا پانی ڈالا کہ قریب تھا کہ اس کے قطرے ٹپکنا شروع ہو جاتے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 874
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ ، حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حدیث نمبر: 875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہی ہے کہ ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر اور ناف کے نیچے رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ أَدَخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَرَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى ، ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ اغْتَرَفَ هُنَيَّةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا، چنانچہ سب سے پہلے ایک لڑکے نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو صاف کیا، پھر انہیں برتن میں ڈالا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ، أَوْتِرُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 878
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أخبرنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر ایک اور آدمی ہے۔
حدیث نمبر: 879
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وعَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ وعَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 880
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِالثَّالِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ " يُسَوِّيَ الْقُبُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور انہیں یہ حکم دیا کہ تمام قبروں کو برابر کر دیں۔
…