حدیث نمبر: 802
(حديث مرفوع) حدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَرَضٍ أَصَابَهُ ، ثَقُلَ مِنْهُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ فِي مَنْزِلِكَ هَذَا ، لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ ، يَعْنِي : لِحْيَتَهُ ، مِنْ دَمِ هَذِهِ ، يَعْنِي : هَامَتَهُ " ، فَقُتِلَ ، وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ يَوْمَ صِفِّينَ .
مولانا ظفر اقبال
فضالہ - جن کے والد سیدنا ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابہ کرام میں سے تھے - کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے گیا، وہ کچھ بیمار ہو گئے تھے اور اس سے ان کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی، میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ بیماری نے آپ کا کیا حال کر رکھا ہے؟ اگر آپ کا آخری وقت آپہنچا تو آپ کے پاس جہینہ کے دیہاتیوں کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا جو آپ کو مدینہ منورہ لے جائیں گے، اس لئے اگر آپ کا آخری وقت قریب آجائے تو آپ کے ساتھیوں کو آپ کا خیال کرنا چاہئے، اور آپ کی نماز جنازہ پڑھنی چاہئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتا رکھی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں خلیفہ نہ بن جاؤں، اس کے بعد یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں شہید ہوئے، جبکہ سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر جنگ صفین کے موقع پر شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة فضالة بن أبى فضالة
حدیث نمبر: 803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ ، اصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " ، وَإِذَا رَكَعَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعِظَامِي ، وَعَصَبِي " ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " ، وَإِذَا سَجَدَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ ، وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ، حدثنا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : بَلَغَنَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ " ، قَالَ : لَا يُتَقَرَّبُ بِالشَّرِّ إِلَيْكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اَللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ اصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، الٰہی! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا، اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں، اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر اور آپ کا خادم ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے، اور شر آپ کے قریب نہیں کر سکتا، میں آپ کا ہوں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آؤں گا، آپ کی ذات بڑی بابرکت اور برتر ہے، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں۔“ جب رکوع میں جاتے تو یوں کہتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» ”الٰہی! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرے کان اور آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔“ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد فرماتے: «لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کر دیں، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”الٰہی! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی، اس کے کان اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو بہترین خالق ہے۔“ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تو یوں فرماتے: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے، اور جو میں نے حد سے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرما دے، اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں وہ بھی معاف فرما دے، آپ ہی اول و آخر ہیں، اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. م: 771
حدیث نمبر: 804
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي " . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُصْبِحَ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ تین دن کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی کا گوشت تھوڑا سا بھی موجود ہو۔“ فائدہ: یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ السُّدِّيَّ إِسْمَاعِيلَ يَذْكُرُهُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَوَارِهِ ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، قَالَ : فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، قَالَ : فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا ، قَالَ : وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں ابوطالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ ”جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ ، يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخر زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی جس کا نام روافض ہوگا، یہ لوگ اسلام کو چھوڑ دیں گے“ (ان کے عقائد و اعمال اسلامی نہ ہوں گے گو کہ وہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوں گے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً لضعف يحيي بن المتوكل وكثير النواء
حدیث نمبر: 809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنُ ، " فَإِنَّ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو ”سبحان اللہ“ کہہ دیتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کر لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً شبه موضوع
حدیث نمبر: 811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، أخبرنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَعْيَانِي أَمْرُ الْمَذْيِ ، أَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ " ، اسْتِحْيَاءً مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، جب میں اس سے عاجز آگیا تو میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه الحجاج بن أرطاة، وهو مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح. خ: 5115، م: 1407، وهذا إسناد فيه انقطاع، عبدالله بن محمد بن على لم يدرك جده على بن أبى طالب
حدیث نمبر: 813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ : إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَيَدْخُلَنَّ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَإِنَّ حَوَارِيِّي الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا: اسے اندر آنے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَ قُدَيْدًا ، فَأُتِيَ بِالْحَجَلِ فِي الْجِفَانِ شَائِلَةً بِأَرْجُلِهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَضْفِزُ بَعِيرًا لَهُ ، فَجَاءَ وَالْخَبَطُ يَتَحَاتُّ مِنْ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ ، وَأَمْسَكَ النَّاسُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَنْ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ ؟ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ بِبَيْضَاتِ نَعَامٍ ، وَتَتْمِيرِ وَحْشٍ ، فَقَالَ : " أَطْعِمْهُنَّ أَهْلَكَ ، فَإِنَّا حُرُمٌ " ؟ قَالُوا : بَلَى ، فَتَوَرَّكَ عُثْمَانُ عَنْ سَرِيرِهِ ، وَنَزَلَ ، فَقَالَ : خَبَّثْتَ عَلَيْنَا .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قدید نامی جگہ میں پڑاؤ کیا، ان کی خدمت میں بڑی ہانڈیوں کے اندر گھوڑے کا گوشت لایا گیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے آئے لیکن انہوں نے وہ کھانا نہیں کھایا، لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ روک لئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قبیلہ اشجع کا کوئی آدمی یہاں موجود ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آدمی نے شتر مرغ کے کچھ انڈے اور ایک وحشی جانور کا خشک کیا ہوا گوشت پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اپنے گھر والوں کو کھلا دو، کیونکہ ہم محرم ہیں۔“ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ یہ دیکھ کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور کہنے لگے کہ اب اس میں ہمارے لئے بھی ناپسندیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ابن جدعان، أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم فى صحيح البخاري : 1821
حدیث نمبر: 815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا صُورَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر یا کتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ قَبْلَ الْعَتَمَةِ وَبَعْدَهَا ، يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عبد مکاتب - یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو - اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو، اتنی مقدار میں وہ دیت کا مستحق بھی ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح
حدیث نمبر: 819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ ، " بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ ، وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَرَحَيَيْنِ ، وَسِقَاءٍ ، وَجَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی، نیز دو چکیاں اور دو مٹکے بھی دئیے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أخبرنا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنْ سَبْيِ الْخُمُسِ ، فَزَنَتْ صَفِيَّةُ بِرَجُلٍ مِنَ الْخُمُسِ ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بن عفان ، فَرَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَقْضِي فِيهِمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، وَجَلَدَهُمَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یحنس اور صفیہ دونوں خمس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خمس کے ایک دوسرے آدمی سے بدکاری کی اور ایک بچے کو جنم دیا، اس زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا، اور اپنا مقدمہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، انہوں نے ان دونوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، اور وہ یہ کہ بچہ بستر والے کا ہوگا، اور بدکار کے لئے پتھر ہیں، پھر انہوں نے دونوں کو پچاس پچاس کوڑے مارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سعد ابن معبد والد الحسن وتدليس الحجاج، وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة فى البخاري : 6818، ومسلم: 1458
حدیث نمبر: 821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : كُنَّا بِمِنًى ، فَإِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ : أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَصُومُنَّ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " ، قَالَتْ : فَرَفَعْتُ أَطْنَابَ الْفُسْطَاطِ ، فَإِذَا الصَّائِحُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منی میں تھے کہ ایک آدمی کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے۔“ میں نے اپنے خیمے کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو وہ منادی کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، " سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ ، فَرَخَّصَ لَهُ في ذلك " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دینا چاہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے ادا کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الْإِنْسَانِ ، كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأْ ، وَانْضَحْ فَرْجَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر انسان کے جسم سے مذی کا خروج ہو تو وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرے اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے ڈال لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. م : 303
حدیث نمبر: 824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ : بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَشُرْبٍ ، فَلَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ " ، فَاتَّبَعَ النَّاسُ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منیٰ میں تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر بیٹھ کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ دن کھانے پینے کے ہیں، اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے۔“ چنانچہ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذِهِ الْبَقَرَةَ لِلْأَضْحَى ؟ قَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، قَالَ : الْقَرْنُ ؟ قَالَ : لَا يَضُرُّكَ ، قَالَ : الْعَرَجُ ؟ قَالَ : إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے یہ گائے قربانی کے لئے خریدی ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے، اس نے کہا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اس کے پاؤں میں لنگڑا پن ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر یہ قربان گاہ تک خود چل کر جا سکتی ہے تو کوئی حرج نہیں، پھر فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ : قَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ ، يَعْنِي : عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : فَمَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ ؟ قَالَ : قَوْلٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، قَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَأْتُونِي بِهَا " ، فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، قَالَ : وَكَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ ؟ قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا ، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا ، فَلَمْ نَجِدْ فِيهِ شَيْئًا ، فَقَالَ صَاحِبَايَ : مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا ، فَقُلْتُ : لَقَدْ عَلِمْتُمَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَلَفْتُ : وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجِي الْكِتَابَ لَأُجَرِّدَنَّكِ ، فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْ الصَّحِيفَةَ ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : " يَا حَاطِبُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، قَالَ " صَدَقْتَ ، فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : " أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ وَمَا يُدْرِيكَ ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ الْجَنَّةُ " ، فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہما - کہ ہم میں سے ہر ایک شہسوار تھا - کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا: ”تم لوگ روانہ ہو جاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، جو حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام ہوگا، تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا۔“ چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی جو اپنے اونٹ پر چلی جا رہی تھی، اس خط میں اہل مکہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی اطلاع دی گئی تھی، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا، اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ اس کے پاس تو ہمارے خیال میں کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، پھر میں نے قسم کھا کر کہا کہ یا تو تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، بات یہ ہے کہ میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ بیان کیا، ان کے متعلق اچھی بات ہی کہنا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں، اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تم جو کچھ کرتے رہو، میں تمہارے لئے جنت کو واجب کر چکا۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور وہ فرمانے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. خ: 3081، م: 2494
حدیث نمبر: 828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، أخبرنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرْهُنَّ : الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرو: (1) نماز جب اس کا وقت آجائے، (2) جنازہ جب وہ حاضر ہوجائے، (3) عورت جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن عبدالله الجهني
حدیث نمبر: 829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَارُ خَلَفٍ الْبَزَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحُمْرَةِ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى وعبدالكريم، ويشبه أن يكون نهيه عن لبس الحمراء معناه النهي عن المعصفر
حدیث نمبر: 830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے - شکار کا گوشت لایا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وثبت جواز أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم فى صحيح البخاري : 1821
حدیث نمبر: 831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمَيَاثِرِ ، وَالْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی کپڑے، سرخ زین پوش اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے اور رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى وعبد الكريم
حدیث نمبر: 832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْكُوفَةِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ . ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقُلْنَا : خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً ، سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ ، فَقُلْنَا : إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ ، فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں قرآن کریم کی کسی سورت میں شک ہو گیا، بعض اس کی آیات کی تعداد پینتیس بتاتے تھے اور بعض چھتیس۔ جب یہ بحث بڑھی تو اس کا فیصلہ کروانے کے لئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتا ہوا پایا، ہم نے اپنے آنے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ایک سورت کی قرأت کے درمیان اختلاف ہو گیا ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ ”جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، قرآن کریم کی تلاوت اسی طرح کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 833
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ ؟ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ - جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کہا کرتے تھے - سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ (ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کیوں نہیں، اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے) وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 834
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ فَقُلْتُ : أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : لَا ، " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
وہب سوائی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ یہ فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہی ہیں، انہوں نے فرمایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 835
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أخبرنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْغُدَانِيَّ الْأَشَلَّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ ، الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ : وَهْبَ الْخَيْرِ ، قَالَ : قَالَ لي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ ، قَالَ : " أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ " ، وَلَمْ يُسَمِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ - جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کہا کرتے تھے - سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ - ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں، اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے - وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا نام نہیں لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 836
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَلَوْ شِئْتُ أَخْبَرْتُكُمْ بِالثَّالِثِ لَفَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيء الحفظ، لكن للحديث طرق أخرى تقويه
حدیث نمبر: 837
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الزَّيَّاتُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ ، فَحَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، يَعْنِي : عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " ، وَقَالَ : يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ .
مولانا ظفر اقبال
عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حفاظتی گارڈز میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے بعد فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، دوسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ جہاں چاہتا ہے خیر رکھ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَرَحَيَيْنِ ، وَسِقَاءٍ ، وَجَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذَاتَ يَوْمٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى قَدْ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي ، قَالَ : وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ ، فَقَالَتْ : وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ ؟ " ، قَالَتْ : جِئْتُ لَأُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، وَاسْتَحْيَت أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتِ ؟ قَالَتْ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَأَتَيْنَاهُ جَمِيعًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي ، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى بُطُونُهُمْ ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ " ، فَرَجَعَا ، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا ، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا ، وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا ، فَثَارَا ، فَقَالَ : " مَكَانَكُمَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ؟ " ، قَالَا : بَلَى ، فَقَالَ : " كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا ، وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ فَقَالَ : قَاتَلَكُمْ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، نَعَمْ ، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کیا تو ان کے ساتھ جہیز کے طور پر روئیں دار کپڑے، چمڑے کا تکیہ جس میں گھاس بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، مشکیزہ اور دو مٹکے بھی روانہ کئے، ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ کی قسم! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے میں درد شروع ہو گیا ہے، آپ کے والد صاحب کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان سے جا کر کسی خادم کی درخواست کیجئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: واللہ! چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں بھی گٹے پڑ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، انہوں نے عرض کیا کہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے شرم آئی اور وہ واپس لوٹ آئیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہوا؟ فرمایا: مجھے تو ان سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آئی اس لئے واپس لوٹ آئی۔ اس کے بعد ہم دونوں اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے سینے میں درد شروع ہو گیا ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ چکی چلا چلا کر میرے بھی ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں، آپ کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بطور خادم کے ہمیں بھی عنایت فرما دیں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واللہ! میں اہل صفہ کو چھوڑ کر - جن کے پیٹ چپکے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے - تمہیں کوئی خادم نہیں دے سکتا، بلکہ میں انہیں بیچ کر ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔“ اس پر وہ دونوں واپس چلے آئے، رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، انہوں نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے، اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر دونوں اٹھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا اور فرمایا کہ ”ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ سبحان اللہ ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اور جب بستر پر آیا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (تمہاری ساری تھکاوٹ اور بیماری دور ہوجایا کرے گی)۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کلمات کی تعلیم دی ہے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ ابن کواء کہنے لگا کہ جنگ صفین کے موقع پر بھی نہیں؟ فرمایا: اہل عراق! اللہ تم سے سمجھے، ہاں! صفین کے موقع پر بھی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَدَ شَرَاحَةَ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَقَالَ : " أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا: میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ : رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، أَحْسِبُ ، فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا ، وَقَالَ : أَمَا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ ، فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ، لَيْسَ الْجَنَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور دو دیگر آدمی جن میں سے ایک میری قوم کا آدمی تھا اور دوسرا بنو اسد میں سے تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اپنے سامنے بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں ابھی نا سمجھ ہو، اس لئے دین کو سمجھنے کے لئے مشق کرو، پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے اور قضاء حاجت کر کے باہر نکلے تو ایک مٹھی بھر پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر پھیر لیا، اور قرآن پڑھنا شروع کر دیا، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس پر تعجب ہو رہا ہے تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی قضاء حاجت کر کے باہر نکلنے کے بعد قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیتے تھے، اور ہمارے ساتھ گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے، آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن کریم کی تلاوت سے نہیں روک سکتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي ، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ ، قَالَ : فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَافِهِ ، أَوْ اللَّهُمَّ اشْفِهِ " ، شَكَّ شُعْبَةُ ، قَالَ : فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے، اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟“ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور دعا فرمائی: «”اَللّٰهُمَّ عَافِهِ أَوْ اَللّٰهُمَّ اشْفِهِ“ شَكَّ شُعْبَةُ» ”اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن