حدیث نمبر: 762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کچھ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا: ”میری مدد رعب کے ذریعے کی گئی ہے، مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے، اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے، اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 765
(حديث مرفوع) حدثنا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفيان ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ ، فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ ، فَقَالَ : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ " ، ذَكَرَ كَلِمَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے اور ہم قریب ہی بیٹھے دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تم پر دجال سے زیادہ ایک دوسری چیز کا خطرہ ہے۔“
حدیث نمبر: 766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ ، أَوْ بَغْلَةٌ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : " بَغْلٌ ، أَوْ بَغْلَةٌ " ، قُلْتُ : وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ ؟ قَالَ : " يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ ، فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا " ، قُلْتُ : أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ”خچر ہے مذکر یا مونث“، میں نے پوچھا کہ یہ کس نسل سے ہوتا ہے؟ فرمایا: ”گھوڑی پر گدھے کو سوار کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ اس خچر کی صورت میں نکلتا ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ پھر میں بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر نہ چڑھا دوں؟ فرمایا: ”نہیں، یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔“
حدیث نمبر: 767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ إِذَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَذِنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔
حدیث نمبر: 768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَنْحَرَ بِمِنًى ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں قربان گاہ پر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ قربان گاہ ہے، اور پورا منی ہی قربان گاہ ہے۔“
حدیث نمبر: 769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سميته حربا ، فجاء رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : حَرْبًا ، قَالَ : " بَلْ هُوَ حَسَنٌ " ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : حَرْبًا ، قَالَ : " بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ " ، فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قُلْتُ : حَرْبًا ، قَالَ : " بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ : شَبَّرُ ، وَشَبِيرُ ، وَمُشَبِّرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تو تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حرب، فرمایا: ”نہیں، اس کا نام حسن ہے۔“ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھ دیا، اس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے پھر عرض کیا: حرب، فرمایا: ”نہیں، اس کا نام حسین ہے۔“ تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر ”محسن“ رکھ دیا، پھر فرمایا: ”میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں، جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔“
حدیث نمبر: 770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي : يَا عَمِّ ، يَا عَمِّ ، قَالَ : فَتَنَاوَلْتُهَا بِيَدِهَا ، فَدَفَعْتُهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَجَعْفَرٌ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فقال جعفر : ابنة عمي وخالتها عندي ، يعني : أسماء بنت عميس ، وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي ، وَقُلْتُ : أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ ، فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ ، فَمِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ ، فَأَخُونَا وَمَوْلَانَا ، وَالْجَارِيَةُ عِنْدَ خَالَتِهَا ، فَإِنَّ الْخَالَةَ وَالِدَةٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچاجان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہذا اس کی پرورش میرا حق ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ اور میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولی (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ فرمایا: ”اس لئے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“
حدیث نمبر: 771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ ، فَقُلْتُ : أَيَسْتَغْفِرُ الرَّجُلُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ ؟ فَقَالَ : أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ ؟ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ : " مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ سورة التوبة آية 113 - 114 " ، قَالَ : " لَمَّا مَاتَ " ، فَلَا أَدْرِي قَالَهُ سُفْيَانُ ، أَوْ قَالَهُ إِسْرَائِيلُ ، أَوْ هُوَ فِي الْحَدِيثِ : " لَمَّا مَاتَ " ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے لئے دعا مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا کوئی شخص اپنے مشرک والدین کے لئے بھی دعا مغفرت کر سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لئے دعا مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ [التوبة : 113]» ”پیغمبر اور اہلِ ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعا مغفرت کریں۔“
حدیث نمبر: 772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کو نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ ، لَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا ، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا " ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : " رَجُلًا مِنّي " ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً يَذْكُرُهُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک دن ہی بچ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک ایسے آدمی کو ضرور بھیجے گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے پہلے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔“ (مراد سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ ہیں، جن پر اس ناکارہ کی مستقل کتاب ”اسلام میں امام مہدی رضی اللہ عنہ کا تصور“ کے نام سے بازار میں دستیاب ہے)۔
حدیث نمبر: 774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا ، فَعُوقِبَ بِهِ ، فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا ، فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَعَفَا عَنْهُ ، فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کر چکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔“
حدیث نمبر: 776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ، ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ ، وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ ، أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُوَنِي اسْتِي أَبَدًا ، وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حبہ عرنی کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اس طرح ہنستے ہوئے دیکھا کہ اس سے قبل انہیں اتنا ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، یہاں تک کہ ان کے آخری دانت بھی نظر آنے لگے، پھر فرمانے لگے کہ مجھے اپنے والد ابوطالب کی ایک بات یاد آگئی، ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ابوطالب آگئے اور کہنے لگے کہ بھتیجے! یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، وہ کہنے لگے کہ تم دونوں جو کر رہے ہو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے لیکن واللہ! مجھ سے اپنے کولہے اوپر نہ کئے جا سکیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس بات پر تعجب سے ہنسی آگئی اور فرمانے لگے کہ اے اللہ! میں اس بات پر فخر نہیں کرتا کہ آپ کے نبی کے علاوہ اس امت میں آپ کے کسی بندے نے مجھ سے پہلے آپ کی عبادت کی ہو۔ یہ بات تین مرتبہ دہرا کر وہ فرمانے لگے کہ میں نے لوگوں کے نماز پڑھنے سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي ، وَأَكْثَرُ عِلْمِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً ، فَصَلَّى بِنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ بِكُمْ آنِفًا وَأَنَا جُنُبٌ ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَنِي ، أَوْ وَجَدَ رِزًّا فِي بَطْنِهِ ، فَلْيَصْنَعْ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چھوڑ کر گھر چلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از سر نو ہمیں نماز پڑھائی، اور بعد فراغت فرمایا کہ ”جب میں نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو، یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ میری ہی طرح کرے۔“
حدیث نمبر: 778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ ، فَقِيلَ لَهُ : لَوْ سَأَلْتَهُ ؟ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ ، قَالَ : فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا مُنْذُ يَوْمِئِذٍ ، وَقَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ " ، فَتَشَرَّفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے، اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چنانچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعا کی: «اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ”اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما۔“ اس دن سے آج تک مجھے کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا، اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔
حدیث نمبر: 779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ عَمَّارٌ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“
حدیث نمبر: 780
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَغَيْرِهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، يَعْنِي لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 781
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي عَلِيٌّ أَنْ " أَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 782
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَاللَّهِ " مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ ، مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ " ، مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ ، أَوْ قَالَ : بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حدیث نمبر: 783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أُمُرِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ ، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ : فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ ، فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا ، فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ ، فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ ، فَأَمْسَكُوا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : صَيْدٌ لَمْ أَصْطَدْهُ ، وَلَمْ نآمُرْ بِصَيْدِهِ ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ ، فَمَا بَأْسٌ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا ؟ فَقَالُوا : عَلِيٌّ ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَجَاءَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ ، فَأَطْعَمُونَاهُ ، فَمَا بَأْسٌ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلِيٌّ ، وَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ " ، قَالَ : فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ ، أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ " ، قَالَ : فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ ، قَالَ : فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ ، فَدَخَلَ رَحْلَهُ ، وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میرے والد حارث مکہ مکرمہ میں کسی عہدے پر فائز تھے، ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو - بقول عبداللہ بن حارث کے - میں نے قدید نامی جگہ کے پڑاؤ میں ان کا استقبال کیا، اہل ماء نے ایک گھوڑا شکار کیا، ہم نے اسے پانی اور نمک ملا کر پکایا، اور اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ کر کے اس کا ثرید تیار کیا، اس کے بعد ہم نے وہ کھانا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے سامنے پیش کیا، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ نہ تو میں نے اس شکار کو پکڑ کر شکار کیا، اور نہ ہی اسے شکار کرنے کا حکم دیا، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کیا اور وہ اسے ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں، تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسے کون ناجائز کہتا ہے؟ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لگا دیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلاوا بھیجا، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے آرہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ نہ تو ہم نے اسے شکار کیا ہے، اور نہ ہی شکار کرنے کا حکم دیا ہے، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کر کے ہمارے سامنے کھانے کے لئے پیش کر دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ تردد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے پائے لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو۔“ کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟“ اس پر بارہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔
حدیث نمبر: 784
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ أَبَاهُ وَلِيَ طَعَامَ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْحَجَلِ حَوَالَيْ الْجِفَانِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْرَهُ هَذَا ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ مُلَطِّخٌ يَدَيْهِ بِالْخَبَطِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَكَثِيرُ الْخِلَافِ عَلَيْنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أُذَكِّرُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَجُزِ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : " إِنَّا مُحْرِمُونَ ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ " ، فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا ، ثُمَّ قَالَ : أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِخَمْسِ بِيضَاتٍ ، بَيْضِ نَعَامٍ ، فَقَالَ : " إِنَّا مُحْرِمُونَ ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ " ، فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا ، فَقَامَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ ، وَتَرَكُوا الطَّعَامَ عَلَى أَهْلِ الْمَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ان کے والد حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کھانے کے ذمے دار تھے، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ ہانڈیوں کے گرد گھوڑے کا گوشت پڑا ہوا ہے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے اچھا نہیں سمجھتے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے آئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے سرین لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو“، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے پانچ انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟“ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے، یہ دیکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔
حدیث نمبر: 785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّا أَنْزَيْنَا الْحُمُرَ عَلَى خَيْلِنَا فَجَاءَتْنَا بِمِثْلِ هَذِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر چڑھا دیں اور ایسا جانور پیدا ہو جائے تو کیسا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔“
حدیث نمبر: 786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اور اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 787
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ ، أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ ، رَجَعَ ، فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا حَسَنٍ ، جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ ، قَالَ : أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : " أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلافت فاروقی یا خلافت عثمانی میں مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس دوران وہ اپنی ہمشیرہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے یہاں اترے، جب عمرہ سے فارغ ہو گئے تو ان کے یہاں واپس آئے، ان کے غسل کے لئے پانی رکھ دیا گیا، انہوں نے غسل کیا، ابھی غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ اہل عراق کا ایک وفد آگیا، وہ لوگ کہنے لگے کہ اے ابوالحسن! ہم آپ کے پاس ایک سوال لے کر آئے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ لوگوں سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب العہد ہیں، انہوں نے کہا: بالکل ٹھیک، ہم اسی کے متعلق آپ سے پوچھنے آئے ہیں، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب العہد قثم بن عباس ہیں۔
حدیث نمبر: 788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ ، أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّتَانِ ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، انہوں نے ترکہ میں دو دینار یا دو درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔“
حدیث نمبر: 789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا ، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔
حدیث نمبر: 790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، منْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے میرے کانوں نے سنی، اور میرے دل دماغ نے اسے محفوظ کیا کہ ”تمام لوگ قریش کے تابع ہیں، نیک لوگ نیکوں کے تابع، اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں۔“
حدیث نمبر: 791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ ، يُقَالُ لَهُ : جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ جانور جس کا نصف یا اس سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٍ ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ ، فَجَاءَهُ الْحَسَنُ ، فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے غریب خانے پر تشریف لائے، میں سو رہا تھا، اتنی دیر میں سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو پیاس لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف بڑھے جو بہت کم دودھ دیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہا تو وہ بہت زیادہ نکلا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف بٹھا لیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے؟ فرمایا: ”یہ بات نہیں ہے، اصل میں اس نے پہلے مانگا تھا۔“ پھر فرمایا کہ ”قیامت کے دن میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ ، فَقَالَ : اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس وقت گھر سے نکلا جب چاند طلوع ہو چکا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بڑے پیالے کا شگاف ہو،“ اور فرمایا: ”آج کی رات شب قدر ہے۔“
حدیث نمبر: 794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ، فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے۔“ بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
حدیث نمبر: 795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ ، فَقَالَ : مَا تَنْظُرُونَ ؟ " إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا: مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَخْمَ الرَّأْسِ ، عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ ، قَالَ حَسَنٌ : الشِّفَارِ ، مُشْرَبَ الْعَيْنَيْنِ بِحُمْرَةٍ ، كَثَّ اللِّحْيَةِ ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ ، قَالَ حَسَنٌ : تَكَفَّأَ ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی داڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے تھے، اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے۔
حدیث نمبر: 797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَقَالَ لِي : هُوَ اسْمِي وَكُنْيَتِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحَبَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ " دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ ، وَتَمَسَّحَ ، وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صحن کوفہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی، اور جو اللہ نے چاہا سو انہوں نے کہا، اس کے بعد پانی کا ایک برتن منگوایا، اس میں سے کلی کی، کچھ پانی مسح کے طور پر اپنے جسم کے اعضاء وضو پر پھیر لیا، اور باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پی لیا، اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 798
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ ، أَوْ قَالَ : كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي ، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ ، وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب یا وحی نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار سے لٹکا ہوا ہے، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حدیث نمبر: 799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قِيلَ لَهُ : إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے، فرمایا: اسے اندر آنے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حدیث نمبر: 800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَإِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ ، فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بِعْتُ أَحَدَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلام ہبہ کر دیئے، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”وہ غلام کیا ہوئے؟“ میں نے عرض کیا کہ میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے واپس لے لو۔“
حدیث نمبر: 801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُفِّنَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔
…