حدیث نمبر: 722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أخبرنا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عبد مکاتب یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو ، اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو ، اتنی مقدار میں وہ دیت کا مستحق بھی ہو جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا ، فَأَوْقَدَ نَارًا ، فَقَالَ : ادْخُلُوهَا ، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا ، وَقَالَ آخَرُونَ : إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا : " لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا ، وَقَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا ، اس نے آگ جلائی اور کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ ، لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نہ نکل نہ سکتے اور دوسروں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے ، اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے ۔ “
حدیث نمبر: 725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ : مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ ؟ فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ ، فهو لك ، فقال لِي : مَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ : قُلْ ، فَقُلْتُ : لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا ؟ فَقَالَ : لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ ، أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا ، فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ ، فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ ، فَقُلْتَ لِي : انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا ، فَرَجَعْنَا ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ لَكَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ " ، وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ، فَقَالَ : " إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ ، فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا ، فَذَاكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي " ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صَدَقْتَ ، وَاللَّهِ لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُولَى وَالْآخِرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ ہمارے پاس یہ جو کچھ زائد مال بچ گیا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ؟ لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین ! آپ ہماری وجہ سے اپنے اہل خانہ، اپنے کاروبار اور تجارت سے رہ گئے ہیں ، اس لئے یہ آپ رکھ رلیں ، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا کہ لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ آپ بھی تو کوئی رائے دیجئے ، میں نے عرض کیا کہ آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کر رہے ؟ فرمایا : آپ اپنی بات کی وضاحت خود ہی کر دیں ۔ میں نے کہا: بہت بہتر ، میں اس کی ضرور وضاحت کروں گا ، آپ کو یاد ہو گا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صدقات و زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا ، آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ، آپ دونوں کے درمیان کچھ اونچ نیچ ہو گئی ۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو ، ہم وہاں پہنچے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ نشاط نہ دیکھا جو ہوتا تھا ، چنانچہ ہم واپس آ گئے ، اگلے دن جب ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو اس وقت ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہشاش بشاش پایا ، پھر آپ نے انہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا ، انہوں نے آپ سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبہ میں ہوتا ہے ۔ پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دن کی کیفیت اور دوسرے دن کی کیفیت کے حوالے سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب آپ دونوں پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس زکوٰۃ کے دو دینار بچ گئے تھے ، یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجھے بوجھل طبیعت میں دیکھا اور جب آج آپ دونوں میرے پاس آئے تو میں وہ کسی کو دے چکا تھا اسی وجہ سے آپ نے مجھے ہشاش بشاش پایا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر فرمایا : آپ نے صحیح فرمایا : بخدا ! میں دنیا و آخرت میں آپ کا شکر گزار رہوں گا ۔
حدیث نمبر: 726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَقَّنَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، وَأَمَرَنِي إِنْ نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ أَنْ أَقُولَهُنَّ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْكَرِيمُ الْحَلِيمُ ، سُبْحَانَهُ ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی ہے ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے ، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے ، وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ ، فَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے ، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی ۔
حدیث نمبر: 728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں دفنایا گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ , وَالْمَاجِشُونُ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ ، اسْتَفْتَحَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي " ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " ، وَإِذَا سَجَدَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے کہ میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ، الہیٰ ! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں ، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فرمادیں ، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے ، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں ، آپ کی ذات تو بڑی بابرکت اور برتر ہے ، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں ۔ جب رکوع میں جاتے تو یوں کہتے ہیں کہ الہیٰ ! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا ، آپ پر ایمان لایا ، آپ کا تابع فرمان ہوا ، میرے کان اور آنکھیں ، دماغ ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کہنے کے بعد فرماتے کہ تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کر دیں اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں ، بھر دیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے کہ الہیٰ ! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا ، آپ پر ایمان لایا ، آپ کا تابع فرمان ہوا ، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی ، اس کے کان (سننے ) اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے ، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو بہترین خالق ہے ۔ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تو یوں فرماتے کہ اے اللہ ! میرے اگلے پچھلے ، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور جو میں نے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرما دے اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، وہ بھی معاف فرما دے ، آپ ہی اول و آخر ہیں اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ مُنْذِرِ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ ، أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر آپ کے بعد میرے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں ؟ فرمایا : ہاں ! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے رخصت تھی ۔
حدیث نمبر: 731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : " كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ ایک شخص حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے نظر آیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے ؟ فرمایا : کیوں نہیں لیکن آپ کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا ۔
حدیث نمبر: 734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، فَقَالَ : مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ؟ فَقَالَ : لَا يَضُرُّكَ ، قَالَ : الْعَرْجَاءُ ؟ قَالَ : إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ فَاذْبَحْ ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا ، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے ، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو ؟ فرمایا : کوئی حرج نہیں ، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو ؟ فرمایا : اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔
حدیث نمبر: 735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَاهُ عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ " ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَبِيدَةُ : قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قوم نکلے گی ، ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا ، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں ! رب کعبہ کی قسم ۔
حدیث نمبر: 736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، فَأَتَيْتُهَا ، فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا ، میں اس کے پاس پہنچا تو ابھی اس کا خون بند نہیں ہوا تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب اس کا خون رک جائے تو اس پر حد جاری کر دینا اور یاد رکھو ! اپنے مملوکوں پر بھی حدود جاری کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ «مسح على الخفين» کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے ، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا ۔
حدیث نمبر: 738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے ) منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ اسْتَخْلَفْتُ أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ ، لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حدیث نمبر: 740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ، فَلَمْ تَجِدْهُ ، فَرَجَعَتْ ، قَالَ : فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ ، فَقَالَ : " مَكَانَكُمَا " ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑ گئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے، چنانچہ وہ واپس آگئیں۔ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ رہو“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ : أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْ " لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیقابوالھیاج اسدی کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ : سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الاعلی بہت محبوب تھی۔
حدیث نمبر: 743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ ، فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ ، فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ ، وَقَالَ الْآخَرُ : كَانَ لِي دِينَارٌ ، فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ ، كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے میں نے دس دینار صدقہ کر دئیے، دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا، اور تیسرے نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب کو برابر برابر اجر ملے گا، اس لئے کہ تم سب نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے۔ “
حدیث نمبر: 744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے اور ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے۔
حدیث نمبر: 745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ ، فَلَا تَكَلَّمْ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ ، كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا، بلکہ دونوں کی بات سننا۔“
حدیث نمبر: 746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ، ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً ، طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ، ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حدیث نمبر: 747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبِلَ مِنْهُ ، وَأَهْدَى لَهُ قَيْصَرُ ، فَقَبِلَ مِنْهُ ، وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ ، فَقَبِلَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا، اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا، اور دیگر بادشاہوں نے بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : سَلْ عَلِيًّا ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي ، كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبًا بِيَمِينِهِ ، وَحَرِيرًا بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“
حدیث نمبر: 751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے: «اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.» ”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگزر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
حدیث نمبر: 752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ " يَجْهَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص مغرب اور عشاء کے درمیان تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے۔
حدیث نمبر: 753
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْتُ : مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْتُ : مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَيَقُولُ : عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لایا گیا، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے، اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا : «سُبْحَانَكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے معاف فرما دیجئے۔“ پھر مسکرا دئیے۔ میں نے پوچھا کہ امیر المؤمنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے، اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے، تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي فَتَصْرِفَ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ ، إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ " ، قَالَ لَهُ عَمْرٌو : كَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ : بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ خَلْفَهَا ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ مِنْ خَلْفِهَا عَلَى بَيْنِ يَدَيْهَا ، كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَحْدَةِ ، قَالَ عَمْرٌو : فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّهُمَا كَرِهَا أَنْ يُحْرِجَا النَّاسَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے، اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔“ عمرو بن حریث نے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جنازے کے آگے چلنا چاہئے یا پیچھے؟ فرمایا کہ آگے چلنے پر پیچھے چلنا اسی طرح افضل ہے جیسے فرض نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت تنہا پڑھنے پر ہے، عمرو نے کہا کہ میں نے تو خود سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے؟ فرمایا: وہ دونوں لوگوں کو اپنی وجہ سے تنگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
حدیث نمبر: 755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَعَلِيٌّ رضي الله عنه يأمر بها ، فقال عثمان لعلي إنك كذا وكذا ، ثم قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے، ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ کہا ہوگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے پھر بھی اس سے روکتے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات تو ٹھیک ہے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں)۔
حدیث نمبر: 757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ : " يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیر خوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا: ”بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا۔“ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو، اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
حدیث نمبر: 758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ : حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان رکھے۔“
حدیث نمبر: 759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَوَارِهِ " ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَوَارِهِ " ، قَالَ : فَلَمَّا وَارَيْتُهُ ، رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " اغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں ابوطالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ تو شرک کی حالت میں مرے ہیں (میں کیسے ان کو قبر میں اتاروں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو۔“ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ ”جا کر غسل کرو۔“
حدیث نمبر: 760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ ، فَبِعْتُهُمَا ، فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَدْرِكْهُمَا فَأَرتَجِعْهُمَا ، وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان دونوں کو دو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا، اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا کر ان دونوں کو واپس لو اور اکٹھا ایک ہی آدمی کے ہاتھ ان دونوں کو فروخت کرو۔“ (تاکہ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ تو قرب اور انس رہے)۔
حدیث نمبر: 761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ ، وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
…