حدیث نمبر: 682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَبْعَثُكَ فِيمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَنِي أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ ، وَأَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق ”حیان“ کو مخاطب کر کے فرمایا : میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَخْمَ الرَّأْسِ ، عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ ، مُشْرَبَ الْعَيْنِ بِحُمْرَةٍ ، كَثَّ اللِّحْيَةِ ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا ، آنکھیں موٹی موٹی ، پلکیں لمبی لمبی ، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے ، گھنی ڈاڑھی ، کھلتا ہوا رنگ اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدم جما کر چھوٹے چھوٹے تیز رفتار قدموں سے چلتے تھے ، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں مبارک بھرے ہوئے تھے ۔
حدیث نمبر: 685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ بِثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَحْدَثَ ، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً " ، وَرُبَّمَا قَالَ إِسْرَائِيلُ : عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بےوضو ہونے کے بعد اور پانی چھونے سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کی ۔
حدیث نمبر: 687
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ الطَّحَّانِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : خَرَجْتُ فَأَتَيْتُ حَائِطًا ، قَالَ : فَقَالَ : دلو وتمرة ، قال : فَدَلَّيْتُ حَتَّى مَلَأْتُ كَفِّي ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَاسْتَعْذَبْتُ ، يَعْنِي : شَرِبْتُ ، ثُمَّ " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطْعَمْتُهُ بَعْضَهُ ، وَأَكَلْتُ أَنَا بَعْضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آ کر میں اپنے گھر سے نکلا (میں ایک عورت کے پاس سے گزرا ، جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا ، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تربتر کرنا چاہتی ہے ، میں نے اس کے پاس آ کر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ) ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دو گی ، چنانچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے (یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے) پھر میں نے پانی کے پاس آ کر پانی پیا (اس کے بعد اس عورت کے پاس آ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں) میں وہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا) اور کچھ کھجوریں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا دیں اور کچھ خود کھا لیں ۔
حدیث نمبر: 688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ ، قَالَ : " أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا ، وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنْ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : میں نے منت مانی ہے کہ میں اپنی اونٹنی کو ذبح کروں اور فلاں فلاں کام کروں ؟ فرمایا : ”اپنی اونٹنی کو تو ذبح کرو اور فلاں فلاں کام شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا اسے چھوڑ دو ۔“
حدیث نمبر: 689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ يَعْنِي قُرَادًا ، أَخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوَتْرِ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نُوتِرَ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثَوِّبْ يَا ابْنَ النَّبَّاحِ ، أَوْ أَذِّنْ ، أَوْ أَقِمْ .
مولانا ظفر اقبال
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے ، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کر لیا کریں ابن نباح ! اٹھ کر اذان دو ۔
حدیث نمبر: 690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَقَدَّمَ إِلَيْكَ خَصْمَانِ ، فَلَا تَسْمَعْ كَلَامَ الْأَوَّلِ ، حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ ، فَسَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي " ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَمَا زِلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ قَاضِيًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ”جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات نہ سننا بلکہ دونوں کی بات سننا تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو“ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل عہدہ قضاء پر فائز رہا ۔
حدیث نمبر: 691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ أَبِي تِحْيَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ ، وَبِكَ أَحُولُ ، وَبِكَ أَسِيرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! میں آپ ہی کے نام کی برکت سے حملہ کرتا ہوں آپ ہی کے نام کی برکت سے حرکت کرتا ہوں اور آپ ہی کے نام کی برکت سے چلتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور مجھے حکم دیا کہ یہ کام کرنے والو کو جسے حجام کہا جاتا تھا اس کی مزدوری دے دو ۔
حدیث نمبر: 693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، قَالَ : فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي ، قَالَ : " أُوصِي بِالصَّلَاةِ ، وَالزَّكَاةِ ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک طبق لانے کا حکم دیا تاکہ آپ اس میں ایسی ہدایات لکھ دیں جن کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت گمراہ نہ ہو سکے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کاغذ لینے کے لئے جاؤں اور پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر جائے ، اس لئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے زبانی بتا دیجئے ، میں اسے یاد رکھوں گا ، فرمایا : ”میں نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کرتا ہوں، نیز غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ ، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔
حدیث نمبر: 695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي النُّمَيْرِيَّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ ، أَوْ أَمْرٌ ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ ، فَافْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عنقریب امت میں اختلافات ہوں گے ، اگر تمہارے لئے سلامتی ممکن ہو تو اسی کو اختیار کرنا ۔ “
حدیث نمبر: 696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ . ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالُوا : أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْحَرْبَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ : خَدْعَةً " ، قَالَ زَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ : عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنگ کو چال قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ ، حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ : " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنگ کو چال قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ ، فَرُحْتُ بِهَا ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَضَبَ ، قَالَ : فَقَسَمْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا ، میں نے اسے زیب تن کر لیا ، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔
حدیث نمبر: 699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ " ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : قَالَ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔
حدیث نمبر: 700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری تک وصال فرمایا کرتے تھے (یعنی افطاری کے بعد بھی سحری تک کچھ نہ کھاتے پیتے تھے ) ۔
حدیث نمبر: 701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَنْ أَقُولَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی : ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے ، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے ، وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ۔“
حدیث نمبر: 702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لَا بَلْ عَائِدًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا عَادَ مُسْلِمٌ مُسْلِمًا إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، مِنْ حِينَ يُصْبِحُ إِلَى أَنْ يُمْسِيَ ، وَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ خَرِيفًا فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَا الْخَرِيفُ ؟ قَالَ : السَّاقِيَةُ الَّتِي تَسْقِي النَّخْلَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین ! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے ایک خریف بنا دیتا ہے ہم نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! خریف سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ نہر جس سے باغات سیراب ہوں ۔
حدیث نمبر: 703
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْ الْخَوَارِجِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ ، فَقَالَ لَهُ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ ، فَإِنَّكَ مَيِّتٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَلْ مَقْتُولٌ ، ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ ، يَعْنِي : لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ ، وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ افْتَرَى ، وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ وَلِلِّبَاسي ، هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ ، وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ کے خوارج کی ایک جماعت آئی ، ان میں جعد بن بعجہ نامی ایک آدمی بھی تھا ، وہ کہنے لگا کہ علی ! اللہ سے ڈرو ، تم نے بھی ایک دن مرنا ہے ، فرمایا : نہیں ، بلکہ شہید ہونا ہے وہ ایک ضرب ہو گی جو سر پر لگے گی اور اس داڑھی کو رنگین کر جائے گی ، یہ ایک طے شدہ معاملہ اور فیصلہ شدہ چیز ہے اور وہ شخص نقصان میں رہے گا جو جھوٹی باتیں گھڑے گا ، پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس میں کچھ کیڑے نکالے تو فرمایا کہ تمہیں میرے لباس سے کیا غرض یہ تکبر سے دور اور اس قابل ہے کہ اس معاملے میں مسلمان میری پیروی کریں ۔
حدیث نمبر: 704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَآتِيَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ عَمَّا سَمِعْتُ الْعَشِيَّةَ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى ، بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ ، مَنْ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا ، وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ ، مَرَّتَيْنِ ، قَوْلٌ فَصْلٌ ، وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ ، لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ ، وَلَا تَفْنَى أَعَاجِيبُهُ ، فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ ، وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حارث بن عبداللہ اعور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ آج رات ضرور امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری دوں گا اور ان سے اس چیز کے متعلق ضرور سوال کروں گا جو میں نے ان سے کل سنی ہے چنانچہ میں عشاء کے بعد ان کے یہاں پہنچا ، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس جبرئیل آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ! آپ کی امت آپ کے بعد اختلافات میں پڑ جائے گی ، میں نے پوچھا: کہ جبرئیل ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: قرآن کریم ، اسی کے ذریعے اللہ ہر ظالم کو تہس نہس کرے گا ، جو اس سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہو جائے گا یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی ۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کن کلام ہے یہ کوئی ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے ، زبانوں پر یہ پرانا نہیں ہوتا ، اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے ، اس میں پہلوں کی خبریں ہیں ، درمیان کے فیصلے ہیں اور بعد میں پیش آنے والے حالات ہیں ۔
حدیث نمبر: 705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْنَا ، فَأَيْقَظَنَا ، وَقَالَ : " قُومَا فَصَلِّيَا " ، قَالَ : فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ : إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، قَالَ : فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ، وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ : " مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا ، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا ! وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لئے جگا کر خود اپنے کمرے میں جا کر نماز پڑھنے لگے ، کافی دیر گزرنے کے بعد جب ہماری کوئی آہٹ نہ سنائی دی تو دوبارہ آ کر ہمیں جگایا اور فرمایا : ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو“ ، میں اپنی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا اور عرض کیا ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے اور ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے ، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ أَبُو يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَتْ الْخَوَارِجُ بِالنَّهْرَوَانِ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ ، وَهُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَيْكُمْ ، وَإِنْ تَسِيرُوا إِلَى عَدُوِّكُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ يَخْلُفَكُمْ هَؤُلَاءِ فِي أَعْقَابِكُمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " تَخْرُجُ خَارِجَةٌ مِنْ أُمَّتِي ، لَيْسَ صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ ، وَلَا قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهَا ذِرَاعٌ ، عَلَيْهَا مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ ، عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ بِيضٌ ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ ، لَاتَّكَلُوا عَلَى الْعَمَلِ ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ جب نہروان میں خوارج نے خروج کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے ناحق خون بہایا ہے ، لوگوں کے جانوروں کو لوٹا ہے اور یہ تمہارے سب سے قریب ترین دشمن ہیں اس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم اپنے دشمنوں کی طرف کوچ کرو ، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ لوگ عقب سے تم پر نہ آ پڑیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک ایسا گروہ ظاہر ہو گا جس کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کوئی حیثیت نہ ہو گی ، جن کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی وقعت نہ ہو گی ، جن کی تلاوت کے سامنے تمہاری تلاوت کچھ نہ ہو گی ، وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوں گے کہ اس پر انہیں ثواب ملے گا حالانکہ وہ ان کے لئے باعث عقاب ہو گا ، کیونکہ وہ قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار ہو جاتا ہے اور ان کی علامت یہ ہو گی کہ ان میں ایک ایسا آدمی بھی ہو گا جس کا بازو تو ہو گا لیکن کہنی نہ ہو گی ، اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کی گھنڈی جیسا نشان ہو گا جس کے ارگرد سفید رنگ کے کچھ بالوں کا گچھا ہو گا اگر کسی ایسے لشکر کو جو ان پر حملہ آور ہو اس ثواب کا پتہ چل جائے جو ان کے پیغمبر کی زبانی ان سے کیا گیا ہے تو وہ صرف اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں اس لئے اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ ، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 707
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّا لَمَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِالْجُحْفَةِ ، وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ ، إِذْ قَالَ عُثْمَانُ وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ : " إِنَّ أَتَمَّ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَنْ لَا يَكُونَا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ وَسَّعَ فِي الْخَيْرِ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي يَعْلِفُ بَعِيرًا لَهُ ، قَالَ : فَبَلَغَهُ الَّذِي قَالَ عُثْمَانُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَعَمَدْتَ إِلَى سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا لِلْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ ، تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا ، وَتَنْهَى عَنْهَا ، وَقَدْ كَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا ، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا ؟ إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا ، إِنَّمَا كَانَ رَأْيًا أَشَرْتُ بِهِ ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بخدا ! ہم اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام جحفہ میں تھے جب کہ ان کے پاس اہل شام کا ایک وفد آیا تھا ان میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر چھڑا تو انہوں نے فرمایا : حج اور عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ ان دونوں کو اشہر حج میں اکٹھا نہ کیا جائے اگر تم اپنے عمرہ کو مؤخر کردو اور بیت اللہ کی دو مرتبہ زیارت کرو تو یہ زیادہ افضل ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں وسعت اور کشادگی رکھی ہے ۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بطن وادی میں اپنے اونٹ کو چارہ کھلا رہے تھے ، انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ بات معلوم ہوئی تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کا اور اللہ کی اس رخصت کو جو اس نے قرآن میں اپنے بندوں کو دی ہے ، لوگوں کو اس سے روک کر انہیں تنگی میں مبتلا کریں گے ؟ حالانکہ ضرورت مند آدمی کے لئے اور اس شخص کے لئے جس کا گھر دور ہو ، یہ حکم یعنی حج تمتع کا اب بھی باقی ہے ۔ یہ کہہ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا (تاکہ لوگوں پر اس کا جواز واضح ہو جائے) اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے آ کر ان سے پوچھا کہ کیا میں نے حج تمتع سے منع کیا ہے ؟ میں نے تو اس سے منع نہیں کیا ، یہ تو ایک رائے تھی جس کا میں نے مشورہ دیا تھا ، جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
حدیث نمبر: 708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ ، حِينَ وَقَفَ عَلَى شِعْبِ الْأَنْصَارِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَيَّامِ صِيَامٍ ، إِنَّمَا هِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مسعود بن حکم انصاری کی والدہ کہتی ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہیں ، حجۃ الوداع کے موقع پر وہ انصار کے ایک گروہ کے پاس رک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ روزے کے ایام نہیں ہیں ، یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں ۔
حدیث نمبر: 709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ سَعْدٌ : ابْنِ الْهَادِ ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ : " ارْمِ يَا سَعْدُ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔
حدیث نمبر: 710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا أَقُولُ : نَهَاكُمْ ، عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ ، وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا ، فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي ، فَشَقَّقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ ، قَالَ : فَقَالَتْ : تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ، مَاذَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا ، فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں“ سونے کی انگوٹھی ، ریشم یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا : : میں اسے پہن کر نکلا تو فرمایا : علی ! میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم خود اسے پہن لو ، چنانچہ میں اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ گیا اور اس کا ایک کنارہ ان کے ہاتھ میں پکڑایا تاکہ وہ میرے ساتھ زور لگا کر اسے کھینچیں ، چنانچہ میں نے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے ، یہ دیکھ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے ، یہ آپ نے کیا کیا ، میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے اس لئے اب تم اپنے لئے اس کا لباس بنا لو اور گھر کی جو عورتیں ہیں انہیں بھی دے دو ۔
حدیث نمبر: 711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَّةِ : مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا ، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہو گی ، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہو گا ، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہو گا ، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے ۔ “
حدیث نمبر: 712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کر لو تو تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہو چکے ، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بزرگ و برتر ہے ، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ، وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 713
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي تَحْيَى ، قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الضَّرْبَةَ ، قَالَ عَلِيٌّ : افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابویحییٰ کہتے ہیں کہ جب ابن ملجم نامی ایک بدنصیب اور شقی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا ، پھر فرمایا کہ اسے قتل کر کے اس کی لاش نذر آتش کر دو ۔
حدیث نمبر: 714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ : لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ " ، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں ، یعنی قیامت مراد نہیں ہے ، بخدا ! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی ۔
حدیث نمبر: 715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ ، وَقِرْبَةٍ ، وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لِيفٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔
حدیث نمبر: 716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، وَالْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يُحَدِّثُ : أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، ضَرَبَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَقَالَ : " أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی ، جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا کہ میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا ۔
حدیث نمبر: 717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ " كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ ، وَكَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی تکبیر ہونے کے بعد اللہ اکبر کہتے ، کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، قرأت مکمل ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تب بھی اسی طرح کرتے ، رکوع سے سر اٹھا کر بھی اسی طرح کرتے ، بیٹھے ہونے کی صورت میں کسی رکن کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ فرماتے تھے ، البتہ جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کر کے تکبیر کہتے ۔
حدیث نمبر: 718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أخبرنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ الْقَائِلُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ " ، وَإِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الْمِائَةِ .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی قیامت مراد نہیں ہے ، بخدا ! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی ۔
حدیث نمبر: 719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ ، وَمَعَهُمْ الرَّايَاتُ ، وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ : السَّابِقَ ، وَالْمُصَلِّيَ ، وَالَّذِي يَلِيهِ ، حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ ، فَأَنْصَتَ ، واسْتَمَعَ ، وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ ، فَاسْتَمَعَ ، وَأَنْصَتَ ، وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ ، فَلَغَا ، وَلَمْ يُنْصِتْ ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ ، فَلَغَا ، وَلَمْ يُنْصِتْ ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ ، وَمَنْ قَالَ : صَهٍ ، فَقَدْ تَكَلَّمَ ، وَمَنْ تَكَلَّمَ ، فَلَا جُمُعَةَ لَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں میں روکنے کی کوششیں کرتے ہیں ان کے ساتھ کچھ جھنڈے بھی ہوتے ہیں دوسری طرف فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے لئے ان کے مراتب کے مطابق ثواب لکھتے ہیں ، پہلے کا ، دوسرے کا ، اس کے بعد آنے والے کا ، یہاں تک کہ امام نکل آئے ، سو جو شخص امام کے قریب ہو ، خاموشی سے بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے ، کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لی دہرا اجر ہے اور جو شخص امام سے دور ہو لیکن پھر بھی خاموش بیٹھ کر توجہ سے سننے میں مشغول رہے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لئے اکہرا اجر ہے اور جو شخص امام کے قریب بیٹھ کر بیکار کاموں میں لگا رہے ، خاموشی سے بیٹھے اور نہ ہی توجہ سے اس کی بات سنے تو اسے اکہرا گناہ ہو گا اور جو شخص کسی کو خاموش کرانے کے لئے ”سی“ کی آواز نکالے تو اس نے بھی بات کی اور جس شخص نے بات کی اسے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا ، پھر فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ الضَّالَّةُ ، فَلَا يُوجَدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی بھی نہ مل سکے گا ۔“
حدیث نمبر: 721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَاحِبَ الرِّبَا ، وَآكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَالْمُحَلِّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور ، سود کھلانے والے ، سودی معاملات لکھنے والے ، سودی معاملات کے گواہ ، حلالہ کرنے والے ، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔
…