حدیث نمبر: 642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ ، وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ مجھ سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور مجھ سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخبرنا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ ، وَقِرْبَةٍ ، وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔
حدیث نمبر: 644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ " ، وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ ، فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ ، فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا ، فَنَزَلَ ، وَجَلَسَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ " ، قَالَ : فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، قَالَ : فَنَهَضَ بِي ، قَالَ : فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ ، حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ ، وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْذِفْ بِهِ " ، فَقَذَفْتُ بِهِ ، فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ، ثُمَّ نَزَلْتُ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ ، خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا ، ہم خانہ کعبہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ نے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایا اور خود میرے کندھوں پر چڑھ گئے ، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن نہ ہو سکا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ میں کمزوری کے آثار دیکھے تو نیچے اتر آئے ، خود بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا : میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ ، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہو گئے ۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو افق کو چھو لوں ، بہرحال ! میں بیت اللہ پر چڑھ گیا ، وہاں پیتل تانبے کی ایک مورتی نظر آئی ، میں اسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے دھکیلنے لگا ، جب میں اس پر قادر ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ”اسے نیچے پھینک دو“ ، چنانچہ میں نے اسے نیچے پٹخ دیا اور وہ شیشے کی طرح چکنا چور ہو گئی ، پھر میں نیچے اتر آیا ۔ پھر میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے روانہ ہو گئے یہاں تک کہ گھروں میں جا کر چھپ گئے ، ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی آدمی نہ مل جائے ۔
حدیث نمبر: 645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَاسِينُ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مہدی کا تعلق ہم اہل بیت سے ہو گا ، اللہ اسے ایک ہی رات میں سنوار دے گا ۔ “
حدیث نمبر: 646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَاضِي الرَّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَالْعَبَّاسُ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبِرَ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفْعَلُ " ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفْعَلُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ، ثُمَّ قَبَضْتَهَا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفْعَلُ ذاكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ ، فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفْعَلُ ذَاكَ " ، فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُ فِي حَيَاتِهِ ، حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور میری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ، اگر آپ مجھے اتنے من غلہ اور گندم دے دیں تو میرا کام بن جائے گا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا دے دیں گے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر مناسب سمجھیں تو آپ نے اپنے چچا کے لئے جو حکم دیا ہے وہ ہمارے لئے بھی دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا دے دیں گے ، پھر سیدنا زید بن حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے زمین کا ایک ٹکڑا عطا فرمایا تھا جس سے میری گزر اوقات ہو جاتی تھی ، لیکن پھر آپ نے وہ زمین واپس لے لی ، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو وہ مجھے واپس کر دیں فرمایا : اچھا کر دیں گے ۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ نے قرآن کریم میں ہمارے لئے خمس کا جو حق مقرر فرمایا ہے ، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو مجھے اس کا نگران بنا دیجئے تاکہ میں آپ کی حیات طیبہ میں اسے تقسیم کیا کروں اور آپ کے بعد کوئی شخص اس میں مجھ سے جھگڑا نہ کر سکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا بنا دیں گے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا نگران بنا دیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسے تقسیم کرتا رہا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے زمانے میں مجھے اس کی نگرانی پر برقرار رکھا اور میں ان کی حیات میں بھی اسے تقسیم کرتا رہا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے اس پر برقرار رکھا اور میں اسے تقسیم کرتا رہا لیکن جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا تو اس کی نگرانی مجھ سے لے لی گئی ، اس وقت ان کے پاس بہت مال آیا تھا ۔ ( اور وہ مختلف طریقہ اختیار کرنا چاہتے تھے ) ۔
حدیث نمبر: 647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ ، إِنِّي كُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ ، وَإِنِّي جِئْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : " عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا حَسَنٍ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ " ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيَّ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : فَمَا لَكَ لَا تُكَلِّمُنِي فِيمَا مَضَى حَتَّى كَلَّمْتَنِي اللَّيْلَةَ ؟ قَالَ : " إني سَمِعْتُ فِي الْحُجْرَةِ حَرَكَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَنَا جِبْرِيلُ ، قُلْتُ : ادْخُلْ ، قَالَ : لَا ، اخْرُجْ إِلَيَّ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ ، قَالَ : إِنَّ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا لَا يَدْخُلُهُ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهِ ، قُلْتُ : مَا أَعْلَمُهُ يَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ ، فَفَتَحْتُ الْبَيْتَ ، فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَ جَرْوِ كَلْبٍ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ الْحَسَنُ ، قُلْتُ : مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا ، قَالَ : إِنَّهَا ثَلَاثٌ لَنْ يَلِجَ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْهَا : كَلْبٌ ، أَوْ جَنَابَةٌ ، أَوْ صُورَةُ رُوحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا شرف مجھے ایک ایسے وقت میں حاصل ہوتا تھا جو مخلوق میں میرے علاوہ کسی کو حاصل نہ ہو سکا ، میں روزانہ سحری کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور سلام کرتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانس کر مجھے اندر آنے کی اجازت عطا فرما دیتے ۔ ایک مرتبہ میں رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور حسب عادت سلام کرتے ہوئے کہا: «السلام عليك يا نبي الله» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابوالحسن ! رکو“ ، میں خود ہی باہر آ رہا ہوں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے ؟ فرمایا : ”نہیں“ میں نے پوچھا: تو پھر کل گزشتہ رات آپ نے مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کی ؟ فرمایا :” مجھے اپنے حجرے میں کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی ، میں نے پوچھا: کون ہے ؟ آواز آئی کہ میں جبرئیل ہوں ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: تو وہ کہنے لگے نہیں ، آپ ہی باہر تشریف لے آئیے ۔ جب میں باہر آیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسی چیز ہے کہ وہ جب تک گھر میں رہے گی ، کوئی فرشتہ بھی گھر میں داخل نہ ہو گا ، میں نے کہا کہ جبرئیل ! مجھے تو ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے ، وہ کہنے لگے کہ جا کر اچھی طرح دیکھئے ، میں نے گھر کھول کر دیکھا تو وہاں کتے کے ایک چھوٹے سے بچے کے علاوہ مجھے کوئی اور چیز نہیں ملی جس سے حسن کھیل رہے تھے چنانچہ میں نے آ کر ان سے یہی کہا کہ مجھے تو کتے کے ایک چھوٹے سے پلے کے علاوہ کچھ نہیں ملا ، اس پر انہوں نے کہا: کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو کسی گھر میں جب تک رہیں گی ، اس وقت تک رحمت کا کوئی فرشتہ وہاں داخل نہ ہو گا ، کتا ، جنبی آدمی یا کسی جاندار کی تصویر ۔“
حدیث نمبر: 648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ ، فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ ، قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ ؟ قَالَ : " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ " ، قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَمَدَّ يَدَهُ ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے ، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی ، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا : ابوعبداللہ ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے ؟ فرمایا : میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ، خیر تو ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیل اٹھ کر گئے ہیں ، وہ کہہ رہے تھے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں ؟ میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی ، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھے قابو نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخبرنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ ، عَنْ الْخَضِرِ بْنِ الْقَوَّاسِ ، عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ سورة الشورى آية 30 ، " وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ : مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ ، أَوْ عُقُوبَةٍ ، أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا ، فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمْ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَا عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا ، فَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں قرآن کریم کی وہ سب سے افضل آیت جو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی نہ بتاؤں ؟ وہ آیت یہ ہے «مااصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم و يعفو عن كثير» اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علی ! میں تمہارے سامنے اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں ، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں دنیا میں جو بیماری ، تکلیف یا آزمائش پیش آتی ہے تو وہ تمہاری اپنی حرکتوں اور کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ آخرت میں اس کی دوبارہ سزا دے اور اللہ نے دنیا میں جس چیز سے درگزر فرمایا ہو ، اس کے حلم سے یہ بعید ہے کہ وہ اپنے عفو سے رجوع کر لے ۔
حدیث نمبر: 650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، وَأَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ ؟ فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ ، قَالَ : قُلْنَا : أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا ، يَعْنِي : مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَاهُنَا ، مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا ، يَعْنِي : مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُنَا ، يَعْنِي : مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ ، وَالنَّبِيِّينَ ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ " ، وقَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ ، وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ : يَا أَبَا إِسْحَاقَ ، يَسْوَى حَدِيثُكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے ؟ فرمایا : تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے ، ہم نے عرض کیا : آپ بتا دیجئے ، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے ، فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے ، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے ۔ پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا کہ ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے ، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین ، انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے ) اس اعتبار سے پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی یہ سولہ رکعتیں ہوئیں ، لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں ، یہ حدیث بیان کر کے حبیب بن ابی ثابت نے کہا کہ اے ابواسحاق ! آپ کی یہ حدیث اس مسجد کے سونے سے بھرپور ہونے کے اعتبار سے برابر ہے ۔
حدیث نمبر: 651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، فَثَبَتَ الْوَتْرُ آخِرَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی ، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے ، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے ۔
حدیث نمبر: 652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْوَتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ مِثْلَ الصَّلَاةِ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے ۔
حدیث نمبر: 653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَآخِرِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی ، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے ، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے ۔
حدیث نمبر: 654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ ، وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آ جاتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی ۔
حدیث نمبر: 655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے (اس لئے میں بھی تم سے بلاتکلف کہتا ہوں کہ ایسی صورت میں) اسے وضو کر لینا چاہیے اور یاد رکھو ! عورت کے ساتھ اس کی دبر میں مباشرت نہ کرنا ۔
حدیث نمبر: 656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ ، هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ ؟ تُحَدِّثُنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ ؟ قَالَتْ : فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ ، قَالَ : فَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ ، وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : حَرُورَاءُ ، مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ ، وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَاسْمٍ سَمَّاكَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ تَعَالَى ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ ، وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ : أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا أَنْ امْتَلَأَتْ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ ، دَعَا بِمُصْحَفٍ إِمَامٍ عَظِيمٍ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : أَيُّهَا الْمُصْحَفُ ، حَدِّثْ النَّاسَ ، فَنَادَاهُ النَّاسُ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ ، وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رُوِينَا مِنْهُ ، فَمَاذَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا ، بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ عز وجل ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا سورة النساء آية 35 ، فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ دَمًا وَحُرْمَةً مِنَ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ ، وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنْ كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ : كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَدْ جَاءَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَقَالَ سُهَيْلٌ : لَا تَكْتُبْ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ نَكْتُبُ ؟ " ، فَقَالَ : اكْتُبْ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاكْتُبْ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " ، فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ ، فَكَتَبَ : هَذَا مَا صَالَحَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ سورة الأحزاب آية 21 ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ ، حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ ، قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ ، إِنَّ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَأَنَا أُعَرِّفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا يَعْرِفُهُ بِهِ ، هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ : قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 ، فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ ، فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللَّهِ ، فَإِنْ جَاءَ بِحَقٍّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ ، فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ ، فِيهِمْ ابْنُ الْكَوَّاءِ ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ الْكُوفَةَ ، فَبَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ ، فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ ، حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا ، أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا ، أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ، فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمْ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : يَا ابْنَ شَدَّادٍ ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ ! فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ ، وَسَفَكُوا الدَّمَ ، وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ 59 ، فَقَالَتْ : آللَّهِ ؟ قَالَ : آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ ، قَالَتْ : فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ العراقِ يَتَحَدَّثُونَهُ ؟ يَقُولُونَ : ذُو الثُّدَيِّ ، وَذُو الثُّدَيِّ ، قَالَ : قَدْ رَأَيْتُهُ ، وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى ، فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ : قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي ، وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي ، وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبَتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَتْ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ أَنَّهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا ، قَالَتْ : أَجَلْ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ ، وَيَزِيدُونَ عَلَيْهِ فِي الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عیاض کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند روز بعد سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ عراق سے واپس آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا : عبداللہ ! میں تم سے جو پوچھوں گی ، اس کا صحیح جواب دوگے ؟ کیا تم مجھے ان لوگوں کے بارے بتا سکتے ہو جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے سچ کیوں نہیں بولوں گا ، فرمایا کہ پھر مجھے ان کا قصہ سناؤ ۔ سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت شروع کی اور دونوں ثالثوں نے اپنا اپنا فیصلہ سنا دیا ، تو آٹھ ہزار لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا ، نکل کر کوفہ کے ایک طرف حروراء نامی علاقے میں چلے گئے ، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ اللہ نے آپ کو جو قمیص پہنائی تھی ، آپ نے اسے اتار دیا اور اللہ نے آپ کو جو نام عطاء کیا تھا، آپ نے اسے اپنے آپ سے دور کر دیا ، پھر آپ نے جا کر دین کے معاملے میں ثالث کو قبول کر لیا ، حالانکہ حکم تو صرف اللہ کا ہی چلتا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لوگ ان سے ناراض ہو کر جدا ہو گئے ہیں تو انہوں نے منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ امیر المؤمنین کے پاس صرف وہی شخص آئے جس نے قرآن کریم اٹھا رکھا ہو ، جب ان کا گھر قرآن پڑھنے والوں سے بھر گیا، تو انہوں نے قرآن کریم کا ایک بڑا نسخہ منگوا کر اپنے سامنے رکھا اور اسے اپنے ہاتھ سے ہلاتے ہوئے کہنے لگے، اے قرآن ! لوگوں کو بتا ، یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے، امیر المؤمنین ! آپ اس نسخے سے کیا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ تو کاغذ میں روشنائی ہے ، ہاں ! اس کے حوالے ہم تک جو احکام پہنچے ہیں وہ ہم ایک دوسرے سے بیان کرتے ہیں ، آپ کا اس سے مقصد کیا ہے ؟ فرمایا : تمہارے یہ ساتھی جو ہم سے جدا ہو کر چلے گئے ہیں ، میرے اور ان کے درمیان قرآن کریم ہی فیصلہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں میاں بیوی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے اہل خانہ کی طرف سے بھیجو ، اگر ان کی نیت محض اصلاح کی ہوئی، تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا ، میرا خیال ہے کہ ایک آدمی اور ایک عورت کی نسبت پوری امت کا خون اور حرمت زیادہ اہم ہے (اس لئے اگر میں نے اس معاملہ میں ثالثی کو قبول کیا تو کون سا گناہ کیا ؟ ) اور انہیں اس بات پر جو غصہ ہے کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و کتاب کی ہے ( تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو پھر مسلمان اور صحابی ہیں) ، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور سہیل بن عمرو ہمارے پاس آیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم قریش سے صلح کی تھی، تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا ، «بسم الله الرحمن الرحيم» ، اس پر سہیل نے کہا: کہ آپ اس طرح مت لکھوائیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر کس طرح لکھوائیں ؟“ اس نے کہا کہ آپ «باسمك اللهم» لکھیں ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نام «محمد رسول الله» لکھوایا تو اس نے کہا کہ اگر میں آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتا تو کبھی آپ کی مخالفت نہ کرتا ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ لکھوائے «هذا ما صالح محمد بن عبدالله قريشا» اور اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے (میں نے تو اس نمونے کی پیروی کی ہے )۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے پاس سمجھانے کے لئے بھیجا ، راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا ، جب ہم ان کے وسط لشکر میں پہنچے تو ابن الکواء نامی ایک شخص لوگوں کے سامنے تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے حاملین قرآن ! یہ عبداللہ بن عباس آئے ہیں ، جو شخص انہیں نہ جانتا ہو ، میں اس کے سامنے ان کا تعارف قرآن کریم سے پیش کر دیتا ہوں ، یہ وہی ہیں کہ ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن کریم میں «قوم خصمون» ، یعنی جھگڑالو قوم کا لفظ وارد ہوا ہے ، اس لئے انہیں ان کے ساتھی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس بھیج دو اور کتاب اللہ کو ان کے سامنے مت بچھاؤ ۔ یہ سن کر ان کے خطباء کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ بخدا ! ہم تو ان کے سامنے کتاب اللہ کو پیش کریں گے ، اگر یہ حق بات لے کر آئے ہیں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہیں تو ہم اس باطل کو خاموش کرا دیں گے ، چنانچہ تین دن تک وہ لوگ کتاب اللہ کو سامنے رکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مناظرہ کرتے رہے ، جس کے نتیجے میں ان میں سے چار ہزار لوگ اپنے عقائد سے رجوع کر کے توبہ تائب ہو کر واپس آ گئے ، جن میں خود ابن الکواء بھی شامل تھا ، اور یہ سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کوفہ حاضر ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ افراد کی طرف قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوا دیا کہ ہمارا اور ان لوگوں کا جو معاملہ ہواوہ تم نے دیکھ لیا، اب تم جہاں چاہو ٹھرو، تا آنکہ امت مسلمہ متفق ہو جائے ، ہمارے اور تمہارے درمیان یہ معاہدہ ہے کہ تم ناحق کسی کا خون نہ بہاؤ ، ڈاکے نہ ڈالو اور ذمیوں پر ظلم وستم نہ ڈھاؤ، اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے کیونکہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ یہ سارئ روئیداد سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ابن شداد ! کیا انہوں نے پھر قتال کیا ان لوگوں سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک ان کے پاس اپنا کوئی لشکر نہیں بھیجا جب تک انہوں نے مذکورہ معاہدے کو ختم نہ کر دیا، انہوں نے ڈاکے ڈالے، لوگوں کا خون ناحق بہایا، اور ذمیوں پر دست درازی کو حلال سمجھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا : کیا بخدا! ایسا ہی ہوا ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! اس خدا کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، ایسا ہی ہوا ہے۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ اس بات کی کیا حقیقت ہے جو مجھے تک اہل عراق کے ذریعے پہنچی ہے کہ ”ذوالثدی“ نامی کوئی شخص تھا ؟ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود اس شخص کو دیکھا ہے اور مقتولین میں اس کی لاش پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا بھی ہوا ہوں، اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلا کر پوچھا تھا ، کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ اکثر لوگوں نے یہی کہا کہ میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، کوئی مضبوط بات جس سے اس کی چھان ہو سکتی، وہ لوگ نہ بتا سکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی لاش کے پاس کھڑے تھے تو انہوں نے کیا وہی بات کہی تھی ، جو اہل عراق بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ نے اس کے علاوہ بھی ان کے منہ سے کوئی بات سنی؟ انہوں نے کہا : بخدا ! نہیں، فرمایا : اچھا ٹھیک ہے، اللہ علی پر رحم فرمائے ، یہ ان کا تکیہ کلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں جب بھی کوئی چیز اچھی یا تعجب خیز معلوم ہوتی ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اور اہل عراق ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا شروع کر دیتے ہیں ، اور اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر بات کو پیش کر تے ہیں۔
حدیث نمبر: 657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ ، فَهَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، فَرَجَعَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا أَنْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ " ، فَانْطَلَقَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا ، وَلَا مُخْتَالًا ، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرِ ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمَسْبُوقُونَ بِالْعَمَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے ، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو ، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کر دیا اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے ؟“ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں یہ کام کروں گا ، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہو گیا ، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا ۔ یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا ، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے“ ، نیز یہ بھی فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا ، صرف خیر ہی کے تاجر بننا ، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے ۔
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : وَيُكَنُّونَهُ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا مُوَرِّعٍ ، قَالَ : وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا " ، فَقَالَ : مَا أَتَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى لَمْ أَدَعْ صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا ، وَقَالَ : " لَا تَكُنْ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ " يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ ، وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيّ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا أَشكُّ إِلَّا أَنَّهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، وَالْمُحَلِّلَ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور ، سود کھلانے والا ، سودی معاملات لکھنے والا ، سودی معاملات کے گواہ ، حلالہ کرنے والا ، حلالہ کروانے والا ، زکوٰۃ روکنے والا ، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ الْأَمْرَ بَعْدِي ، فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”علی ! اگر میرے بعد کسی بھی وقت زمام حکو مت تمہارے ہاتھ میں آئے تو اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دینا ۔ “
حدیث نمبر: 662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، وَخَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْمَنِيُّ فَفِيهِ الْغُسْلُ ، وَأَمَّا الْمَذْيُ فَفِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا : ”منی سے تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے ۔ “
حدیث نمبر: 663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا ، يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے ، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہو سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أن علياً ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کیا کرو اور ہدایت سے راستے کی ہدایت ذہن میں رکھا کرو اور درستگی کا معنی مراد لیتے وقت تیر کی درستگی اور سیدھا پن یاد رکھا کرو ۔“
حدیث نمبر: 665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُقَبَاءَ وُزَرَاءَ نُجَبَاءَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَزِيرًا نَقِيبًا نَجِيبًا : سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، وَسَبْعَةً مِنَ الْمُهَاجِرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء ، وزراء ، نجباء دیئے گئے جب کہ مجھے خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء ، نقباء ، نجباء دیئے گئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق صرف قریش سے ہے اور باقی سات کا تعلق دیگر مہاجرین سے ہے ۔
حدیث نمبر: 666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعاً کوئی علم نہیں ہے ؟ فرمایا : ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا ۔
حدیث نمبر: 667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ غُزَيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عِلْبَاءُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ ، فَقَالَ : " مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صدقے کے کچھ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے اپنے دست مبارک سے اس کی اون پکڑی اور فرمایا کہ میں ایک عام مسلمان کی نسبت اس اون کا بھی کوئی زائد استحقاق نہیں رکھتا ۔
حدیث نمبر: 668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي ، إِذْ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا ، أَوْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ ، فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ ، أَوْ غُسْلِهِ ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چھوڑ کر گھر چلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے ، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازسرنو ہمیں نماز پڑھائی اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا اور ابھی تک میں نے غسل نہیں کیا ، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ واپس لوٹ جائے اور اپنی ضرورت پوری کر کے یا غسل کر کے پھر نماز کی طرف متوجہ ہو ۔
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ الْأَسْلَمِيَّ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ النَّاسَ ، فَقَالَ : " أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا ؟ اس پر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی ۔
حدیث نمبر: 671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَاحِبَ الرِّبَا ، وَآكِلَهُ ، وَكَاتِبَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَالْمُحَلِّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور ، سود کھلانے والے ، سودی معاملات لکھنے والے ، سودی معاملات کے گواہ ، حلالہ کرنے والے ، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ ، فَكَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ أَبَدًا ، حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ ، وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ ، إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، حَوْلَهُ سَبْعُ هُلْبَاتٍ ، فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي أُرَاهُ فِيهِمْ " ، فَالْتَمَسُوهُ ، فَوَجَدُوهُ إِلَى شَفِيرِ النَّهَرِ تَحْتَ الْقَتْلَى ، فَأَخْرَجُوهُ ، فَكَبَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِنَّهُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً ، فَأَخَذَهَا بِيَدِهِ ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي مُخْدَجَتِهِ ، وَيَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَكَبَّرَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا ، وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوکثیر کہتے ہیں کہ جس وقت میرے آقا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان سے قتال شروع کیا ، اس وقت میں ان کے ساتھ تھا ، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے لوگ ان سے جنگ کر کے خوش نہیں ہیں، یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایسی قوم کا تذکرہ کیا تھا جو دین سے اس طرح نکل جائے گی جیسے تیر ، کمان سے نکل جاتا ہے اور وہ لوگ دین کی طرف کبھی بھی واپس نہ آ سکیں گے یہاں تک کہ تیر کمان کی طرف واپس آ جائے ۔ ان لوگوں کی نشانی یہ ہو گی کہ ان میں سیاہ رنگ کا ایک ایسا شخص ہو گا جس کا ہاتھ ناتمام ہو گا اور اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہو گا اور عورت کی چھاتی میں موجود گھنڈی کی طرح اس کی بھی گھنڈی ہو گی ، جس کے گرد سات بالوں کا ایک گچھا ہو گا ، تم اسے ان مقتولین میں تلاش کرو ، میرا خیال ہے کہ وہ ان ہی میں ہو گا ۔ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ نہر کے کنارے مقتولین کے نیچے انہیں مل گیا ، انہوں نے اسے نکالا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا : اللہ رب العزت اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی عربی کمان لٹکا رکھی تھی ، انہوں نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور اس کے ناتمام ہاتھ میں اس کی نوک چبھونے لگے اور فرمانے لگے کہ اللہ رب العزت اور اس کے رسول نے سچ فرمایا لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ان کا غصہ یکدم کافور ہو گیا ۔
حدیث نمبر: 673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ : يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ، جب ملاقات ہو تو سلام کرے ، جب چھینکے تو جواب دے ، جب بیمار ہو تو عیادت کرے ، جب دعوت دے تو قبول کرے ، جب فوت ہو جائے تو جنازے میں شرکت کرے اپنے لئے جو پسند کرتا ہے اس کے لئے بھی وہی پسند کرے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا خیر خواہ رہے ۔“
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ أَوْ تُبْتَغَى الضَّالَّةُ ، فَلَا يُوجَدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی بھی نہ مل سکے گا ۔“
حدیث نمبر: 676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن ارشاد فرمایا : ”اگر ممکن ہو تو بنوعبدالمطلب کو صرف قید کرنے پر اکتفاء کرے کیونکہ وہ بڑی مجبوری میں زبردستی نکلے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82 ، قَالَ : شِرْكُكُمْ ، مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے ہو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے ۔“
حدیث نمبر: 678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ ، قَالَ أَسْوَدُ : يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى : أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ ، و َإِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، و َإِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ : وَالْعَصْرِ ، وَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، وَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں مفصلات کی نو مختلف سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے ، اسود کے بقول پہلی رکعت میں سورت تکاثر ، سورت قدر اور سورت زلزال کی تلاوت فرماتے ، دوسری رکعت میں سورت عصرہ ، سورت نصر اور سورت کوثر جبکہ تیسری رکعت میں سورت کفرون ، سورت لہب اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أَمَةً لَهُمْ زَنَتْ ، فَحَمَلَتْ ، فَأَتَى عَلِيّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " دَعْهَا حَتَّى تَلِدَ ، أَوْ تَضَعَ ، ثُمَّ اجْلِدْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا اور اس کی اس حرکت پر اس کے امید سے ہو جانے پر مہر تصدیق بھی لگ گئی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے تک اسے چھوڑے رکھو ، بعد میں اسے کوڑے مار دینا ۔
حدیث نمبر: 680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : ابْنُ جُرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ ، قَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے ؟ فرمایا : اسے اندر آنے دو ، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔
حدیث نمبر: 681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " ، قال عبد الله : قال أبي : سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ : الْحَوَارِيُّ : النَّاصِرُ .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے ؟ فرمایا : اسے اندر آنے دو ، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔
…